Home » کالم » کرپشن کاخاتمہ۔۔۔حکومت زیروٹالرنس کی پالیسی پرگامزن
adaria

کرپشن کاخاتمہ۔۔۔حکومت زیروٹالرنس کی پالیسی پرگامزن

حکومت نے قطعی طورپر فیصلہ کرلیاہے کہ وہ کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی اور اس پرزیروٹالرینس کے اعتبار سے کام کرے گی، کیونکہ کرپشن ہمار ے معاشرے کے لئے ایک کینسر سے کم بیماری نہیں جس کا جتنا ہاتھ لگا اس نے اتناہی فائدہ اٹھایا،چونکہ ماضی میں اندھیرنگری چوپٹ راج رہا ،خوب لوٹ مار کی گئی، اپنے خزانے بھرے گئے ،قومی خزانوں کو خالی کیاگیا، ذاتی مفادات کو ترجیح دی، قومی اورملکی مفادات کو پس پشت ڈالاگیا ،اسی وجہ سے حکومت اس وقت جو تحقیقات کررہی ہے اس میں یہ ہوشرباء انکشافات سامنے آرہے ہیں کہ کیسے قلیل ترین عرصے میں لاکھوں کے اکاءونٹس کروڑوں میں پہنچے، ایسی اسی بیرونی امداد پر ڈاکہ ڈالاگیا، جس کے بارے میں کوئی خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا کہ عوام کے گھر میں اموات ہوئی پڑی ہیں ، گھربار تباہ ہیں ، خاندان کے خاندان لقمہ اجل بن گئے اور ان حکمرانوں نے اُن کی امداد کے لئے آنیوالی رقوم کو بھی ہڑپ کرلیا یہ رقوم زلزلہ زدگان کے لئے بیرونی دنیا سے آئی تھیں مگر اس پر بھی ہاتھ صاف کرلیاگیا،اب جبکہ حکومت نے ہاتھ ڈالا ہے تو چیخیں نکل رہی ہیں ۔ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ اس وقت ملک وقوم کے لئے تو شاید ہی کوئی اکٹھا ہوا ہو البتہ یہ اتحاد ایک دوسرے کو بچانے کے لئے ضرور ہے تاکہ کی گئی کرپشن کو چھپاسکیں اور لوٹا ہوامال بھی بچاسکیں لیکن کپتان نے کہہ دیا ہے کہ چاہے جتنے مرضی ڈرامے کرلیں احتساب کاعمل کسی صورت نہیں رکے گا، میں جواب لے کر رہوں گا،مجھے جو کہتے ہیں کہ اتناکرو،جتناکل برداشت کرسکو،تو میں کہتا ہوں کہ اس لمحے کاتو میں 22سال سے انتظار کررہاتھا ہمارے پڑوسی ملک چین نے ساڑھے چارسوکے لگ بھگ وزراء کو کرپشن کے الزام میں جیل میں ڈالا اور آج دیکھ لیں چین کہاں ہے ،وزیراعظم نے اپنے بھی وزراء کو یہ عندیہ دے دیا ہے کہ وہ کرپشن کی جانب قطعی طورپرگامزن نہ ہوں کیونکہ اب ادارے آزاد ہیں چاہے وہ اپوزیشن میں ہوں یا حکمرانی میں ،کرپشن کی ہے تو ہرصورت جواب دینا پڑے گا،ادھروزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں ہسپتال کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے اور میانوالی ریلوے ایکسپریس ٹرین کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ انسانیت کی بھلائی کرکے روحانی خوشی محسوس ہوتی ہے، انسان اپنی ذات کیلئے کام کرتا ہے، روح اس وقت خوش ہوتی ہے جب ;200;پ اللہ کیلئے کام کرتے ہو، دنیا انسانوں کیلئے کچھ کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے، میانوالی میں جدید ہسپتال سے یہاں کے عوام کو فائدہ ہوگا،امیر ;200;دمی کو دنیا یاد نہیں رکھتی، ایک وقت تھا جب میانوالی مفروروں کا علاقہ تھا،اس علاقے میں طبی سہولتیں میسر نہیں تھیں ،ہماری کوشش ہے کہ پسماندہ علاقوں پر توجہ دیں ، چین کی ترقی کی ایک وجہ کرپشن پر ساڑھے چار سو وزیروں کو جیل میں ڈالنا بھی ہے، اوورسیز سب سے زیادہ پاکستانیوں کا درد رکھتے ہیں ، پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ گرفتاریوں سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا، ملک میں ایسا کام کیا گیا کہ 10 سال میں 29 ہزار ارب روپے قرض چڑھا، یہ پیسہ جن کی جیبوں میں گیا جب تک ان کا احتساب نہیں ہوگا ملک ;200;گے نہیں بڑھے گا، شور مچانے والوں نے عدالت میں ایک دستاویز نہیں دی، یہ بڑی دھمکیاں دیتے ہیں ، میں 22 سال سے صرف ایک موقع کا انتظار کر رہا تھا، اللہ سے وعدہ کیا تھا ایک موقع ملے ملک لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑوں گا، یہ جس کیسز میں پکڑے جا رہے ہیں یہ ہم نے نہیں بنائے، جو مرضی کر لیں ;200;ج طاقتور کو قانون کے دائرے میں لا رہے ہیں ، انہوں نے مجھے بیرون ملک سے بھی سفارشیں کروائیں ، موجودہ حکومت نے مشکل حالات میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی، حکومت نے معاشی استحکام اور ملک کے وسیع تر مفاد میں مشکل فیصلے کیے ۔ گزشتہ دس ماہ میں حکومت نے سماجی، معاشی واقتصادی اور انتظامی شعبوں میں جو اصلاحات متعارف کرائی ہیں ماضی میں انکی نظیر نہیں ملتی،موجودہ حکومت نے مشکل ترین معاشی حالات کے باوجود کمزور اور غریب طبقوں کی بہتری کے لیے اقدامات کئے ہیں ۔ حکومتی اداروں میں سزا و جزا کی روایت کو مضبوط کرنا حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم جزو ہے ۔

جھوٹی گواہی کاخاتمہ کرناہوگا

آج تک اگر انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ آئی ہے تو وہ جھوٹی گواہی تھی، اس سلسلے میں چیف جسٹس آف پاکستان نے پہلے ہی دن سے یہ قدم اٹھایاتھاکہ جھوٹی گواہی کو ختم کرنا ہے اس کے خاتمے سے ہی انصاف پرمبنی معاشرہ قائم ہوسکتا ہے ، کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ بغیر سنے مقدمات کی سماعت ملتوی نہیں کی جائے گی، ایک کیس سنا جا رہا ہے تو روزانہ کی بنیاد پر اس کی سماعت کرکے فیصلہ کیا جائے گا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسلامی نظام عدل میں ایک بار جھوٹ بولنے والے کی دوبارہ گواہی قبول نہیں ہوتی، اگر ہم انصاف پر مبنی نظام چاہتے ہیں تو جھوٹی گواہی کو ختم کرنا ہوگا، فوجداری نظام میں 2 بڑے نقاءص ہیں ، پہلا مسئلہ جھوٹی گواہی اور دوسرا تاخیری حربے ہیں ، نزاعی بیان عموماً غلط نہیں ہوتا کیونکہ بندہ اپنے اللہ سے ملنے والا ہوتا ہے، تاہم اکثر جھوٹے اور چشم دید گواہ مدعی کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں ۔ بیانات پر اعتماد کیلئے اسسمنٹ کمیٹی بنا رہے ہیں ۔ صرف پولیس کے سامنے اقرار جرم کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، تفتیشی افسر کو معلوم ہونا چاہیے کہ عدلیہ میں استغاثہ کیس کیسے ثابت کرتے ہیں ۔ ہ میں اپنے تفتیشی عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، جھوٹی گواہی دینے والے کو مجرم کے برابر سمجھنا چاہیے،پولیس سمیت ہر محکمے میں اچھے افسر موجود ہیں ۔ ہ میں پولیس کے نظام اور معاشرے میں اس کے امیج کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، عدلیہ کی ;200;زادی کی طرح پولیس کی ;200;زادی بھی ضروری ہے، انصاف کے شعبے کو پولیس اور عدلیہ مل کر بہتر بناسکتے ہیں ۔

قرضوں اورمہنگائی میں اضافہ۔۔۔آئی ایم ایف کے تحفظات

آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹیریساڈبن سانچیز نے کہاہے کہ اقتصادیات میں اندرونی اور بیرونی محاذوں پرکلیدی اصلاحات کےلئے پالیسی سازی میں بنیادی ،مثالی تبدیلیاں لانا ہوں گی، اصلاحات کے لئے قانون سازی کے سلسلے میں اپوزیشن کواعتماد میں لینا ہوگا،پاکستان اپنی مالی وصولیوں کاپچیس فیصدقرض چکانے پرخر چ کررہاہے جبکہ ریاستی ملکیت میں کاروباری ادارے خسارے میں چل رہے ہیں ، سرکاری قبضوں اورافراط زر میں اضافہ ہورہاہے ،ان مسائل اور مشکلات سے نمٹنے کےلئے پالیسی سازی میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ،شرح مبادلہ کو مصنوعی طورپر مستحکم رکھنے سے غیرملکی زرمبادلہ ذخائر میں نمایا ں کمی واقع ہوئی ہے ،آئی ایم ایف ستمبر کے آواخر میں پیشرفت کاجائزہ لے گا، سٹیٹ بنک مہنگائی کنٹرول کرنے میں کرداراداکرے ،سرکاری ادارے خسارے میں ہیں ،حکومتی قرضوں اور مہنگائی میں اضافہ ہورہاہے ،آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے مکمل کرنے کےلئے پاکستان کواقدامات کرنا ہونگے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative