Home » کالم » کرپشن کے خلاف حکومتی مہم

کرپشن کے خلاف حکومتی مہم

وہ سیاستدان جو مرکزی یا لوکل سیاست کے ماہر ہیں ، اپنی سیاست کے ساتھ دفن ہونے کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں ۔ اب تک جو مہنگائی کا شور اٹھا رکھا تھا ۔ اپنی خالی ہوتی ہوئی جیبوں کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں ۔ انکو یقین ہو چلا ہے کہ ریاست کی گرتی ساکھ بحال ہورہی ہے ۔ اتنا اودھم مچانے کے بعد بھی گرفتاریوں میں برق رفتار اضافہ جاری ہے ۔ ریاست کے پاس یہ پہلا موقع ہاتھ آیاہے کہ گندی سیاست کو صاف کرکے ۔ پاکستان کی سالمیت اور بقا کے ضامن بن سکیں ۔ پچھلے دس سال میں اداروں کو خیراتی ادارے بنادیا گیاہے ۔ مزید گنجائش انہوں نے قطعاً نہیں چھوڑی ۔ یہ ;82;uthless احتساب ہونے جارہا ہے ۔ چین ، ملائیشیا اور ترکی اس فیز سے گزر چکے ہیں ۔ ترقی اور کرپشن ضد ہے ۔ کرپشن سے چند با اثر افراد مہنگائی اور ریاستی بد انتظامی کو اپنے مفاد کےلئے استعمال کرتے ہیں ۔ اس کا نقصان کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ ایک شہری کے ناطے ۔ میری خواہش ہے کہ کرپٹ میرابھائی بھی ہو ۔ وہ سلاخون کے پیچھے ہو کیونکہ ایسی دولت جو بنامحنت کے حاصل ہوتی ہے ۔ وہ جرم کو تقویت دیتی ہے اور اخلاقیات کاجنازہ نکلالتی ہے ۔ سیاستدان کے علاوہ ہر شعبہ ہائے زندگی ۔ کرپشن کی چھتری تلے جی رہا ہے ۔ ادارے اور افراد ۔ اپنی اپنی جگہ منہ کالا کررہے ہیں ۔ باصلاحیت افراد ، کوئی جگہ نہیں پائے ۔ مجموعی ترقی کیسے ممکن ہو ۔ دوسرا ۔ گھر گھر والدین بچے اور سماج،اس رویے سے مسحور ہو رہے ہیں ۔ عوام بھی چادر سے پاؤں نکال چکے ہیں ۔ آمدن کم اور اخرجات زیادہ ہیں ۔ گویا پورا معاشرہ ایک ہی لت میں جی رہا ہے کہ کہیں سے اپنی ناجائز ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے ۔ اور جو محروم طبقات ہیں انکے اس رویے سے ۔ جہنم کی زندگی گزارے رہے ہیں ۔ کبھی کبھی ایسالگتا ہے کہ لوگ ضرورتوں کےلئے نہیں بلکہ ناجائز ضرورتوں کےلئے جی رہے ہیں ۔ یہ راستہ انہی سیاستدانوں نے دکھایا ہے ۔ جو آجکل لوٹی ہوئی دولت کو واپس دینے کےلئے ہر گز تیار نہیں ۔ بلکہ انہی عوام کو جن کا بھر کس بھی انہوں نے ہی نکالا ہے ۔ انکو چھتر بناکر انکی آڑ میں جمہوری جمہوری کھیلنا چاہتے ہیں ۔ مگر اب ’’پٹھو گرم‘‘ تیار ہے ۔ اب تو مہنگائی کا راگ الاپنا بھول گئے ہیں ۔ ایک ہی سبیل دکھ رہی ہے ۔ ’’ میں کیہڑے پاسے جاواں ، میں منجھی کتھے ڈھاواں ‘‘ن لیگ، پیپلز پارٹی کے راہنماؤں کی گرفتاریاں جوں جوں تیز تر ہورہی ہیں ۔ اپوزیشن کی بدحواسیاں بھی تیز ہورہی ہیں ۔ نیب کی کاروائیاں لگ ایسے رہا ہے کہ مکمل ہوم ورک کے بعد درست نشانوں تک پہنچ رہی ہیں ۔ لازم ہے کہ اپوزیشن کی ان دو جماعتوں نے جس جدید انداز سے ملکی وسائل اور دولت کو جس بے دردی سے لوٹا ہے ۔ کوئی ملک دشمن ہی ایسا کرسکتا ہے ۔ پچھلے چالیس سے بُراجمان یہ اقتداری ٹولہ بلا شرکت غیرے باقاعدہ اپنی اپنی باریوں کے مطابق کرپشن سے اپنا منہ کالا کرتے رہے ۔ ’’میثاق جمہوریت‘‘ وہ تاریک معاہدہ ہے جس سے ان دونوں جماعتوں نے مستقبل کے پاکستان کو اندھیروں میں ڈبو نے کی ٹھانی ۔ ریاست کو کمزور کرنے والی یہ پارٹیاں ۔ بے نیازی سے وہ کچھ کرنے کےلئے تیار ہوگیءں ۔ جسے ’’ملک دشمن عزائم‘‘ کہتے ہیں ۔ ’’ڈان لیکس‘‘ اسکی ایک مثال ہے ۔ بلاول اور مریم چیخ چیخ کر یہ کہتے تھکتے نہیں کہ عمران خان ایک خلائی وزیر اعظم ہیں ۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو سے نواز شریف تک ۔ ان کے آباء ’’آمروں ‘‘ کی کو کھ سے ہوتے ہوئے سیاست کے اُفق پر چھائے رہے نہ جانے یہ بات کرتے ہوئے ان کو اپنے مصنوعی خاندانی اور سیاسی وقار کا خیال کیوں نہ آیا ۔ دراصل ان خاندانوں کے سیاسی بچے جن کے پاس نہ اخلاقی اور نہ جمہوری جواز ہے جن سے وہ اپنے آباء کی خالص سیاسی حثیت کو وجود دے سکیں ۔ تھک ہار کے جب کچھ ہاتھ نہ آیا تو مہنگائی اور ڈالر کے الاپ گانا شروع کئے ۔ اس راگ کے وقت کا تعین ان سے ہو نہ سکا ۔ بے وقت راگ الاپنا ۔ مضر کیفیت پیدا کرتا ہے ۔ اور سُنے والے یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے گئے ۔ کہ یہ تو ’’بے راگی‘‘ ہیں ۔ بہترین قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے جرائم کا اعتراف کرتی ہیں ۔ سیاست کا یہ دیوالیہ پن پچھلے دس سال جاری ہے ۔ عوام تک درست معلومات کا رواج قرین قرین فنا ہوچکا ہے ۔ چونکہ ان حکومتوں نے اپنی ذات کو مقصود بالذات سمجھا ۔ لہٰذا ان کی ترجیح عوامی مسائل کہاں رہتی ۔ بیرونی قرضہ جس کا حجم تیس ہزار ارب روپیہ ہے ۔ ان دو پارٹیوں کے اکاوَنٹس میں ٹی ٹی اور منی لارڈنگ کے ذریعے منتقل ہوتا رہا ہے ۔ ملکی معاشی صورتحال کو بدترین سطح تک پہنچایا ۔ سیاست کا یہ انداز ۔ کہ جمہوریت خطرے میں ہے ۔ اور جب بھی یہ دباوَ میں آتے ہیں ۔ یہ سچ کہنے سے گریز اں اس لئے ہیں کہ انکے اخلاقیات کا دیوالیہ نکل چکا ہے ۔ یہ احتساب کے نام سے بلبلاتے کیوں ہیں ۔ اس کو جمہوریت کے لیے گھنٹی کیوں تصور کرتے ہیں ۔ واضح ہے کہ جو لُوٹ مار یہ کرچکے ہیں ۔ اسکی بازیافت اب ریاست کی پہلی ترجیح ہے ۔ تیسری سیاسی قوت کے ابھرنے سے ۔ ریاستی اداروں سُکھ کا سانس لیا ۔ اگر ایسان نہ ہوتا تو ریاست ایک ایسے بحران سے دوچار ہوجاتا ۔ جسکی شکست وریخت سے ملکی سا لمیت اور بقا کا سوال پیدا ہوجاتا ۔ اگرچہ اس وقت ملک کی معیشت بدترین حالات سے گزرہی ہے ۔ اس کو توازن میں لانے کےلئے ’’کرپشن‘‘ کی اس چھیلنی کو درست کرنا پہلی ترجیح لازم ہے ۔ مہنگائی کی حالیہ لہر ۔ وہ اسباب ہیں جو ان دو جماعتوں کی نے غلط کاریوں کا سبب ہیں ۔ اور بیرون ملک اپنے املاک اور دولت میں اضافہ کرتے رہنا ان کا بہت بڑا جرم ہیں ۔ اور مہنگائی اسی سبب پھیلی ہیں ۔ میں سمجھتا ہو ں عمران خان معیشت کے لاش پر بیٹھا ہے اس میں جان پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ عوام اس بحرانی دور کا آزمائش کے طور برداشت کرے کیونکہ معاشرے کا ایک بھی فرد کسی جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو معاشرے کا ہر فرد ذمہ داری کا ثبوت دے یہ قانون قدرت ہے ۔ اپوزیشن کی آوازوں میں ودم خم نہیں رہا ۔ وہ اس لئے کہ اس بار ’’احتساب کی قوت‘‘ شدت سے متحرک ہے اور ان سب کونوشتہ دیوارپر لکھا نظر آرہا ہے ۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر انکا شور ضرور پھیل رہا ہے ۔ کیونکہ کرپٹ نظام کے بینفشری ہر ادارے میں موجود ہیں اور انکا مستقبل انہیں اندیشوں میں ڈولتا ہوا نظرآرہا ہے ۔ اس وقت بین الاقوامی طور پر حکومت اور ریاستی اداروں کی ’’کرپشن‘‘ کے خلاف تحریک کو اچھی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے ۔ عمران خان ملکی تاریخ کے سخت ترین حالات کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ ایک طرف عوام کو جلد از جلد ریلیف دینا ہے دوسرے ان مافیا کو شکست دینا ہے اور ان کے حلق سے لوٹی ہوئی دولت واگزار کرنی ہے ۔ جس کے سبب ملک او رعوام غربت کی چکی میں بے گناہ پس رہے ہیں ۔ 11 مہینوں کی اس کشاکش میں ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ عمران خان کے اعصاب مضبوط نکلے ۔ انہوں نے شدید دباوَ کے حالات میں اپنا حوصلہ قائم رکھا ہے ۔ باجود اس کے اُ نکی عددی اکثریت کم ہے ۔ مگر کرپشن کے خلاف ان کا مستحکم ارادہ ، ہر قسم کی رکاوٹ کو دور کئے جارہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق شریف خاندان کے 150 اور زرداری گروپ کے درجنوں اکاوئنٹس منجمد کردیئے گئے ہیں ۔ اس ملک کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے وہ ہے قانون کی بالادستی کا قیام ۔ اب تک قانون ان اقتدار کے بھوکوں کی لونڈی بنی رہی ہے ۔ ایک عام انسان بھی قانون کا احترام نہیں کررہا اس لیے پاکستانی سماج کا رویہ فراءض سے فراریت کا شکار ہوچکا ہے ۔ اللہ کرے کہ کرپشن جو کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اپنے انجام تک پہنچے ۔ چین ، ملائشیا اور ترکی ہمارے سامنے وہ مثالیں ہیں ۔ جنہوں نے ابتداء ہی ان کرپٹ عناصر کے خلاف قانون کو متحرک کیا جس نے ان کے معاشروں کو دیمک کی طرح چاٹا ۔ یہ ایک پاکستانی شہری کے قلب اور فکر کی آواز ہے جس کا کسی سیاسی یا مسلکی گروپ سے تعلق نہیں بلکہ یہ تمنا رکھتا ہے کہ پاکستان بھی دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں اپنا مقام پیدا کرے ۔ اور وہ تب ممکن ہے کہ پہلا قدم اور پہلا وار کرپشن کے خلاف شدید تر ہوکیونکہ یہ کینسر ہمارے سیاسی ، سماجی اور کلچر کے جسم میں پھیل چکا ہے اگر دیر کی یا مصلحت آڑے آئی تو خدانخواستہ قوم کے مٹنے میں دیر کہا ں لگتی ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative