Home » کالم » کشمیر اور عالمی ضمیر کی انگڑائی

کشمیر اور عالمی ضمیر کی انگڑائی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لئے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بُری ہو بھارتی مقبوضہ جموں وکشمیر کے بارے میں بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات جن کے تحت بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35-;65; منسوخ کرکے ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی گئی ، بھارتی حکومت اس کو ایک بڑی فتح قرار دیتی ہے لیکن اگر غور کریں تو اس برائی سے یہ اچھائی برآمد ہوئی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر جو دنیا کی آنکھوں سے تقریباً اوجھل ہوچکا تھا اس مسئلہ میں ایک نئی جان پڑ گئی ہے اور اس کی گونج ساری دنیا میں سنائی دے رہی ہے بھارتی حکومت کے اس غاصبانہ اقدامات کے نتیجے میں وادی کشمیر میں عوام کے غیض و غضب کو روکنے کیلئے بھارت کی فوج جو انسانیت سوز مظالم کررہی ہے اس نے بھارت کا مکروہ اور ظالم چہرہ ساری دنیا کے آگے بے نقاب کردیا ہے ۔ میں ان دنوں امریکہ آیا ہوا ہوں اور یہ پہلی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ یہاں اتنے بڑے پیمانے پر امریکہ کے تمام بڑے شہروں میں پاکستانیوں اور کشمیریوں نے بڑے بڑے مظاہرے کیے اور ان میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی خصوصی طورپر شریک ہوئے ۔ ایسے ہی مظاہرے برطانیہ ، کینیڈا، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا اور دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی کئے گئے اور ان مظاہروں میں خاص بات ہے کہ اُن ممالک کے ممبران پارلیمنٹ بھی ان مظاہروں میں شامل ہوئے اور انہوں نے خطاب بھی کیا ۔ جس میں انہوں نے نہ صرف کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی بلکہ جموں وکشمیر میں بھارتی حکومت کے انسانیت سوز مظالم کی بھی شدید مذمت کی ۔ گزشتہ 6 ماہ میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے کشمیر میں بھارتی مظالم پر خصوصی رپورٹیں بھی شاءع کی ہیں اور بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات کے بعد بھی انسانی حقوق کے خصوصی ادارے یونائیٹڈ نیشن کمیشن برائے حقوق انسانی کے اجلاس بھی ہوئے جن میں بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیری عوام کے ساتھ آگ و خون کا جو کھیل کھیلا جارہا ہے اسے بے نقاب کیا ہے اور پاکستانی وزیر خارجہ نے بھی ایسے ہی ایک اجلاس میں خطاب کیا ۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈر جو ڈیمو کریٹک پارٹی سے آئندہ صدارتی امیدوار ہیں ان کی تقریر امریکی میڈیا میں بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی جو انہوں نے پارٹی کے بڑے اجلاس میں کی تھی اس تقریر میں انہوں نے نہ صرف بھارتی حکومت کی جانب سے جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کی بلکہ جموں وکشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی بھی کھل کر حمایت کی ۔ ڈ یمو کریٹک پارٹی کے آئندہ صدارتی امیدوار کی جانب سے ایسے بیانات بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔ ہمارے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عالمی رائے عامہ سے فائدہ اٹھایا جائے اور اگر اس قیمتی خزانے کو درست استعمال نہ کیا گیا یا اس پرچُپ سادھ لی جائےگی تو اتنی بڑی قربانیوں کے بعد جو عالمی رائے عامہ ہموار ہوئی ہے ، یہ ضائع ہو جائے گی ۔ امریکی صدر نے کل دوبارہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پر ثالثی کی پیشکش کی ہے لیکن ہم اس پر مکمل اعتماد نہیں کرسکتے کیونکہ

مجھ تک کب ان کی بزم میں آتا تھا دورِ جام

ساقی نے کچھ مِلا نہ دیا ہو شراب میں

امریکی ثالثی کی پیشکش کو ٹھکرانا بھی نہیں چاہیے لیکن امریکہ کے ساتھ گزشتہ 72سال کے پاکستان کے تعلقات کی روشنی میں اس کی مکمل تیاری کرنا ہوگی کہ کہیں ماضی کی طرح وہ پھر دھوکہ نہ دے دے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ چھ ہفتوں سے مسلسل کرفیو کی وجہ سے وہاں خوراک، ادویات ، علاج معالجہ کی سہولتوں سے عوام مکمل طورپر محروم چلے آرہے ہیں ۔ اگرچہ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 58 رکن ممالک نے پانچ نکاتی مطالبات بھارتی حکومت کو بجھوائے ہیں جن مطالبات میں کشمیری عوام کو جینے کا حق ، کرفیو کے خاتمے ، انسانی حقوق کی پامالی کرنے والی کارروائیوں کا خاتمہ، سیاسی قیدیوں کی رہائی، مواصلاتی رابطہ کی بحالی اور عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی مقبوضہ کشمیر میں رسائی شامل ہیں لیکن بھارت ان مطالبات کو کہاں ماننے والا ہے ۔ اب پاکستانی حکومت، بیرون ملک پاکستانیوں اور کشمیریوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ جس طرح گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے وہ ساری دنیا میں متحرک ہیں آئندہ بھی وہ اس تحریک کو نرم نہ پڑنے دیں تاکہ بین الاقوامی دباءو سے بھارت مجبور ہو جائے کہ وہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کوتسلیم کرے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم بند کرے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative