Home » کالم » کشمےر کا انسانی المےہ

کشمےر کا انسانی المےہ

بھارتی انتہا پسند ہندو حکمران نرےندر مودی نے 5اگست2019ء کو مقبوضہ کشمےر کی وہ آئےنی حےثےت ختم کر کے ،اسے ٹکڑوں مےں تقسےم کر کے اپنے ملک کا حصہ بنا دےا ہے ۔ بھارت کے 5اگست کے اس غےر قانونی ،غےر آئےنی اور غےر اخلاقی اقدام نے خطے مےں امن و امان کی صورتحال کو انتہائی نازک سطح پر پہنچا دےا ہے ۔ دنےا اس امر سے بخوبی آگاہ ہو چکی ہے کہ بھارت کشمےر کی خصوصی حےثےت کا خاتمہ کر کے اسے مستقل اپنا حصہ بنانے کی سازش مےں مصروف ہے ۔ کشمےری مسلمانوں کے ردعمل کو روکنے کےلئے ہنوز کرفےو نافذ ہے ۔ 9لاکھ سے زائد ملٹری فورسز ،پولےس اور بارڈر سےکورٹی فورسز نے ہر گھر کا گھےراءو کر رکھا ہے ۔ کشمےر کو اہل کشمےر کےلئے قےد خانہ بنا دےا گےا ہے ۔ وادی مےں بھارتی بربرےت و درندگی کی خبرےں باہر کی دنےا تک نہےں پہنچ پا رہےں جس سے اےک کروڑ سے زائد زندگےاں خطرے مےں ہےں ۔ مسلسل کرفےو اور ڈےڈ لاک سے خوراک و ادوےات کی قلت پےدا ہو چکی ہے ۔ بچے،جوان ،بوڑھے ،عورتےں ،بےمار بھوک پےاس اور ادوےات کے بغےر مر رہے ہےں ۔ مودی نے ہسپتالوں مےں بھی فوج کے پہرے لگا دیے ہےں تا کہ اسرائےلی ساختہ پےلٹ گنوں سے زخمےوں کا علاج نہ ہو سکے ۔ دراصل نرےندر مودی بھوک پےاس جےسے ہتھکنڈے استعمال کر کے کشمےری مسلمانوں کو مارنا چاہتا ہے اور جو بچ جائےں انہےں گولےوں کی برسات کا نشانہ بنا کر ان کے حوصلے پست کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت کشمےرےوں کی جدوجہد سے اس قدر خوف زدہ ہے کہ نماز جنازہ کے اجتماع تک پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے ۔ حقوق انسانی کی تنظےموں کا وادی مےں داخلہ بند ہے ۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگرےس نے کہا ہے کہ کشمےر اےک اےسا آتش فشاں ہے جو کسی بھی وقت پھٹنے کےلئے تےار ہے ۔ مقبوضہ وادی مےں لاکھوں فوجےوں کے دستے تعےنات ہےں ،پوری وادی ابھی تک محصور ہے ،ہزاروں نوجوانوں اور نوعمر لڑکوں کو حراست مےں لےا گےا ہے ۔ موبائل فون اور انٹر نےٹ کی سہولےات پر پابندی ہے ۔ ملک کی معروف تجزےہ کار نرومپا سبرا مےنن نے کشمےر کے دورے کے بعد لکھا ہے کہ ، ےہ حےرت انگےز ہے کہ کتنے لوگ ےہ سمجھ رہے ہےں کہ کشمےر کا مسئلہ حل ہو گےا لےکن زمےنی حقےقت اس سے بالکل مختلف ہے ۔ اےک بار اس جشن کی دھند ہٹ جائے گی اس کے بعد ہی کشمےر کے چےلنجز کا پتہ چل سکے گا ۔ ہندوستان حےد ر آباد سے شاءع ہونے والے روز نامہ سےاست کی 19 ستمبر جمعرات کی اشاعت مےں حمرہ قرےشی لکھتی ہےں کہ گورنر جموں و کشمےر سےتہ پال ملک نے دہلی مےں نرےندر مودی سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ جموں و کشمےر مےں خصوصی موقف ختم کرنے اور رےاست کو تقسےم کرنے کے اقدام کے بعد سے کہےں گولی نہےں چلی جبکہ سی پی آئی اےم کے کشمےری لےڈر اور سابق رکن اسمبلی محمد ےوسف ترےگامی نے 5اگست کے بعد سے اب تک جموں و کشمےر مےں کوئی گولی نہ چلنے سے متعلق مرکز کے دعویٰ پر تنقےد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمےر کے عوام کا جارےہ پابندےوں کی وجہ سے دم گھٹ رہا ہے اور وہ آہستہ آہستہ مر رہے ہےں ۔ ترےگامی نے کہا کہ انہوں نے ماضی مےں کشمےر مےں انتہائی بد ترےن حالات دےکھے لےکن آج جےسی پرےشان کن صورت حال ہے اس سے پہلے کبھی نہےں تھی ۔ ترےگامی کے بےان سے ظاہر ہو رہا ہے کہ کشمےری عوام کربناک صورتحال سے گزر رہے ہےں ‘‘ ۔ اصل صورتحال ےہ ہے کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمےر کی نےم خود مختار حےثےت ختم کر کے بھارتی فوج کو اس اقدام کے خلاف احتجاج کےلئے نکلنے والے کشمےرےوں کو دےکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دےا تھا اب تک تقرےباً دو درجن کشمےری نوجوان شہےد اور کم سن بچوں سمےت دس ہزار افراد گرفتار کئے جا چکے ہےں ۔ بھارت کو اس وقت دنےا بھر مےں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور محصور و مظلوم کشمےرےوں کو ظلم و جبر کے خلاف اخلاقی فتح ملی جب سپرےم کورٹ نے مودی حکومت سے کہا کہ مقبوضہ کشمےر مےں کرفےو اور لاک ڈاءون کی غےر انسانی پابندےوں کو ختم کرتے ہوئے مواصلاتی رابطوں سمےت معمولات زندگی بحال کئے جائےں ،شہرےوں کو صحت کی سہولےات فراہم کی جائےں اور تعلےمی اور کاروباری ادارے کھولے جائےں ۔ ےورپی ےونےن نے بھی بھارت کو واضح ہداےت کی ہے کہ مقبوضہ کشمےر مےں کرفےو فوری طور پر ختم کےا جائے اور انسانی حقوق بحال کیے جائےں ۔ ےونےن کے انسانی حقوق کی کمےٹی نے سالانہ اجلاس مےں اس بات کا سخت نوٹس لےا کہ مقبوضہ کشمےر مےں 45روز سے تقرےباً 80لاکھ افراد کو کرفےو کے ذرےعے نظر بند کےا گےا ہے ۔ کمےٹی کی چیئر پرسن نے اس بارے مےں ےورپی ےونےن کے وزےر خارجہ کا بےان پڑھ کر سناےا ۔ ےاد رہے کہ ےورپی ےونےن مےں 16برس کے بعد کشمےر کا مسئلہ زےر بحث آےا ہے ۔ اقوم متحدہ کے رکن ممالک سمےت ساری دنےا کے علم مےں ہے کہ کشمےر اےک متنازعہ رےاست ہے جہاں کشمےری مسلمان اکثرےت مےں ہےں ۔ ہندوءوں کے لےڈر گاندھی نے 1934ء مےں اپنے خط مےں جو بنام پنڈت پرےم ناتھ بزاز لکھا گےا واضع طور پر تسلےم کےا تھا کہ کشمےر مسلم اکثرےتی علاقہ ہے ۔ مسٹر گاندھی کے الفاظ ےہ تھے : چونکہ کشمےر مےں مسلمانوں کی اکثرےت ہے اس لئے مےں جانتا ہوں کہ اےک دن ےہ مسلمان رےاست ہی بنے گا‘‘ ۔ سابق بھارتی وزےر اعظم جواہر لال نہرو نے ےکم اگست 1952ء کو بھارتی پارلےمان سے خطاب مےں کہاتھا’’ کشمےر کے مستقبل کا فےصلہ کشمےرےوں کی مرضی اور خوشی کے مطابق ہو گا ۔ اس انڈےن پارلےمنٹ کے پاس اختےار نہےں کہ وہ کشمےر پر اپنی مرضی مسلط کر سکے‘‘ ۔ موجودہ بھارتی حکمران اٹھارہ لاکھ کی عسکری طاقت اور دنےا مےں اسلحے کے سب سے بڑے خرےدار ہونے کے باوجود بھارت کو امن و سکون کا گہوارہ نہےں بنا سکے ۔ عالمی سطح پر بھی بھارت کو خطرناک ترےن ملک قرار دےا جا چکا ہے وہاں صرف کروڑوں مسلمانوں کی زندگی اجےرن نہےں تمام اقلےتوں کا جےنا دوبھر ہے ۔ جموں و کشمےر کے مسلمانوں نے 71برس تک ظلم سہا ،ان کی کوئی صبح خوش رنگ نہ کوئی شام دل آوےز ۔ انہےں جےنے کا حق ہے نہ حق مانگنے کی اجازت ،اپنے مستقبل کا فےصلہ اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہےں لےکن بھارت پر آج اےسے انتہا پسند ہندو کی حکمرانی ہے جو اپنی انتہا پسندی کی بدولت ہندو قوم کے زوال ےا پھر خاتمے کا سبب بنے گا ۔ ہٹلر بھی اےک اےسا ہی انتہا پسند انسان تھا جس نے چند برسوں مےن جرمنی کو ہر لحاظ سے خصوصاً دفاعی لحاظ سے ےورپ کی سب سے بڑی قوت بنا دےا تھا لےکن جرمن قوم کو اس ترقی اور فوجی قوت کا خمےازہ بھگتنا پڑا ۔ مقبوضہ کشمےر کے حرےت پسند آزادی کی خاطر خون کے نذرانے دے کر اےک خون رنگ تارےخ مرتب کر رہے ہےں اور وہ آزادی کے حصول کےلئے اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھےں گے ۔ بقول طفےل ہوشےارپوری

وقت کے دامن پہ فطرت نے لکھا ہے فےصلہ

پائےں گے آخر مجاہد جانثاری کا صلہ

رنگ لائےں گی ےقےنا ان کی ےہ قربانےاں

مسکرا کر کر رہے ہےں موت کی مہمانےاں

ظلمتےں تبدےل ہوں گی اےک دن تنوےر سے

جنگ آزادی جاری رہے گی وادی کشمےر مےں

About Admin

Google Analytics Alternative