Home » کالم » کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ ۔ ۔ ۔

کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ ۔ ۔ ۔

اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر سابقہ ایک دو تقریروں کی طرح بہت اچھی تھی ۔ لیکن جیسا کہ گزشتہ کالم میں بھی میں نے عرض کیا تھا کہ اس کے اثرات اور ثمرات کشمیریوں تک حسب سابق نہیں پہنچے ۔ مودی سرکار ابھی تک اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے ۔ اور کشمیری تاحال یرغمال بنے ہوئے ہیں ۔ کرفیو کو دو ماہ ہو گئے اور ہر روز بے گناہ کشمیری شہید ہو رہے ہیں ۔ البتہ اس تقریر کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت کو کچھ دنوں کےلئے تھوڑا فائدہ ضرور پہنچا ۔ لوگوں کی توجہ اندرونی مسائل و مشکلات سے ہٹ کر کشمیر پر مرکوز ہوگئی ۔ لیکن آخر کب تک ۔ جہاں آگ لگی ہو وہ جگہ گرم تو ہوتی رہتی ہے ۔ پاکستانی عوام مہنگائی،بے روزگاری اور بدامنی کی آگ کی لپیٹ میں ہیں ۔ اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمن کی آزادی مارچ دھرنے کے اعلان سے اس تقریر کا خمار مزید تیزی سے اترنا شروع ہو گیا ہے ۔ حکومتی ارکان جو مرضی کہیں لیکن عوام کی جو حالت ہے کوئی بعید نہیں کہ مولانا کے مارچ اور دھرنے میں ان کی جماعت کے علاوہ عام لوگ بھی شریک ہوں ۔ اگر بنتی صورت حال کو دیکھیں تو عمران خان کی حکومت کی مشکلات میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اور شاید مولانا کی مارچ کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جائے ۔ اس ضمن میں ہر محاذ پر ناکام وزیراعلیٰ کے پی کے کی بھڑکیں مولانا کو متاثر نہ کر سکیں ۔ اگر حکومتی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو یہ بات عیاں ہے کہ کوئی کارکردگی نہیں ہے ۔ لوگ ایک سال میں ہی حکومت سے نالاں ہیں ۔ حکومت کے پاس ملک کے سنگین تر ہوتے مسائل کا نہ کوئی حل ہے نہ ادراک ہے نہ کوئی پالیسی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان ابھی تک چند مشیروں اور وزیروں کے مشوروں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ خود سرکاری پارٹی کے بہت سے اراکین ان مشیروں کے گروپ سے وزیراعظم کے سامنے فریادی بنے ہوئے ہیں ۔ گزشتہ دنوں حکومتی جماعت کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کے ساتھ وزیراعظم کا مکالمہ سب کے علم میں ہوگا ۔ لیکن ایک برسراقتدر جماعت کے اہم رکن اور ممبر پارلیمنٹ نے جس ہمت کے ساتھ باتیں کیں ان پر وہ واقعی خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ اسی میٹنگ میں ایک اور رکن قومی اسمبلی جو تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وزیراعظم کے سامنے فریادی بن کر آبدیدہ ہوئے ۔ لیکن نور عالم خان نے نہ صرف اپنے حلقے بلکہ پورے ملک کی عوام کی صحیح ترجمانی کا حق ادا کیا ۔ اسی طرح وزیراعظم کے ساتھ ایک ملاقات میں تاجروں نے وزیراعظم کے مشیروں اور خاص طور پر ایک مشیر کے خلاف شکایات وزیراعظم کے سامنے پیش کیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ بالکل اسی طرح جیسا کہ پنجاب کے ناکام وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف وزیراعظم کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہیں اسی طرح بعض وزراء اور مشیروں کے خلاف کارروائی بھی خام خیالی قرار دی جا رہی ہے ۔ وزراعظم سے مایوس ہو کر تاجروں نے گزشتہ روز آرمی چیف جنرل باجوہ کے سامنے اپنی شکایات پیش کیں اور وزیراعظم کے بعض وزراء اور مشیروں خاص طور پر ایک مشیر کے بارے میں آرمی چیف کو آگاہ کیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بعض مفاد پرست اور نا اہل مشیروں اور وزیروں کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جاتا ہے یا یہ کوشش اور فریاد بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے ۔ عمران خان خود نہ تو کرپٹ ہیں نہ بدنیت اور نہ ہی بدیانت ہیں ۔ لیکن ان کے ساتھ دوبڑے مسئلے ہیں ۔ جو خود ان کی ناکامی کا باعث ہیں ۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ان کو حکومت چلانے کا کوئی ادراک نہیں ہے ۔ وہ حکومت کو بھی کرکٹ کی طرح چلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کھیل کے دوران کھلاڑیوں کے مقامات تبدیل کرنے کی طرح وہ بعض نا اہل،ناکام اور کرپٹ وزراء اور مشیروں کو برطرف کرنے کی بجائے ان کی کرسیاں اور دفاتر تبدیل کرتے رہتے ہیں ۔ اسی طرح وہ بیورو کریسی اور محکمہ پولیس میں بھی کسی کو کام کرنے نہیں دیتے ۔ آئے روز بیوروکریٹ اور پولیس افسر کام کرنے کی بجائے اپنی تبدیلی کا حکم آنے کا منتظر ہوتا ہے ۔ دوسرا مسئلہ ان کے بعض بہت قریبی وزیر اور مشیر ہیں ۔ جو نا ا ہل ہونے کے ساتھ ساتھ اس موقع کوآخری موقع سمجھتے ہوئے وزیراعظم سے اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرواتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دن رات عمران خان کے گیت زور و شور سے گاتے رہتے ہیں ۔ یہ لوگ نا اہل نہیں بلکہ بڑے تجربہ کار اور کاریگر ہیں ان کو جب محسوس ہوا کہ وزیر اعظم کو حکومت چلانے اور پالیسیوں کا کوئی خاص تجربہ نہیں ہے تو انہوں نے ایکا کر کے ایک طرح سے اپنی ایسو سی ایشن بنا لی ۔ اور اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اپنے اپنے مفادات کے حصول کےلئے وزیراعظم کو ایسے یسے مشورے دیتے ہیں ۔ جن پر وہ عمل کرتے ہیں ۔ بعض پر یوٹرن لینا پڑتا ہے اور بعض پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں ۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ان کے عہدوں سے برطرف نہیں کرتے ۔ سنا ہے کہ بے چاری فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی جگہ جنہوں نے عمران خان کو سپورٹ کرنے کےلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے بابر اعوان کو لایا جا رہا ہے ۔ یا بابر اعوان کو وزارت قانون میں کوئی اہم ذمہ داری دی جا رہی ہے ۔ اسی طرح وزارت داخلہ کےلئے شفقت محمود کا نام لیا جا رہا ہے ۔ گو کہ ابھی یہ صرف اطلاعات ہیں ۔ ممکن ہے یہ غلط ہوں لیکن ایک بات طے ہے کہ بعض وزراء اور مشیروں کے عہدہ زمہ داری میں تبدیلی کی جا رہی ہے ۔ سوچنے والی بات ہے کہ اگر کوئی بندہ نا اہل ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ وزارتی اور مشاورتی معاملات کو چلانے کا اہل نہیں ہے تو کیا اس کی کرسی اور دفتر تبدیل کرنے سے وہ اہل ہو جاتا ہے ۔ بعض وزارتوں کے پارلیمانی سیکرٹریوں کی تبدیلی یا فارغ کرنے کا بھی کہا جاتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان ملک و قوم کے ساتھ بہت مخلص ہیں لیکن ایسے لگتا ہے کہ ان کو ناکام بنانے کےلئے بعض وزراء،مشیر اور بعض اہم اداروں کے سربراہان جن کا تعلق معاشی و اقتصادی معاملات سے بھی ہے نے کمر کسی ہوئی ہے اور سب مل کر اتفاق باہمی سے اس مشن پر لگے ہوئے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں بعض سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی ہیں جو بظاہر عمران خان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔ بہر حال یہ سب وقت کے ساتھ ساتھ سامنے آئے گا کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے ۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ارد گرد بعض ایسے لوگ ضرور ہیں جو اپنے مفادات کے حصول اور عمران خان کو ناکام بنانے کے مشن پر ہیں ۔ ایسے میر جعفر اور میر صادق ہر حکومت میں بہت اہم ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ کامیاب اور حکمران ناکام ہو جاتے ہیں ۔ ایسی نا گفتہ صورتحال میں عام آدمی کو ابھی تک بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے ۔ آنے والے وقت میں کیا ہوتا ہے اس کا سب کو بلکہ پوری قوم کو انتظار ہے کہ مولانا کامیاب ہوتے ہیں یا عمران خان عوام کی مشکلات دور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ جو بھی ہو لیکن خدا وہ کرے جو ملک و قوم کےلئے بہتر ہو ۔

About Admin

Google Analytics Alternative