Home » کالم » کچھ نہیں بدلا۔۔۔سب پراناہے

کچھ نہیں بدلا۔۔۔سب پراناہے

پی ٹی آئی کے اکابرین اور راہنما اقتدار میں آنے سے پہلے دعویٰ کرتے تھے کہ وہ نیا پاکستان بنائیں گے ۔ اس میں ہر پرانی چیز کو نئے انداز میں پیش کیا جانا مطلوب تھا یا پھر واقعی نیا پاکستان بنا نا مقصود تھا ۔ جس میں نئی روایات اور طرز معاشرت و تمدن بھی نیا ہی ہو تا ۔ شروع سے ہی مجھے ایسے لگتا ہے کہ یہ بھی دیوانے کی بڑھی ہے ۔ سالہا سال پہلے کے سوال کو دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت بھی خان صاحب کا ویژن دھندلا تھا اور آج بھی و ہ بے بس ہے ۔ اقتدار سے پہلے کم از کم یہ بھرم تو قائم تھا کہ اسے موقع دیا جائے تو پاکستا ن اور پاکستانیوں کیلئے بہتری لائے گا ۔ محترم خان صاحب اس وقت کہتے تھے اور آج بھی کہتے ہیں کہ کپتان اگر چاہے تو ٹیم پر اپنی گرفت سے فتح کی بنیاد رکھ سکتا ہے ۔ خان جی اگر ٹیم ہی بکی ہوئی ہو تو آپ کی گرفت کیا کرے گی ۔ کیسا کھیل اور کیسے نتاءج ۔ آپ نے جیتے ہوئے میچ ہارے اور ہارے ہوئے جیتے کہ نہیں ۔ کہیں سوئنگ کے بادشاہوں کی جوڑی نے وہ مار کھائی کہ آپ دیکھتے ہی رہ گئے اور جہاں آپ نے امید لگائی کہ میچ ڈرا ہو وہاں پر جیت ہوئی کیونکہ ہم جیت چاہتے تھے اورآپ ڈرا ۔ یہ جواری مافیا بھی بہت اوپر کی فلم ہیں ۔ جو نہ تو آپ کرسکتے ہو اور نہ ہی سمجھ سکتے ہو ۔ سمجھو تو تب جب آپ کر نا چاہو اور اس میں دلچسپی لو اور اس کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کر و ۔ یہی فارمولا آپ کے سیاسی کیریئر پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ آپ سیدھی سادی خدمت کی سیاست کرنا چاہتے ہو اور جو آپ کے ساتھی ہیں وہ سیدھا سادہ ہاتھ مارنا چاہتے ہیں ۔ اگر پاکستان میں خدمت کی سیاست کو ترجیح دی جاتی توکیا خیال ہے کہ پاکستان کے گوشے گوشے میں فلاحی مراکز اورتعلیمی ادارے مفت تعلیم نہ دے رہے ہوتے ۔ اکابرین سیاست سات دہائیوں سے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا دعویٰ اور نعرہ پر سیاست کر رہے ہیں ۔ ایسا کوئی بھی سیاستدان میرے علم میں نہیں جس نے اپنی سیاست کا محور و مرکز اس نعرہ کی بجائے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے نعرہ سے سیاست کی ہو ۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ اور فلاحی ریاست تو نہیں بن پایا لیکن دنیا اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ضرور بن گیا ۔ اس میں سیاستدانوں کا کوئی خاص کردار نہیں کیونکہ جرنل ایوب دور میں شروع کیا گیا ایٹمی پروگرام جرنل ضیاء کے دور میں مکمل ہو گیا تھا ۔ سیاستدانوں نے اس پر بھی سیاست کی اور اس میں لہو لگا کر شہید ہونے کے دعویدار بن بیٹھے ۔ 1962 میں شروع ہوئے ایٹمی پروگرام کا بھٹو کے ساتھ کیا تعلق اورضیاء دور میں کولڈ ٹیسٹ کرنے سے ہمارے محترم میاں نواز شریف کا کیا رشتہ ۔ شیخ رشید ویسے تو کم ہی سچ بولتے ہیں لیکن کلنٹن کی دھمکی اور دیگر مراعات سے بھرپور کالز رد کرنے والے بیانات کے سرخیلوں کیلئے یہ کافی ہے کہ آرمی کے اس وقت کے بڑوں نے میاں صاحب کو مجبور بھی کیا اور ان کی پشت پر ہاتھ بھی رکھا تب دنیا کے سامنے ایٹمی قوت ہونے کا مظاہر ہ کیا گیا ۔ یہ بات پورے ثبوت کے ساتھ موجود ہے کہ اس پروگرام میں کسی بھی سیاسی مداخلت کی کسی بھی نوعیت اور کسی بھی سطح سے کبھی بھی اجازت نہیں دی گئی ۔ یہ براہ راست ایک ادارے کے ماتحت اور اس کے زیر نگرانی ہی کام کرتا ہے ۔ سیاستدان بس زبانی جمع خرچ سے سنی سنائی باتوں پر بیان بازی سے منہ کا ذائقہ بدلتے اور میڈل کے طلبگار رہتے ہیں ۔ بات پھر سیاسیوں سے چلتی تھوڑی ادھر ادھر ہو گئی ۔ نیا پاکستا ن بنانا خان صاحب اور ان کی ٹیم کا نعرہ تھا کیونکہ کہیں نظر نہیں آرہا کہ وہ اپنے نعرے پر عمل پیرا ہونے کیلئے پیش قدمی کر رہے ہیں یا اس کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ نہ تو وہ بادشاہانہ پروٹوکول میں کوئی خاص کمی کرنے میں کامیاب ہو سکے کہ تیل پٹرول کی بچت ہو کر قومی خزانے کا بوجھ کم ہو ۔ وزیر مشیر بھی اسی تعداو میں ہیں جیسے کہ پرانے پاکستان کی کابینہ کا دستور تھا ۔ جو جو حلیف ہیں ان کو قابلیت پر نہیں بلکہ حمایت کرنے پر قومی لوٹ سیل میں سے حصہ دیا جاتا تھا اور آج بھی دیا جا رہا ہے ۔ وہی مشرف کی آمریت کے دست و بازو آج انصافی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہیں ۔ ایم کیو ایم اور ق لیگ جو مشرف دور میں سیاسی طور پر محترک کردار ادا کرتے رہے آج پی ٹی آئی کی حکومت کو سہارا دیئے ہوئے ہیں ۔ مشرف دور کے کابینہ کے وزیر آج پی ٹی آئی کے اقتدار کی ناءو کے ملاح ہیں ۔ تنقید برائے تنقید کی بات نہیں لیکن مشرف کو وردی میں صدر منتخب کرانے والوں کو جمہوریت سے کیا غرض ہو سکتی ہے ۔ ان کی سیاست کو فلاحی سیاست کیسے کہا جائے ۔ آمر کے ٹریننگ کیمپ اور کوچنگ سے فارغ التحصیل سیاستدانوں کو جمہوری رویوں کی پہچان کیسے ہو سکتی ہے ۔ ایک سپنر کیسے فاسٹ باءولنگ کر سکتا ہے ۔ لیگ بریک کرنے والا آف بریک کرے گا ۔ نہیں کر سکتا تو پھر آمریت کی گود میں پلنے والے جمہوریت کے محافظ بھی نہیں ۔ ان کی سیاست بھی جمہوری نہیں اور ان کی جماعتیں بھی جمہوری نہیں ۔ میاں نواز شریف ہو ں یا راجہ ظفر الحق صاحب یا یوسف رضا گیلانی یا چوہدری برادران سب کو ضیا ء الحق نے جمہوریت کا درس دیا تھا ۔ آج یہ جمہوریت کیلئے بوجھ اسی لئے بنے ہیں کہ یہ اس ہنر سے آشنا ہی نہیں جس کی ان سے توقع رکھی جارہی ہے ۔ تحریک انصاف کے قائد کو چاہیے کہ یا انصاف کریں یا پھر اپنی جماعت کا نام بدلیں کیونکہ ان کی جماعت کے بڑے بڑے معتبر نام نا اہل قرار پائے ہیں ۔ اپنے ماضی کے حوالے سے وہ سب کرپشن اور دوسرے جرائم میں سزا یافتہ ہونے کے باوجود بھیس بدل کر قومی راہنماکا کردار اداکر رہے ہیں ۔ ویسے کرپٹ قوم کے راہنما کرپٹ نہ ہو ں تو کیا ہوں ۔ چوروں کے سردار چور اور سادھوں کے گرو سادھو ہوتے ہیں ۔ خان صاحب اٹھارہ بیس سال پہلے کہا تھا کہ وہ فرشتے کہاں سے لاءو گے جو اس قوم کو اپنے کردار کے سحر میں جکڑ کر راہ راست پر لا سکیں ۔ اگر وہ مل گئے تو وہ دھرتی کہاں سے لاءو گے جہاں پر آپ اپنی مرضی کا نیا پاکستان بنانا چاہتے ہو ۔ آپ کو اس وقت بھی غصہ آیا تھا اور آج بھی آئے گا ۔ مجھے اس وقت بھی آپ پر رحم آیا تھا اور آج بھی آ رہا ہے ۔ چور چوری سے جائے پر ہیرا پھیری سے نہ جائے ۔ خان جی پرانے پاپیوں کی جماعت آپ کے پیچھے بے وضو نماز پڑھتے ہیں ۔ مہنگائی بے روزگاری اور عوام کی ہائے ہائے آپ کو شاید سنائی نہیں دے رہی پرانے پاکستان میں بھی یہی کچھ تھا اور نیا پاکستان بھی ویسا ہی ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative