Home » کالم » کیا اپوزیشن پانچ سال مدت کی روایت کو ختم کرناچاتی ہے

کیا اپوزیشن پانچ سال مدت کی روایت کو ختم کرناچاتی ہے

سابقہ وزیر اعظم کو جب عدالت عالیہ کی طرف سے آئین پاکستان میں درج دفعہ ۲۶ ۔ ۳۶ کے تحت امین وصادق نہ ہونے پر ملکی سیاست سے تاحیات نا اہل ہونے کی سزا سنائی تھی تو اس فیصلہ کو نہ مانتے ہوئے انہوں نے ایک سلوگن عام کیا تھا کہ ’’ مجھے کیوں نکالا گیا‘‘ سارے ملک میں مظاہروں اور ریلیاں اور جلسے کر کے، اپنے ہی ملک کی فوج اور عدلیہ کو بدنام کر کے ہنگامہ کھڑا کیا تھا ۔ آپ نے کہا کہ مقتدر حلقوں نے ۰۷ سالوں سے پاکستان کے کسی بھی وزیر اعظم کو پانچ سال کی مدت حکمرانی نہیں کرنے دی ۔ کوئی نہ کوئی الزام لگا کر عوام کے منتخب شدہ وزیر اعظموں کوحق حکمرانی سے ناجائز طریقے سے ہٹا دیا گیا ۔ آپ نے ملک کے دو ٹکڑے کرنے والے غدار پاکستان مجیب کو بھی مظلوم بنا دیا تھا ۔ ملک کے خیر خواہ عناصرنے اسے سنجیدگی سے لیا اور یہ سوچنے پر مجبور ہوئے اور اپنے تجزیوں میں تبصرے کرتے رہے کہ ایسا کیوں ہوا اور آیندہ کیا ہونا چاہیے کہ ملک سیاست کی گاڑی اپنی صحیح سمت چلتی رہے ۔ کوئی بھی کسی کو ناجائز نہ نکالے ۔ جیت کے آنے والا وزیر اعظم اپنی مدت حکمرانی پوری کرے ۔ ان تجزیوں میں ایک بات ہر کسی نے لکھی کہ ملک کے الیکشن کے نظام کو سیاست دان کیوں نہیں ایسا بناتے کہ جو جیت کر پارلیمنٹ میں آئے اسے اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملے ۔ ہارنے والا اس پر واویلا نہ کرے اور ملک میں اختلافات کو ہوا نہ دی جائے ۔ جیتنے والا ملک کی ترقی میں یکسو ہو کر کام کرے ۔ اپوزیشن اس حکومت کے غلط کاموں پر حق اختلاف صحیح طریقے سے استعمال کرے ۔ سیاست کی گاڑی صحیح سمت پر چلتی رہے ۔ اس میں پہلا کام ملک کی الیکشن کے نظام میں تبدیلی لانا ہے ۔ پڑوسی ملک میں ای لیکٹرونک سسٹم راءج ہے ۔ جعلی ووٹنگ کا راستہ بند ہے ۔ ہر ووٹر اپنے انگوٹھے کا نشان لگا کر ووٹ کاسٹ کرتا ہے ۔ الیکشن جیتنے اورہارنے والے اس نظام سے مطمئن ہیں ۔ پارلیمنٹ مقننہ ہے یعنی جوہرقسم کے قانون بنانے کی مجاز ادارہ ہے ۔ پھر ہمارے سیاستدان ا یسا قانون کیوں نہیں بناتے ہیں کہ ہر ہارنے ولا اپنی اپنی ہار کو مانے اورہر جیتنے والا اپنی مدت پوری کرے;238;دوسری بات پاکستان کے آئین کے اندر فوج، عدلیہ اور حکومتوں کے متعلق دفعات موجود ہیں ۔ مہذب اور جدید حکومتیں اس پر عمل کرتی ہیں ۔ پاکستان کے آئین کے اندر یہ بات موجود ہے اور سیاست دانوں نے خود اس آئین کوبنایا ہے کہ اگرفریقین کے اندر کسی چیز پر اختلاف ہو جائے تو ملک کی عدلیہ آئین اورقانون کے مطابق اس کا فیصلہ کرے ۔ تاکہ ملک کی گاڑی صحیح سمت چلتارہے ۔ یہ ہے ایک جدید جمہوری حکومتوں کا طریقہ ہے ۔ اگر سابق وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ مجھے کوکیوں نکالا توصاحب آپ(سیاست دانوں ) نے ہی ملک کے آئین میں فعہ ۲۶ ۔ ۳۶ رکھی ہے ۔ آپ نے ہی خود سپریم کورٹ کو خط کو خط لکھا کہ آپ کا کیس سن کر فیصلہ دے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ جب عدالت نے آپ کا کیس سنا اور آپ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق آپ کو سزادی تو پھر مہذب دنیا کے مہذب وزیر اعظموں کی طرح آپ کو کا فیصلہ ماننا چاہیے تھا ۔ مگر آپ نے اس کو نہ مان کر پورے ملک کے عوام کو اپنی ہی ملک کی قابل قدر سپریم کورٹ اورفوج کے خلاف اُکسایا ۔ آپ نے خودہی دو دفعہ الیکٹرونک میڈیا اور ایک بار پارلیمنٹ میں کہا کہ اپوزیشن کے مطالبہ پر تحقیق ہونے چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ ۸۱۰۲ء کے الیکشن ہوئے ۔ سارا دن الیکشن پر امن ہوتے رہے ۔ جب گنتی کا وقت آیا اور الیکشن کمیشن نے نتاءج کا اعلان کرنا شروع ہوا تو ہارنے والوں نے حسب روایت شور کرنا شروع کر دیا کہ خلائی مخلوق(فوج) نے دھاندلی کرائی ہے ۔ نئی حکومت بنی تو اس نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ہم نے تو سابقہ حکومت کو صرف چار حلقوں کے کھولنے کی بات کرتے تھے ۔ اپوزیشن جتنے حلقے چاہے موجودہ حکومت کھولنے کےلئے تیار ہے ۔ اس کےلئے پارلیمنٹ میں حکومتی اور اپوزیشن کے ممبران پر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ۔ مگر اپوزیشن کی ایک پارٹی ایم ایم اے کے سربراہ نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو نہیں چلنے دینگے ۔ جیتنے والے حلف نہ اُٹھائیں ۔ جیتنے والا منتخب وزیر اعظم نہیں بلکہ سلیکٹڈ وزیر اعظم ہے ۔ جتنے والی پی ٹی آئی پارٹی کے منشور میں کرپشن کو پاکستان سے ختم کرنے کا عوام سے عہد شامل ہے ۔ اس کے مطابق وہ اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنا چاہتی ہے ۔ اپوزیشن کے لیڈروں کے خلاف نیب میں پرانے مقدمے چل رہے تھے ۔ ان پر کارروائی شروع ہوئی ہے ۔ حکومت کہتی ہے ہمارے دور میں یہ مقدمے قائم نہیں کیے گئے ۔ اپوزیشن لیڈروں کو اپنی سچائی عدالت میں ثابت کر کے کرپشن کے مقدموں سے جان چھڑانی چاہیے ۔ کرپشن کو سیاست کی نذرنہیں ہونے دیں گے ۔ حکومت کہتی ہے کہ ہم کرپشن پر کوسمجھوتہ نہیں کریں گے ۔ جس نے بھی کرپشن کی ہے اور مقدمے عدالتوں میں ہیں ۔ کرپشن ثابت ہوجائے تو وہ اس کو قانون کے مطابق لوٹا ہوا پیسا واپس غریب عوام کے خزانے میں جمع کراکر اپنی جان کی خلاصی کرا لیں ۔ کسی قسم کا این ار او نہیں ہوگا ۔ صاحبو!کیا یہ طریقہ صحیح نہیں کہ جس پر بھی کرپشن کے کیس ہیں وہ عدالتی کارروائی میں تعاون کریں اورقانون کا احترام کرتے ہوئے اپنی بے گناہی ثابت کر کے سرخرو ہو جائیں ۔ ملک کے نظام کو صحیح سمت میں چلنے دیں ۔ ملک کے ارد گرد دملک سارے دشمن جمع ہو گئے ہیں ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی دفعہ ۰۷۳ اور۷۳ ۔ اے ختم کرکے غیر آئینی طور پر پاکستان کی شہ رگ کاٹ کر اپنے ملک میں شامل کر لیا ہے ۔ پاکستان پر جنگ مسلط کر دی ہے ۔ جنگ بندی لین پر روزانہ کی بنیاد پر بغیر اشتعال انگیزی کے سرحد پرپاکستانی عوام کو شہید کر رہا ہے ۔ کسی وقت بھی پاکستان پر حملہ کر نے کی دھمکیاں دے رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان تکمیل پاکستان کی جنگ کوآخری نجام تک پہنچانے کےلئے روزانہ کی بنیاد پرشہید ہورہے ہیں ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ فوج بڑھا کر نو لاکھ کر دی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں تین ماہ سے زیادہ وقت سے کرفیو لگا ہوا ہے ۔ کشمیری اپنے بچوں کو پاکستان کے ہلالی پرچم میں لپیٹ لپیٹ کر پاکستان کو بچانے کےلئے دفنا رہے ہیں ۔ ایسے حالات میں اپوزیشن پاکستان کے دارالخلافہ پر چڑھائی کر کے کیا دشمن کو مضبوط تو نہیں کرنا چاہتی ہے;238; پاکستان میں دو سابقہ حکومتوں نے اپنی اپنی ۵ سال کی مدت پوری کی،یہ ایک اچھی روایت بن گئی تھی ۔ کیا اپوزیشن موجودہ حکومت کوگرا کر سابقہ حکومتوں کی ۵ سال پورے ہونے کی ریت کو ختم کرنا چاہتی ہے

About Admin

Google Analytics Alternative