Home » کالم » کیا واقعی امریکہ افغانستان میں امن چاہتاہے؟

کیا واقعی امریکہ افغانستان میں امن چاہتاہے؟

آخر کار امریکا کو افغان طالبان سے بات چیت کرنے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کی ضرورت پڑ ہی گئی۔ گزشتہ ماہ دسمبر میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا جس میں انہوں نے افغان تنازع کا حل نکالنے کے لیے اسلام آباد سے مدد کی درخواست کی۔ ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ خط میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’امریکا کے لیے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور افغان تنازعہ کا حل نکالنا دونوں ہی اہمیت کے حامل ہیں‘۔ لیکن اس خط سے چندروز قبل ہی امریکی صدر نے پاکستان کے لیے امریکی امداد روکے جانے کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان نے اب تک امریکا کے لیے کچھ نہیں کیا۔جس کے جواب میں حکومت اور اپوزیشن نے یک زبان ہو کر امریکا کو منہ توڑ جواب دیا تھا۔امریکی صدر کے خط کے بعدکہا گیا کہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اس سلسلے میں پاکستان کادورہ کریں گے۔ بہر حال زلمے خلیل زاد پاکستان آئے اور وزیر اعظم عمران خان ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ انہو ں نے اسلام آباد میں تعینات مختلف ممالک کے سفیروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان کے دورہ کے اختتام پر ایک اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ امریکی نمائندہ خصوصی نے افغان مسئلے کے سیاسی حل کیلئے امریکہ کے عزم کو دہرایا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان کبھی بھی عالمی دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہوسکے۔ گزشتہ40 سال کی شورش کے خاتمے سے خطے کے تمام ممالک مستفید ہوں گے۔زلمے خلیل زاد کے دورہ پر فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پاکستان کیلئے بہت اہم ہے۔ پاکستان خطہ میں قیام امن اور استحکام کیلئے کوششیں جاری رکھے گا۔ حال ہی میں افغان طالبان اور امریکہ کے مابین ابوظہبی میں جاری امن مذاکرات ختم ہو ئے جس کے بعد امریکہ کا کہنا ہے کہ بات چیت مفید رہی لیکن طالبان افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ ان تمام مسائل کی جڑ اور افغانستان میں امن کی راہ میں رکاوٹ افغانستان میں قابض فوج کی موجودگی ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس کے علاوہ طالبان عام شہریوں کے خلاف بمباری روکنے اور قیدیوں کی فوری رہائی بھی چاہتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امریکہ افغانستان میں طاقت کے استعمال سے وہ نتائج حاصل نہیں کر سکا جو چاہتا تھا۔ کیونکہ طاقت کے بے جا استعمال سے نہ تو اس کا اپنا تسلط قائم ہو سکا نہ افغان انتظامیہ کے قدم جم سکے اور نہ ہی وہ افغانستان جیسے پسماندہ ملک میں فتح کا اعلان کر سکا۔ پاکستان ہمیشہ سے یہ کہتا رہا ہے کہ اگر امریکہ افغانستان کے مسئلہ کا حل چاہتا ہے تو طاقت کے بجائے مفاہمتی عمل آگے بڑھائے ۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کیلئے نیٹو ، امریکہ کی مدد کی۔ اتنے ڈالر، فوجی گنوا کر اب امریکہ کو ہوش آیا ہے کہ افغانستان میں امن ضروری ہے اور وہ صرف مذاکرات سے ممکن ہے، طاقت سے نہیں۔ اور مذاکرات کیلئے پاکستان کی اپنی ایک اہمیت ہے ۔ طالبان بھی پاکستان کو اپنا بڑ ا بھائی ، نمائندہ جانتے ہیں۔ لہذا امریکہ نے پاکستان سے درخواست کی کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کرے۔ پاکستان اس وقت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہوگا کہ افغانستان میں کٹھ پتلی حکومتوں سے نجات ملے اور امریکی افواج کا انخلا کیا جائے کیونکہ طالبان کابل حکومت کو مذاکرات میں شریک نہیں کرنا چاہتے۔ وہ براہ راست امریکہ سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ۔ ویسے بھی امریکہ اب افغانستان کی صورتحال سے جان چھڑانا چاہتا ہے اور وہ کسی ایسے حل پر آنا چاہتا ہے جس سے خود اسے اپنی افواج کو یہاں سے واپس بلانا پڑے کیونکہ افغانستان کی صورتحال سے امریکہ کا بھرم اور حاکمیت کا رجحان متاثر ہوا ہے۔ اس کی آمد سے دہشت گردی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور افغان مسئلے کا بگاڑ کم ہونے کے بجائے بڑھا ہے لہٰذا اب امریکہ کو خود اپنے مفاد میں پاکستان کی کوششوں اور کاوشوں کی تائید و حمایت اور سرپرستی کرنا ہوگی، مسئلہ کے حل میں معاون بننا ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ افغانستان میں قیام امن سے خود پاکستان کا امن و استحکام مشروط ہے۔ پاکستان یہ بات بخوبی سمجھتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کے نتیجہ میں سی پیک کے ثمرات اس خطہ تک وسیع ہو سکتے ہیں اور اس کا فائدہ افغانستان کی تعمیر نو میں بھی ہوگا۔

About Admin

Google Analytics Alternative