110

کینسر کے انقلابی طریقہ علاج کی جانب نمایاں پیشرفت

کینسر اس وقت دنیا میں بہت تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے جس کا علاج تو ممکن ہے مگر اس وقت جب اس کی تشخیص جلد ہوجائے اور اسی وجہ سے اموات کی شرح بھی بہت زیادہ ہے۔

تاہم اب سائنسدانوں نے ایسے نئے مدافعتی خلیات دریافت کرلیے ہیں جو بیشتر اقسام کے کینسر کو ختم کرسکتے ہیں اور اس سے اس بیماری کے علاج میں نمایاں پیشرفت کا امکان ہے۔

برطانیہ کی کارڈف یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے حادثاتی طور پر ان خلیات کو دریافت کیا۔

یہ سائنسدان ایک بلڈ بینک میں موجود خون میں ایسے خلیات کو دیکھ رہے تھے جو بیکٹریا سے لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اس دوران انہوں نے بالکل نئی قسم کے ٹی سیلز (مدافعتی خلیات) کو دریافت کرلیا۔

یہ نئے خلیات اپنے ساتھ ایک ریسیپٹر کو لے کر چلتے ہیں جو صحت مند خلیات کو نظرانداز کرکے کینسر والے خلیات کا شکار کرتا ہے۔

لیبارٹری میں تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ یہ نئے خلیات پھیپھڑوں، جلد، خون، قولون، بریسٹ، ہڈی، مثانے، گردے اور دیگر اقسام کے کینسر زدہ خلیات کو مار سکتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر اینڈریو سیویل نے اس بارے میں بتایا کہ اس طرح کے خلیات کی دریافت انتہائی غیرمعمولی ہے جو کینسر سے لڑنے والے طریقہ علاج کو بہتر بنانے کے ساتھ ایک یونیورسل تھراپی کو ممکن بنائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ چونکا دینے والی دریافت ہے کیونکہ کسی کو بھی ان خلیات کی موجودگی کا علم نہیں تھا۔

انہوں نے کہا ‘ہماری دریافت سے کینسر کا ایک طریقہ علاج تشکیل دینے میں مدد مل سکے گی، ایک سنگل ٹی سیل جو متعدد اقسام کے کینسر کو ختم کرسکے گا، پہلے کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ ایسا ممکن ہوگا’۔

انہوں نے کہا کہ یہ خلیات بہت نایاب ہیں یا ہوسکتا ہے کہ بیشتر افراد میں یہ ریسیپٹر موجود ہو مگر کسی وجہ سے وہ متحرک نہیں ہوپاتا، ہم ابھی اس بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

مدافعتی خلیات کی مدد سے کینسر کی مخصوص اقسام کے لیے تھراپیز دستیاب ہیں مگر وہ صرف خون کے کینسر کی چند اقسام کے یے موثر ہیں اور ٹھوس رسولی پر کام نہیں کرتیں، جو کینسر کے اکثر کیسز میں سامنے آتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ نئے خلیات کینسر زدہ خلیات کے ایک مالیکیول سے منسلک کیے جاسکتے ہیں اور اس طرح یہ نہ صرف متعدد اقسام کے کینسر کا علاج کرسکیں گے بلکہ ان کو لوگوں کے درمیان شیئر بھی کیا جاسکے گا، یعنی ایسے بینکس کا قیام ممکن ہوسکے گا جہاں ان خصوصی خلیات کو رکھا جائے گا۔

سائنسدانوں نے ان خلیات کو ایسے چوہوں کے جسموں میں داخل کیا جو انسانی کینسر کا شکار تھے اور انسانی مدافعتی نظام ان میں موجود تھا، ان تجربات کے نتائج حوصلہ افزا اور کینسر کے خاتمے جیسے رہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ خلیات جلد کے کینسر کے مریضوں کے کینسر زدہ خلیات کو ہی ختم نہیں کرتے بلکہ انہیں لیبارٹری میں دیگر مریضوں کے متاثرہ خلیات کے خاتمے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کینسر سے قریب المرگ مریضوں پر اس کی آزمائش رواں سال نومبر تک شروع کی جاسکتی ہے مگر اس سے پہلے لیبارٹری میں اس پر مزید کام کیا جائے گا تاکہ مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیچر امیونولوجی میں شائع ہوئے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں