Home » کالم » گیس بحران جلد حل کیاجائے
adaria

گیس بحران جلد حل کیاجائے

adaria

حکومت اب ترجیحی بنیادوں پر عوامی مسائل کو حل کرنے پرتوجہ دے رہی ہے جس کی مثال وزیراعظم کی جانب سے گیس پریشر کے حوالے سے نوٹس لیناہے، چونکہ کچھ عرصہ قبل حکومت یہ کہہ چکی تھی کہ گیس لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی ۔ماضی میں بھی یہ المیہ رہاہے کہ سردیوں میں گیس پریشر اور گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ،دیکھنے میں یہ آتارہاکہ عوام نے اس حوالے سے بے تحاشہ احتجاجی مظاہرے بھی کئے ۔حتیٰ کہ بعض اوقات بجلی کے گرڈاسٹیشنوں کوبکھری ہوئی عوام نے نذرآتش بھی کیا۔ حکومت کو توجہ اس جانب دینی ہوگی کہ آخرکار بجلی اور گیس کے مسائل ہمیشہ کی طرح اب بھی کیوں درپیش ہیں۔ حقیقت کچھ اس طرح ہے کہ جب تک بجلی چوری ،کنڈا سسٹم اور گیس چوری کو روکنے کے لئے اقدامات نہیں کئے جاتے اس وقت تک ایسے ہی گھمبیرمسائل کاسامنارہے گا۔صنعتوں کے اعتبارسے دیکھاجائے تو وہاں پراکثرگیس چوری کی شکایات آتی ہیں ۔تقریباً بہت سارے ادارے اورصنعتیں سوئی گیس کے بلوں کے ڈیفالٹربھی ہیں۔ ہم یہاں حکومت کو یہ مشورہ دیں گے کہ صرف نوٹس لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا اصل مسائل کی جڑ کاسدباب کرنا ضروری ہے ۔کیا نوٹس لینے سے کل گیس کاپریشربحال ہوجائے گا ایساقطعی طورپرممکن نہیں ۔ تاہم وزیراعظم کانوٹس لینا ایک خوش آئنداقدام ہے چونکہ سوئی گیس اللہ تعالیٰ کی جانب سے پاکستان کے لئے ایک نعمت ہے جو اس نے ہمیں وافرمقدارمیں عطاء کی ہے ۔بات صرف مینجمنٹ کی ہے ا اسی حوالے سے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں جاری گیس بحران پر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ۔اجلاس میں وزیر اعظم کو ملک میں گیس کی بحرانی صورتحال، گیس کی پیداوار اور ضروریات سے متعلق امور پر بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں نے نااہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گیس کی طلب و رسد کی معلومات چھپائیں جس پر وزیراعظم عمران خان نے دونوں کمپنیوں کے منیجنگ ڈائریکٹرز کیخلاف انکوائری کا حکم دیدیا۔اگر حقائق چھپانے کاسلسلہ ختم ہوجائے تو ہمارا ملک ترقی کرکے کہیں سے کہیں پہنچ سکتاہے حکومت کو ہم یہ مشورہ بھی دیں گے کہ جب وزیراعظم نے متعلقہ کمپنیوں کے سربراہان کو حقائق چھپانے پر طلب کیاہے تو انہیں جلدازجلدقرارواقعی سزادی جائے تاکہ آنیوالا ایسے مذموم اقدام سے پرہیزکرے۔نیزوزیر اعظم نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ایم ڈیز کیخلاف تحقیقاتی کارروائی 72 گھنٹے میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر پٹرولیم تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔اجلاس میں وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے وزیراعظم کو گیس کی صورتحال اور پیدا ہونیوالے حالیہ بحران پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گیس کے حالیہ بحران کی ذمہ داری بنیادی طور پر ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اداروں نے نہ صرف حکومت سے بعض گیس کمپریسر پلانٹس کی خرابی سے متعلق معلومات کو پوشیدہ رکھا بلکہ دسمبر کے مہینے میں گیس کی طلب کے حوالہ سے تخمینہ سازی میں بھی غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ملک میں گیس کی مقامی پیداوار کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت جنوب میں واقع گیس فیلڈز کی کل پیداوار 1200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 80 ایم ایم سی ایف ڈی کم ہے، اسی طرح شمال میں کنڑ پساکی اور گیمبٹ فیلڈ زمیں بھی گیس کی پیداوار میں50 ایم ایم سی ایف ڈی کی کمی واقع ہوئی ہے۔وزیراعظم نے تحقیقات کے حوالے سے چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل خان کی سربراہی میں 4 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کردی ہے جس کا پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔ڈی جی نجکاری کمیشن قاضی سلیم صدیقی، ڈی جی گیس شاہد یوسف اور ڈی جی ایل جی عمران احمد کمیٹی کے رکن ہوں گے۔کمیٹی ایم ڈی سوئی ناردرن اور ایم ڈی سوئی سدرن کیخلاف انکوائری کریگی۔کمیٹی دونوں ایم ڈیز کیخلاف انکوائری رپورٹ 72گھنٹے میں پیش کریگی۔ کمیٹی اپنی کارروائی کے دوران کسی بھی ماہر کو معاونت کیلئے بلاسکتی ہے۔ دونوں ایم ڈیز کیخلاف وزارت کو حقائق کے بارے میں آگاہ کرنے میں غفلت اور حکومت سے معلومات چھپانے کے حوالے سے تحقیقات کی جائینگی۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ،سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ایم ڈیز سے منظم گورننس کی ناکامی کی تحقیقات بھی کی جائینگی۔

پاکستان میں امن کی صورتحال بہتری کی جانب گامزن
پا ک فوج نے ہمیشہ ملک میں قیام امن کے حوالے سے کلیدی کرداراداکیا جس کی واضح مثالیں آپریشن ضرب عضب اورآپریشن ردالفساد ہیں ،ان آپریشنز کے دوران نہ صرف دہشت گردی کی بیخ کنی کی گئی بلکہ دہشت گردوں کی کمربھی توڑ دی گئی۔اسی وجہ سے ملکی امن وامان کی صورتحال میں واضح اورمثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے ۔یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب بھی دنیابھرمیں کسی بھی ملک میں امن وامان اوراستحکام قائم ہوتا ہے تووہاں پربین الاقوامی سطح سے سرمایہ کاری اور سرمایہ کارآتے ہیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے گزشتہ روز گدرا سیکٹر سندھ میں اگلے مورچوں کا دورہ کیا۔ آرمی چیف نے جوانوں کی پیشہ ورانہ تیاریوں اور بلند حوصلے کو سراہا۔ آرمی چیف نے تھرکول پراجیکٹ کا بھی دورہ کیا۔اس موقع پرآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج سرحدوں کے دفاع کیلئے مکمل طور پر پرعزم ہے، داخلی صورتحال بہتر ہونے سے بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی ہے اور راستے کھل گئے ہیں۔ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ آرمی چیف کو منصوبوں پر ہونے والی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے کہاکہ تاجروں اور صنعت کاروں کو محفوظ ماحول دینے کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے۔ پاکستانی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ اس سے قبل آرمی چیف نے ایئر ڈیفنس سینٹر کراچی کا دورہ کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آرمی ایئر ڈیفنس کا کردار قابل تحسین ہے۔ مزید برآں آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے پی اے ایف کے آپریشنل بیس کا دورہ کیا اور پاک چین بین الاقوامی فضائی مشق شاہین 7 کا معائنہ کیا۔ اس مشق سے پاکستان اور چین کے درمیان دوستی مزید مضبوط ہو گی اور فروغ پائے گی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں آرمی ایئر ڈیفنس سنٹرکا دورہ کیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی ایئر ڈیفنس سنٹرکے دورے کے موقع پر لیفٹیننٹ جنرل حمودالزمان کو کرنل کمانڈر آف آرمی ایئر ڈیفنس کور کے بیجز لگائے۔

About Admin

Google Analytics Alternative