Home » کالم » اداریہ » ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل، الیکشن شیڈول جاری
adaria

ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل، الیکشن شیڈول جاری

adaria

سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 25 جولائی کو ہی ہونگے، لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کاغذات نامزدگی سے متعلق لاہورہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سردار ایاز صادق اور الیکشن کمیشن کی اپیلوں کی سماعت کی۔ ایاز صادق کے وکلا نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ منسوخ کیا جائے، یہ انتخابات کے بروقت انعقاد کا معاملہ ہے، ہائی کورٹ کے فیصلے سے انتخابات میں تاخیر ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے اپیل میں موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں تضاد پایا جاتا ہے اور فیصلے سے انتخابات کا شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اگر نامزدگی فارم کا اجرا جلد شروع نہ کیا گیا تو انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور ایاز صادق کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے، اگر الیکشن میں تاخیر ہوئی تو الیکشن کمیشن آف پاکستان ذاتی طور پر اس کا ذمہ دار ہوگا۔ یکم جون کو لاہور ہائی کورٹ نے آئینی ماہر سعد رسول کی درخواست پر پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذاتِ نامزدگی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں۔الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایازصادق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدام سے انتخابات کے بروقت انعقاد میں تاخیر کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف سپریم کور ٹ کی جانب سے کاغذات نامزدگی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کئے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018کانظر ثانی شدہ شیڈول جاری کر دیا جس کے مطابق کاغذات نامزدگی 4سے 8جون تک جمع کرائے جائیں گے جبکہ امیدواروں کے ناموں کی فہرست بھی 8 جون کو شائع کی جائے گی ، الیکشن کمیشن کی جانب سے باقی شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ، جس کے بعد کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 14جون تک کی جائے گی ، امیدوار ریٹرنگ افسران کے فیصلوں کے خلاف 19جون تک اپیلیں دائر کر سکیں گے جبکہ ایپلٹ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں 26جون تک نمٹائی جائیں گی ،امیدواروں کی حتمی فہرست 27جون کو شائع کی جائے گی جبکہ 28جولائی تک امیدوار اپنے نام واپس لے سکتے ہیں جبکہ 29جون کو امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ کئے جائیں گے ، جبکہ پولنگ 25جولائی کو ہی ہو گی ۔نگران وزیراعظم جسٹس (ر)ناصر الملک نے کہا ہے کہ میں صرف 2 ماہ کے لیے آیا ہوں،یقین دلاتا ہوں کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے،ملک میں تمام کام صرف آئین کے مطابق ہوں گے، اپنے اختیارات کے مطابق لوگوں کی خدمت کروں گا۔ کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ الیکشن کے بروقت انعقاد کا باعث قرار پائے گا،سیاسی منظر نامہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھا لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے غیر یقینی صورتحال کو ختم کردیا ہے اب الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہونگے، حکومت اور الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ ہے کہ وہ پرامن انتخابات کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل میں شفافیت کو بھی یقینی بنائیں تاکہ ماضی کی طرح دھاندلی کی گردان اس بار نہ دہرائی جائے، سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اپنے منشور کا پرچارکریں، ایک دوسرے پر تنقید برائے تنقید اور الزام تراشی سے گریز کریں، الیکشن کا انعقاد نگران حکومت کی اولین ترجیح ہے امید ہے کہ وہ اس مشن کو کماحقہ پورا کرنے میں کامیاب قرار پائے گی۔ انتخابات کا عمل ہی جمہوریت کیلئے نیک شگون قرار پاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سکروٹنی ایف آئی اے ، نیب، ایف بی آر، اسٹیٹ بنک سے کرائی جائے گی، چار ٹیموں پر مشتمل 36 رکنی سنٹرل سکروٹنی سیل تشکیل دیا جائے گا، امیدواروں کی دوہری شہریت، قرضے، ڈیفالٹر، انکم ٹیکس کی معلومات اکٹھی کرے گا۔الیکشن کمیشن کا یہ اقدام اہل امیدواروں کو آگے لانے میں ممدومعاون ثابت ہوگا اور کرپٹ امیدواروں کا راستہ رک پائے گا یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے ، الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ دوررس نتائج کاحامل قرار پائے گا اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔شفاف الیکشن ہی الیکشن کمیشن کیلئے ستائش کا باعث قرار پائیں گے۔
افغان سرحد سے دہشت گردی
افغان سرحد سے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی دونوں ملکوں کیلئے جہاں تعلقات کو خراب کرنے کا باعث بن رہی ہے وہاں خطے کے امن کیلئے خطرات بڑھنے کا بھی ذریعہ بن رہی ہے ۔ گزشتہ روز افغان سرحد سے دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا کے علاقے باجوڑ اور بلوچستان میں قمر دین کاریز میں سرحدی چوکیوں اور باڑ لگانے والے فوجی جوانوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایف سی کے 4 اور پاک فضائیہ کا ایک جوان زخمی ہوگیا۔سرحد پار سے باجوڑ میں 24 گھنٹوں کے دوران 7 حملے کئے گئے، سیکیورٹی فورسز نے باڑ کی تنصیب اور سرحدی چوکیوں کے قیام سے روکنے کی دہشت گردوں کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ جوابی فائرنگ کے نتیجے میں 6 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔دہشت گرد افغانستان میں حکومتی عملداری نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر پاکستان پر حملے کر رہے ہیں لیکن پاکستان تمام چیلنجز کے باوجود سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے باڑ کی تنصیب اور سرحدی چوکیوں کے قیام کا کام جاری رکھے گا۔ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال ہونا لمحہ فکریہ ہے ، پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک تواتر سے برسرپیکار ہے اور پاک فوج دن رات دہشت گردوں کی بیخ کنی کیلئے کوشاں ہے، لیکن افغان علاقے سے دہشت گردانہ کارروائیاں پاکستان کیلئے پریشان کن ہیں، پاکستان کئی بار افغان حکومت سے احتجاج ریکارڈ کرواچکا ہے لیکن توجہ طلب امر یہ ہے کہ تاحال افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کی آماجگاہیں خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں، دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کوئی دین نہیں، معصوم شہریوں کو بموں اور دھماکوں سے اڑانا ان کا مشن ہے لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائیں گے، کیونکہ پاک فوج دہشت گردی کیخلاف پرعزم ہے اس طرح کی کارروائیاں پاک فوج کو متزلزل نہیں کرسکتیں، پاک فوج کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ وہ ایک طرف سرحدی کی حفاظت کررہی ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کی روک تھام میں کوشاں ہے ، دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے، افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے تاکہ خطے کا امن بحال رہے ، افغان حدود سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پاکستان باڑ کی تنصیب اور سرحدی چوکیوں کے قیام کا کام جاری رکھے گا کیونکہ اس کے بغیر دہشت گردی کی روک تھام ناممکن ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative