Home » کالم » ہر طاقتور کو قانون کے دائرہ کار میں لانا خوش آئند اقدام
adaria

ہر طاقتور کو قانون کے دائرہ کار میں لانا خوش آئند اقدام

adaria

جمہوریت کی بقاء اور ملک میں امن و امان کیلئے اس وقت تمام ادارے بشمول عسکری و سیاسی قیادت ایک پیج پر ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے حوالے سے جس خواہش کا اظہار کیا ہے اس حوالے سے بھی چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ ہیں تاہم ایک انتہائی اہمیت کی حامل بات جو کہ چیف جسٹس نے اپنے خطاب کے دوران کہی کہ اب پارلیمنٹ میں بائیکاٹ یا واک آؤٹ کرنے کا وقت نہیں ، سب مل بیٹھ کر مسائل کا حل کریں۔ دراصل مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اقتدار میں بیٹھے ہوئے وزراء اپنی مرضی سے بھانت بھانت کی بولیاں بولتے رہتے ہیں، ہم نے ان سطور میں متعدد بار وزیراعظم کو یہ مشورہ دیاتھا کہ وہ حکومت کا ایک ترجمان مقرر کریں جوکہ حکومتی موقف کو واضح طورپر میڈیا اور عوام تک پہنچا سکے لیکن ہوتا یوں تھا کہ جس وزیر کے دل میں جو آیا وہی بیان اس نے داغ دیا۔ کرتارپور راہداری جوایک تاریخی واقعہ تھا اس کو بھی مختلف وزراء نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا جس سے حکومت پاکستان جو کریڈٹ حاصل کرسکتی تھی اس میں کچھ نہ کچھ کمی آگئی تاہم اب وزیراعظم نے حکومتی ترجمان مقرر کردیا ہے اور تمام وزراء محدود کردیا گیا ہے کہ وہ صرف اپنی وزارتوں سے متعلق ہی بیان دینگے، یقینی طورپر بین السطور میں دئیے گئے ہمارے مشورے پر وزیراعظم کی جانب سے عمل ایک خوش آئند اقدام ہے۔ گزشتہ روز ہونے والے سمپوزیم میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہیں، قانون کی حکمرانی سے سے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے، چیف جسٹس نے پاناما لیکس کا غیر جانبدارانہ فیصلہ کرکے نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے، جو کام چیف جسٹس ثاقب نثار نے کئے وہ جمہوری حکومت کو کرنے چاہیے تھے، پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کیلئے کوششیں کرتے رہیں گے، ڈکٹیٹر ہمیشہ ڈیموکریٹ اور ڈیمو کریٹ ہمیشہ ڈکٹیٹر بننے کی کوشش میں لگا رہتا تھا، ڈیم منصوبہ 5سال میں کبھی نہیں بنتا، ہم نے سول، فوجداری قوانین میں تبدیلی کے لیے 6 نئی تجاویز تیار کی ہیں، پوری کوشش کر رہے ہیں کہ قانون سازی کے ذریعے پرانا نظام عدل تبدیل کریں۔ اسلام آباد میں بڑھتی آبادی پر فوری توجہ کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کا شکرگزار ہوں جنہوں نے پہلے وزیراعظم کو یہاں دعوت دی، نئے پاکستان کی بنیاد ہم نے رکھ دی ہے، وہ معاشرہ ترقی کرتا ہے جہاں قانون کی پاسداری ہو، کیوں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہے، موجودہ حالات میں نئے پاکستان کے دور کا آغاز ہوا ہے، پانی کے مسئلے کو چیف جسٹس نے اجاگر کیا، ہمیشہ ہر حکومت نے اپنے 5سال کا ہی سوچا، ڈیم منصوبہ 5سال میں کبھی نہیں بنتا، ماضی میں جن ڈیمز اور پانی کے مسائل کے بارے میں سوچا گیا اس میں صرف پاکستان کی ترقی کیلئے ہی سوچا گیا تھا، اس وقت قوم کا احساس کیا جاتا تھا نہ کہ اپنے پانچ سالوں کا، بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل چکا ہے، ماضی کی حکومت میں تمام ادارے حکومت کے مفلوج تھے، اب کے دور میں تمام ادارے آزاد ہیں اور ان کو کسی سے کوئی ڈر نہیں ہے، ا سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش ہے، بڑے قبضہ گروپ صرف اس لئے بنتے ہیں کیونکہ سول مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا، اب کوئی اقتدار میں آ کر قانون کو پامال کرنے کا نہیں سوچ سکتا، لاہور میں راوی نہر کا میٹھا پانی پیا جاتا ہے، آج کا راوی سیوریج کا ڈمپ بن گیا ہے، آج کا لاہور کنکریٹ کا جنگل بن گیا ہے، بڑھتی آبادی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کو چیف جسٹس نے اجاگر کیا، اس حوالے سے اب ہم نے ٹاسک فورس بنا دی ہے، چیف جسٹس کو قوم کی جانب سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جمہوری حکومتیں صرف 5 سال کا سوچتی تھیں کہ اگلا الیکشن کیسے جیتیں، جب منگلا اور تربیلا ڈیم بنے تب پاکستان میں آگے کا سوچا جاتا تھا۔ عمران خان نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کی حکمرانی کی کوشش کر رہے ہیں جو بہت اچھی چیز ہے آپ ہر طاقتور کو قانون کے نیچے لاتے ہیں یہ سب پاناما سے شروع ہوا اس کا کوئی بھی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ برسراقتدار وزیراعظم قانون کے نیچے آ سکتا ہے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان میں سول اور کرمنل قانون فرسودہ ہو چکے ہیں قبضہ گروپ اسی وجہ سے بنے کہ سول مقدمات کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔ ہم نے 6 نئے قوانین تیار کئے ہیں جو اسمبلی میں لا رہے ہیں۔ سول کرمنل پروسیجر کورٹ کا قانون بھی لا رہے ہیں جس میں کچھ وقت لگے گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ 30 سال بعد آبادی 45 کروڑ ہو گی وسائل کم ہو رہے ہیں اور آبادی بڑھ رہی ہے۔ 21 صدی میں 19 ویں صدی کا قانون چلا رہے ہیں، ججز کی تعداد بڑھانی ہے اور عدالتی ڈھانچے کو اپ ڈیٹ کرنا ہے، وزیر اعظم معلوم کریں کہ گزشتہ چالیس سالوں میں ڈیم کیوں نہیں بنے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست مدینہ کے قیام کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں، پارلیمنٹ سپریم ہے، وزیراعظم اور پارلیمنٹ کی معاونت کی بہت ضرورت ہے۔ ہم آنے والی نسلوں کو کچھ دے کر جانا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وسائل محدود اور ضروریات لامحدود ہیں، 60سال میں ہم نے آبادی کے کنٹرول پر کوئی توجہ نہیں دی جبکہ بڑھتی آبادی سے ہمارے وسائل مسلسل دبا کا شکار ہیں۔ ملک میں پانی کے بہتر استعمال کو فروغ دینا ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ سالانہ 7ارب گیلن پانی زمین سے نکالا جاتا ہے، زمین سے نکالے گئے پانی کا تین چوتھائی ضائع کر دیاجاتا ہے۔ اپنے علم کو بہتری کیلئے استعمال کرنے والی قومیں ترقی کرتی ہیں، آبادی پر قابو پانے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات کرنا ہوں گے اور آبادی پر کنٹرول کے لیے میڈیا کے ذریعے آگاہی دینی ہے۔جوڈیشل سسٹم پر صدیوں کا بوجھ ہے ایک سول جج کے پاس روزانہ 160 مقدمات آتے ہیں۔1850 کا قانون آج قابل عمل ہے؟ آج ہر پیدا ہونے والا بچہ ایک لاکھ 21ہزار روپے کا مقروض ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم اور پارلیمنٹ کی معاونت بہت ضرورت ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنا چھوڑ دیا جائے، پارلیمنٹیرینز اپنا کام قانون سازی کریں۔ وزیراعظم مدینہ کی ریاست قائم کرنے کی بات کرتے ہیں اس خواب اور تصور میں عدلیہ شانہ بشانہ ہے اور نیک نیتی سے وزیراعظم کے اس خواب کی تعبیر کو پانے کی کوشش کریں گے، عدلیہ کو وہ ٹولز دیے جائیں کہ وہ آج کے تقاضوں کو پورا کرسکے، عدلیہ اب اس بوجھ کو اٹھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ برسہا برس کیس چلتا رہے۔

پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے مابین معاہدہ
پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کا بینک اکاؤنٹس کی معلومات کے حوالے سے معاہدہ ہوگیا ہے، چار سے چھ ہفتوں میں پاکستان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات سوئس حکام سے مل جائیں گی۔برٹش ورجن آئی لینڈ اورجرمنی سے بھی ایسے ہی معاہدے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ رقوم کی واپسی کیلئے سوئس بینک کے دروازے دوبارہ کھٹکھٹائے جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہاکہ آصف زرداری کا کیس دوبارہ کھولا جاسکتا ہے جبکہ نواز شریف کیخلاف وی وی آئی پی طیارے کے غلط استعمال کاریفرنس دائر کیا جائے گا۔ سوئٹزرلینڈ نے پاکستان کے ساتھ معاہدے کی توثیق کردی ہے۔ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان یہ معاہدہ خوش آئند ثابت ہوسکتا ہے ۔اگر پاکستان اپنے مقاصد حاصل کرسکے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative