Home » کالم » اورمضامین/کالم » ہمارے ایئرپورٹ
azmat_khan

ہمارے ایئرپورٹ

کسی زمانے میں ہوائی سفر بہت کم ہوا کرتا تھا شاذ نادر ہی لوگ ہوائی سفر کیا جاتا تھا الا ماشا اللہ سرکاری کارپرداز ہی سرکاری خرچ پر اس تفریح سے متمتع ہوتے یہ سفر ضرورت کے ساتھ ساتھ ایک تفریح سمجھا جاتا تھا یادش بخیر ہمارا دور طالب علمی تھارتودیرو کے جناب مجید قلفی والا اپنے خاندان کے بچوں کو لیکر موئننجو دڑو گئے جہاں سے سکھر کے لئے پرواز کی جو وہاں سے 60 میل کی مسافت پر تھا پرواز کادورانیہ محض 15 منٹ تھا ٹکٹ یکطرفہ 30 روپے ہوا کرتا تھا کراچی کے لئے 90 روپے تھا 70 کی دہائی میں جب خلیجی ریاستیں آزاد ہوئیں اور جہاں تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو لیبر کی فوری اور بے شمار آسامیاں پیدا ہوئیں اور ہوائی سفر میں فوری اضافہ ہوا یہاں تک کہ کچھ کمپنیاں اپنے مزدوروں کے لئے براہ راست خصوصی پروازوں کا اہتمام کرتیں اور بین الاقوامی پروازوں کی آمد رفت محض کراچی تک محدود ہوا کرتی تھی کراچی ایرپورٹ ایک چھوٹا سا ایئرپورٹ ٹرمینل ہوتا تھا جو آج ٹرمینل 1کہلاتا ہے اسی سے پورے پاکستان کے لئے ملکی اور بین الاقوامی پروازیں آتی جاتی تھیں جہاں کسٹم والے چھریاں تیز کئے بیٹھے ہوتے کسٹم کے چھوٹے اہلکار لا علم مسافروں سے سودے بازی کرتے اور ان کا سامان نزرانے کے عوض کلیرکرواتے جن مسافروں کو اندرون ملک بذریعہ ٹرین جانا ہوتا ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی ٹیکسیوں والے ان پر جھپٹ پڑتے مسافر کے سامان میں سے کوئی ایک بیگ اٹھا کر بظاہر اپنی ٹیکسی کا جانب چل دیتا تو دوسرا ٹیکسی والا دوسرا بیگ اٹھا لیتا اور دوسری جانب چل پڑتا کبھی مسافر کسی ایک کے پیچھے دوڑتا تو دوسرا سامان لے کر غائب ہوجاتا اگر ٹیکسی میں آپ نے سامان رکھوایا آپ سمجھے کہ سامان رکھنے والا ٹیکسی ڈرائیور ہیتو آپ کا سامان رکھوانیوالا مزدور بن کر آپ کے سامنے کھڑا ہو جائے گا اور ڈالر یا درہم کی بات کرے گا اگر آپ نے کہ دیا کہ بھائی ہم نے تو آپ کو سامان رکھوانے کے لئے نہیں کہا تو وہ برابھلا بھی کہے گا اور لڑنے کو بھی تیار ہوجائے گا کبھی جعلی نمبر کی ٹیکسیاں بھی ہوتی تھیں جن میں عموما جرائم پیشہ لوگ ہوتے جن کی سرپرستی اہلکار کیا کرتے یہ لوگ عموما مسافروں کو لوٹ لیتے تھے رینجرز کی کراچی آمد سے پہلے ایک مشہور ہوٹل کے پاس سے گزرنے والے کینٹ اسٹیشن کے راستے میں لسانی پار ٹی کے کارکن لوگوں کے سامان کی تلاشی لیا کرتے اور جو چیز پسند آتی رکھ لیتیاندرون ملک صرف قومی ائیرلائنز آپریٹ کرتی کاؤنٹر سے اندرون ملک فلائٹ اور سیٹ کا پوچھا جاتا تو جواب آتا “فلائٹ فل ہے”یعنی کوئی سیٹ نہیں انہیں کے کارندے مسافروں سے ہمدردی کے بہانے ان سے ملتے اور پی آئی اے کے اہلکاروں کو بدعنوان قرار دے کر برا بھلا کہتے ہوئے پیشکش کرتے کہ ہماراایک جاننے والا ہے کوشش کرکے آپ کو سیٹ دلوادیتے ہیں یوں ٹکٹ کی قیمت کا 20 یا 25 فیصد زیادہ لیکر نشست دلوا دیتے عیدین کے زمانے میں یہ معاوضہ دوگنے سے بھی زیادہ ہوجاتا جن کا سامان زیادہ ہوتا ان کو سامان میں چھوٹ دلواکر پیسے اینٹھ لیتے ہیں کراچی ایئرپورٹ پر بیرون ملک سے آمد گراونڈ فلور پر ہوتی ہے اور اندون ملک روانگی پہلی منزل سے سامان پہلی منزل پر لے جانا عذاب سے کم نہیں ہوتا لفٹ میں آپ کو جانے نہیں دیتے یا لفٹ خرابی کا کہ کر بند کردی جاتی ہے اسکیلیٹر کے آگے رکاوٹ لگی ہوتی ہے مجبورا آپ پورٹر کی خدمات حاصل کرتے ہیں وہ نگ کے حساب سے بھاری رقم مانگ لیتے ہیں بین الاقوامی ائرپورٹوں پر زر مبادلہ کے کاؤنٹر بھی لوٹ مار کے اڈے ہیں اگر آپ کسی وجہ سے ایئرپورٹ پر موجود زرمبادلہ سے بوتھ سے زرمبادلہ پاکستانی روپوں میں تبدیل کرواتے ہیں تو گاہک کو دیکھ کر ڈیل کیا جاتا ہے اگر گاہگ پڑھا لکھا ہے تو اسے اصل ریٹ سے تھوڑے کم پیسے دئے جاتے ہیں اور اگر گاہک کم پڑھا لکھا ہے یا اسے زرمبادلہ کے عوض بہت کم پیسے دئے جاتے اس کی رسید تک نہیں دی جاتی اگر باہر جانے کے بعد گاہک کو شک پڑنے پر واپس حساب کرنے آتا تو اسے صاف کہ دیا جاتا آپ نے ہم سے کوئی ڈیل نہیں کی ہم نے تو آپ کو دیکھا تک نہیں وغیرہ وغیرہ ان کا بھی ایک مافیا ہوتا ہے ہم ایک دفعہ بیرون ملک سے آئے اور ضرورت پڑنے پر کچھ یورو تبدیل کروائے ابھی ٹرمینل پر تھے کہ کچھ دیر بعد ایک سرکاری اہل کار کی معیت میں ایکسچینج والے صاحب تشریف لائے اور الزام لگایا کہ آپ کے دئے ہوئے یورو جعلی ہیں اور آپ پر جعلی کرنسی چلانے کا مقدمہ قائم کیا جائے گا اتفاق سے ہمارے فون میں ان نوٹوں کی تصاویر موجود تھیں سرکاری اہل کار ہمیں نصیحت کرتے رہے کہ آپ پڑھے لکھے لگ رہے ہیں کورٹ کچہری تک نہ جائیں یہیں معاملہ نمٹا لیں ہمارا تعاون بھی حاصل ہوگا ان کا نقصان پورا کردیں ہم آپ سے معاملہ کرلیں گے بہر حال شواہد سامنے تھے پھر انہیں بتایا گیا کہ ہم سرکاری اہل کار ہیں تو انہیں عقل آئی ہم نے اس کی ایئرپورٹ منیجر سے شکایت بھی کی لیکن “وہ بھی کمبخت تیرا چاہنے والا نکلا” کراچی لاہور اور اسلام آباد کو چھوڑ کر باقی تمام ایئرپورٹوں پر پارکنگ کے نام پر ٹھیکیدار کے کارکن مین انٹری پر زنجیر ڈالے بیٹھے ہوتے ہیں یعنی اگر آپ کو مسافرکو ٹرمینل پر محض اتارکر جانا چاہتے ہیں اور پارکنگ نہیں کرنی تب بھی پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے وگرنہ مسافر سے کہاجاتا ہے کہ اپنا سامان سرپر اٹھا کر ٹرمینل تک لے جائیں گاڑی بغیر پارکنگ فیس کی ادائیگی کے اندر نہیں جائے گی آپ اصرار کریں گے تو ان کے سیکیوریٹی نما غنڈے مرنے مارنے پر آجائیں گے جب کہ یہ آپ کا حق ہے کہ وہ ٹرمینل تک گاڑی میں جا سکتے ہیں پارکنگ آپ کی مرضی پر منحصر ہے اس دھندے میں ایئرپورٹ کے اہلکار باقائدہ حصہ دار ہوتے ہیں فیصل آباد ایئر پورٹ پر بین الاقوامی اور اندرون ملک پروازوں کے مسافر ٹرمینل سے جہاز تک پیدل جارہے ہوتے ہیں کبھی بھی کوئی مسافر ایک کی بجائے دوسری فلائٹ میں جا سکتے ہیں یا اندون ملک سفر کرنے والا مسافر با آسانی بیرون ملک جا سکتا ہے ایک بات اور نوٹ کی گئی ہے کہ سرکاری اہلکاروں کی جانب سے اخلاق و مروت کا وہ معیار نہیں رہا ہر شخص غصے سے بھرا بیٹھا ہے برداشت بھی کم ہو گئی ہے جس کا اثر بیرون ملک سے آنے والے غیرملکی لوگوں پر منفی پڑتا ہے اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں حقوق و فرائض کی درست ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے ۔آمین
*****

About Admin

Google Analytics Alternative