54

ہم آپ کو بھولے نہیں

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و بربریت اور زیادتی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ بھارتی فوج بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کشمیری مردوں پر تشدد اور قتل کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ بڑی بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری خواتین کی آبرو ریزی بھی کر رہی ہے ۔ پوری وادی میں گزشتہ چار ماہ سے میڈیا کا داخلہ بند کیا گیا ہے تاکہ دنیا کو مقبوضہ وادی کے اندرونی حقائق کا علم نہ ہو سکے ۔ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ چار ماہ سے مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے مسلمانوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے اور پوری وادی کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے ۔ چار ماہ سے وہاں کرفیو نافذ ہے ۔ مسلمانوں کو نماز جمہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے ۔ ہر طرف دہشت اور خوف کا ماحول ہے ۔ عجیب غیر یقینی صورت حال ہے ۔ روز بروز بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیری خواتین کی آبرو ریزی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس بارے میں برطانوی اخبار’’ انڈپینڈنٹ‘‘ کے مطابق کشمیریوں کے حوصلے توڑنے کےلئے بھارتی فوجی کشمیری خواتین کی عزتوں کی پامالی کو جنگی آلے کے طور پر استعمال کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں ۔ سرینگر سمیت مختلف علاقوں میں بھارتی فوج کی یہ بے غیرتی اور بے شرمی ایک معمول بن چکا ہے ۔ مقبوضہ وادی میں نافذ کرفیو کی آڑ میں ہر قدم پر بھارتی فوجی تعینات ہیں ۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی سروس بند ہے ۔ ہر طرف ویرانی،خوف اور دہشت کا عالم ہے ۔ صرف صبح کے وقت دو گھنٹوں کےلئے لوگ اشیاء ضروریہ کی خریداری کر سکتے ہیں ۔ یہ تمام صورتحال دنیا کے سامنے ہے لیکن او آئی سی سمیت دنیا نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ چند ایک ممالک کی طرف سے کشمیریوں کی حمایت محض بیانات کی حد تک کی گئی ہے ۔ عملی طور پر کسی طرف سے بھارت کے خلاف کسی نے کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کئے ہیں ۔ پاکستان گزشتہ سات دہایءوں سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کےلئے ہر فورم پر آواز بلند کرتا رہا ہے ۔ 5 اگست2019ء کے بھارتی ظالمانہ اقدام کے بعد پاکستان نے موثر انداز میں آواز بلند کی ۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کی بھر پور ترجمانی کی ۔ اس موقع پر مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اور ان کو بھارت کی جانب سے کشمیر پر ناجائز قبضے اور کشمیری مسلمانوں پر بھارتی ظلم و تشدد سے آگاہ کیا ۔ لیکن یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ کسی طرف سے بھارت پر دباءو ڈالنا تو درکنار تجارتی معاملات پر بھی کوئی فرق نہیں پڑا ۔ پاکستان نے بار بار کشمیری مسلمانوں کو باور کروایا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھیں ۔ پاکستان ان کی اخلاقی،سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا ۔ یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کی اصل وجہ مقبوضہ کشمیر کا قضیہ ہی ہے ۔ اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دے دے تو پورے خطے میں منڈلاتے جنگ کے بادل ہٹ جائیں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے متعدد بار بھارتی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے اور اس اہم نکتہ کو اجاگر کیا ہے کہ علاقے میں امن کا قیام دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے ۔ لیکن بھارتی وزیراعظم کو خود بھارتی عوام اور ملک کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ خود بھارت کے اندر شیو سینا کی طرف سے بھارتی مسلمانوں پر مظالم میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ لاکھوں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کر دی گئی ہے ۔ دوسری طرف مختلف ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں ۔ اور بعض جگہوں پر تو باقاعدہ اعلانات بھی ہو رہے ہیں ۔ کیا بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی طرح ان علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کو بھی پاکستان کے کھاتے میں ڈالے گی;238; بھارتی حکومت کو اب بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیئے ۔ بھارت کی معیشت زبوں حالی کی طرف گامزن ہے ۔ بے روزگاری اور مہنگائی میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے ۔ پیاز خریدنے کےلئے بھی لوگ قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ بھارتی حکومت کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیئے کہ اب نہ وہ بھارت ہے نہ وہ وقت اور حالات ہیں نہ وہ کشمیری ہیں ۔ اب دنیا بہت تبدیل ہو گئی ہے ۔ اب بھارت کشمیریوں کو زیادہ عرصہ بزور بندوق نہیں دبا سکتا ۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ہندوءوں کو آباد کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ وہ وہاں جائیدادوں کے مالک اور رہائشی بن جائیں اور اس طرح ایک اور مذموم کوشش کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے ۔ جبکہ دوسری طرف بھارت کے ہی ٹکڑے ہونےوالے ہیں ۔ پورا بھارتی پنجاب بھارت سے علیحدگی یا خودمختاری کےلئے تیار ہے ۔ بھارتی پنجاب جس کو بھارت کا اناج گھر بھی کہا جاتا ہے وہاں کی اکثریت سکھوں پر مشتمل ہے ۔ اور یورپی ممالک خصوصاً امریکہ اور کینیڈا میں بہت بڑی تعداد میں سکھ مقیم ہیں اور وہاں ان کے کاروبار ہیں اور ان ممالک سے سالانہ کروڑوں ڈالرز ان ہی کی طرف سے بھارت آتے ہیں ۔ بھارتی حکومت اور وزیراعظم نریندر مودی کو اپنے ملک میں تیزی سے بدلتے حالات،مہنگائی،بیروز گاری،معیشت کی تیزی سے گراوٹ اور علیحدگی کی تحریکوں پر توجہ دینی چاہیئے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے کر پاکستان کے ساتھ کئی دہایءوں سے جاری تنازعہ کر ختم کرناچاہیئے تاکہ خطے میں قیام امن کو یقینی بناکیا جا سکے ۔ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اچھے تعلقات اور بڑے پیمانے پر تجارتی،ثقافتی اور سیاحتی سرگرمیوں کی بحالی ہو ۔ اب بھارت دونوں ممالک کے درمیان ترقی کےلئے ممکنہ اقدامات کا بند کیا ہوا دروازہ کھول دے ۔ بصورت دیگر کشمیریوں نے تو ایک لاکھ سے زائد جانوں کے نذرانے پیش کیئے ہیں تاکہ بھارت کے ظلم و جبر سے آزادی حاصل کر سکیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر اور خصوصاً سرحد کے قریب رہائش پذیر آزاد کشمیر کے شہریوں نے بھی سینکڑوں کی تعداد میں جان و مال کو مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا ۔ پاک افواج نے ہر موقع پر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہے ۔ جنگ ہو یا سرحد پر بھارتی شر انگیزی پاک فوج کے جوانوں اور افسروں نے جان پر کھیل کر بھارتی فوج کو دندان شکن جواب دیا ۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنماء کشمیر کے معاملہ پر حکومت،فوج اور عوام کے ساتھ کھڑی ہیں ۔ پاکستان خطے میں بدامنی اور جنگ و جدل سے گریز صرف اس لئے کرتا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان نہیں رہے گی ۔ اس جنگ کے اثرات پوری دنیا کو متاثر کریں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں