Home » کالم » اورمضامین/کالم » ہم ہمارے مہربان اور ہمارے حکمران
tariq-ameen

ہم ہمارے مہربان اور ہمارے حکمران

زندگی انفرادی ہو یا اجتماعی قومی ہو یا بین القوامی تجربات انسانی معاشروں میں ترقی کی علامت سمجھے جاتے ہیں ہم ان تجربات سے سبق سیکھتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں وطن عزیز میں ہم نے سیاست اور نظام حکومت پر بڑے تجربے کئے ہیں کبھی ہمیں صدراتی نظام پسند آتاہے اور کبھی پارلیمانی کبھی یک ایوانی اور کبھی دو ایوانی اور کبھی کبھی ان نظاموں کے درمیان نیم جمہوری اور آمرانہ نظام بھی چھلانگ لگا کر ہمیں ترقی اور خوشخالی کی نوید سنانے لگتے ہیں لیکن سچ پوچھیں توہمیں ان میں سے کوئی نظام بھی راس نہیں آتانہ جمہوریت ہمارے دکھوں اور غموں کا مداوّا کرسکی ہے اورنہ نیم جمہوری اور آمرانہ نظام ہی ہمیں کوئی راحتیں اور خوشیاں فراہم کرسکے ہیں انہی تجربات سے گذرتے ہمار ی سیاست میں مفاہمت کی نئی سوچ یا پالیسی بھی گذشتہ ڈیڑھ دو دہائیوں سے متعارف ہوچکی ہے جسکا بنیادی مقصد تو یہ تھا کہ حکمران اورا پوزیشن بلاوجہ تو تکرار کرنے ایک دوسرے سے انتقام لینے کی بجائے صبروتحمل سے بات سننے اور کرنے کا رویہ اختیار کرکے صحت مند سیاست اختیار کرتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی وخوشخالی کا سبب بنتے لیکن بدقسمتی سے سیاست میں مفاہمت اپنے اصل مقاصد سے ہٹ کر باریاں لینے کی پالیسی پر چل نکلی جس نے عام آدمی کیلئے زندگی میں راحتیں اور آرام لانے کی بجائے انہیں مزید دکھوں اور غموں میں مبتلا کردیا سیاست میں مفاہمت سے متاثر ہوکر یوں لگتاہے کہ آج کل وطن عزیز میں موسم اور سیاست میں بھی مفاہمت چل پڑی ہے اچھا بھلا صاف شفاف موسم ایک دم دھند کی نذر ھو کر حدنگاہ کو صفر کے درجے پر لے آتاہے سڑکیں گلیاں بازار دھند میں کچھ اسطرح سے اَٹ جاتے ہیں کہ کوئی منظر بھی صاف نظر نہیں آتا جہازوں کی پروازوں سے لیکر بسوں ٹرینوں تک سب اس دھند لے موسم کی نذر ہوجاتے ہیں اور یہ دھندلا موسم اس قدر سفاک بن جاتاہے کہ مسافروں کو راستے میں ہی موت کے سفر پر لے جاتا ہے پھر دھند چھٹتی ہے چند دن بہتر گذرتے اور منظر صاف نظر آنے لگتے ہیں اور پھر وہی دھند اچانک پورے ملک کو گھیرلیتی ہے اور سارے منظر سارے راستے اور تمام منزلیں دھند لی ہوجاتی ہیں بالکل ہماری قومی سیاست کی طرح کہ جس میں صاحبان اقتدار جب جلسوں مجموں یا ٹیلی ویژن کی سکرینوں پر خطاب کرتے نظر آتے ہیں تو انکی باتیں ان کے ارادے انکے منصوبے اور انکی پالیسوں کے بارے سن کر ترقی وخوشخالی کے تمام منظر صاف اور شفاف نظر آنے لگتے ہیں۔ پتہ چلتا ہے کہ پاک چین دوستی کا تحفہ سی پیک پر

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative