Home » کالم » اورمضامین/کالم » ہندوستانی میڈیا اور ہمارے رویے

ہندوستانی میڈیا اور ہمارے رویے

خبر ہے کہ ایک معصوم بچی جس کی عمر کوئی لگ بھگ 10 سال کے قریب ہوگی جو پاکستان میں ایک حاضر سروس سینئر جج صاحب کے ہاں ملازمہ تھی جس پر مبینہ طور پر تشدد کی گیا بچی کا جسم لوہے کی سیخوں کو گرم کر کے داغا جاتا تھا تو کبھی گرم استری سے جسم جلایا جاتا اس کے علاوہ ڈنڈے سے پٹائی کی جاتی کبھی چائے کا گرم پانی بچی کے جسم پر انڈیلا جاتا اور بالآخر بچی اپنے لواحقین تک پہنچ گئی اور تشدد کی شکایت متعلقہ تھانے میں درج وکرادی گئی اور جب یہ معاملہ میڈیا میں آیا تو چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار نے اس واقعے کا ازخود نوٹس لے لیا اور متعلقہ محکموں سے فورا رپورٹ طلب کر لی اور جج صاحب کو سمن کردیا گیا اور بچی کو ہسپتال بھیج دیا گیا ہسپتال میں بچی کا طبی معائنہ کیا گیا جس سے یہ ثابت ہوا کہ بچی پر بہیمانہ تشدد کیا گیا منہ آنکھ کنپٹی اور کمرپر ضربات کے نشان موجود ہیں جب بچی کا بیان لیا گیا تو اس بچی نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی تفصیلات بیان کردیں جج صاحب کی بیگم صاحبہ کو حوالات میں بند کردیا گیا جج صاحب کو بلا لیا گیا ان سے بیان لیا گیا جس میں انہوں نے بچی پر ہونے والے تشدد سے سرے سے ہی انکار کردیا کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے بعد اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہو رہی ہے سوال یہ ہے کہ ہم اس قدرتشدد پسند کیوں ہوگئے ہیں جبکہ ہم جس دین حنیف کے ماننے والے ہیں اس میں تو رحم ہی رحم اور محبت ہی محبت ہے جہاں پیاسے کتے کو پانی پلانے بدکردار اور گناہوں میں لتھڑے انسان کی بخشش ہو جاتی ہیاور اس دین میں قطع رحمی پر سخت وعیدیں ہیں اور صلہ رحمی پر رحمت ربانی کا نزول ہوتا ہے اس دین حنیف کے ماننے والوں کو جانوروں کے حقوق اور ان پر رحم اور نرمی کا کہا جاتا ہے کجا کہ ایک انسان بلکہ معصوم بچی پر اس قدر تشدد خدا کی پناہ عدالت اپنا فیصلہ دے گی جو یقیناًحق اور انصاف پر مبنی ہوگا لیکن اطلاعات سے پتہ چلتا ہے ملزمہ مالکن نے مبینہ طور پر انتہائی بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچی پر بے انتہا تشدد کیا کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ ہم اعتدال سے ہٹ کر تشدد پسند کیوں ہوتے جارہے ہیں اور ہمارے رویے انتہاء پسندی کی طرف کیوں مائل ہیں ہم اس سے پہلے متشدد معاشرہ نہین تھے اس کا ذمہ دار وہ مواد ہے جسے ہم ٹی وی پر بیٹھے روزانہ دیکھتے ہیں جس میں انڈین مواد سب سے زیادہ ہوتا ہے جس میں غیر شرعی جنسی تعلقات کو کچھ اس طرح دکھایا جاتا ہے کہ جیسے یہ کوئی عام سی اور غیر معیوب بات ہے اور ایسا کرنا جائز ہے جس کے جواز کے کئی پہلو دکھائے جاتے ہیں جس میں ایک مرد کئی خواتین سے بیک وقت ایسے ہی تعلقات رکھتا اور کئی خواتین اپنے شریک حیات سے دھوکہ دہی کی مرتکب ہو رہی ہوتی ہے تو ڈراموں میں اس کی اس حرکت کو جائز اور نفسیاتی ضرورت کے طور پر دکھایا جاتا ہے ان پروگراموں کو دیکھ کر جنسی اشتہا بڑھتی ہے اور لوگ اس گناہ کبیرہ کو عام روٹین کی بات سمجھنے لگ جاتے ہیں اور احساس جرم میں بتدریج کمی ہوتی چلی جاتی ہے اور ہم دینی تعلیمات سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں کہ جو عمل ہمارے دین میں انتہائی سزا کے قابل ہے وہ عام سی بات باور کرائی جاتی ہے یعنی بے راہ روی کو جواز بخشنے کی کوشش کی جاتی ہے اب چونکہ جنس اور تشدد جڑواں جذبے ہوتے ہیں جہاں بے راہ روی ہوگی اور جتنی زیادہ ہوگی معاشرہ اتنا ہی پر تشدد ہوتا جائے گا اس کی بڑی مثال آج کا ہندوستانی معاشرہ ہے جہاں سر راہ چلتی خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور ان پر بے انتہاء جنسی تشدد کیا جاتا ہے اور عمومی طور پر یہ معاملہ خواتین پر شدید جسمانی تشدد کے بعد قتل پر منتج ہوتا ہے اسی نوع کا ایک مشہور واقعہ دہلی میں پیش آیا جہان کئی لوگوں نے ملکر چلتی بس میں ایک لڑکی پر جنسی تشدد کیا اور بعد میں اسے شدید جسمانی تشدد کرکے ہلاک کردیا گیا اور اس واردات میں ملوث ملزموں کی عمریں 20 سال سے کم تھیں عدالت نے تمام ملزموں پر کیس ثابت ہونے کے بعد تمام مجرموں کو سزائے موت سنا دی۔ہندوستان میں آج کل غیر ملکی خواتین پر جنسی حملے عام سی بات ہو گئی ہے اور اس وجہ سے ہندوستان میں سیاحت کو خاصہ بڑا دھچکہ لگا ہے اور سیاحوں کی ہندوستان آمد میں نمایاں کمی ہو گئی ہے اور ہم پاکستانی معاشرہ ہین اور ایک اللہ کے ماننے والے ہیں اور اندھی تقلید میں ہم میں اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ ہم ان کے پروگراموں کے فارمیٹ بہ من و عن نقل کرتے جارہے ہیں ان کے ہاں ڈانس اور موسیقی مذہبی تعلیمات میں شامل ہیں لیکن ہم بنا سوچے سمجھے ٹیلنٹ کی تلاش کے نام پر بچیوں اور بچوں میں گانے اور ناچنے کے مقابلے کر وا رہے ہیں ہم پورا ملک ہی ہندوستانی ٹی وی اور فلمیں بڑے شوق سے دیکھ رہے ہیں اور ہم اپنی معاشرتی اقدار کی تباہی تو کر رہے ہیں لیکن شکریہ کے طور پر اور اپنی مزید تباہی کے لئے زر مبادلہ بھی انڈیا کو دھڑا دھڑ بھجوا رہے ہے ہیں اور انڈیا ہمارے ہاں دہشت گردی کروا رہا ہے کشمیری بہنوں بیٹیوں کی آبرو ریزی ہو رہی ہے جوانوں کو نابینا بنایا جا رہا ہیاور انڈیا آبی دہشت گردی بھی شروع کر چکا ہے اور ہم اپنی بنیادیں ہی کھودے ڈال رہے ہیں خدا کے لئے جاگیں دانشور خواتین و حضرات سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور قوم کو اس کے مضر اور مہلک اثرات سے آگاہ کریں اور عوامی شعور کو بیدار کریں اور ان میں دوست اور دشمن کا فرق واضح کریں کہ اس دوڑ کا نتیجہ کیا ہوگا کیا ہم وہ سب کچھ برداشت کر پائیں گے جو ہندوستان میں ہو رہا ہے جس کی نہ دین اجازت دیتا ہے اور نہ ہماری اخلاقی اقدار اللہ ہمین حق اور سچ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان اور اہل پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔آمین

About Admin

Google Analytics Alternative