Home » کالم » ہندوستان کے 13 صوبوں میں انسانی حقوق کی پامالی

ہندوستان کے 13 صوبوں میں انسانی حقوق کی پامالی

بھارت کی 13 نکسل ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور حریت پسند بھارتی فوج پر حملے کرتے ہیں اور مختلف علاقوں میں بم دھماکے بھی کرتے ہیں۔ بھارتی حکومت حریت پسندوں کو کشمیریوں کی طرح آزادی دینے کو تیار نہیں اور انہیں بدستور غلام بنائے رکھنا چاہتی ہے۔ ان علاقوں میں چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، مشرقی اترپردیش، جھاڑکھنڈ، مغربی بنگال، مغربی اڑسیہ اور بہارکے علاقے شامل ہیں۔بھارت اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی خاطر ان نیکسل علاقوں کے ہزاروں باشندوں کو زندہ رہنے کے حق سے ہمیشہ کیلئے محروم کر چکا ہے اور بے شمار بچے یتیم کر دیئے گئے ہیں مگر ہندوستانی سرکار کی نظر ملک گیری پر ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔بھارت دنیا کا واحد جمہوری اور سیکولر ملک ہے جہاں دیگر عقائد و نظریات تو درکنار نچلی ذات کے ہندو بھی متعصبانہ اور غیر مساوی پالیسیوں کی وجہ سے پسماندگی ، ظلم وستم اور غربت و افلاس کا سامنا کر رہے ہیں اور برہمن قیادت نے ہمیشہ ہندو انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے۔ کیونکہ اس صدی کی مادر پدر آزاد اور عریاں کلچر کے دلدادہ بھارت نے امریکہ اور یورپ کے اس سے بھی زیادہ عریاں کلچر کو اپنا لیا ہے۔ قابل توجہ بات ہے کہ شمال مشرقی بھارت کی سبھی ریاستوں میں دہلی کی مرکزی سرکار کے خلاف جو غم و غصہ پایا جاتا ہے وہ کوئی راز کی بات نہیں اور اسی وجہ سے ان علاقوں میں بھارت سے علیحدگی کی تحریکیں گزشتہ70 برس سے جاری ہیں۔ ان ریاستوں کے رہنے والوں کا مطالبہ ہے کہ و ہ بھارت کی غلامی میں رہنے پر ہرگز آمادہ نہیں لہذا انہیں آزاد کیا جائے۔ علاقے کے تمام عوام اس مطالبے کے حق میں ہیں۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ بھارت سے علیحدگی کا یہ مطالبہ ہرگز نیا نہیں بلکہ یہاں کے عوام پچھلے70برس سے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں مگر بھارتی حکمران اپنی روایتی ریاستی دہشت گردی کی پالیسی پر عمل پیرا ہوکر بزور طاقت فی الحال اس صوبے کو اپنے ناجائز قبضے میں رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ناگا لینڈ، میزدرام، تیری پورہ، میگھالیہ، اروناچل پردیش اور آسام سبھی علاقوں کے رہنے والوں کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی طور شمالی بھارت یعنی ہندی بیلٹ میں رہنے والوں کے ساتھ مماثلت نہیں رکھتے بلکہ یہاں کا مذہب، کلچر اور روایات سبھی مختلف ہیں۔ واضح رہے کہ ’ناگا لینڈ‘ کی آزادی کی تحریک تو 1947 سے بھی پہلے کی ہے یعنی بھارت کے قیام سے پہلے ہی یہ علاقہ خود کو آزاد کرانے کیلئے تحریک چلا رہا تھا۔ تب گاندھی اور جواہر لعل نہرو نے یہاں کے لوگوں سے وعدہ بھی کیا تھا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد ان صوبوں کو بڑی حد تک خودمختاری دی جائے گی مگر بھارتی حکمرانوں نے اپنا کوئی بھی وعدہ پورا نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی مانند ان صوبوں کو بھی تاحال دہلی سرکار اپنی قابض افواج کے ذریعے قبضے میں رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس مذموم خواہش کی تکمیل کی غرض سے اس علاقے میں انڈین آرمی نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بدترین سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ بھارت میں علیحدگی پسند تحریکیں اپنے عروج پر ہیں۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دبانے کیلئے بھارت کو اپنی بھاری فوجی قوت اور سرمایہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے لیکن بھارت کے سیاسی حالات کا جائزہ لیا جائے تو کئی ریاستیں آزادی مانگ رہی ہیں اور حکومت پر شدید دباؤ ہے۔ حکومت لوگوں کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ آئے روز ریلوے سٹیشن، بسوں کے اڈوں اور بازاروں میں بم دھماکے ہو رہے ہیں اور انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اس علاقے میں اس وقت تقریباً30 گوریلا گروپ خانہ جنگی میں مصروف ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ان واقعات اور خونی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول نہیں کر رہا ہے۔ اب تک مختلف کارروائیوں میں پچاس ہزار لوگ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان جہادی دہشت گردی کی نئی قسم کو فروغ دے رہا ہے جس کا مقصد بھارت میں نسلی فسادات کو ہوا دینا ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل میں بھی سنجیدہ نہیں اور اس کی تجاویز سے بھارت میں کنفیوژن پھیل رہا ہے۔ بھارتی حکمران روایتی ہندوہیں کہہ مکرنیاں جن کا دین ایمان ہے، جھوٹ بولنا اور دوسروں پر الزام عائد کرنا ان کی عادت ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ بھارت میں نسلی اور لسانی اختلافات پھوٹ رہے ہیں، انکے نام نہاد سیکولرازم کا بھانڈا پھوٹ رہا ہے۔ اگر ان کے سیکولر ازم کی قلعی کھل رہی ہے تو اس میں پاکستان کا کیا قصور؟بھارت کے سابق وزیرعظم پنڈت نہرو اقوام متحدہ میں تحریری معاہدہ کر کے آئے تھے کہ وہ کشمیر میں رائے شماری کرائیں گے۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام اس رائے شماری میں آزادنہ طور پر حصہ لے سکیں گے اور کشمیر ی عوام جس ملک سے الحاق کرنا چاہتے ہیں، کر لیں گے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ریکارڈ میں یہ سب تفصیلات موجود ہیں اور یہی مسئلہ کشمیر کا درست حل ہے کہ کشمیر میں عوام کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی آزادی دی جائے گی۔ بھارتی حکمران فرقہ پرستوں اور جارحانہ ہندوؤں کے حامی ہیں۔ اقتدار ملنے کے بعد اس طبقے کا اثرو روسوخ اور بھی بڑھ گیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ہی بی جے پی قیادت نے اقلیتوں کو کم اہمیت دینا شروع کر دی تھی۔ بھارتی اقلیتوں کو اب شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ وہ صرف سیکولر سیاسی شطرنج کے مہرے ہیں یا پھر محض ووٹ بنک ہیں جنہیں الیکشن کے دوران استعمال کرنے کے بعد بھلا دیا جاتا ہے۔بھارت کی تمام اقلیتیں غیر انسانی سلوک کی شکایت کر رہی ہیں جبکہ سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کے ’حسن سلوک‘ کی سب سے نمایاں مثال صوبہ گجرات ہے، جہاں اکیسیویں صدی کے بڑے بھیانک مسلم کش فسادات ہوئے اور فوج و پولیس نے ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ بھارت دنیا کا نام نہاد جمہوری اور بڑی منڈی رکھنے والا ملک ہے۔ بھارت کو صرف اس بات کی خوش فہمی ہے کہ وہ اقتدار کو منتخب ہونے والی حکومت کے سپرد کر دیتا ہے لیکن وہ ملک کے عام شہریوں کو حقوق دینے کیلئے تیار نہیں۔

****

About Admin

Google Analytics Alternative