Home » کالم » ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ !!!
asgher ali shad

ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ !!!

کون نہیں جانتا ہے کہ را اور این ڈی ایس وطن عزیز کےخلاف سازشوں کا لامتناہی سلسلہ عرصہ دراز سے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اسی ضمن میں قومی اسمبلی کے ایک رکن جنابِ محسن داوڑ غیر ملکی ایجنسیوں خصوصاً ;826587; اور این ڈی ایس کے ہاتھوں میں ایک کٹھ پتلی کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ۔ پہلے کسی دور میں ایسی وجہ شہرت جنابِ حسین حقانی رکھتے تھے اور بعد ازاں انھوں نے اپنے طرز عمل سے بارہا ثابت کیا کہ ان کی بابت کئے جانے والے تبصرہ کچھ ایسے بے بنیاد بھی نہ تھے، طارق فتح بھی اسی قبیل کے اہم رکن ہیں ۔ اس ’’صفِ دوستاں ‘‘ میں اور بھی بہت سی خواتین و حضرات کا نامِ نامی لیا جا سکتا ہے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ گزشتہ 72 برسوں میں پاکستان اور بھارت کے آپسی تعلقات کیسے رہے ہیں یہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ ہر کوئی بخوبی جانتا ہے کہ ان تعلقات کو ’’اتار چڑھاءو‘‘ کا نام دینا بھی مشکل ہے کیونکہ زیادہ تر ان دونوں ممالک میں تعلقات کشیدہ ہی رہے ہیں ۔ اگرچہ اس ضمن میں مختلف اوقات میں بہتری کی کوششیں متعدد بار ہوتی رہیں مگر

نتیجہ نہ نکلا تھکے سب پیامی

یہاں آتے آتے، وہاں جاتے جاتے

یوں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مارچ 1977 میں جب مرار جی ڈیسائی نے بھارتی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو اس کے بعد کے 27 ماہ کو ہی پاک بھارت باہمی تعلقات کا نسبتاً بہتر عرصہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا کہ اسی دوران پاکستان کی جانب سے مرار جی ڈیسائی کو وطن عزیز کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’’نشان پاکستان‘‘ دیا گیا تھا ۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ موصوف واحد شخصیت ہیں جنھیں پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’’نشان پاکستان‘‘ اور ’’بھارت رتن‘‘ حاصل ہوئے ۔ یاد رہے کہ مرار جی ڈیسائی نے اپنے منتخب ہونے کے فوراً بعد ’’راء‘‘ کے بجٹ میں تقریباً نصف حد تک کٹوتی کر دی تھی ۔ اس کی وجہ انھوں نے بیان کی کہ راء جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام میں رکاوٹ ہے اور اس کے طرز عمل کی وجہ سے بھارت کے تعلقات خطے کے ممالک سے بہتر نہیں ہو رہے ۔ بھارت کے اندر صوبائی انتخابات کا عمل وقفوں سے پورے 5 سال جاری رہتا ہے، ہر چند ماہ بعد کسی بھارتی صوبے میں انتخابات کا بگل بجنے لگتا ہے ۔ اسی وجہ سے ;667480; اور کانگرس نے اپنے ملک (بھارت) میں چناءو جیتنے کا یہ آسان ’’نسخہ کیمیا‘‘ ڈھونڈ نکالا ہے کہ بھارت کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کو ہندوستانی داخلی سیاست کا محور بنائے رکھا جائے ۔ یوں بھارت کے حقیقی مسائل حل کئے بغیر ہی انھیں اپنے مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں اور خطے میں مستقل طور پر ایک تناءو کا ماحول برقرار رہتا ہے ۔ مودی نے تو اقتدار سنبھالنے کے روز اول سے ہی گویا طے کر لیا تھا کہ ہندوستان کے اقتصادی مسائل چونکہ انتہائی زیادہ ہیں اس لئے اس ضمن میں کوئی بڑی پیش رفت ان (مودی) کےلئے تقریباً ناممکن ہے، لہذا عیاری پر مبنی سفارت کاری کے ذریعے دنیا بھر میں یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان ہی علاقے میں تمام تر مسائل کا ذمہ دار ہے ۔ اپنے اسی ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر مودی نے وزیراعظم منتخب ہونے کے چند گھنٹوں میں ہی پہلا حکم انڈین انٹیلی جنس بیورو کے سابق چیف اجیت ڈووال کو بھارتی قومی سلامتی کا مشیر مقرر کرنے کا جاری کیا اور پھر یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا جو تاحال پوری شد و مد سے چل رہا ہے ۔ کسے معلوم نہیں کہ اجیت ڈووال ہی وہ شخصیت ہیں ، جنھوں نے ’’افینسیو ڈیفنس‘‘ کی اپنی نام نہاد تھیوری پر عمل پیرا ہونے کا فخریہ طور پر اعلان کیا اور اپنے قول و فعل سے اس پر عمل کر کے دکھانے کی بھی ہر ممکن سعی کی ۔ اس ضمن میں آنجہانی بھارتی وزیر دفاع منوہر پریارکر نے بھی ایک سے زائد مرتبہ ’’کانٹے سے کانٹا ‘‘ نکالنے کی اپنی پالیسی کا اظہار کیا ۔ اس سے موصوف کی مراد یہ تھی کہ پاکستان کے اندر دہشتگردی کو منظم ڈھنگ سے فروغ دیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں بھارتی وزیر مملکت برائے اطلاعات راجیے وردن اور سابق انڈین آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ اعتراف اور انکشاف کر چکے ہیں کہ پاکستان کو اندر سے ہی نقصان پہچانے کی ہر ممکن سعی کی جائے گی ۔ پچھلے چند سالوں میں جس طرح سے راء اور این ڈی ایس کے ذریعے سی پیک ، پولیو اور سابقہ فاٹا کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں ، یہ بھارت کی اسی مکروہ روش کا تسلسل ہے ۔ خطے کے بعض دیگر ممالک بھی وقتا فوقتاً بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے اس ضمن میں اپنا حصہ ڈالتے چلے آ رہے ہیں ۔ اس حوالے سے داعش کا نام بھی جس طرح سامنے آ رہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ساری قوتیں مل کر وطن عزیز کے خلاف ’’سہولت کار‘‘ کا کردار ادا کر رہی ہیں اور یوں یہ بھارتی رعشہ دوانیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں ۔ حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ پاکستان کی تمام تر حکومتیں کہہ چکی ہیں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ‘‘ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ پر کسی بھی سطح کے مذاکرات‘‘ شروع کرنے پر ہمہ وقت تیارہے ۔ مگر چونکہ دہلی کا حکمران ٹولہ اس حوالے سے سنجیدہ نہیں لہٰذا یہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد دہلی کی جانب سے کسی نہ کسی بہانے سے توڑ دیا جاتا ہے اور معاملات پھر جمود کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ دوسری جانب پاکستان کے معاشی مسائل پر تمام تر توجہ مرکوز کی جائے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ بھارتی دیرینہ روش کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قومی سلامتی کے تقاضوں کی جانب سے کسی قسم کی غفلت اور تساہل ہر گز نہ برتا جائے اور اس بھارتی ففتھ جنریشن وارفیئر کا خاطر خواہ جواب دیا جائے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative