Home » کالم » یومِ شہادت بابری مسجد۔دلخراش سانحہ

یومِ شہادت بابری مسجد۔دلخراش سانحہ

آرایس ایس کے دیوانے‘سرپھرے‘ جنونی متشدد کارسیکوں کی سیاسی تنظیم بی جے پی نے مودی کی قیادت میں آج سے ساڑھے چار برس قبل نئی دہلی کی مرکزی حکومت کا اقتدارجب اپنے ہاتھوں میں لیا تھا تواقتدار کے حصول کے پس منظرمیں دیش میں پہلے سے اقلیتوں پر جاری ظلم وستم اورمذہبی تعصب کی کھلی ہوئی نفرتوں پر مبنی وحشت زدہ انسانیت سوز فلسفہ کی عکاسی ہر کسی کو واضح نظر آرہی تھی یوں لگ رہا تھا کہ بھارت اب سیکولر دیش نہیں رہا دیش کوخالص’ہندوریاست ڈکلیئر‘کرنے کی راہ میں نہ کوئی رکاوٹ باقی ہے نہ ہی مستقبل میں کوئی رکاوٹ برداشت کی جائے گی اکثرپوچھا جاتا ہے کہ بھارت اپنے قیام کے بعد کسی دور میں کبھی ‘سیکولر’ اسٹیٹ رہا؟ گاندھی جی خود اور نہرو سمیت کانگریس کے صف اؤل کے دیگر اہم رہنما اپنے سیاسی اعمال و افعال کے نتیجے میں کبھی’سیکولر’دکھائی دئیے ،نہرو سے اندراگاندھی تک بھارت کے جتنے حکمران رہے کیا وہ ‘سیکولر’تھے؟ خو د مختار ریاست جموں وکشمیر پربھارتی فوجیں اتارنا، ایک آزادوخود مختار پڑوسی ملک پاکستان کے ایک حصہ میں اپنی خفیہ ایجنسی’را’ کے ذریعے اپنے ایجنٹس بھیج کرمشرقی پاکستان( آج کے بنگلہ دیش )میں سیاسی انارکی پھیلانا’سیاسی وانتخابی افراتفری کی آڑ میں انتشار وافتراق کو ہوا دینا لسانی عصبیت اکسانا بھارت کویہ سب زیب دیتا تھا؟ پاکستان کو بھارت نے کبھی دل سے تسلیم کیا نہ ہی بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو’بھارتی نژاد مسلمان’ مانا گیا، بھارتی نژاد مسلم اقلیت کو بھارت میں ہمیشہ تعصب اور تنگ نظری سے دیکھا جاتا ہے، اْن کے بنیادی حقوق برابری کی بنیاد پراْنہیں کبھی دئیے ہی نہیں گئے تقسیم ہند کے بعد بھارت نے دنیا کو دھوکہ دینے کی غرض سے اپنے دوغلے چہرے پر ‘سیکولر ازم’ کا نقاب چڑھا یا تھا اور سیکولرازم کی آڑ میں ابتداء میں کانگریس نے خصوصاً مسلمانوں پر خون آشام مظالم ڈھائے دیگر غیر ہندو اقلیتیں جن میں عیسائی’بدھسٹ اورسکھ شامل تھے جنونی انتہا پسند ہندووں نے کسی اقلیت کو نہیں بخشا مذہبی نفرتوں کے ایسے شعلے بھڑکائے اِن بھڑکتے شعلوں میں عیسائیوں کے گرجا گھروں کو خاکستر کیا گیا دیش کے بعض مقامات پر تو غیر دیشی عیسائیوں کو اُن کی عورتوں اور بچوں کو زندہ جلا دیا گیا انسانیت کے احترام کو بھارت میں نجانے اعلیٰ وارفع مقام کیوں نہیں دیا جاتا؟ ذات پات اورچھوت چھات کے برسہا برس کے صدیوں پر قائم نسلی امتیازات اور تعصب کی منافرت کے عذاب سے نجانے بھارت میں انسانیت کے احترام کا انسانیت پرور نظام وہاں کبھی قائم ہوگا یا نہیں؟ فسطائی ہندو جنونیت پرسلگائی ہوئی منافرت کے شعلوں میں بھارتی نژ اد مسلمان گزشتہ71 برس میں محفوظ رہے نہ عیسائی اور نہ ہی اْن کے گرجا گھروں کا احترام کیا گیا، سکھ محفوظ رہے نہ اْن کے مقدس گولڈن ٹمپل میں اْن کا اکال تخت محفوظ رہا ‘وشوا ہندو پریشد’بجرنگ دل اوربھاجپا کے وحشت ناک نعروں نے ہر غیر ہندو اقلیت کو غیر محفوظ کردیا ہے آج بھارتی نژاد مسلمانوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمان ‘بابری مسجد کی شہادت’ پراپنے شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے نئی دہلی سرکار کو باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ وہ اپنے آرایس ایس کے چھٹے ہوئے بے لگام غنڈوں کو لگام دے بھارت میں آباد مسلمانوں سمیت پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے آج کا دن’ 6 ؍دسمبر کا دن‘ اس اعتبار سے ناقابلِ فراموش دلخراش دن ہے آج سے26 برس قبل 6 ؍دسمبر1992 کو اترپردیش کے شہرایودھیا میں عہد مغلیہ کی تاریخی ’بابری مسجد‘کو دن دھاڑے شہید کیا گیا تھا جس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے بھرپور احتجاج کیا ،اُس وقت بھارت میں کانگریس کی حکومت تھی نرسہماراؤ وزیراعظم تھے بھارت کی ایک مصدقہ ومعتبر تفتیشی ویب سائٹ ‘کوبراپوسٹ’ نے2014 میں انکشاف کیا تھاکہ ’بابری مسجد‘ کو جنونی ہندوتنظیموں نے منظم سازش کے تحت شہید کیا تھااس خطرناک سازش سے ایل کے ایڈوانی ‘ منوہر جوشی اوراس وقت کے مرکزی وزیراعظم نرسہماراؤ باخبرتھے ’کوبراپوسٹ‘ کے مطابق مسجد کو شہید کرنے والوں کو سابق فوجیوں نے گجرات میں تربیت دی تھی جبکہ نظریاتی تربیت وشواہندوپریشدکی اعلیٰ قیادت نے دی یاد رہے کہ بابری مسجد کی شہادت کو بھارتی نژاد مسلمان اور اہل پاکستان کبھی نہیں بھول سکتے جہاں تک بھارتی ہندوقیادت کا یہ کہنا ہے کہ وہ بابری مسجد کی جگہ رام کا مندر بنائیں گے اُن کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا دنیا کواب تو یہ سمجھ آجانی چاہیئے کہ بھارت میں جنونی متشدد حکومت قائم ہے جو’رام راج’ اور’دھرم’کی آڑ میں بھارت میں آباد مسلمان اقلیت کو زیر کرکے متنازعہ مندر کی تعمیر کرنے میں اخلاقی و قانونی تقاضوں کو اپنے جوتوں کی نوک پر رکھتی ہے بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی شہادت میں شریک ملزمان پر فرد جرم عائد کردی ہے بابری مسجد کی ایکشن کمیٹی نے بارہا اپنا ٹھوس موقف دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ’ وہ کسی صورت مسلم قوم کی مسجد کا سودا نہیں ہونے دیں گے’بابری مسجد کا تنازعہ1949 میں پہلی مرتبہ اُس وقت پیش آیا جب تقسیم ہند کا زمانہ تھا پورا ملک دنگے فساد کی زد میں تھا ایسے میں چند شرارتی ہندوپنڈتوں نے بابری مسجد میں داخل ہوکر وہاں رام بھگوان کی مورتیاں رکھ کر اُن کی پوجا پاٹ شروع کردی، جس پر لکھنو کے بااثر مسلمانوں نے اس معاملہ پر اپنا اثررسوخ استعمال کیا یوں معاملہ رفع دفع ہوا تاریخ ہند پر گہری اورموثر تحقیق رکھنے والے غیر جانبدار اور غیر متعصب ماہرین کی رائے ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے چاہے وہ خاندانِ غوری ہو یا سوری خاندان کے بادشاہ ہوں مغلیہ عہد ہو یا افغانستان کے درانیوں کا عہد ہو ہندوؤں کے کسی مندر کو کسی مسلمان حکمران نے منہدم نہیں کیا اُن کے مذہبی حقوق کا احترام کیا گیا کھلے دلوں کے ساتھ ہندوؤں سے برابری کا برتاؤ روا رکھا گیا تقسیم ہند کے بعد انگریز کے جب واپس چلے گئے تو ہندوؤں کے سازشی منافق لیڈرٹولے نے جن کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف زہریلا بغض وعناد بھرا ہوا تھا وہ کھل کر سامنے آگیا جس کا ادراک علامہ اقبال اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بروقت کیا کہ’ہندو اور مسلمان دوعلیحدہ قومیں ہیں ‘ اب وہ جو اپنے آپ کوبڑا ’لبرل‘ اور ’روشن خیال سمجھتے ہیں ذرا وہ دیکھیں تو سہی! آرایس ایس والوں کو کہ ’ پاکستان کی ایماء پر خطہ میں امن کی راہ ہموار کردی گٗی ’’کرتارپورہ کوریڈور ‘‘کا کھلنا اُنہیں کیسے زیب دیتا ہے؟‘۔

About Admin

Google Analytics Alternative