Home » کالم » یہ امریکی و بھارتی روش ۔۔۔کب تلک؟
asghar-ali

یہ امریکی و بھارتی روش ۔۔۔کب تلک؟

asghar-ali

ایک جانب امریکی کانگرس نے اپنی دیرینہ منفی روش کو قائم رکھتے ہوئے پاکستان کی امداد میں ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی بیک جنبش قلم کمی کر دی ہے حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں اتنے بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں جس کا عشر عشیر بھی کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ ایسے میں اس مجوزہ امریکی امداد کو اونٹ کے منہ میں زیرہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے بھارت کو غیر معمولی رعائتیں دیتے ہوئے بہت سے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جن کا واحد مقصد بھارت کو فائدہ پہنچانا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کی تنقید کے لئے الفاظ ڈھونڈ پانا بھی خاصا مشکل ہے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے انسان دوست حلقوں نے بجا طور پر کہا ہے کہ اسے عالمی امن و سلامتی کی بد قسمتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی تمام تر کاوشوں کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں اور پاکستان کی بابت تاحال اس نے ڈومور کا وطیرہ اختیار کر رکھا ہے ۔ اس صورتحال کے منطقی نتائج کا اندازہ لگانا غالباً کسی کیلئے مشکل نہیں ہونا چاہیے مگر امریکہ کو بہرکیف یہ ذہن نشین ضرور رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے اس عمل سے انتہا پسند طبقات کو بالواسطہ اور بلاوسطہ دونوں طریقے سے تقویت پہنچا رہا ہے ۔ دوسری جانب پاک سالار اعلیٰ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ وطن عزیز سے انتہاپسندی و دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے، ریاست پاکستان نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کا تہیہ کیا ہے اور ان شاء اللہ ہم اس میں کامیاب رہیں گے ۔ انھوں نے کہا کہ آج جنگ کی نوعیت اور کردار بدل چکے ہیں، ہائبرڈ وار میں نوجوان اب ہمارے دشمنوں کا بڑا ہدف ہیں۔ اسی تناظر میں اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ان کا کہنا تھا کہ مجھے پورا اعتماد ہے کہ پاکستان کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو محسوس کر رہے ہیں، نوجوان پاکستان کو امن اور ترقی کے نئے دور کی طرف لے جائیں گے۔ نوجوان اب ہمارے دشمنوں کا بڑا ہدف ہیں مگر نوجوان پر عزم رہ کر ایسے تمام خطرات کو شکست دیں گے۔مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے رائے ظاہر کی ہے کہ بلاشبہ کسی بھی قوم کے نوجوان اس کا ہراول دستہ ہوتے ہیں اور پوری امید رکھی جانی چاہیے کہ پاکستان کے سبھی سماجی ،سیاسی و دیگر طبقات اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ کا فریضہ سرانجام دیں گے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی ان بلندیوں پر پہنچانے کا عزم ضمیم کریں گے جس کا خواب بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے دیگر زعماء نے دیکھا تھا۔ یہاں یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ دشمن ان دنوں بھی پاکستان کے خلاف وہ تمام حربے اور چالیں استعمال کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے ملک کی جڑوں کو (خدانخواستہ) کھوکھلا کیا جا سکے اور مذہبی، لسانی، نسلی و جغرافیائی تعصبات کو ابھار کر ایسا ماحول قائم کیا جائے جو اس کے مکروہ عزائم میں معاونت کا سبب بن سکے مگر یہ حقیقت ہے کہ پاک افواج اور قوم نے ہر قدم پر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان خدا کے فضل سے قائم رہنے کیلئے وجود میں آیا ہے اور ہر آنے والا دن اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائے گا اور پاکستان کے ازلی مخالفین اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود بالآخر ناکام اور نامراد ہوں گے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں میڈیا اور سول سوسائٹی کے سبھی انسان دوست حلقے اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ موثر ڈھنگ سے نبھانے کی کوشش کریں گے۔

 

 

About Admin

Google Analytics Alternative