Home » صحت » یہ درمیانی عمر کا شخص اپنا جسم بدلنے میں کیسے کامیاب ہوا؟

یہ درمیانی عمر کا شخص اپنا جسم بدلنے میں کیسے کامیاب ہوا؟

موٹاپے کے شکار افراد کو اکثر جسمانی، جذباتی اور امراض کی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے اور وہ خود کو بہت کمزور اور اعتماد سے محروم سمجھتے ہیں۔

ویسے تو اکثر افراد خود کو اس مشکل سے زندگی بھر نہیں نکال پاتے مگر ایک اڈھیر عمر شخص نے محض 150 دن میں اپنے جسم کو بدلنے کا حیران کن کارنامہ سرانجام دیا اور اب اس کا راز بھی بتادیا ہے۔

ویسے تو بیشتر مردوں کو اپنا جسم بنانے کا شوق ہوتا ہے مگر شادی اور دیگر مصروفیات کے نتیجے میں زیادہ دھیان نہیں دے پاتے جس کے نتیجے میں توند اور کھال لٹکنے لگتی ہے۔

ایسا ہی کچھ جریمیا پیٹرسن نامی شخص نے کرکے دکھایا اور اپنی توند کو سکس پیک میں بدل کر کھایا۔

یہ شخص ایک دن اپنے خاندان یعنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ ہائیکنگ کا منصوبہ بنارہا تھا تاکہ یادگار ایڈونچر کا حصہ بن سکے مگر بہت زیادہ وزن نے اسے ارادہ بدلنے پر مجبور کردیا۔

اس شخص کے مطابق ‘میری سانس پھول گئی تھی اور مجھے اپنے بچوں سے پہلے ہی رکنا پڑا تھا’۔

جریمیا کا کہنا تھا کہ یہ وہ موقع تھا جب مجھے احساس ہوا کہ اب میری زندگی پہلے جیسی نہیں رہی حالانکہ وہ اپنے دل میں بچوں کے ساتھ اچھی یادوں کو جگہ دینا چاہتا تھا مگر وہ خود کو تھکاوٹ اور سانس پھولنے کے مسائل کا شکار پارہا تھا۔

اس موقع پر اس شخص نے فیصلہ کیا کہ اب زندگی میں سنجیدگی سے تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

اور پھر انہوں نے 5 ماہ میں 92 پاﺅنڈ وزن کم کیا اور جسمانی چربی کو نمایاں حد تک گھٹا دیا، مگر یہ کیسے ہوا؟

وہ خود بتاتے ہیں کہ انہیں کبھی احساس نہیں تھا کہ وہ اتنے سست ہیں اور اس احساس نے زندگی بدلنے کے فیصلے پر مجبور کیا۔

اس کا راز کم غذا اور ورک آﺅٹ میں چھپا ہوا تھا۔

ایک انسٹاگرام پوسٹ میں جریمیا نے لکھا ‘کم کھائیں تاکہ آپ کو پتا چلے کہ بھوکا ہونا کیسا ہوتا ہے، اپنی زندگی جینا شروع کریں، اپنے خوابوں کا تعاقب کریں، میں جانتا ہوں کہ میں ایسا کرسکتا ہوں اور میں نے کیا، اور اس حکمت عملی نے کام بھی کیا’۔

اب وہ خود ایک ٹرینر کے طور پر کام کررہے ہیں اور یقین رکھتے ہیں جب وہ خود کو بدل سکتے ہیں تو کوئی بھی ایسا کرسکتا ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative