Home » کالم » یہ فسادی دہشت گرد ۔۔۔!
asgher ali shad

یہ فسادی دہشت گرد ۔۔۔!

اس بات سے بھلا کس ذی شعور کو انکار ہو سکتا ہے کہ پاکستان اپنے قیام کے روز اول سے ہی ہر ممکن سعی کرتا آیا ہے کہ بقائے باہمی کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے خطے کے ممالک کے ساتھ خوشگوار ہمسائیگی پر مبنی تعلقات استوار رکھے جائیں مگر بدقسمتی سے اس ضمن میں تاحال اسے جزوی کامیابی ہی حاصل ہوئی ۔ اس حوالے سے یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ حالیہ چند دنوں میں کچھ اندرونی اور بیرونی حلقے ملک عزیز کے خلاف زہر افشانی اور افواہ سازی کو اپنا مستقل چلن بنائے ہوئے ہیں اور اس تناظر میں شیطانی عزائم کی تکمیل کی خاطر کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ نظر آتے ہیں ۔ وزیرستان میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کو دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک کے اندر بھی بعض حلقے اس حوالے سے انتہائی منفی روش اپنائے ہوئے ہیں اور انھیں راء، این ڈی ایس اور کئی بیرونی ایجنسیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ یہ حلقے اپنے شر انگیز رویوں سے اجتناب برتیں گے کیونکہ اگر انھوں نے اپنی روش نہ بدلی تو اس کا خمیازہ بہرحال انھیں بھگتنا ہو گا ۔ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ۔ اس امر میں کسی کو ذرا سا شبہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام نے عالمی دہشتگردی کے خاتمے میں جو کردار ادا کیا ہے ، اس کا عشرِ عشیر بھی کسی دوسرے نے نہیں کیا ۔ غیر جانبدار مبصرین نے واضح کیا ہے کہ اس بات سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ پاک قومی سلامتی کے اداروں نے دہشتگردی کے اس ناسور کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے حالانکہ اس حوالے سے خود پاکستانی قوم اور افواج کو اس ضمن میں جانی اور مالی دونوں لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا، کیونکہ یہ امر کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ ستر سے اسی ہزار کے مابین پاکستانیوں نے اس حوالے سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ۔ یہ امر اور بھی توجہ کا حامل ہے کہ عالمی دہشتگردی کے خاتمے کی اس جدوجہد میں تقریباً 8 ہزار ان افراد نے بھی اپنی جان جانِ آفرین کے سپردکی جن کا تعلق پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں سے ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے ۔ اس ضمن میں قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی، ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور ان کے برادرانہ روابط تاریخی حوالوں سے بہت مضبوط ہیں ۔ البتہ اس بابت سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت، امریکہ اور بعض دیگر قوتیں اپنے سطحی مفادات کی خاطر ان دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتی آئی ہیں اور یہ سلسلہ ہنوذ پوری شدت سے جاری ہے ۔ مگر توقع کی جانی چاہیے کہ پاکستان اور افغانستان کے مخالف اپنی سازش میں کامیاب نہیں ہوں گے ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشتگردی کے خاتمے کے حوالے جو شبانہ روز قربانیاں دیں ، ان کا معترف ہر ذی شعور ہے ۔ ایسے میں ہونا یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کی قربانیوں کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ٹرمپ، مودی اور این ڈی ایس نے ڈو مور کی گردان کو اپنا دُم چھلا بنا رکھا ہے اور اٹھتے بیٹھتے اسی کا ورد کرتے رہتے ہیں ۔ حالانکہ ’’کلبھوشن یادو ‘‘ جیسے دہشتگرد کی گرفتاری کے بعد بھی اگر دہلی اور این ڈی ایس اپنی پارسائی کے دعوے سے باز نہ آئیں تو اسے جنوبی ایشیاء کی بد قسمتی کے علاوہ بھلا دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے مگر آفرین ہے بھارتی حکمرانوں اور این ڈی ایس پر کہ اپنی شرانگیزیوں پر بجائے نادم ہونے کے وہ اپنی چالبازیوں سے باز آنے کا نام ہی نہیں لے رہے ۔ ایسے میں اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت ،اسرائیل اور کچھ امریکی حلقے تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ دشمن ان دنوں بھی پاکستان کے خلاف وہ تمام حربے اور چالیں استعمال کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے ملک کی جڑوں کو (خدانخواستہ) کھوکھلا کیا جا سکے اور مذہبی، لسانی، نسلی و جغرافیائی تعصبات کو ابھار کر ایسا ماحول قائم کیا جائے جو ان کے مکروہ عزائم میں معاونت کا سبب بن سکے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاک افواج اور قوم نے ہر قدم پر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان خدا کے فضل سے قائم رہنے کے لئے وجود میں آیا ہے اور ہر آنے والا دن اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائے گا اور پاکستان کے ازلی مخالفین اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود بالآخر ناکام اور نامراد ہوں گے ۔ سنجیدہ مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے سبھی جانتے ہیں کہ اصل حقائق اس بھارتی، امریکی اور اسرائیلی پراپیگنڈے سے مختلف ہی نہیں بلکہ قطعاً متضاد ہیں اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ را، این ڈی ایس، موساد اور سی آئی اے پاکستان کے اندر تخریب کاری کو ہر ممکن ڈھنگ سے فروغ دینے کے لئے کوشاں ہےں اور اس ضمن میں ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس کا تصور بھی کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہونا چاہیے ۔ امریکہ بھی ہمہ وقت ’’ڈو مور‘‘ کی اپنی راگنی الاپتا رہتا ہے ۔ دوسری جانب نہتے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے مگر عالمی برادری کا ضمیر ہے کہ جاگنے کے لئے تیار نہیں ۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے سبھی سماجی ،سیاسی و دیگر طبقات اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ کا فریضہ سرانجام دیں گے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی ان بلندیوں پر پہنچانے کا عزم ضمیم کریں گے جس کا خواب بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے دیگر زعماء نے دیکھا تھا ۔ اس بابت میڈیا اور سول سوساءٹی کے سبھی حلقے بھی اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ موثر ڈھنگ سے نبھانے کی کوشش کریں گے اور عالمی برادری اپنی وقتی مصلحتوں کو خیرباد کہہ کر اپنا

About Admin

Google Analytics Alternative