Home » 2016 » December

Monthly Archives: December 2016

منی چینجرز،ہنڈی کاروبار،614 مقدمات،848 گرفتار

نیشنل ایکشن پلان کے تحت ایف آئی اے نے یکم جنوری 2015سے 31اکتوبر2016تک منی چینجرز حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف 614مقدمات درج کیے ، 848افراد کو گرفتار کرکے 85 کروڑ روپے قبضے میں لیے گئے ۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 185،خیبرپختونخوا میں 308مقدمات درج کیے گئے ، سندھ میں 37اور اسلام آباد میں 22مقدمات درج ہوئے، بلوچستان میں درج مقدمات کی تعداد62ہے ۔

گزشتہ 22ماہ میں لگ بھگ 85کروڑ روپےرقم قبضے میں لی گئی ، 848افراد کو گرفتار کیا گیا، 134مقدمات کی تفتیش کی جارہی ہے ،345مقدمات زیر سماعت جبکہ 102افراد کو سزاہوئی، اس دوران 33افراد کو بے گناہ قرار دیا گیا۔

تھرپارکر: سردی اور غذائی قلت کے باعث 13بچے جاں بحق

تفصیلات کے مطابق صحرائے تھر میں سردی کی لہر شروع ہونے کے ساتھ پھر سے بچوں پر موت کا رقص جاری ہے۔ بچوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ وقفے کے بعد پھر سے شروع ہو گیا ہے۔

گذشتہ تین روز کے دوران 13بچے غذائی قلت و بیماریوں کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ جس کے بعد سال 2016کے 12ماہ کے دوران مجموعی طور ہلاکتوں کی تعداد 745ہو گئی، جبکہ محکمہ صحت تھرپارکر کی جانب سے رواں سال کے دوران 473 بچوں کی اموات کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔

تھرپارکر سردی کی لہر شروع ہونے کے باعث غذائی قلت کے باعث پیدا ہونے والے کم وزن کے بچے دم توڑ رہے ہیں۔ دور دراز دیہاتوں میں کچے جھونپڑوں میں موجود تھری مکینوں کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

حکومت سندھ کی جانب سے اسلام کوٹ اور چھاچھرو کی اسپتال سمیت دیگر صحت مراکز کی بہتری کے اعلانات پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔ بچوں کی انتہائی نگہداشت کا وارڈ سینکڑوں بچوں کی اموات کے بعد بھی تکنیکی عملے سے محروم ہیں۔

تھرپارکر کے مکینوں نے سندھ حکومت اور فلاح و بھبود کا کام کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ تھرپارکر میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی کاروایاں شروع کرتے ہوئے بچوں کی اموات پر قابو پایا جائے۔

ٹیکس وصولیاں توقع سے کم، بڑی صنعتوں کی کارکردگی کمزور رہی، اسٹیٹ بینک

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جولائی تاستمبر2016 کی سہ ماہی میں بڑے پیمانے کی صنعتوں کی کارکردگی کوکمزورقراردیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی آمدنی کم ہونے کے باعث مالیاتی خسارہ بڑھا، کم شرح سود کے باوجود سودی ادائیگیاں کم نہ ہوئیں تاہم مہنگائی 6 فیصد کے ہدف میں رہنے کی توقع ہے۔ یہ بات اسٹیٹ بینک نے جمعہ کوسال2016-17 کی پہلی سہ ماہی کے لیے جاری ہونے والی جائزہ رپورٹ میں کہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیرتبصرہ سہ ماہی کیابتدائی معاشی اعدادوشمارسال کے دوران معاشی نمو کی مستحکم رفتار کو ظاہر کرتے ہیں، گنے اور مکئی کی پیداوار میں مضبوط نمو، کپاس کی پیداوار میں بہتری اور چھوٹی فصلوں کی بہتر رسد سے بھی زراعت کی نمو میں کچھ بحالی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پہلی سہ ماہی کے دوران بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) کی کمزور کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے رپورٹ میں توقع ظاہرکی گئی ہے کہ معاون پالیسیوں اور گاڑیوں، چینی، ادویہ اورتعمیرات سے متعلق شعبوں میں حوصلہ افزا امکانات کے پیشِ نظرآگے چل کر نمو کی رفتار بڑھنے کی توقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سہ ماہی میں اوسط عمومی مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ قیمت (سی پی آئی) بڑھ کر 3.9 فیصد ہو گئی جو گزشتہ مالی سال کی اس سہ ماہی میں 1.7 فیصد تھی تاہم یہ اضافہ توقعات کے مطابق تھا، پورے سال کے لیے مہنگائی 6 فیصد کے ہدف میں رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیرتبصرہ سہ ماہی میں نجی شعبے کے قرض کی بھاری مقدار میں واپسی جون میں قرضوں کے غیرمعمولی استعمال سے ہم آہنگ تھی لیکن تاریخی پست شرح سود کے باوجود بڑے کارپوریٹس نے مزید قرض گیری سے گریز کیا تاہم مثبت پیشرفت معینہ سرمایہ کاری  خصوصاً توانائی سے متعلق سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے قرضے کی طلب میں اضافہ تھا۔

رپورٹ میں کہا گیاکہ پہلی سہ ماہی کے دوران مالیاتی اور جاری کھاتے کے خساروں میں اضافہ ہوا جس کا بنیادی سبب اتحادی سپورٹ فنڈ (سی ایس ایف) کی مد میں رقوم کی عدم موجودگی تھی، جاری کھاتے پر اضافی دباؤبڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور ترسیلات زر میں کمی سے آئی، دوسری طرف مالی خسارے کو بڑھانے میں غیرٹیکس محاصل اور توقع سے کم ٹیکس وصولیوں نے کردار ادا کیا تاہم رپورٹ میں حکومت کی جانب سے زرِاعانت میں کٹوتی کے بعد جاری اخراجات میں معمولی کمی کو سراہا گیا، سودی ادائیگیوں میں تبدیلی نہیں ہوئی کیونکہ کم شرح سود سے حاصل ہونے والے فوائد سرکاری قرض میں اضافے کے باعث بڑی حد تک زائل ہو گئے۔

رپورٹ میں ترقیاتی اخراجات میں 12.4 فیصد سال بہ سال اضافے کو مثبت قرار دیا گیا خاص طور پر صوبوں کی جانب سے، جس کی وجہ سے سہ ماہی میں ان کے انفراسٹرکچر پر اخراجات بڑھ گئے۔ رپورٹ میں بلند معاشی نمو کے لیے نجی کاروباری اداروں کے کردار کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔

پشاو ر، فائرنگ سے اے این پی رہنما جاں بحق

پشاور میں نامعلوم ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما رحیم برکزئی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے ساتھی زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی پشاور کے سابق جنرل سیکریٹری رحیم برکزئی پارٹی اجلاس کے بعد گھر جارہے تھے کہ نواحی علاقے متھرا میں پنم ڈھیری کے مقام پر حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے رحیم برکزئی موقع پر جاں بحق ہوگئےجبکہ ان کا ایک ساتھی زخمی ہو گیا۔

پولیس نے واقعے میں ملوث تین افراد کو حراست میں لے لیاہے، پولیس کے مطابق واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے، زخمی ہونے والے رحیم برکزئی کے ساتھی کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

2016 ایک سیکنڈ طویل ہوگا

پیرس: ماہرین نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سال یعنی 2016 کے اختتام پر ایک سیکنڈ کا اضافہ کردیا جائے تاکہ زمینی وقت کو معیاری فلکیاتی وقت سے ہم آہنگ کیا جاسکے۔

اس طرح سے سال کے دورانیے میں اضافی ایک سیکنڈ کو ’’لیپ سیکنڈ‘‘ کہا جاتا ہے اور 1972 سے لے کر 2015 تک مجموعی طور پر 26 لیپ سیکنڈ شامل کئے جاچکے ہیں جبکہ 2016 کے اختتام پر زمینی سال کی مدت میں ایک سیکنڈ کا اضافہ 27 واں لیپ سیکنڈ ہوگا۔

لیپ سیکنڈ کی وجہ بتاتے ہوئے ماہرینِ فلکیات کہتے ہیں کہ زمین کی اپنے محور پر گردش بتدریج آہستہ ہورہی ہے جسے حساس ایٹمی گھڑیوں کے ساتھ درست طور پر ہم آہنگ رکھنے کےلئے ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا جاتا رہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو صرف ایک سیکنڈ کے فرق سے بھی مواصلاتی سیارچوں کے ذریعے دنیا بھر میں چلنے والا ٹیلی مواصلاتی نظام متاثر ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ فلکیاتی وقت کا انحصار بھی زمین کی محوری گردش پر ہے اور درست فلکیاتی حساب کتاب کےلئے لازم ہے کہ زمینی معیاری وقت اور فلکیاتی وقت، دونوں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں ورنہ ان مشاہدات میں بھی غلطی واقع ہوسکتی ہے۔

زمین کی محوری گردش پر انتہائی باریک بینی سے نظر رکھنے کےلئے فرانس میں ’’انٹرنیشنل ارتھ روٹیشن اینڈ ریفرنس سسٹمز سروس‘‘ (آئی ای آر ایس) قائم ہے اور اسی کے مشاہدات کی بنیاد پر لیپ سیکنڈ شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ پچھلے سال یعنی 2015 میں 30 جون اور یکم جولائی کی درمیانی شب (رات بارہ بجے) ایک لیپ سیکنڈ کا اضافہ کیا گیا تھا جبکہ اس سال یہ موقعہ 31 دسمبر 2016 اور یکم جنوری 2017 کی درمیانی شب (رات بارہ بجے) آئے گا جب سال کے دورانیے میں ایک سیکنڈ بڑھایا جائے گا۔

وہ 10 مقامات جہاں سب سے زیادہ بجلی کڑکتی ہے

واشنگٹن: تحقیق کے مطابق وینزویلا کی ایک جھیل میراسائبو کے صرف ایک مربع کلومیٹر پر سال میں 230 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے اسی لیے ماہرین اس جھیل کے وسط میں کشتی چلانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ جھیل کے اوپر سالانہ 297 طوفان آتے ہیں اور 230 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے جب کہ اس فہرست میں پاکستان میں ضلع بنوں کا علاقہ ڈگر بھی شامل ہے۔  

ٹراپیکل رین فال میژرنگ مشن سیٹلائٹ کی جانب سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ آسمانی بجلی چمکنے کے اہم مقامات کی ایک فہرست بنائی ہے جہاں ایک سال میں کئی مرتبہ بجلی کڑکتی ہے جن میں یہ علاقے شامل ہیں۔

1:  جھیل میراسائبو، وینزویلا جہاں سال میں 232 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے۔

2: افریقی ملک کونگو کے علاقے کیبیرا میں بجلی کڑکنے کے سالانہ 205 واقعات ہوتے ہیں۔

3: کونگو کے ایک علاقے کامپین میں 176 مرتبہ بجلی کڑکنے کے واقعات ہوئے۔

4: سیسیرس، کولمبیا میں سالانہ 172 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے۔

5: کونگو کا ایک اور علاقہ سیک جہاں 144 مرتبہ بجلی چمکتی ہے۔

6: پاکستان کے ضلع بنوں میں واقعہ ایک قصبے ڈگر میں 143 مرتبہ بجلی چمکی ہے۔

7: کولمبیا کے علاقے ایل تارا میں بجلی کڑکنے کے 138 واقعات پیش آئے ہیں۔

8: نگوٹی، کیمرون میں 129 سے زائد مرتبہ بجلی کڑکی ہے۔

9: کونگو کے شہر بیوٹیمبو میں 129.5 دفعہ آسمانی بجلی کی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔

10: کونگو کے بیوندے میں 127 مرتبہ بجلی کڑکتی ہے۔

اس فہرست میں کانگو کے مختلف علاقے سے آگے کے علاقے بھی ہیں جو 4 مقامات اس فہرست میں شامل ہیں۔ سیٹلائٹ کے ڈیٹا پر کام کرنے والے ماہرِ موسمیات کے مطابق ٹراپیکل رین فال میژرنگ مشن سیٹلائٹ جوں جوں زمین کے گرد چکر لگاتا ہے وہ دن میں 3 سے 3مرتبہ کسی مخصوص مقام پر آسمانی بجلی کی کڑک نوٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سیٹلائٹ کے مطابق دنیا میں آسمانی بجلی کی سب سے زیادہ سرگرمیاں جھیل میراسائبو پر ہی ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق آسمانی بجلیاں کڑکنے کے واقعات ان علاقوں میں زیادہ ہوتے ہیں جہاں چھوٹے سے رقبے پر درجہ حرارت کا بہت فرق ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس جھیل کے اطراف اینڈیز پہاڑیوں کی دو متواتر سلسلے ہیں، دن میں جھیل اور اس کے اطراف کا علاقہ بہت جلدی گرم ہوجاتا ہے اور جھیل و وادی سے آنے والی تیز ہوائیں جب پہاڑوں پر پہنچتی ہیں تو اس سے طوفان جنم لیتے ہیں اور بجلی کڑکنا شروع ہوجاتی ہے۔ ستمبر کے مہینے میں یہ جھیل وقفے وقفے سے آسمانی بجلیوں سے روشن ہوتی رہتی ہے۔

پاکستانی ٹیم سڈنی پہنچ گئی،اتوارکوآسٹریلوی وزیراعظم سے ملاقات ہوگی

سڈنی آسٹریلیا: پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا سے تیسرا ٹیسٹ کھیلنے کیلیے میلبورن سے سڈنی پہنچ گئی ہے اتوار کوآسٹریلوی وزیراعظم سے ملاقات ہوگی جب کہ مصباح تیسرا ٹیسٹ کھیلیں گے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم آسٹریلیا سے تیسرا ٹیسٹ کھیلنے کیلیے میلبورن سے سڈنی پہنچ گئی ہے، کھلاڑیوں نے گذشتہ روز آرام کیا، اتوار کو آسٹریلوی وزیر اعظم سے ملاقات طے ہے، پیر کو ٹیم کا پہلا پریکٹس سیشن ہوگا، واضح رہے کہ ابتدائی دونوں ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان سیریز پہلے سے گنوا چکا، البتہ تیسرے میچ میں فتح کھلاڑیوں کا مورال بڑھانے میں ضرور کام آئے گی۔

دوسری جانب میڈیا منیجر امجد حسین بھٹی نے کہا کہ مصباح الحق تیسرے ٹیسٹ میں شرکت کریں گے، انھوں نے کہا کہ کپتان مستقبل پر غور ضرور کر رہے ہیں البتہ ایسا نہیں ہے کہ وہ میچ میں ہی شرکت نہ کریں، امجد بھٹی نے کہا کہ شکستوں سے ٹیم کا مورال ڈاؤن ضرور ہوا تاہم کھلاڑی نئے عزم کے ساتھ تیسرا ٹیسٹ جیت کر سیریز کا اچھا اختتام کریں گے۔

پاکستان کے پہلے ڈبل سنچری میکر وکٹ کیپر امتیاز احمد انتقال کر گئے

 لاہور: پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ میں پہلی ڈبل سنچری اسکور کرنے والے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز امتیاز احمد مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

پاکستان کی ابتدائی ٹیسٹ ٹیم کے ممبر، سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز امتیاز احمد اپنی 89 ویں برسی سے صرف 5 روز قبل مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ سابق کپتان امتیاز احمد سانس کی تکلیف میں مبتلا تھے، چند دن اسپتال میں زیرعلاج رہنے کے بعد وہ گھر واپس آگئے تھے تاہم ہفتے کی صبح وہ خالق حقیقی سے جاملے۔ امتیاز احمد کی نماز جنازہ آج لاہور میں ادا کی جائے گی۔

پی سی بی کے چئیرمین شہریار خان اور کرکٹ سے وابستہ دوسری شخصیات نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

امتیاز احمد نے 41 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور وکٹ کیپر کی حیثیت سے انہیں پہلی ڈبل سنچری  بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ حکومت پاکستان نے  1966 میں انہیں پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا گیا۔

Google Analytics Alternative