Home » 2017 » January

Monthly Archives: January 2017

آر ایل این جی ٹرمینل کے معاہدے میں سنگین بے قاعدگیوں کی نشاندہی

کراچی: آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ایل این جی کی درآمد کے لیے اینگرو ایلنجی ٹرمینل پاکستان لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے مابین طے کیے گئے معاہدے میں سنگین بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے خسارے کا سودا قرار دے دیا ہے۔

نجی کمپنی اینگرو ایلنجی ٹرمینل پاکستان لمیٹڈ 125 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے لگایا گیا تاہم اس معاہدے کے نتیجے میں سوئی سدرن گیس کمپنی کی آمدن میں کوئی اضافہ نہ ہوسکا بلکہ مارچ تا دسمبر 2015کے دوران صرف 10 ماہ کی مدت میں 83.924 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ برائے سال 2015-16کے مطابق ری گیسیفائڈ ایل این جی کی درآمد کے لیے کیے گئے معاہدے میں بے ضابطگیوں اور سروس ایگریمنٹ کی شرائط پوری نہ کیے جانے سے سوئی سدرن گیس کمپنی کو کم وبیش9ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

ادھر سوئی سدرن گیس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 28جنوری 2014کو ایل این جی سروس ایگریمنٹ کی مشروط منظوری دی تھی، بورڈ کی جانب سے شرائط عائد کی گئی تھیں کہ گیس کمپنیاں خریدی گئی ایل این جی کی قیمت (سیل پرائس) پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی جبکہ سروس ایگریمنٹ چارجز اور انتظامی اخراجات سوئی سدرن گیس کمپنی کو ادا کرنے کی پابند ہوں گی، بورڈ نے پی ایس او یا وفاقی حکومت کی جانب سے ایل این جی درآمد نہ ہونے کی صورت میں سوئی سدرن گیس کمپنی پر کوئی کیپیسٹی چارجز لاگو نہ ہونے کی تحریری ضمانت کو بھی لازمی قراد دیا تھا جبکہ سوئی ناردرن گیس کمپنی سے بھی اس پروجیکٹ سے اپنے حصے کی ایل این جی وصول کرنے کی تحریری ضمانت طلب کی گئی تھی۔

سوئی سدرن گیس کمپنی اور اینگرو ایلنجی ٹرمینل کے مابین ایل این جی سپلائی ایگریمنٹ پر 30 اپریل 2014کو دستخط کیے گئے جس میں یہ شرط بھی عائد کی گئی کہ سوئی سدرن گیس کمپنی اینگرو ایلنجی ترمینل کمپنی کو یومیہ 2لاکھ 72ہزار 479ڈالر کیپیسٹی فیس کی مد میں اداکرے گی، دوسرے سال سے آئندہ 15سال تک 2لاکھ 28ہزار 16ڈالر یومیہ ادا کیے جائیں گی جبکہ معاہدے کی مدت پوری ہونے تک 0.06273 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے یوٹٰیلائزیشن چارجز بھی ادا کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی پر تمام شرائط کا اطلاق کردیا گیا تاہم سوئی سدرن گیس کمپنی کے بورڈ کی جانب سے 28 جنوری 2014کو منظور شدہ ایگریمنٹ کے لیے لازمی قرار پانے والی شرائط پر 30جون 2016 تک بھی عمل درآمد نہ ہوسکا۔

رپورٹ میں پروجیکٹ سے متعلق تکنیکی اور فنانشل تخمینہ جاتی رپورٹس پر بھی شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا گیاکہ پروجیکٹ سے متعلق تکنیکی تخمینہ رپورٹ اور کمرشل /فنانشل تخمینہ رپورٹ پر کسی کنسلٹنٹ یا متعلقہ کمیٹی نے دستخط نہیں کیے جس کی وجہ سے آڈٹ کے دوران ان رپورٹس کی صداقت ثابت نہ ہوسکی، اینگروایلنجی ٹرمینل پرائیوٹ لمیٹڈ کی جانب سے دیے گئے پرائس پرپوزل کا نہ تو کوئی تجزیہ کیا گیا اور نہ ہی کسی دوسرے ٹرمینل سے موازنے کی رپورٹ کمرشل تخمینہ جاتی رپورٹ کے ساتھ منسلک کی گئی۔

رپورٹ میں ٹرمینل لگانے کے لیے منعقدہ بولی میں 1پارٹی اینگروایلنجی ٹرمینل کو ٹینڈر ایوارڈ کیے جانے کے عمل کو بھی پیپرا قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ سنگل بڈ کی صورت میں ٹینڈر صرف اس ہی صورت میں ایوارڈ کیا جاسکتا ہے جبکہ اسی مالیاتی سال کے دوران اسی طرز کا کوئی اور معاہدہ طے کیا گیا ہو تاکہ مسابقتی ریٹ (چارجز) کو پرکھا جا سکے، اس صورتحال میں سوئی سدرن گیس کمپنی کو یہ ٹینڈر دوبارہ جاری کرنا چاہیے تھا تاکہ بہتر اور مسابقانہ چارجز پر خدمات حاصل کی جاسکیں۔

معاہدے میں بے ضابطگیوں کا معاملہ مارچ 2015میں ٹرمینل کی تکمیل کے 1سال بعد جون 2016میں کمپنی کی انتظامیہ کو بھیجا گیا تاہم انتظامیہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں اس معاملے کی تحقیقات پر زور دیتے ہوئے ری گیسیفائڈ ایل این جی کے لیے خلاف ضابطہ فزیبلیٹی رپورٹس، لاگت اور فوائد کا تجزیہ کیے بغیر کنٹریکٹ ایوارڈ کرنے والے عناصر کو سامنے لانے کی سفارش کی ہے۔

ایران کے میزائل تجربے پر اسرائیل پریشان، پابندیاں عائد کرنے پر زور

 ایران کے میزائل تجربے پر اسرائیل پریشان ہو گیا، اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ فروری میں نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے پر زور دیں گے۔

اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران نے میزائل تجربہ کر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی برملا خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ایرانی جارحیت کا جواب دینا ناگزیر ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ فروری میں نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عائد کرنے پر زور دیں گے۔ 2010 میں منظور ہونے والی قرارداد کے بعد ایران پر جوہری ہتھیار لے جانے والے میزائلوں کے پروگرام پر کسی بھی طرح کا کام کرنے پر پابندی تھی لیکن 2015 کے معاہدے کے بعد یہ تمام پابندیاں ختم ہو چکی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیغام میں کہا گیا ہے کہ وہ ایران کے میزائل تجربے کی تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا میں میری کارکردگی مایوس کن رہی،کرکٹرمحمدرضوان

پشاور میںکرکٹر محمد رضوان نے ایک نجی اسکول کا دورہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آسٹریلیا میں وکٹ کیپنگ میں میری کارکردگی اچھی رہی۔ بیٹنگ میں بہتری لانے کے لیے بھی کوشش کروں گا۔

انہوں نے بچوں کے لیے پیغام میں کہا کہ بچےمحنت کریں ،مستقبل میں ان ہی میں سے بڑے کرکٹر نکلیں گے۔

کراچی کی ترقی کیلیے میرے اختیارات بھی مئیر کراچی کے ہیں، مراد علی شاہ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ مئیر کراچی اختیارات کے لیے فکر مند نہ ہوں کیونکہ شہر کی ترقی کے لیے میرے اختیارات بھی ان کے ہیں۔

کراچی کے علاقے گولیمار میں صادقین انڈر پاس کی افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ انڈر پاس کی تعمیر میں تاخیر پر شہریوں کو پیش آنے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہوں تاہم اربوں روپے مالیت کے منصوبے جاری ہیں جن پر تیزی سے کام جاری ہے اور اب ہر 10  سے 15 دنوں میں کراچی میں نئے منصوبے کا افتتاح ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میرا شہر ہے میری ترجیح ہی کراچی ہے لہذا اس انڈر پاس کو سیاسی رشوت نہ سمجھا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی ملک کو چلانے والا شہر ہے لہذا عوام کو سہولیات پہنچانے کے لیے اگر کوئی کام کررہا ہے تو کرنے دیا جائے۔ مراد علی شاہ نے تقریب میں موجود مئیر کراچی وسیم اختر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اختیارات کے لیے فکر مند نہیں ہوں کیونکہ شہر قائد کی ترقی کے لیے میرے اختیارات بھی آپ کے ہیں لہذا اختیارات کو چھوڑیں ہمیں ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

ثبوت ہمارے پاس نہیں ہیں،عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ ثبوت ہمارے پاس نہیں ہیں،جنہوں نے فلیٹس کو ملکیت تسلیم کیا ہے،ثبوت بھی انہوں نے دینے ہیں ۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ بتایا جائے لندن کے مہنگے ترین فلیٹس میں کس حاتم طائی نے انہیں رہنے دیا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے ہر سوال کا جواب قطری ہے، وہ قطری خودکرپٹ ہے، جب ثبوت مانگو قطری آجاتا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نےکہاہےکہ پہلے انہوں نے جواب نہیں دیا، جب اسمبلی میں جواب دیا تو اسی کا پوچھا جارہا ہے کہ سچ ہے یا نہیں، ہم پاناما جا کر کمپنی کا نام تو نہیں جان سکتے کہ کمپنی کے اصل کاغذات دیں۔

انہوں نے کہا کہ پندرہ ملین درہم ان کی گلف اسٹیل نقصان کر رہی تھی جو 1980ء میں منافع میں چلی جاتی ہے، تیرہ ملین کا منافع قطریوں کو کیش میں دیا،تیرہ سال میں لندن فلیٹس کا فیصلہ تیس کروڑ بنتا ہے ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قطری کرپٹ ترین اور ان کا کاروباری شراکت دار ہے، قطری نےتیس کروڑ کا جو فائدہ کرایا ہے تو آپ نے اسے کیا دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم سے تحفے دینے کی پولیس تفتیش کر رہی ہے،یہ قانون کے پیچھے چھپ رہے ہیں، میاں صاحب نے اسمبلی میں کہا تھا میں احتساب کے لیے تیار ہوں اب قانون کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔

حافظ سعید کی نظربندی حکومتی پالیسی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی میں میڈیا سے بات چیت میں ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنر ل آصف غفور نے کہاکہ جنگ مسائل کا حل نہیں، بھارت ہمسایہ ملک ہے،ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے تا ہم جنگ نہ کرنے کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں میں تمام اداروں کا حصہ ہے،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر کارروائی کی ہے،ملک بھر میں 26 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 70ہزارسےزائد پاکستانیوں نے جان دی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم امن و امان کے بہترماحول میں سانس لے رہے ہیں،کومبنگ آپریشنز جاری رہیں گے تاکہ بچے کھچے دہشت گردوں کا صفایاکیا جاسکے۔

میڈیا سے بات چیت میں میجرجنرل آصف غفورکا کہنا تھا کہ پاکستان کا ہر شہری اپنے اپنے مورچے کا سپاہی ہے،ضرب عضب کے وقت قبائلی بھائیوں نے نقل مکانی کی ان میں سے 84 فیصدواپس آگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال پر تشویش ہے، افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں،خواہش ہے کہ افغانستان میں جلد امن قائم ہو تاکہ افغان مہاجرین واپس جاسکیں۔افغان قیادت کو کہا گیا دہشت گردی کے روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائے،افغانستان میں امن کے قیام کے لیے جو بھی ہوسکتا ہے ہم کریں گے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج میں سپاہیوں کا سب سے زیادہ خیال رکھا جاتا ہے،کلبھوشن یادیو سے متعلق حکومت پاکستان نے بھارت سے رابطہ کیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کا فکر انگیز خطاب

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے اردو شاعری میلہ میں بڑی فکر انگیز باتیں کی ہیں ان کے خطاب کے منظر و پس منظر کو یوں دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ریاست کے تحت لوگ غائب کردیئے جاتے ہیں، میرے سمیت کسی کو ریاست سے اس بارے میں سوال کرنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی،ریاست نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے معاشرے میں فرقہ واریت کا زہر گھولا،تشدد کو فروغ دیا تاکہ اپنی اجارہ داری اور تسلط کو برقرار رکھ سکے، معاشرے کو اتنا خوفزدہ کردیا کہ ہم فیض احمد فیض،حبیب جالب اور پروین شاکر جیسے شاعروں اور ادیبوں کا متبادل نہ لاسکے،یہ انتہائی فکر کا مقام ہے،متبادل تو دور کی بات ہے ان کے ہم پلہ لوگ پیدا نہ کرسکے،شاعروں اور ادیبوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ ریاست کے سامنے اس سوال کو کرسکیں گے کہ لوگوں کو جبری طور پر کیوں اٹھایاجاتاہے؟۔ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو شعرائے کرام نے آ مریت ، ریاستی تشدد اور ریاستی تسلط کیخلاف تحریک کو جنم دیا ۔ریاست کی پالیسیاں راستہ متعین کرتی ہیں اور ریاست نے ایسی پالیسی اختیارکی جس نے ادب دانش شاعری کے کلچر کو قتل کیا،کتابوں اور کتابیں پڑھنے کے کلچر کو ختم کیا کیونکہ ریاست کو اپنی پالیسیوں کے حوالے سے فکر تھی کہ اس ادب ثقافت اور دانش کے فروغ کے نتیجے میں نئی سوچ پیدا ہوگی جس میں برداشت پر مبنی معاشرہ تشکیل پاتاہے۔ ریاست کو شاید یہ چیزیں قابل قبول نہیں تھیں اور اس نے ادب اور شاعری کا گلہ ہی گھونٹ دیا۔ریاست نے اپنی آمرانہ سوچ ،اجارہ داری اور ریاستی تشدد اور ریاستی تسلط کے خلاف تحریک کو روکنے کیلئے شاعری اور ادب سے ملنے والے جذبوں کو قتل کیا کیونکہ ریاست کو معلوم تھاکہ اگر ان جذبوں کو جلا ملتی رہی اور ملک میں کافی ہاؤسز کا کلچر فروغ پاتارہا تو وہاں لوگ بیٹھ کر گفتگو کریں گے جو کہ نئی سوچ نئے تقاضوں کے فروغ کا سبب بنے گی،اس لیے ریاست نے تشدد اور جبر پر مبنی پالیسیاں اختیار کرلیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے موجودہ شاعروں اور ادیبوں کیلئے یہ فکر چھوڑنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم پاکستان کی تاریخ میں جائیں گے تو ہم فیض احمد فیض حبیب جالب جیسے شاعروں کو دیکھیں،اب ایسے متبادل سامنے کیوں نہیں آرہے ہیں،اس کی ذمہ دار جہاں ریاست ہے ہمیں اپنے رویوں کا بھی احساس کرنا ہوگا۔ریاست نے جب جان بوجھ کر ان حالات کو پیدا کیا تو ہم جاگے بھی نہ،ریاست میں جبر کے اس ماحول کو حادثاتی طور پر فروغ نہیں ملا بلکہ منظم طریقے سے معاشرے کو پسماندہ رکھنے کیلئے جبر کے اس ماحول کی سرپرستی کی گئی اور اپنی اس اجاردہ داری کو برقرار رکھنے کیلئے دیہی علاقوں میں سڑکیں اور بنیادی سہولیات کی دستیابی کو ممکن نہ بنانے دیا تاکہ لوگ مسائل کا شکار رہیں اور ان میں نئی سوچ کو فروغ نہ مل سکے اور شہروں میں ریاست نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے نفسانفسی کا ماحول پیدا کردیا۔پاکستان کے آئین قانون کے تحت جواب دہ بنایاجائے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ریاست نے لوگوں کو اتنا خوفزدہ کردیا ہے کہ وہ ان معاملات پر ہلنے کو بھی تیار نہیں ہے اور یہ خوف اتنا طاری ہوچکا ہے کہ ہم اپنے سایوں سے بھی ڈرتے ہیں ۔ چیئرمین سینیٹ نے اردو شاعری میلہ میں جو فکر انگیز خطاب کیا ہے اس کا اثر حکومتی ایوانوں میں ہونا چاہیے یہ حقیقت ہے کہ آمریت کے دور میں شعراء ادیبوں اور دانشوروں نے جو کردار ادا کیا وہ مشعل راہ قرار پایا ۔ جبروتشدد کے سائے میں انہوں نے قلم کے تقدس اور حرمت کی پاسداری کو محلوظ خاطر رکھا۔ آمروں کی آمریت پر آواز بلند کی اور انسانی حقوق کی پامالی پر قلمی زکوٰۃ دے کر تاریخ کے سنہری اوراق میں اپنا نام لکھوایا جس کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ شعراء ،ادیبوں اور دانشوروں کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ وہ حق گوئی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور رائے عامہ کی تشکیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالتے ہیں ۔ آج بھی ایسے بے باک سوچ اور رویوں کی ضرورت ہے جو صحیح معنوں میں قوم کی رہنمائی کریں اور ظلم و جبر کے سامنے کبھی نہ جھکیں اور سچ کو جھوٹ کے پردے میں نہ چھپائیں۔
سیاست میں بڑھتی تلخیاں
عمران خان نے ساہیوال میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ کچھ بھی ہو پاکستان جیتے گا،سپریم کورٹ کا جوبھی فیصلہ ہوگا قبول کریں گے،نوازشریف کی کرپشن کبھی قبول نہیں کریں گے،ملک کا وزیراعظم چیک اپ کرانے کے لیے بھی باہر جاتا ہے، ہمیں پاکستان کو ٹھیک اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا،حکمران ملک کومقروض کررہے ہیں، ہر پاکستانی پر قرضہ چڑھا ہوا ہے اور ان لوگوں کی وجہ سے ہی ہمیں دنیا بھر میں ذلت ملتی ہے، کرپشن مافیا بیوروکریسی،سیاسی جماعتوں اورمیڈیا سمیت ہرجگہ موجود ہے،نظام ٹھیک کر کے کرپشن ختم کردی تو عظیم قوم بن جائیں گے۔ صرف انسان اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاتاہے،انسانوں کے آگے نہیں پھیلاتا،ایران ہمارے ساتھ والا ملک ہے،جب ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران کے ویزے بند کردیں گے تو ایران نے کہا کہ ہم امریکہ کے ویزے بند کردیں گے وہ خودار قوم ہے،قائداعظم نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا،کبھی کسی نے قائداعظم کی دیانت داری پر شک نہیں کیا کہ قائداعظم کدھر نوازشریف کدھر بڑے بڑے ریکارڈ ٹوٹتے دیکھے ہیں،اتنے جھوٹ کے ریکارڈ ٹوٹتے نہیں دیکھے جتنے شریف خاندان نے جھوٹ کے ریکارڈ توڑے ہیں،یہی پاکستان ایک عظیم ملک بن سکتاہے،سب سے بڑااثاثہ پاکستان کا پاکستانی قوم ہے ۔کرپشن کا پیسہ جب باہر جائے گا تو قرضے بڑھتے جائیں گے،پہلی بار ملک کے وزیراعظم کی تلاشی لی جارہی ہے،ہمیں بڑی سزا مل چکی ہے امریکیوں کو بھی سزا ملنے کی ضرورت ہے۔عمران خان نے کہاکہ نریندر مودی نے پانی کی بندش سے متعلق مولاجٹ کا نعرہ لگایا،نریندر مودی ہرپاکستانی نوازشریف نہیں ہم کسانوں کیلئے کھاد،ٹیوب ویل،دواؤں کی قیمتیں کم کرینگے،چھوٹا کسان جب کھڑا ہوتا ہے تو ملک بنادیتاہے،کرپشن مافیا ہر جگہ بیٹھاہے،ہمیں ان کو شکست دینی ہے۔ دوسری طرف وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی عقل و جھوٹی سیاست کا دیوالیہ نکل گیا جلد مستقل ویزے پر باہر جائیں گے ۔ چیئرمین پی ٹی آئی نوازشریف کے بغض میں ملک دشمنی نہ کریں ۔ عمران خان لیکی کارکنوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ آئندہ الیکشن میں بھی دھرنا کا دھڑن تختہ ہوگا ۔ ان بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سیاست میں رواداری اور جمہوری کلچر کا فقدان ہے اور موجودہ حالات سیاسی ماحول کو محاذ آرائی کی طرف دھکیلتے نظر آتے ہیں جو ملک و قوم کیلئے نیک شگون قرار نہیں دئیے جاسکتے ۔ ہمارے خیال میں سیاست میں یہ رویہ جمہوریت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ پانامہ کیس عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے ۔ سیاستدان فیصلے کا انتظار کریں اور اس پر رائے زنی سے اجتناب کریں اور سیاست میں تلخ رویوں کی حوصلہ شکنی کو فروغ دیں یہی وقت کا تقاضا ہے جس سے پہلو تہی سیاسی درجہ حرارت کو مزید تیزکرسکتی ہے جس سے جمہوری روایات کودھچکا لگ سکتا ہے ۔ سیاستدان صبروتحمل سے کام لیں۔

آبی جارحیت بارے بھارتی ہٹ دھرمی

جالندھر میں اکالی دل اور بی جے پی اتحاد کی حمایت میں انتخابی جلسے سے خطاب کر تے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی دریاؤں کا پانی صرف بھارت کے کسان کو ملے گا۔ پاکستان کو نہیں ملے گا۔ پاکستان میں بہہ جانے والا پانی روکیں گے۔ دہشت گردی کو مزید برداشت نہیں کیا جائیگا۔ بھارتی پنجاب کے کسان کو پانی کیلئے اب مزید پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہم نے دریاؤں کے پانی کا رخ موڑنے کافیصلہ کیاہے جو اس وقت بہہ کر پاکستان کی طرف جا رہا ہے۔ پنجاب کے کسان کا ہی اس پانی پرسب سے زیادہ حق ہے۔ پنجاب بہادر لوگوں کی سرزمین ہے۔ آخرکب تک ہم دوسروں کو ہمیں نقصان پہنچانے کا موقع دیتے رہیں گے۔ کیا ہمیں بھرپور جواب نہیں دینا چاہئے؟قیام پاکستان کے وقت کی ہندو لیڈر شپ نے پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی نیت سے ہی کشمیر کا تنازعہ پیدا کیا اور اس کا مسلم اکثریتی آبادی ہونے کے باوجود پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دیا اور پھر 1948ء میں اپنی افواج داخل کر کے کشمیر کے بڑے حصے پر اپنا تسلط جما لیا جسے بعدازاں بھارتی آئین میں ترمیم کر کے باقاعدہ بھارتی ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔ کشمیر پر تسلط جمانے کا بھارتی مقصد کشمیر کے راستے پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی روک کر پاکستان کو قحط اور خشک سالی کے ذریعے کمزور کر کے بے بس بنانے کا ہی تھا تاکہ وہ خدانخواستہ پاکستان کی سلامتی ختم کرنے کے ناپاک عزائم کی تکمیل کر سکے۔ اس کے یہ عزائم آج تک برقرار ہیں جبکہ اس کی آبی دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے 60ء کی دہائی کے آغاز ہی میں عالمی بنک سے رجوع کیا تھا جس نے پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کا تنازعہ ختم کرانے کیلئے ان دونوں ممالک کو سندھ طاس معاہدے میں شریک کیا۔ اگرچہ یہ معاہدہ بھی بنیادی طور پر بھارت کے حق میں تھا کیونکہ اس کے تحت تین دریا مکمل طور پر بھارت کے حوالے کر دیئے گئے تھے جبکہ باقیماندہ تین دریاؤں پر بھی پاکستان کو پہلے ڈیم تعمیر کرنے کا حق دے کر بھارت کو بھی پاکستان کی جانب سے اپنے حق کے استعمال کے بعد ڈیمز کی تعمیر کا حق دے دیا گیا جس سے بھارت نے خوب فائدہ اٹھایا کیونکہ ہمارے حکمرانوں نے تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد سرے سے کوئی ڈیم تعمیر ہی نہ کیا اور جب ایوب دور میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا فائل ورک مکمل ہونے کے بعد بھٹو دور میں اس کی تعمیر کا عندیہ دیا گیا تو خیبر پی کے اور سندھ کے مفاد پرست سیاستدانوں نے اس ڈیم کو متنازعہ بنا کر اسے تعمیر نہ ہونے دینے کے اعلانات شروع کر دیئے۔ صوبہ سرحد کے سرخپوش رہنماؤں نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں اسے ڈائنا مائیٹ مار کر تباہ کرنے کی دھمکیاں دے کر اپنے بھارتی آقاؤں کو خوش کیا جبکہ سندھ کے نام نہاد قوم پرست لیڈران نے یہ دھمکیاں دے کر بھارتی آشیر باد حاصل کی کہ کالا باغ ڈیم ہماری لاشوں پر سے گزر کر ہی بنایا جا سکے گا۔ پاکستان بڑی حد تک سندھ کے پانی پر منحصر کرتا ہے۔ اس کے تقریباً65 فیصد حصے کو اسی دریا سے پانی ملتا ہے۔ اگر بھارت اپنے یہاں سے پاکستان کی طرف جانے والی دریاؤں کا پانی روک دیتا ہے تو پاکستان میں پانی کا زبردست بحران پیدا ہوجائے گا۔ تاہم آبی ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے خود بھارت کو بھی نقصان ہوگا اور جموں و کشمیر نیز بھارتی پنجاب کے علاقے سیلاب کی زد میں آجائیں گے۔بھارت کے سابق وزیر خارجہ اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما یشونت سنہا نے مشورہ دیا ہے کہ بھارت کو سندھ آبی معاہدہ فوراً منسوخ کردینا چاہیے تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ اس طرح کا مشورہ کوئی نیا مشورہ نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے تو پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا آئیڈیا کچھ رہنماؤں نے دیا تھا۔ان کا خیال ہے کہ یہ کسی جانی نقصان کے بغیر پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لیے سب سے آسان اور مؤثر متبادل ہے۔ تاہم اس مشورے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا کیوں کہ اسٹریٹیجک امور کے ماہرین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ اس طرح کے اقدامات سے بھارت مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے اور پاکستان کو سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے مجبور کرسکے گا۔یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1965او 1971 کی جنگیں نیز 1999 کی کرگل عسکری مہم جوئی کے باوجود دونوں ملک سندھ آبی معاہدہ کو نہایت خوش اسلوبی سے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں اور اس معاہدے کو بین سرحد ی دریاؤں کے پانی کے استعمال کے حوالے سے تعاون کے لیے عالمی رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔بھارت کے معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ انیالسس میں اسٹریٹیجک امور کے ماہر اتم سنہا کا خیال ہے کہ پانی روکے بغیر یا ضابطوں کی خلاف ورزی کیے بغیر بھی پاکستان پر دباؤ دیا جاسکتا ہے۔ ان کا خیال ہے، ’’اس معاہدے کے مطابق اگر بھارت مغربی دریاؤں کا پانی استعمال کرنے لگے، جو اس نے آج تک نہیں کیا ہے، تب بھی پاکستان دباؤ میں آجائے گا۔ لیکن اس کے منفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں کیوں کہ دیگر پڑوسیوں کے ساتھ ہمارے آبی معاہدے بھی ہیں اور اگر ہم سندھ آبی معاہدے کا احترام نہیں کریں گے تو ایک غلط اشارہ جائے گا اور اگر چین نے بھی اسی طرح کا کوئی قدم اٹھایا تو ہمارے پاس اس کے خلاف کوئی اخلاقی جواز نہیں ہو گا۔‘
*****

Google Analytics Alternative