Home » 2017 » January » 04

Daily Archives: January 4, 2017

بھارتی ٹی وی کے معروف ہدایتکار وسیم صابرانتقال گرگئے

ممبئی: بھارت کے مشہور ڈرامہ سیریل ’’ویرا‘‘ کے ہدایتکار وسیم صابر گھر میں حادثے کے باعث سر میں چوٹ لگنے سے انتقال کرگئے۔

بھارتی ہدایتکار وسیم صابر 4 دن قبل گھر میں سیڑھیوں سے اترتے ہوئے توازن برقرار نہ رکھ سکے اور گر پڑے جس کے باعث ان کے سر میں چوٹ آئی اور وہ بے ہوش ہوگئے، وسیم صابر کو بے ہوشی کے عالم میں اسپتال لے جایا گیا جہاں 2 دن زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ پیر کے روز انتقال کرگئے۔

ڈاکٹرز کے مطابق وسیم صابر کے گرنے سے  سر پر چوٹ آئی تھی جس سے ان کی موت واقع ہوئی ہے جب کہ جوان ہدایتکار کی اچانک موت نے پوری انڈسٹری سوگوار کردیا  ہے  اور نامور اداکاروں نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔+

ہدایتکار وسیم صابر نے  سپر ہٹ ٹی وی ڈراموں ’’تمنا‘‘ ،’’گنگا‘‘، ’’اس پیار کو کیا نام دوں‘‘ اور ’’ویرا‘‘ کی ہدایتکاری کے فرائض سرانجام دیئے اور کئی  ایوارڈز اپنے نام کیے ہیں۔

شاہ رخ اورپریانکا ٹوئٹرپرسب سے زیادہ زیربحث رہنے والے فنکاربن گئے

ممبئی: بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان اورجنگلی بلی پریانکا چوپڑا اداکاری میں تو آگے آگے ہیں لیکن دونوں ہی فنکار 2016 میں ٹوئٹر پر سب سے زیادہ زیربحث بھی رہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان اور اداکارہ پریانکا 2016 میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرسب سے زیادہ زیر بحث رہنے والے اداکاربن گئے ہیں۔ سب سے زیادہ زیربحث رہنے والے اداکاروں میں پہلے نمبرپراداکار شاہ رخ ، دوسرے نمبر پر سلمان خان، تیسرے نمبر پر ورن دھون، چوتھے نمبر پر اکشے کمارجب کہ پانچویں نمبر پر بگ بی امیتابھ بچن نے جگہ بنائی۔  ٹاپ ٹین فہرست میں ہریتھک روشن، سدھارتھ ملہوترا، کرن جوہر، اجے دیوگن اوررنویرسنگھ بھی شامل ہیں۔

اداکاراؤں کی فہرست میں سب سے پہلے نمبرپراداکارہ پریانکا چوپڑا، دوسرے نمبرپرعالیہ بھٹ، تیسرے نمبر پر دپیکا پڈوکون، چوتھے نمبر پر انوشکا شرما اورپانچویں نمبر پر شردھا کپور نے جگہ بنائی ہے جب کہ ٹاپ ٹین کی فہرست میں کاجول، جیکولن فرنینڈس، پرینیتی چوپڑا، سونم کپوراورسنی لیون شامل ہیں۔

فلم ’ڈونٹ ناک ٹوائس‘کا پہلا ٹریلر

ہالی وڈ میں خوف کے سائے منڈلانے لگے، نئی ہالی وڈ فلم’ڈونٹ ناک ٹوائس‘کا پہلا ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے۔

کیرا ڈوگ جیمز کی ڈائریکشن میں بننے والی اس سنسنی خیز فلم کی کہانی ایسے خطرناک اور پر اسرارواقعات کے گرد گھوم رہی ہے، جب ہزاروں سال کی چڑیل گھر سے لاپتہ ہو جانے والی ایک لڑکی کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے اورپھر یہ لڑکی گھر لوٹ کر اپنی فیملی کی جان کی دشمن بن جاتی ہے۔

نک میرن اور کلیئر مورسم کی مشترکہ پروڈیوس کردہ اس فلم میں ہالی وڈ اداکارکیٹی سیکوف، لوسی بینٹون، جیویر بوٹیٹ، نک مورن، جورڈن بولگر، پونے ہاجی موہماندی، رچرڈ میلن، میگن پیروس اورگیبریل ٹرمبل اہم کرداروں میں جلوۂ گر ہو رہے ہیں۔

خوف، دہشت اور سنسنی سے بھرپور یہ فلم ریڈ اینڈ بلیک فلمز کے تحت رواں سال سنیما گھروں کی زینت بنائی جائیگی تاہم حتمی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

ارشد خان ’‘چائے والا‘‘ کا شوبز کی دنیا چھوڑنے کا فیصلہ

اسلام آباد: چائے والا کے نام سے سوشل میڈیا پر مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے والے ارشد خان نے شوبز کی دنیا کو خیرباد کہہ دیا ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ پر فیس بک پر تصویر شائع ہونے کے بعد اسلام آباد میں چائے کے ڈھابے پر کام کرنے والے ارشد خان عرف ’چائے والا‘ نے نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسی ملک میں اپنی خوبصورت آنکھوں اور پرکشش شخصیت سے کافی شہرت حاصل کی، ارشد کی پرکشش شخصیت نے ناصرف پاکستانی فلمی ستاروں کو متاثر کیا بلکہ بالی وڈ کنگ بھی ارشد کی پرکشش شخصیت کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے لیکن خبر ہے کہ ارشد نے شوبز انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا ہے۔

ارشد خان کے منیجر کا کہنا تھا کہ ان کے نئے گانے کی ویڈیو کی وجہ سے اہل خانہ اور قریبی ساتھیوں میں ناپسندیدگی کا  اظہار کیا جس کے باعث ان پر شوبز کی دنیا سے دور رہنے کے لیے کافی دباؤ بھی تھا۔

ارشد کے منیجر کا کہنا تھا کہ شوبز سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد وہ دوبارہ سے اسلام آباد میں اپنے چائے کے ڈھابے پر کام کریں گے تاہم ارشد خان صحافت کے شعبے میں کیرئیر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ اس پیشے سے ان کے اہل خانہ کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

امریکی فوج نے 40 سال پرانے دستی بم اہم تبدیلیاں کردیں

واشنگٹن: امریکی افواج نے روایتی دستی بم کے ڈیزائن میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے 40 سال قبل ڈیزائن کیا گیا تھا اور اس نئے ڈیزائن کو ’انہانسڈ ٹیکٹیکل ملٹی پرپز‘ (ای ٹی ایم پی) ہینڈ گرینیڈ کا نام دیا گیا تھا۔

امریکی افواج میں ہتھیاروں پر تحقیق اور انجینیئرنگ کے شعبے (اے آر ڈی ای سی) نے پرانے دستی بم کے زیادہ محفوظ لیکن دشمن کے لیے خطرناک ڈیزائن پر کام شروع کردیا ہے جسے انہانسڈ ٹیکٹیکل ملٹی پرپز (ای ٹی ایم پی) ہینڈ گرینیڈ کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ایک گھومنے والا لیور لگایا جائے گا جس کے انتخاب سے دستی بم دو طرح سے پھٹے گا: یا تو وہ ٹکڑوں میں تقسیم ہوگا یا پھر ایک دھماکے دار دھچکا پیدا کرے گا۔

اگرچہ اب بہت سے کاموں کے لیے مختلف دستی بم اور گرینیڈ بنائے جاچکے ہیں جن میں ہجوم کو قابو کرنے والے گیس گرینیڈ، دھواں پیدا کرنے والے گرینیڈ، ٹینک تباہ کرنے والے دستی بم اور اندھیرے میں روشنی پیدا کرنے والے گرینیڈ تک شامل ہیں۔ لیکن پیدل سپاہی یا تو فریگمینٹیشن گرینیڈ استعمال کرتا ہے یا پھر دھماکے کی قوت پیدا کرنے والے کنکشن گرینیڈ پھینکتا ہے۔

کنکشن گرینیڈ ہلاکت خیز ہوتے ہیں اور وہ ایک مخصوص دائرے پر اثر کرکے پوشیدہ دشمن کو ہلاک کرتے ہیں۔ ان کے اثر کا دائرہ چھوٹا ہوتا ہے اور انہیں پھینکنے والا سپاہی مطمئن رہتا ہے کہ دھماکے سے خود اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

دوسری قسم یعنی فریگمینٹیشن گرینیڈ اصل میں دفاعی ہتھار تصور کیے جاتے ہیں۔ ان میں ایک جانب دھماکا خیز مواد ہوتا ہے جس میں  نوکیلے فولادی ٹکڑے اور بال بیئرنگز بھرے ہوتے ہیں۔ اس گرینیڈ کو دھاتی تاروں یا پھر ٹھوس لوہے میں لپیٹا جاتا ہے تاکہ اثر زیادہ ہو۔ فریگمینٹیشن گرینیڈ عموماً 15 میٹر (یا 50 فٹ) دائرے میں اثر کرتے ہیں اور مخالف فوجیوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔

اب ای ٹی ایم پی گرینیڈ کو بہ یک وقت ان دونوں اقسام کے بموں کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا جارہا ہے جس کے لیے روایتی ڈیزائن میں بنیادی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ اب ایک گرینیڈ یہ دونوں کام کرے گا اور فوجیوں کو دو مختلف اقسام کے دستی بم نہیں اٹھانے پڑیں گے۔

عسکری انجینئروں نے اس پر 5 سال کام کیا ہے اور فوجی مسلسل اس کی آزمائش کررہے ہیں۔ ای ٹی ایم پی گرینیڈ میں ایک تبدیلی اور کی گئی ہے کہ پہلے یہ سیدھے ہاتھ والے افراد کے لیے موزوں تھا لیکن اب اسے بائیں ہتھے والے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اے آر ڈی ای سی نے کہا ہے کہ اس ہینڈ گرینیڈ کے بارے میں براہِ راست افواج سے رائے لی گئی ہے جنہوں نے اسے میدانِ جنگ میں آزمایا ہے۔ اس میں فیوز پھٹنے کے وقت کو کم اور زیادہ کیا جاسکتا ہے اور ہینڈ گرینیڈ کی نوعیت بدلنے والا لیور بھی استعمال میں بہت آسان ہے۔

صرف 15 سیکنڈ میں چارج ہوجانے والی الیکٹرک میٹرو بس

جنیوا: سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت میں تجرباتی طور پر ایسی بڑی الیکٹرک میٹرو بسیں چلائی جارہی ہیں جن کی بیٹریاں صرف 15 سیکنڈ میں چارج ہوجاتی ہیں اور یہ تیزی سے دوبارہ اپنی منزل کی طرف گامزن ہوجاتی ہیں۔

بجلی سے چلنے اور تیزی سے چارج ہونے والی یہ میٹرو بسیں سوئٹزر لینڈ کی مختلف کمپنیوں نے حکومت کے تعاون سے تیار کی ہیں۔ ایسی ہر بس کے نچلے حصے میں بیٹریاں نصب ہیں جب کہ چھت پر ایک قابلِ حرکت آنکڑا ہے۔

جنیوا ایئرپورٹ سے شہر کے مختلف علاقوں تک چلنے والی ان بسوں کے اسٹاپ بھی خاص طرح سے ڈیزائن کیے گئے ہیں جن میں خاصی اونچائی پر چارجنگ پلگ لگے ہوئے ہیں۔ بس جیسے ہی اسٹاپ پر پہنچ کر رکتی ہے تو مسافروں کے چڑھنے اور اترنے کے درمیانی وقفے میں ہی بس کی چھت والا آنکڑا، اسٹاپ پر لگے ہوئے چارجنگ پلگ کو جکڑ لیتا ہے اور صرف 15 سیکنڈ کی مختصر مدت میں بس کی بیٹریوں کو 600 کلو واٹ جتنی بجلی دے کر چارج کردیتا ہے۔

صرف 15 سیکنڈ تک چارج ہونے کے بعد ایسی ایک بس اپنے 130 مسافروں کو لے کر 2 کلومیٹر تک مزید سفر کرسکتی ہے جب کہ بس ٹرمینل (بس اڈے) پر پہنچ کر اس کی بیٹریوں کی مکمل چارجنگ میں 4 سے 5 منٹ لگتے ہیں۔

سوئس حکام کا کہنا ہے کہ 2018 تک جب یہ سروس پوری طرح سے شروع ہوجائے گی تو ان بسوں کے ذریعے روزانہ 10 ہزار سے زیادہ افراد کو پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر آئے گی جب کہ اس سے فضائی آلودگی کم سے کم سطح پر رکھنے میں بھی بہت مدد ملے گی۔

دنیا بھر کے ایئرپورٹس پر وائی فائی پاس ورڈ ڈھونڈنے کا طریقہ

لندن: فضائی سفر کے لیے گھنٹوں ایئرپورٹ پر بیٹھے رہنا بہت مشکل کام ہوتا ہے اور اگر وائی فائی نہ ہو تو اس وقت کو کاٹنا مزید مشکل ہوجاتا ہے لیکن اب ایک کمپیوٹر سیکیورٹی انجینئر نے دنیا کے اہم ہوائی اڈوں پر مفت وائی فائی کی تفصیل نقشے کی صورت میں شائع کی ہے۔

برطانوی سیکیورٹی انجینئر انیل پولاٹ نے جو نقشہ تیار کیا ہے اس میں ایئرپورٹس پر موجود مفت وائی فائی کی تازہ ترین معلومات موجود ہیں اور اس کے لیے ایک ایپ بھی تیار کرلی گئی ہے جس کی قیمت صرف دو ڈالر ہے۔ انیل کے مطابق اگرچہ دنیا بھر کے متعدد ایئرپورٹس پر مفت وائی فائی موجود ہے لیکن ان تک رسائی آسان نہیں کیونکہ پاس ورڈ ضروری ہوتا ہے۔

اس کے لیے پولاٹ نے دنیا بھر کے لوگوں سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ایئرپورٹس کی حدود میں وائی فائی پاس ورڈز شیئر کریں۔ اس کے بعد ان کی فہرست بنائی گئی اور اسے گوگل میپ کے ساتھ ملادیا گیا۔


نقشے کو بہت آسان انداز میں سمجھا جاسکتا ہے اور اس میں نئی معلومات اور پاس ورڈ تبدیل کرنے کے عمل کو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح استعمال کرنے والے افراد کی تازہ معلومات کے تحت معلومات تبدیل ہوتی رہتی ہے اور ایپ اپ ڈییشن کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انیل پولاٹ کا مشورہ ہے کہ اپنے فون کے ساتھ ایک یو ایس بی وائرلیس اینٹینا بھی ساتھ رکھیں تاکہ وائرلیس رینج کو بڑھایا جاسکے۔

کولیسٹرول صحت کیلئے مضر نہیں رہا، امریکی محکمہ زراعت کی تحقیق

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک امریکی ریسرچ موضوع بحث ہے کہ کولیسٹرول اب صحت کے لیے مضر نہیں رہا، حالیہ تحقیق کس حد تک درست اور ماہرینِ صحت کے لیے کتنی قابل قبول ہے۔

کولیسٹرول مفید ہے؟ یا نقصان دہ؟ دل، شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض سوچ میں پڑگئے، کیا واقعی ہر طرح کے کولیسٹرل صحت کیلئے مضر نہیں؟ شہریوں کے ذہن میں سوال پیدا ہوگئے۔

کولیسٹرول کا بڑھنا ایسا مسئلہ ہے جو ایک بار درپیش ہوجائے تو کئی امراض کا سبب بن جاتا ہے جو اکثر زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتے، مگر ان دنوں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک امریکی تحقیق نے پاکستانیوں کو ابہام کا شکار کردیا ہے۔

کولیسٹرول کے بارے میں کنفیوژن کیوں پھیلی؟ ماہرین نے انٹرنیٹ پر موجود تحقیق کو غیر مستند اور غلط قرار دے دیا، انٹرنیٹ پر کولیسٹرول سے متعلق پھیلی غیر مستند رپورٹس اس کا سبب بنیں۔

امریکی حکومت کی ڈائٹری گائیڈ لائن میں کولیسٹرول سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں تھی، جیسی غیر مستند رپورٹس میں بتائی گئی۔ امریکی حکومت نے مضر صحت کولیسٹرول کی حامل غذاؤں کی فہرست مزید مختصر کردی ہے۔

امریکی ڈائٹری گائیڈ لائن کے مطابق انڈے، مچھلی اور دیگر سی فوڈزمضر کولیسٹرول بڑھانے کا سبب نہیں بنتے، کافی اور پانچ چمچ تک تیل یا گھی بھی نقصان دہ نہیں بلکہ مفید ہے۔

امریکی ڈائٹری گائیڈ لائن میں دودھ، مکھن، چاکلیٹ اور گوشت بدستور نقصان دہ کولیسٹرول والی غذاؤں میں شامل ہیں۔ملک کے مختلف طبی ماہرین کا بھی اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ وہ اشیاء جن میں کولیسٹرول قدرتی طور پر موجود ہے ان میں بھی اعتدال پسندی کی جانی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق کولیسٹرول کی مقدار کو برقرار رکھنے کے لیے ورزش کو اپنی زندگی کا بنیادی حصہ بنانا ضروری ہے۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative