Home » 2017 » January » 04 (page 4)

Daily Archives: January 4, 2017

چیف جسٹس پاکستان نے کمسن ملازمہ پر تشدد کے واقعے کا از خود نوٹس لے لیا

 اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کے گھر کام کرنے والی کمسن ملازمہ پر تشدد کے واقعے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وفاقی دارالحکومت میں ایڈیشنل سیشن جج کے گھر کام کرنے والی کمسن ملازمہ پر تشدد کے واقعے کا از خود نوٹس لے لیا ہے، چیف جسٹس نے بچی پر تشدد اور گزشتہ روز فریقین کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ کو 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

گزشتہ روز حاضر سروس ایڈیشنل سیشن جج خرم علی خان اور ان کی اہلیہ کے ہاتھوں مبینہ طور پر تشدد کا شکار ہونے والی کمسن بچی طیبہ کے والدین نے اپنا کیس واپس لے کر راضی نامہ کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کے گھر میں ملازمت کرنے والی بچی طیبہ پر تشدد کے واضح ثبوت ملے تھے جس کے بعد جج اور ان کی اہلیہ کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا تھا۔

ایم کیو ایم رکن اسمبلی کامران فاروق کیخلاف کیس کا چالان پیش

ایم کیو ایم رکن سندھ اسمبلی کامران فاروق کے خلاف کیس کا چالان انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں پیش کیا گیا تھا تاہم سرکاری وکیل کی جانب سے چالان نامکمل قراردینے پرعدالت نے تفتیشی افسر کو دوبارہ چالان پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

کامران فاروق کے خلاف دھماکا خیز مواد اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے تحت نبی بخش تھانے میں مقدمہ درج ہے۔ان پر سانحہ بارہ مئی میں بھی ملوث ہونے کا بھی الزام ہے اور وہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

کراچی: دو تلوار کے قریب نالےپر غیر قانونی پلاٹنگ کا انکشاف

مئیر کراچی وسیم اختر کے دورے کے دوران کلفٹن دو تلوار کے قریب نہر خیام نالے پرغیر قانونی پلاٹنگ کا انکشاف ہوا ہے۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کلفٹن دو تلوار کے قریب نہر خیام نالےکا دورہ کیا، مئیرکراچی جب سڑک کی دوسری جانب گئے تو نالے پر غیر قانونی پلاٹنگ کا انکشاف ہوا، پلاٹ پر موجود گارڈ کو دروازے کھولنے کا کہا تو اس نے انکار کردیا۔ وسیم اختر کی تنبیہہ کے بعد گارڈ نے دروازہ کھولاتو غیرقانونی پلاٹنگ کا انکشاف ہوا۔

مئیر کراچی کا کہنا تھا کہ پلاٹ کی دیواریں گرا کر قبضہ ختم کرائیں گے۔

میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا تجاوزات اور کچرے کے باعث نالہ بند ہوگیا ہے اور اس کی400 فٹ سے لمبائی کم ہوکر 100 فٹ رہ گئی ہے۔ کل سے نالے کی صفائی شروع کریں گے۔

مئیرکراچی کا کہنا تھا کہ شہر میں 80 فیصد نالوں پر تجاوزات قائم ہیں۔ واٹر بورڈ، کے ڈی اےا ور کے ایم سی کی مدد سے ان کا خاتمہ کریں گے۔

موسم بدلا ہے امید ہے یہاں بھی حالات بدلیں گے، عمران خان

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ موسم بدلا ہے امید ہے یہاں بھی حالات بدلیں گے۔

سماعت سے قبل سپریم کورٹ کے باہر گفتگو میں پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ امید ہے اب حالات بدل جائیں گے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنا معیار اوروقارکھودیا،کُل جماعتی کانفرنس بلاکرنگراں حکومت کا اعلان کیا جائے۔

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمد قریشی کا کہنا تھا کہ موسم بدل رہا ہے ،وکیل بدل چکے ہیں ،لگتا ہے رُت بدلنےوالی ہے ۔

بجلی اورگیس کی فری پیڈ میٹر کی ضرورت

آج کل دوسرے اہم مسائل کے ساتھ ساتھ وطن عزیز بجلی اور گیس لو ڈ شیڈنگ کا سامنا کر رہا ہے ۔پنجاب کے مقابلے میں خیبر پختون خوا میں انتہائی لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ یہاں پر رہتے ہوئے ایسے لگتا ہے کہ ہم پاکستان میں نہیں ایتھوپیا یا افریقہ کے کسی پسماندہ ملک میں رہ رہے ہیں۔ نواز شریف کو عمران خان کے ساتھ دشمنی کرنی چاہئے مگر نواز شریف خیبر پختون خوا کے لوگوں سے الیکشن ہارنے کا بدلہ لے رہے ہیں ۔ اور یہ بات میری سمجھ سے باہر کے پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام وزیر اعظم نواز شریف اس سلسلے میں بات کیوں نہیں کرتا۔ اور اُسکو بتاتا کیوں نہیں کہ وفاقی حکومت کے بجلی اور گیس کے اداروں واپڈا اور سوئی گیس نے بجلی اور گیس لوڈ شیڈنگ کرکے اور غریب صا رفین کو بلاجواز بھاری بھر بل بھیج کرکے پی کے کے لوگوں کی زندگی کو غذاب بنا یا ہوا ہے۔مگر نہ مسلم لیگ(ن) کے ورکروں کو اور نہ انجینیر امیر مقام کو یہ بات سمجھ آتی ہے ۔ اس وقت پاکستان میں بجلی چو ری35سے40 فی صد تک جبکہ گیس چو ری 25 سے30 فی صد تک ہے ۔ گرمی میں جو ن جولائی، اگست ستمبر میں جب بجلی استعمال 18 اور19 ہزار میگا واٹ تک بڑ ھ جاتا ہے تو 40 فی صد کے حساب سے 6 ہزار میگا واٹ اور سر دیوں میں جب بجلی کاکل خرچہ 12 یا 13 ہزار میگا واٹ ہوتا ہے، تو سر دی میں 4یا ساڑھے چار ہزار میگا واٹ بجلی چو ری ہوتی ہے۔ اسی طر ح گیس کی 25اور 30 فی صد کے درمیان چو ری ہو تی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ تمام خرچہ ایک غریب صا رف دیتا ہے اور اسی طر ح اسکے بھاری بھر بل آتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ بجلی اور گیس چو ری کو کیسے روکا جائے ۔ اگر ہم کسی بھی مذہب کے ماننے اور اس پر عمل کرنے والے ہوں تو پھر تو ہمیں کسی قانون اور ضابطے کی ضرورت نہیں مگر بد قسمتی سے ہم برائے نام مسلمان ، سکھ ، عیسائی ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا کوئی ایمان دین نہیں اور ہم اللہ سے زیادہ ڈنڈے سے ڈرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کو نسا راستہ اختیارکیا جائے کہ بجلی اور اور گیس کی 30 سے 40 فی صد بجلی چو ری کو قابو کر کے غریب پر انکا بو جھ کم کیا جائے ۔ میرے خیال میں اس سلسلے میں ہمیں پری پیڈ میٹر استعمال کو رواج دینا چاہئے۔ جس طر ح ہم میں موبائیل میں کا رڈ یا ازی لو ڈ کرتے ہیں۔ اسی طر ح ہمیں پری پیڈ بجلی، پانی اور گیس میٹر کو استعمال کر کے بجلی چو ری کے واقعات کو کم کر سکتے ہیں۔ جس سے ملک میں کا فی حد تک لو ڈ شیڈنگ اور بجلی چو ری روکنے پر قابو پایا جائے گا۔اور ہمارے بجلی کے وزیر عابد شیر علی جو دوسرے صوبوں کے لوگوں پر بجلی چو ری کے جو الزامات کگاتے ہیں کم از کم اس کا تدارک تو ہوجائیگا اور یہ بھی پتہ چلے کا کہ کونسا صوبہ کتنا چور ہے۔ اس وقت جن جن ممالک میں پری پیڈ میٹرکا نظام رائج ہے اُن میں امریکہ ، بر طانیہ، آئر لینڈ، ساؤتھ افریقہ، نیوزی لینڈ، بھارت، ارجینٹینا، اور اسکے علاوہ بُہت سارے ترقی پذیر ممالک شامل ہیں ۔پائک ریسر چ نے پو ری دنیا میں 30 ملین پری پیڈ میٹر لگائے گئے ہیں اور سال 2017 تک انکی تعداد 500ملین تک پہنچ جائے گی۔پا ئک ریسر چ کے مطابق پری پیڈ میٹر کی ما رکیٹ 2016 تک 500 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور آئندہ سالوں میں یہ ما رکیٹ700 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ در اصل ا سے نہ صرف ملک میں بجلی اور گیس چوری میں مدد ملے گی بلکہ اس سے ہمارے بُہت سارے سماجی، اقتصادی اور کلچرل مسائل حل ہو نگے۔ہم اکثر اپنے مکان اور دکان کو کسی کو کرائے پر دیتے ہیں ۔ بعض اوقات یا تو کرایہ دار بھاگ جاتا ہے اور یا بجلی اور گیس بل کسی وجہ سے متنا زعہ ہو جاتا ہے۔میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ آج کل واپڈا ملازمین اور واپڈا صا رفین کا سب سے بڑا مسئلہ غیر مُنصفانہ بل پری پیڈ میٹر لگانے سے کم ازکم مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان بجلی اور گیس بل پر جو مسائل اور چپقلش ہوتی ہے اُس میں زیادہ حد تک کمی آئے گی۔ ایک صا رف کو پتہ ہو گا کہ مُجھے بجلی کس وقت ، کس طرح بجلی استعمال کرنی چاہئے۔ علاوہ ازیں ا سے اقتصادی سر گر میوں میں اضافہ ہو گا اور بجلی کی صنعت پر واپڈا یا مزید چند حکومتی کمپنیوں کا قبضہ ہے وہ ختم ہو جائے گا۔ اس پاکستان میں واپڈا کے تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ صا رفین ہیں اگر اس کام کو پرائیویٹا ئز کیا جائے تو اس سے لاکھوں لوگوں بلواسطہ اور لاکھوں کو بلا واسطہ جابز ملنے کے روشن امکانات ہیں ۔علاوہ ازیں اس سے پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے درمیان اہم اور مُثبت اور مقابلے کا رُحجا ن پیدا ہو گا اور ملک اور باہر کے صنعت کار بجلی اور گیس لو ڈ شیڈنگ پورا کر نے میں اپنا حصہ کر دار ادکر تے رہینگے۔ لہٰذاء ضرورت اس امر کی ہے کہ مو وجودہ حکومت کو ملک میں زیادہ سے زیادہ پری پیڈ بجلی، پانی اور گیس کے میٹرز کو رواج دینا چاہئے تاکہ بجلی، گیس اور پانی چوری پر قابو پایا جاسکے۔میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ آج وطن عزیز میں جائینٹ فیملی سسٹم میں بہن بھائی اور رشتہ داروں میں لڑائی بجلی اور گیس بل پر ہوتی ہے ۔ جب پری پیڈ میٹر لگائے جائیں گے تو جائنٹ فیملی سسٹم میں گھر کے افراد اور واپڈا اور صا رفین کے جھگڑے ختم ہوجائیں۔

نیانَودن پراناسَودن

سیانے کہتے ہیں کہ نیا نو دن پراناسو دن اور عربی کاایک مقولہ بھی ہے ہر چیز اپنے اصل طرف لوٹتی ہے لیکن یہاں معاملہ واپس لوٹنے کا نہیں بس حالات اپنے مقاصدکو آگے بڑھانے کے لئے سازگار ہوتے ہی ہے اپنا ملمع اتار کر پوری بے شرمی سے اپنا ایجنڈے کوآگے بڑھایاجارہاہے جب سے خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے اور جس طرح پی ٹی آئی کی حکومت نے انتظامیہ کی اصلاحات کی ہیں مثلا ٹریفک کا نظام بہتر بنایا ہے اور قانون کا سختی سے نفاذ ہونے لگا ہے بڑے سے بڑے سرکاری عہدے کے حامل شخص کے ساتھ بھی وہی رویہ رکھا جاتا ہے جس کا عام آدمی بھی مستحق قرار پاتا ہے کوئی ایم پی اے یاایم این اے دھمکی نہیں دیتا اور نہ کسی سے ناجائز رعایت برتی جاتی ہے تعلیم کے نظام میں مثبت تبدیلیاں کی گئی ہیں نتیجتا پرائیویٹ اسکولوں میں پڑھنے والے ہزاروں بچے سرکاری اسکولوں میں شفٹ ہوئے اسپتالوں کا انتظام وانصرام بہتر بنانے سے جس طرح اسپتال کے عملے کے رویے میں تبدیلی آئی ہے کہ لوگ کے پی کے، کے ہسپتالوں کا موازنہ دبئی کے ہسپتالوں سے کرنے لگے ہیں جہاں علاج اور دوائیں ہمہ وقت دستیاب ہوتی ہیں پٹواری جو سابق ادوار میں خود کو کوئی خلائی مخلوق سمجھا کرتے تھے اور اپنے ڈیروں اور بنگلون میں بیٹھ کر شاہانہ انداز سے پٹوار چلایا کرتے تھے اب اپنی اصل اوقات میں آکر دفتری اوقات میں سرکاری دفتر میں بیٹھ کر لوگوں کے مسائل حل کرتے ہیں اور رشوت کو شجر ممنوعہ کہتے ہیں موجودہ حکومت نے پولیس کلچر میں بنیادی اصلاحات کی ہیں اور اس سے جس طرح عام انسان کو راحت ملی ہے سابق ایزی لوڈ حکومت نیکی کے پی کے میں بے مثال کار کردگی دکھائی اور اپنی گڈگورننس سے اوج ثریا کو جا لیااور کارگزاری سے ثابت کیا کہ کسی صوبے کا اس طرح سے بھی بیڑہ غرق کیا جا سکتا ہے اور جہاں معیارہی روکڑا (نقد)ہو تو پھر پرانی سرخیاں دھوڈالنے میں کس بات کی دیر تقریبا ایک صدی کا موقف بھی چند ملین ڈالر کی مار ہی نکلا سرخ کو سبز کرنے میں امریکہ کا ایک پھیرا اور چند منٹ ہی لگے بزرگوں کی ارواح بھی حیران ہوکر سوچتی ہوں گی کہ ٹھیک ہے سودا ہوتا ہی بیچنے کے لئے ہے لیکن اتنا سستا کچھ بارگین ہی کر لیتے تو چار چھلڑ(نقد) زیادہ ہی مل جاتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بے اوقات بندہ بھی سوچتا ہے کہ ضمیر کی بولی روز تو لگتی نہیں پتہ نہیں پھر کبھی بولی لگانے والا ملے نا ملے جو قیمت ملتی ہے تو بیچ ڈالو ضمیر کوئی گائے بھینس تو ہے نہیں جو کوئی بھی خرید لے اصولی موقف اور پرانا موقف اور اٹل موقف محض قیمت بڑھانے کی چالیں ہوتی ہیں سرکاری اداروں بشمول وزیراعلی کے ایزی لوڈ دفتر میں دل و دماغ کو تازہ رکھنے والی بھینی بھینی مہک سے فضا میں مخموری کی کیفیت برقراررہتی ہر کار پرداز سکون سے بیٹھے ہوتے تھیدفتروں میں دھوئیں کے مرغولے اٹھتے دیکھ کر لگتا تھا کہ کچھ ملنگ نما حضرات بابا شاہ گودڑا کے دربار پر حال مست بیٹھے ہیں ریلوے کا تو یہ حال تھا انجن ہانپ اور کانپ رہے ہوتے تھے کہیں دھکا دیکر کسی ٹرین کے آگے لگا بھی دیا جاتا تو تھک کر کہیں کسی جنگل میں لیٹ جاتے کئی مرتبہ راستے میں ڈیزل ختم ہوجاتا کیونکہ یہ ڈیزل راہنماؤں کی بسیں پی جاتیں مفاہمت کے شہنشاہوں نے سرخوں اور اپنے والدین کے پرانے تعلق کو خوب نبھایا اور وہ کچھ بھی دے دیا جو کبھی سنجیدگی سے مانگا ہی نہیں گیا مطالبے محض خود کو زندہ رکھنے کے لئے تھے فوجی قیادت کی تبدیلی کے بعد لوگ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ اب شاید حالات ان کے ڈھب کے ہو گئے ہیں جو محض خام خیالی ہی کہی جاسکتی ہے کہ فوج میں کسی کی انفرادی نہیں بلکہ ادارے کی سوچ ہوتی ہے حکومتی لوگوں کو بھی اگر فوج سے کوئی شکایت ہے تو وہ اس وقت کے سربراہ سے بجا طور پر ہوسکتی ہے لیکن فوج حکومت اور ریاست کے ماتحت ادارہ ہے اور یہ ہر وہ حکم بجالاتا ہے جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لے دے کر فوج ہی ایک ایسا ادارہ جو ابھی تک اپنے مینڈیٹ کے مطابق نہ صرف خود درست کام کر رہا ہے بلکہ دیگر تمام اداروں کا دست و بازو بنا ہوا ہے سیلاب ہو انتخابات ہوں کوئی قدرتی یا غیر قدرتی آفت ہو گھوسٹ اسکول ہوں واپڈا ہو اندرونی امن و امان کی صورتحال نہروں کی کھدائی ہو یا دشوار گزارسڑکوں کی تعمیر ہو موٹر وے کا انتظام و انصرام حالانکہ اصولا یہ فوج کے کام نہیں ہیں اور آج کے حالات میں جب ہم نے سی پیک جیساعظیم منصوبہ شروع کیاجس سے انڈیا کو اپنی موت مغربی یورپ کو ہاتھوں سے نکلتا گاہک امریکہ کے خطے میں مفادات کا ضیاع اسرائیل کی سیادت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں دنیا کی 54 ایجنسیاں ریاست پاکستان سے بر سر پیکار ہیں اپنے پرائے سبھی اس کار شر میں شامل ہیں دوسری جانب وہ تمام عناصر جو تاریخی طور پر ان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو قیام پاکستان کے شدید مخالف تھے اور قائداعظم کو کافر اعظم قراردیتے تھے لیکن جب پاکستان بن گیا تو یہ لوگ اپنے ناپسندیدہ ملک آ براجے اور پرانی شراب نئی بوتلوں ڈال کر حب وطن کے چورن کے ساتھ بیچنے لگ گئے خاندان کے خاندان اقتدار میں آجانے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے سرکاری حلوے مانڈے وزارتیں مشاورتین چیر مینیاں اورصدارتیں بھی خوئے خباثت نہیں بدل سکیں آج جب ان کے مطابق اپنی خباثت اور اپنے مربیوں کیایجنڈے پر عمل درامد کے لئے حالات سازگارلگنے لگے تو کوئی پارلیمنٹ میں متحرک ہے تو کوئی کسی غدار وطن کی برسی پر اندر کی غلاظت باہر لے آتا ہے کسی کو فاٹا کے عوام کا غم کھائے جارہا ہے کسی کو الگ صوبہ چاہئے لگتا ہے یہ خطہ ان کے ابا جی سسرال سے تحفہ میں لے آئے تھے اگر کل ملا کر پڑھا جائے یہ کسی کی آشیرواد سے متحرک ہو چکے ہیں بظاہر دو انتہاؤں کے موقف رکھنے والے دینی اور بے دینی اپنے پرکھوں کی آتما کی شانتی کی خاطر پھر سے اکٹھے ہوگئے ہیں اور ہدف وہی جو ان کے پرکھ انہیں دے گئے تھے لیکن وہ بھول رہے ہیں تو یاد دہانی کروادیں کہ یہ ملک پاکستان بے شمار قربانیوں اور آپ کے پرکھوں کی مخالفت کے باوجود بن گیا ہے تو اللہ کے نام پر بننے والا ملک تا ابد قائم رہنے کے لئے بنا ہے آپ کی درفنطنیاں محض میاں صاحب کی ذات کی مرہون منت ہیں آپ کی حیثیت کل بھی صفر تھی آج بھی صفر اور کل بھی صفر ہی رہے گی حلوے مانڈے تمتع فرمائیے نہ جانے کب تک اللہ منہ کالا فرمائے ان کا جو جس ڈال پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹنے کی کوشش میں ہیں اللہ انہین دنیا اور اخرت میں رسوا کرے گا اللہ اس وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے آمین۔
****

یومِ حق خود ارادیت کشمیر اور ۔ ۔ ۔ !

پانچ جنوری کو دنیا بھر میں یومِ ’’ حق خود ارادیت‘‘ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے کیونکہ 1949 میں اسی دن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے یہ قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے استصواب رائے کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔ اس سے پہلے اگست 1948 میں بھی اسی ضمن میں ایک قرار داد منظور کی جا چکی تھی ۔ اسی تناظر میں ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ اگر عالمی برادری کی موثر قوتیں اور بھارتی حکمران تعمیری روش کا مظاہرہ کریں تو مستقبل قریب میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کا منصفانہ حل وہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق نکالا جا سکتا ہے ۔یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مودی نے اپنی حلف وفاداری کی تقریب میں وزیر اعظم پاکستان کو مدعو کر کے ساری دنیا کو کسی حد تک چونکا دیا تھا اور پاکستان کی جانب سے بھی بہت سے تحفظات کے باوجود اس پیش رفت کا مثبت جواب دیا گیا تھا مگر اس کے فوراً بعد مودی سرکار نے پچیس اگست 2014 کو طے شدہ خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات کو یک طرفہ طور پر جس طرح منسوخ کیا اس سے دہلی کے عزائم بڑی حد تک واضح ہو گئے تھے ۔ اور پھر اپنے اقتدار کے ابتدائی چھ ماہ میں LOC اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیز گولہ باری کو جاری رکھ کر بھارت نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ۔ یہ ایک الگ امر ہے کہ اپنی اسی پالیسی کے نتیجے میں مودی مہاراشٹر ، ہریانہ ، جھارکھنڈ اور مقبوضہ کشمیر کے صوبائی انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب تو ہو گئے مگر شاید وہ بھول گئے تھے کہ ا نہوں نے لوک سبھا انتخابات میں کامیابی محض پاکستان دشمنی کے ایجنڈے پر حاصل نہیں کی تھی بلکہ بھارتی عوام سے اقتصادی خوشحالی کے وعدے پر وہ کامیاب ہوئے تھے جس میں وہ کوئی پیش رفت نہ کر پائے تو دس فروری 2015 کو دہلی کی اسمبلی کے انتخابی نتائج نے BJP سرکار کو ہلا کر رکھ دیا ۔ جب 70 میں سے 67 سیٹیں وہاں کی علاقائی جماعت ’’ عام آدمی پارٹی ‘‘ کے حصے میں آئیں مگر تب بھی مودی غالباً بھارتی عوام کے موڈ کو سمجھنے میں بڑی حد تک ناکام رہے اور انھوں نے اپنی ساری توانائی بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے پر صرف کرنے کو ترجیح دی ۔ مگر جب آٹھ نومبر کو بہار اسمبلی کے انتخابی نتائج میں 243 میں سے صرف 52 سیٹیں BJP کے حصے میں آئیں اور 178 پر علاقائی جماعتوں RJD اور JDU جیت گئیں مگر تب بھی انھیں خطرے کا احساس نہیں ہوا ا کہ شکست کا یہی سلسلہ جاری رہا تو BJP بھارتی داخلی سیاست میں عبرت کا نشان بن کر رہ جائے گی ۔ اس کے بعد 8 جولائی کو برہان وانی کی شہادت کے بعد سے جس طرح بھارت نے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر اشتعال انگیزی اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و سفاکیت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور پیلٹ گنوں کے استعمال سے جس بڑے پیمانے پر کشمیریوں سے ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کے ضمن میں مودی نے جس طرح کی اشتعال انگیزی پر مبنی روش روا رکھی ہے وہ بھی بھارتی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔ ایسے میں یومِ حقِ خود ارادیت مناتے ہوئے امید کی جانی چاہیے کہ عالمی رائے عامہ اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قرار دادوں پر عمل کرانے پر سنجیدگی سے توجہ دے گی وگرنہ دنیا کا یہ خطہ عدم استحکام سے دو چار رہے گا ۔

میاں صاحب ” ہم آپکو نہیں چھوڑیں گے”

لاہور ، گوجرانوالہ ، قصور، پاکپتن ، ہری پور، مانگا منڈی اور بہت سے دیگر شہروں میں مقیم نامہ نگاروں سے موصول ہونے والی ایک ہی قسم کی خبروں کو یکجا کرتے ہوئے انکی ڈیٹ لائنز کے ساتھ ایک بڑی سرخی کی شکل میں شائع ہونے والی خبر کا لب لباب یہ ہے کہ شدید سردی کے اس موسم کے باوجود لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کا نعرہ لگا کر حکومت میں آنے والے نیک نام حکمرانوں کے دورمیں دس سے بارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے کاروبار ٹھپ صنعتی سرگرمیوں کو صفر اور گھریلو معاملات کو شدید متاثر کر دیا ہے جبکہ خبر میں ایک بڑے اہم معاملے بلکہ محکمانہ ڈکیتی کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ محکمہ واپڈا نے لاہور ، گوجرانوالہ، سرگودھا، راولپنڈی اور دیگر واپڈا ڈویژنوں میں اچھے بھلے کام کرتے بجلی کے میٹروں کو ڈیفیکٹو قرار دے کر گزشتہ کئی ماہ سے ان غریب مظلوم بے بس و بے کس بلکہ لا وارث صارفین کی جیبوں پر ڈاکے ڈال کر ہر ماہ مجموعی طور پر ایک ارب روپے بڑی کامیابی سے وصول کر رہے ہیں جبکہ بجلی و پانی کے وزیر صارفین کیساتھ ہونے والی اس ڈکیتی پر خاموش تماشائی بنے چھوٹے بڑے جلسوں میں اپنی پارسائی کا رونا رونے میں مصروف ہیں اور اسی لیے شاید تحریک انصاف کے عمران خان اس اپنی قسم کی واحد جمہوریت کو بادشاہت قرار دینے میں حق بجانب نظر آتے ہیں یہ تو واپڈا اور حکمرانوں کی کار کردگی اور لا وارث صارفین بجلی کی لاوارثگی ہے جبکہ ایک اور خبر میں حکمرانوں کو یہ بتانے بلکہ یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ موسم سرما کے شروع ہونے کے ساتھ ہی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے غریب عوام کے گھروں میں چولہے بجھا دیئے ہیں اور اس سلسلے میں پہلے گھریلو خواتین توے ، پراتیں، چکنے بیلنے اٹھا کر مظاہرہ کر رہی تھیں اب بچوں نے بھی جلوس نکال کر احتجاج شروع کر دیا ہے مگر قطری شہزادوں کی شکار گاہیں آباد کرنے اور اپنی آف شور کمپنیوں کیلئے سرمایہ فراہم کرنے کی دوڑ میں مصروف ہر دلعزیز حکمرانوں کو عوام کی بے بسی پر ترس کھانے کی فرصت نہیں اور ملکی حالات اور سیاسی کمالات حکمرانوں کو اس بات کی پوری آزادی دے رہے ہیں کہ لگے رہو بھائی بھائی کوئی پوچھنے والا نہیں پوچھنے والوں کا ذکر آیا تو وہ بھی سن لیں کہ 27دسمبر بی بی شہید کی برسی تھی اور زرداری بادشاہ برسی سے چند روز قبل ڈیڑھ سال کی خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس پہنچے انکی انٹری کو دھماکے دار بنانے اور محکموں کو سمجھانے کیلئے استقبال میں سارے رنگ بھرے گئے اور ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے 27دسمبر کو زرداری صاحب بڑا اعلان اورخوشخبری دیں گے برسی کا جلسہ ہوا خوشخبریاں دو ہی تھیں ایک تو یہ کہ زرداری فاروق لغاری بننے والی راہ پر چلتے ہوئے انتخاب لڑیں گے اور چھوٹے زرداری بھی پارلیمنٹ جانے کیلئے انتخاب لڑیں گے جبکہ دوسری خوشخبری حکمرانوں کیلئے تھی کہ میاں صاحب ہم آپکو ” نہیں چھوڑیں گے ” خوشخبری میں جو پیغام تھا وہ بریکٹوں میں بند ہے آپ سمجھ گئے ہونگے کہ اس کا مطلب کیا ہے اگر نہیں معلوم تو غور کریں سمجھ آ جائے گی ۔ باقی رہی بات اپوزیشن کی تو بلا شبہ 27دسمبر کی تقریب کے بعد سمجھ یہی آ رہی ہے کہ اپوزیشن صرف عمران خان ہے اور وہ بیچارہ اکیلا ہی لڑے گا ۔ جبکہ اپوزیشن کے نام پر اپوزیشن کو بدنام کرنے والے نعرہ لگائیں گے کہ عمران خان کو سولوفلائٹ کا خبط سوار ہے ۔ بہر حال حکمرانوں کو پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں انہیں اپنا کام جاری رکھنا چاہئے بلکہ 2018کے انتخابات کے بعد بھی کامیابی سے جاری رکھنا ہو گا عوام جائیں بھاڑ میں انہیں بجلی وگیس کی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ مہنگائی ، بیکاری ، بیروزگاری ،غربت ، جہالت کے سمندر میں غوطے لگانے کا اب عادی ہو جانا چاہئے شاید یہی انکا مقدر ہے ہم انہیں ملکی حالات اس کا اشارہ دے رہے ہیں ۔

مسیحائی۔۔۔؟۔۔۔ شوق موسوی
تین گھنٹے وہ ہسپتال میں تھی
اس نے کب جانِ نا گہاں دے دی
بسترِ مرگ بھی اسے نہ ملا
فرش پر لیٹے لیٹے جان دے دی

Google Analytics Alternative