Home » 2017 » January » 04 (page 5)

Daily Archives: January 4, 2017

میاں صاحب ” ہم آپکو نہیں چھوڑیں گے”

لاہور ، گوجرانوالہ ، قصور، پاکپتن ، ہری پور، مانگا منڈی اور بہت سے دیگر شہروں میں مقیم نامہ نگاروں سے موصول ہونے والی ایک ہی قسم کی خبروں کو یکجا کرتے ہوئے انکی ڈیٹ لائنز کے ساتھ ایک بڑی سرخی کی شکل میں شائع ہونے والی خبر کا لب لباب یہ ہے کہ شدید سردی کے اس موسم کے باوجود لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ کا نعرہ لگا کر حکومت میں آنے والے نیک نام حکمرانوں کے دورمیں دس سے بارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے کاروبار ٹھپ صنعتی سرگرمیوں کو صفر اور گھریلو معاملات کو شدید متاثر کر دیا ہے جبکہ خبر میں ایک بڑے اہم معاملے بلکہ محکمانہ ڈکیتی کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ محکمہ واپڈا نے لاہور ، گوجرانوالہ، سرگودھا، راولپنڈی اور دیگر واپڈا ڈویژنوں میں اچھے بھلے کام کرتے بجلی کے میٹروں کو ڈیفیکٹو قرار دے کر گزشتہ کئی ماہ سے ان غریب مظلوم بے بس و بے کس بلکہ لا وارث صارفین کی جیبوں پر ڈاکے ڈال کر ہر ماہ مجموعی طور پر ایک ارب روپے بڑی کامیابی سے وصول کر رہے ہیں جبکہ بجلی و پانی کے وزیر صارفین کیساتھ ہونے والی اس ڈکیتی پر خاموش تماشائی بنے چھوٹے بڑے جلسوں میں اپنی پارسائی کا رونا رونے میں مصروف ہیں اور اسی لیے شاید تحریک انصاف کے عمران خان اس اپنی قسم کی واحد جمہوریت کو بادشاہت قرار دینے میں حق بجانب نظر آتے ہیں یہ تو واپڈا اور حکمرانوں کی کار کردگی اور لا وارث صارفین بجلی کی لاوارثگی ہے جبکہ ایک اور خبر میں حکمرانوں کو یہ بتانے بلکہ یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ موسم سرما کے شروع ہونے کے ساتھ ہی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے غریب عوام کے گھروں میں چولہے بجھا دیئے ہیں اور اس سلسلے میں پہلے گھریلو خواتین توے ، پراتیں، چکنے بیلنے اٹھا کر مظاہرہ کر رہی تھیں اب بچوں نے بھی جلوس نکال کر احتجاج شروع کر دیا ہے مگر قطری شہزادوں کی شکار گاہیں آباد کرنے اور اپنی آف شور کمپنیوں کیلئے سرمایہ فراہم کرنے کی دوڑ میں مصروف ہر دلعزیز حکمرانوں کو عوام کی بے بسی پر ترس کھانے کی فرصت نہیں اور ملکی حالات اور سیاسی کمالات حکمرانوں کو اس بات کی پوری آزادی دے رہے ہیں کہ لگے رہو بھائی بھائی کوئی پوچھنے والا نہیں پوچھنے والوں کا ذکر آیا تو وہ بھی سن لیں کہ 27دسمبر بی بی شہید کی برسی تھی اور زرداری بادشاہ برسی سے چند روز قبل ڈیڑھ سال کی خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس پہنچے انکی انٹری کو دھماکے دار بنانے اور محکموں کو سمجھانے کیلئے استقبال میں سارے رنگ بھرے گئے اور ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے 27دسمبر کو زرداری صاحب بڑا اعلان اورخوشخبری دیں گے برسی کا جلسہ ہوا خوشخبریاں دو ہی تھیں ایک تو یہ کہ زرداری فاروق لغاری بننے والی راہ پر چلتے ہوئے انتخاب لڑیں گے اور چھوٹے زرداری بھی پارلیمنٹ جانے کیلئے انتخاب لڑیں گے جبکہ دوسری خوشخبری حکمرانوں کیلئے تھی کہ میاں صاحب ہم آپکو ” نہیں چھوڑیں گے ” خوشخبری میں جو پیغام تھا وہ بریکٹوں میں بند ہے آپ سمجھ گئے ہونگے کہ اس کا مطلب کیا ہے اگر نہیں معلوم تو غور کریں سمجھ آ جائے گی ۔ باقی رہی بات اپوزیشن کی تو بلا شبہ 27دسمبر کی تقریب کے بعد سمجھ یہی آ رہی ہے کہ اپوزیشن صرف عمران خان ہے اور وہ بیچارہ اکیلا ہی لڑے گا ۔ جبکہ اپوزیشن کے نام پر اپوزیشن کو بدنام کرنے والے نعرہ لگائیں گے کہ عمران خان کو سولوفلائٹ کا خبط سوار ہے ۔ بہر حال حکمرانوں کو پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں انہیں اپنا کام جاری رکھنا چاہئے بلکہ 2018کے انتخابات کے بعد بھی کامیابی سے جاری رکھنا ہو گا عوام جائیں بھاڑ میں انہیں بجلی وگیس کی لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ مہنگائی ، بیکاری ، بیروزگاری ،غربت ، جہالت کے سمندر میں غوطے لگانے کا اب عادی ہو جانا چاہئے شاید یہی انکا مقدر ہے ہم انہیں ملکی حالات اس کا اشارہ دے رہے ہیں ۔

مسیحائی۔۔۔؟۔۔۔ شوق موسوی
تین گھنٹے وہ ہسپتال میں تھی
اس نے کب جانِ نا گہاں دے دی
بسترِ مرگ بھی اسے نہ ملا
فرش پر لیٹے لیٹے جان دے دی

بین البراعظمی بیلسٹک میزائل’ اگنی5 ‘ کا تجربہ۔ خطرہ کا آلارم

دسمبر کے آخری ایّام میں بھارت نے اپنے جنگی جنونی ہسٹریا کی وحشیانہ تسکین کی خاطر اپنی’ دیوی اگنی‘ کے نام پر ’اگنی پنجم بین البراعظمی بیلسٹک میز ائل ‘ کا جو نیا تجربہ کیا ہے اُس پر تاحال پاکستانی میڈیا کی جانب سے کوئی تشفی بخش اور سیر حاصل تجزیہ قوم کو سننے اور دیکھنے کو نہیں ملا جدید ترین تشہیری مہمات کے اِس پُرکشش عہد میں محبِ وطن پاکستانی میڈیا کو کچھ نہ کچھ تو کہنا سننا اور دکھانا چاہیئے تھا ہوسکتا ہے کسی ایک میڈیا ٹاک شو میں اِس سلسلے میں بات کی گئی ہو جسے ہم نہیں سن سکے نہ دیکھ سکے لیکن یہ مخصوص’میڈیا ئی ادارے‘ہمہ وقت پاکستانی دفاعی حساس معاملات کو موضوعِ بحث بناتے ہیں اور اپنے ملکی سیکورٹی اداروں پر اندھا دھند تنقید ی بہانوں کی آڑ میں انڈیا کے ’اگنی پنجم بین البراعظمیٰ بیلسٹک میز ائل‘ کے اِس’ جنونی تجربہ‘ پر ایک بڑی زور دار اور مسلسل پہیم مہم کی ضرورت اِس لئے بھی بنتی ہے کہ بھارت نے پچھلے چند ماہ سے ملکی مشرقی بالائی سرحدپر بلا اشتعال لگاتار فائرنگ کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کررکھا ہے ایک طرف یہ حال جبکہ دوسری جانب تباہ کن دوردراز نیوکلیئر میزائلوں کے تجربے کررہا ہے کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ اُس نے حالیہ تازہ ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل جس کی 17 میٹر لمبائی ہے اور دومیٹر چوڑائی بنتی ہے 50 ٹن کے وزن کا یہ میزائل’اگنی پانچ‘ میزائل نیویگیشن‘گائیڈنس‘ وارہیڈ اور انجن کے معاملات میں نئی ٹیکنالوجی سے لیس ہے، انڈیا کے پاس اب 700 کلومیٹر تک نشانہ لگانے و الے اگنی۔1‘ 2000 کلومیٹر تک مار کرنے کے قابل‘ اگنی۔2‘ 2500 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے والا ’ اگنی۔3‘ 3500 کلومیٹر فاصلے تک مار کرنے والے کے بعد اگنی۔4 کے علاوہ اب جدید ٹکنالوجی سے لیس’ اگنی۔5‘ بھی آگیا پاکستان تو بھارت کے بالکل نزدیک ہے نئی دہلی کو2000 سے3500 کلومیٹر تک تباہ کن اور مہلک جوہری ہتھیاروں کو پھنکنے کی ایسی کونسی جلدی ہے یا ضرورت پیش آسکتی ہے چین سے کئی سو کلومیٹر دور تک کی دنیا کو مفتوح کرنے کے خیالِ بد میں مبتلا اِس وحشی جنگی جنونی کیفیت میں مبتلا دیش کی انسانیت کش خطرناک کرتوں کو دنیا خاطر میں کیوں نہیں لارہی ؟ پاکستان اگر ایک پٹاخہ کا تجربہ بھی کرلے تو مغرب اور امریکا میں ’ہلچل‘ سی مچ جاتی ہے جیسے ہم نے بین السطور محبِ وطن میٖڈیا کی بات کی ہے کچھ نہ کچھ تو کہیں کہا سنا اور دیکھا ضرور گیا ہوگا لیکن پاکستانی گھروں میں ایک سے 8 تک کے نمبروں پر دیکھے جانے والے چینلوں میں سے تاحال ہم جیسے دیگر پاکستانی بھی اِسی انتظار میں رہے خالص تجارتی نکتہِ نظر سے دنیا کے ناظرین سمیت پاکستانی ناظرین پر بھی اپنی ’یکطرفہ خبروں اور تبصروں اور تجزیوں ‘ کے جال پھیلانے والے ’ میڈیا ئی وارلارڈز‘کو کیسی چپ لگی ہوئی ہے بھارت کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل’اگنی پانچ ‘ کا تجربہ وہ خاموشی سے پی گئے اگر کچھ کہتے بھی تو یہ کہہ دیا جاتا کہ جنابِ والہ! پاکستان کیوں پریشان ہوتا ہے بھارت نے تو چین کے خطرات کو بھانپ کر اپنے دفاع کے لئے یہ تجربہ کیا ہے آپ کو اِس سے کیا لینادینا؟ پاکستان کو بھارت کے ہر جوہری ایکشن پر فکرمند رہنا بنتا ہے اُس نے (بھارت ) نے کبھی بھی چین کو ایسی کھلی جنگی دھمکیاں نہیں دیں، جیسے آئے روز نریندرامودی خود اور اُس کے سرپھرے وزراء پاکستان کو سبق سکھانے جیسی انتہائی دھمکیاں دیتے ہیں نریندرامودی نے تو اپنے سوشل ٹویٹس میں کئی بار کہا کہ ’پاکستان کو ہم ایسا سبق سکھا نے کی راہ پر چل نکلے ہیں جو وہ کبھی سوچ نہیں سکتا ‘ کون سا سبق نریندرامودی جی ؟کیا یہ نیا تازہ ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا جو آپ نے تجربہ کیا اِس کی دھمکی دے رہے ہیںیقیناًبھارت کے اِس بین البراعظمی بیلسٹک میزائل’اگنی پانچ‘ کے تجربے کے بعد دنیا ‘جب ہم دنیا کی بات کرتے ہیں تو براہِ کرم ذہن نشین فرمالیں کہ ہمارا مقصد اور مدعا یہ ہوتا ہے کہ ہم اقوامِِ متحدہ سمیت امریکا اور مغربی نیوکلیئر دنیا سے مخاطب ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں کسی نہ کسی آڑ میں بھارت کو عالمی سلامتی کونسل کی مستقل نشست دلانے کی فکر میں رات دن ایک کیئے ہوئے ہیں بھارت کے اپنے پڑوسی ممالک چین اور پاکستان جوکہ ماشاء اللہ خود ایٹمی ڈیٹرنس کے حامل آزادوخود مختار ممالک ہیں دوسری جانب بنگلہ دیش ‘ نیپال اور سری لنکا جیسے کمزور ممالک سے بھی بھارت کے کئی سرھدی تنازعات ہیں اور پھر اُوپر سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی منظور کردہ قرار دادیں تاحال عمل درآمد کی منتظر‘ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں 8 ؍جولائی2016 سے تادمِ تحریر آزادی کی آتش فشاں لہر کا منظر بنا ہوا ہے جہاں ہرروز لاشوں پر لاشیں اُٹھائی جارہی ہیں یہی کیا کم تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نے بلوچستان کے اندر ’ٹارگیٹیڈ ‘ خفیہ کارروائیاں کرنے کا ببانگِ دہل اعلان کرکے اقوامِ متحدہ کے چارٹر ز کی خلاف ورزی تک کرڈالی پاکستانی میڈیا کے وہ چند مخصوص حلقے جن کے دلوں میں تکبر اور بغض وعناد کا زہر اگر خوب بھرا ہوا ہے اُس کی وجوہ ہم کیا بیان کریں، وقتاً فوقتاً ’آرسٹوکریٹس‘ یہ گروہِ اشرافیہ لاکھ چھپنے کی بھی کوشش کرئے تو افسوس ! چھپ نہیں سکتا ’آزادیِ اظہار‘ کے نام پر بڑی متکبرانہ دیدہ دلیری سے کبھی پاکستانی فوجی اداروں پر کیچڑ اچھالتا ہے کبھی دفاعی بجٹ میں کٹوتی کرنے جیسے مباحث کی آڑ لے لیتا ہے ایسی قسم کے کئی اور مخاصمانہ خوابوں اور تمناؤں کی دنیا میں محو ہو کر خاص کر پاکستانی ایٹمی ڈیٹرنس کی خالص اور نازک وحساس گتھیوں کی تلاش میں بھولائے بھولائے پھر نے والے اِس میڈیا پرسنز گروہ کی یہ شناخت ہر ایک پاکستانی کے ذہنوں میں رہے کہ یہ افراد ہزار تو درکنار صرف سینکڑوں میں ہونگے جو امریکی خیالات و تصورات کی نبضوں پر ہاتھ رکھنا جان چکے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ دنیا میں یعنی امریکی تھنک ٹینکس میں فوری اور یکدم جگہ بنانے کا ایک ہی ترپ کا پتہ ہے ’پاکستان کی مخاصمت‘ کے نام کا یہ گھناونا سودا مغربی میڈیا میں اور امریکی میڈیا میں بہت تیزی سے بکتا ہے پاکستان کی مخالفت کی امریکا میں بڑی مانگ ہے ،خاص کر پاکستان کے ساتھ اُس کے نیوکلیئر پروگرام کی مخالفت کا تڑکا بھی اگر ایسی گفتگو ؤں میں یا کسی ایسے مضامین میں نمایاں کرکے لگا ہوا ہو تو ڈالر بڑے کھرے وہاں بہت جلد مل جاتے ہیں کل تک جو لوگ ’اسلامی نظریاتی ریاست پاکستان ‘کے نعرے لگایا کرتے تھے ملکی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں طلباء یونینوں کے لیڈ ر بنے میں اپنی تمام توانیاں صرف کردیا کرتے تھے آج نگا ہ دوڑائیے وہ کہاں بیٹھے ہیں واشنگٹن اُن کا مستقل مسکن بناہوا ہے کس کا نام لیں اور کس کا نام نہ لیں کچھ شخصیات یہاں بھی رہتی بستی ہیں جو مختلف شعبہ ِٗ زندگی میں این جی اُوز بنا کر ‘ فلاحی وطبی امور کی دکھاوے کی سرگرمیوں کی آڑ میں اور کچھ بھی کرتی ہوں نہ کرتی ہوں وہ پاکستان کے سالانہ بجٹ کے ’دفاعی اخراجات ‘ کا رونا ایسی روتی ہیں ایسی چیخ وپکار کی جاتی ہے جیسے پاکستان کا دفاع ‘ تحفظ اور پاسداری اُن کے لئے کوئی معنی ہی نہیں‘ بھارت کے آئے روز کے میزائل ٹیکنالوجی کے یہ تشویش ناک مظاہر عالمی میڈیا کے توسط سے سامنے آتے ہیں تو یہی مراعاتِ یافتہ طبقات چوہوں کی طرح اپنے بلّوں میں جاگھستے ہیں لہذاء مندرجہ بالا حقائق کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عالمی برادری کے موثر حلقے اور وطنِ عزیز کے ذمہ دار خالص محب وطن سیاسی حکمران طبقات بھی اب مصلحت کا رویہ ترک کرکے بھارتی عزائم کا صحیح ادراک کرتے ہوئے اپنا کردار مزید موثر ’جوابی‘ ڈھنگ سے ادا کرنے کا جراّت مندانہ رویہ اپنائیں اور پاکستان کی حقیقی ترجمانی کا فریضہ ادا کرنے کے لئے عملی اقدامات بجا لائیں۔
*****

Google Analytics Alternative