Home » 2017 » January » 09

Daily Archives: January 9, 2017

سلمان خان پرجیل جانے کی تلوار لٹکنے لگی

جودھپور: بالی ووڈ اسٹار سلمان خان کے خلاف جودھپور کی عدالت میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے مقدمہ کا فیصلہ 18 جنوری کو سنایا جائے گا جس کے بعد ایک بار پھر سلو میاں کے سر پر جیل جانے کی تلوار لٹکنے لگی ہے۔
بالی وو اسٹار سلمان خان اور تنازعات کا آپس میں گہرا تعلق ہے یہی وجہ ہے کہ سلو میاں ایک کے بعد ایک نئی مصیبت میں پھنستے چلے جاتے ہیں جب کہ گزشتہ دنوں ان کے 2 مقدمات میں بریت کے خلاف ریاستی حکومتوں نے بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن اب ایک اور کیس نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست جودھ پور کی عدالت نے سلمان خان پر قائم غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے مقدمے کی سماعت کے لیے 18 جنوری کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے اداکار کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے جب کہ سماعت کے موقع پر مقدمے کا فیصلہ بھی سنایا جائے گا تاہم جرم ثابت ہونے کی صورت میں سلو میاں کو 7 سال قید کی سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سزا کے خطرے کے پیش نظر سلمان خان بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں اور ان کے قانونی مشیروں نے سزا سے بچنے کے لیے دوسری راہیں تلاش کرنا شروع کردی ہیں جس کے بعد ہائی کورٹ سے فوری رجوع کرنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ 1998 میں فلم کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر کالے ہرن کے غیر قانونی شکار اور بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

فلم ’روگ وَن – اے اسٹار وارز اسٹوری‘ کا راج برقرار

اکس آفس پر ایڈونچر سے بھرپور سائنس فکشن فلم ’’روگ وَن – اے اسٹار وارز اسٹوری‘‘ کا راج برقرار ہے ۔فلم اس ہفتے مزید 2ارب 30 کروڑ روپے کما کر تاحال سب سے آگے ہے۔اس طرح اب تک فلم مجموعی طور پر پچاس ارب روپے کماچکی ہے ۔

حیرت انگیز طور پر اس ہفتے جو فلم دوسرے نمبر پر رہی وہ اس سے قبل ٹاپ ٹین میں بھی نہیں تھی ۔ فلم ہڈن فگرز ، ناسا کے اولین دنوں میں تین افریقی امریکن خواتین ریاضی دانوں کی ایک شخص کو خلا میں بھیجنے کی کوششوں پر مبنی ہے ۔ فلم نے اس ہفتے دو ارب اٹھائیس کروڑ روپے کمائے ۔

اینی میٹڈ میوزیکل فلم ’سِنگ‘ اس ہفتے دو ارب پانچ کروڑ روپے کی آمدنی کے ساتھ تیسری نمبر پر آگئی ۔

فلم میں کوالا نامی جانور اپنے تھیٹر بزنس کو کامیاب بنانے کے لیے ایک بھیڑ کو ملازمت پر رکھتا ہے جو بعد میں کوالا کا بہترین دوست بن جاتا ہے ۔

فلم میں تھیٹر کے لیے گلوکاری کا آڈیشن بھی دکھایا گیا ہے جس کے لیے سریلی آواز والے جانوروں کی قطاریں لگ جاتی ہیں ۔

پاکستان کا کروز میزائل بابر 3 کا کامیاب تجربہ

آئی ایس پی آر کے مطابق کروز میزائل کا تجربہ بحرہند میں نامعلوم مقام پر کیا گیا، میزائل کو زیر آب پلیٹ فارم سے لانچ کیا گیا، جس نے کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بابر تھری کروز میزائل میں جدیدترین ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، بابر تھری کے تجربے سے پاکستان سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت کے قابل ہو گیا ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کروز میزائل بابر 3 کے کامیاب تجربے پر قوم اور تجربہ کرنے والی ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔

سگریٹ نوشی سے چھٹکارا دلانے والی اسمارٹ فون ایپ

لندن: برطانوی ماہرین نے گیم کی شکل میں ایک ایسی اسمارٹ فون ایپ تیار کرلی ہے جس کا مقصد سگریٹ نوشی سے چھٹکارا پانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

’’سگ بریک فری‘‘ (CigBreak Free) نامی اس سادہ سی ایپ میں ایک گیم ہے جس کے دوران کھیلنے والے کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ سگریٹ توڑنی ہوتی ہیں۔ ہر لیول مکمل کرنے پر کھیلنے والے کو کچھ پوائنٹ ملتے ہیں لیکن گیم کے آگے بڑھنے پر سگریٹ توڑنے کا عمل پیچیدہ اور مشکل ہوتا جاتا ہے جبکہ اسی کے ساتھ ہر ایک سگریٹ توڑنے پر ملنے والے پوائنٹس بھی زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔

ہر لیول کی کامیاب تکمیل پر ایک سرٹیکفیٹ بھی نمودار ہوتا ہے جس میں کھیلنے والے کو مبارکباد دی جاتی ہے کہ اس نے اپنے پھیپھڑوں کی گنجائش میں اضافہ کر لیا ہے جبکہ کھانے کی کوئی صحت بخش چیز بھی اسمارٹ فون کی اسکرین پر بطور انعام ظاہر ہوجاتی ہے۔

اس ایپ کے مرکزی موجد اور کنگسٹن یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے ماہر، ہوپ کیٹن کا کہنا ہے کہ یہ صرف کوئی کھیل نہیں بلکہ اس کی تیاری میں سوچ اور کردار تبدیل کرنے سے متعلق 30 سے زائد نفسیاتی تکنیکوں کا استعمال بھی کیا گیا ہے جن کے تحت کھیل کے دوران ہی مختلف پیغامات بھی اسکرین پر آتے رہتے ہیں اور کھیلنے والے کو لاشعوری طور پر بار بار قائل کرتے ہیں کہ وہ عملی زندگی میں بھی سگریٹ چھوڑ دے۔

اگرچہ اس سے پہلے بھی چند ایپس میں سگریٹ نوشی ترک کرنے کے پہلو پر توجہ دی گئی ہے لیکن یہ پہلی ایپ ہے جسے بطورِ خاص اسی مقصد کےلئے بنایا گیا ہے۔

اس ایپ کو روزانہ پابندی سے کھیلنے کے نتیجے میں سگریٹ پینے کی خواہش بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے اور اگر سگریٹ نوش اپنی اس عادت سے چھٹکارا پانے میں واقعی سنجیدہ ہو تو وہ کچھ عرصے میں خود ہی اس کھیل میں بار بار نمودار ہونے والے پیغاموں سے متاثر ہوکر سگریٹ نوشی چھوڑ دیتا ہے۔

واضح رہے کہ تمباکو نوشی اپنے آپ میں دل، شریانوں اور خون کی متعدد بیماریوں کے علاوہ کینسر کی بھی کئی اقسام کی واحد جڑ قرار دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی قوانین کے تحت سگریٹ اور تمباکو سے بنی دوسری مصنوعات کے اشتہارات پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ تمباکو پر مبنی مصنوعات کے پیکٹوں پر بھی ان کے مضر صحت اثرات سے متعلق تحریری اور تصویری انتباہی پیغامات (وارننگز) کو مزید نمایاں کردیا گیا ہے۔

اس کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی کم کرنے یا ترک کرنے کے معاملے میں یہ پیغامات سب سے کم توجہ حاصل کرپاتے ہیں اور تمباکو نوش عام طور پر انہیں نظر انداز کردیتے ہیں۔

عوامی صحت کے مختلف اداروں نے ’’سگ بریک فری‘‘ کو ایک خوش آئند اختراع قرار دیتے ہوئے تمباکو نوشوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی ذاتی صحت اور اپنے اہلِ خانہ کی بہتری کےلئے اس ایپ کو ایک بار ضرور آزما کر دیکھیں۔ سگ بریک فری کو گوگل پلے سے مفت میں ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔

کراچی،تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر لیڈی ہیلتھ ورکرز کا احتجاج

لیڈی ہیلتھ ورکرز نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کراچی میں پی آئی ڈی سی سگنل کے قریب احتجاج کیا۔

اس موقع پر سندھ سیکریٹریٹ سے واپسی پر وزیر اعلیٰ سندھ نے مظاہرہ کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز کے نمائندوں سے اس سلسلے میں معلومات حاصل کیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے فوری ہدایت جاری کی جاچکی ہے، جب تک روڈ بلاک رہے گا مذاکرات ممکن نہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے 9 رکنی وفد کو مذاکرات کے لیے وزیر اعلیٰ ہاؤس طلب کرلیا۔

مذاکرات میں وزیر صحت ڈاکٹر سکندر میندھرو، سیکریٹری ہیلتھ فضل اللہ پیچوہو، پرنسپل سیکریٹری سمیت دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔

مذاکرات میں وزیر اعلیٰ سندھ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو جمعے تک تنخواہوں کی ادائیگی کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت آپ کے مسائل حل کررہی ہے اور آپ صوبے سے پولیو کے خاتمے میں حکومت کی مدد کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے تنخواہوں کی جلد ادائیگی کامطالبہ تسلیم کرنے کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز نے احتجاج ختم کردیا۔

فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کو ترقی دے کر برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں، اسٹیٹ بینک

کراچی: پاکستان میں ای کامرس اور انٹرنیٹ کی سہولت عام ہونے سے تیار غذاؤں کی صنعت ترقی کررہی ہے۔ ایک دہائی کے عرصے کے دوران پاکستان میں تیار کھانوں پر اوسط ماہانہ خرچ 300 روپے سے بڑھ کر ایک ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تیزی سے فروغ پاتی غذائی پروسیسنگ انڈسٹری معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے ساتھ برآمدات بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی سے متعلق معاشی جائزہ رپورٹ میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غذائی پروسیسنگ کی صنعت کی مستحکم بنیادوں پر ترقی کے لیے اس صنعت کو یکساں کاروباری مواقع فراہم کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ دستاویزیت اور ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق فوڈ پروسیسنگ کی صنعت میں حقوق دانشوراں کے تحفظ، عالمی سطح پر تسلیم شدہ کوالٹی کے معیارات کے نفاذ اور کو آپریٹیو فارمنگ کو فروغ دے کر فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کے ذریعے بھرپور معاشی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سہ ماہی رپورٹ کے خصوصی سیکشن میں فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کی افادیت اور چیلنجز کا احاطہ کرتے ہوئے اس شعبے کی مستحکم بنیادوں پر ترقی کے لیے تجاویز دی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان میں ابھرتی ہوئی مڈل کلاس، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، برسرروزگار خواتین کی تعداد میں اضافے، پھیلتے ہوئے شہروں اور غذائیت بخش اور حفظان صحت کے مطابق تیار کردہ غذا کی اہمیت کے بارے میں آگہی نے تیار غذاؤں کی صنعت کے لیے کاروباری نقشہ یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافے، آن لائن خریداری پر صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور معتبر ڈیلیوری نیٹ ورک کی دستیابی نے صارفین کو ویب سائٹ کے ذریعے کھانے آرڈر کرنے کے طریقوں کے استعمال کی ترغیب دی ہے۔ اس کے ساتھ ریٹیل اسٹورز کے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کی وجہ سے بھی اس رجحان کو تقویت مل رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے گھریلو آمدنی و اخراجات سروے کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2005 تک تیار غذاؤں پر اوسط ماہانہ خرچ 303روپے سے بڑھ کر 2014تک 1009روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ اسی مدت کے دوران دیگر تمام اہم غذائی اشیا پر اوسط خرچ کا تناسب 39.7فیصد سے کم ہوکر 35.3فیصد کی سطح پر آچکا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق غذائی پروسیسنگ کی صنعت زرعی شعبے میں معاشی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس شعبے کی ترقی سے پروسیسنگ آلات ومشینری، ریفریجریٹڈ گاڑیوں، کنٹینرز اور غذائی معیار کی پیکجنگ کی طلب بڑھنے کے ساتھ نقل و حم اور رسدی زنجیر بشمول ٹرانسپورٹ، ویئرہاؤسنگ اور ڈسٹری بیوشن کے شعبوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ غذائی پروسیسنگ ملک کی برآمدات میں بھی اضافے کا سبب بنے گی اس وقت ملک کی 4سے 4.5ارب ڈالر کی غذائی برآمدات میں چاول کی برآمدات کا حصہ 50فیصد کے لگ بھگ ہے۔ پروسیسنگ کی صنعت سے قریبی روابط کاشتکاروں و اچھی اور مستحکم آمدنی کمانے کا موقع مہیا کرتے ہیں اور زرعی شعبے میں جدید رجحانات اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ ملتا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں غیر دستاویزی کاروبار، معیار بندی کے فقدان اور چھوٹے رقبے پر کاشت کو فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کے لیے سرفہرست چیلنج قرار دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک کے ذریعے ناکافی تحفظ کی وجہ سے چھوٹے اشیا سازوں کو برانڈڈ مصنوعات کی لیبل اور پیکجنگ کی باآسانی نقل تیار کرنے کا موقع ملتا ہے جس سے تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری مشکل ہوجاتی ہے۔ غیردستاویزی فرمز بڑی کمپنیوں کے لیے بڑا چیلنج ہیں غیردستاویزی فرمز نہ صرف ٹیکس کی ادائیگی میں پیچھے ہوتی ہیں بلکہ کم کوالٹی کی وجہ سے ان فرموں کی تیار کردہ غذائی اشیا سستی بھی ہوتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کی ترقی کے لیے پوری سپلائی چین میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ غذائی تحفظ اور کوالٹی کے معیارات کے موثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا ہے جس کے ذریعے پاکستانی مصنوعات ترقی یافتہ ملکوں میں بھی برآمد کی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح کارپوریٹ فارمنگ کی حوصلہ افزائی کے لیے کاشت کاروں کے متحرک گروک تشکیل دے کر اکانومی آف اسکیل حاصل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

گوادرانڈسٹریل اسٹیٹ کےمیگا پروجیکٹ پرکام کاآغاز

گوادرانڈسٹریل اسٹیٹ، گوادر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی / جیڈا کے تحت ڈیپ سی پورٹ سے تقریباً 35کلومیٹر کی دوری پر تین ہزار ایکڑ اراضی پر قائم کی جارہی ہے۔

جی ایم فنانس جیڈا وقاص احمد لاسی کےمطابق پہلےفیزمیں اسٹیٹ کے 500ایکڑپرترقیاتی کام فوری شروع کیے جارہے ہیں، جس کے لیے سی پیک کےتحت ایک ارب 75کروڑ روپےمل چکے ہیں، اس فنڈز سے سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس، سیوریج اور واٹر سپلائی سمیت دیگرکام کیے جائیں گے۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت نےانڈسٹریل اسٹیٹ میں مقامی سرمایہ کاروں کوبھی 40سال تک ٹیکس چھوٹ دینےپر اصولی اتفاق کرلیا ہے اور اسے فری زون قراردینےکی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

اسی طرح صنعتی زون میں آئندہ برسوں میں تین ہزار ایکڑ کا مزید اضافہ بھی کیا جائےگا جبکہ اس کےعلاوہ مکران کےمختلف علاقوں میں انڈسٹریل زون بھی بنائےجائیں گے۔

جی ایم فنانس جیڈا کے مطابق امید ہے گوادرانڈسٹریل اسٹیٹ میں رواں سال کےآخرتک 50سے100یونٹ تعمیراتی کام شروع کردیں گے اور آئندہ تین چار سال میں صنعتکاری اور سرمایہ کاری عروج پرہوگی، جبکہ کینیڈین اور جنوبی کوریاکی کمپنیوں نے گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ میں چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کی پیش کش کی ہے۔

کمپیوٹر میموری میں مائیکرو پروسیسر

سنگاپور: وہ دن دور نہیں جب کمپیوٹر کو زیادہ طاقتور بنانے کے لئے اس میں نیا مائیکروپروسیسر لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ یہ کام صرف میموری (ریم) میں اضافے ہی سے ممکن ہوجائے گا۔

این ٹی یو سنگاپور اور مختلف یورپی اداروں سے وابستہ انجینئروں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کمپیوٹر ریم کو بطور مائیکروپروسیسر استعمال کرنے کا ایک اچھوتا طریقہ دریافت کرلیا ہے جس میں نئی قسم کی ’’ری ریم‘‘ (ReRAM) کے ڈیزائن میں تھوڑی سی تبدیلی کی گئی ہے۔

ریسرچ جرنل ’’نیچر سائنٹفک رپورٹس‘‘ میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق ریم میں ڈیٹا کو بائنری سسٹم (دو ممکنہ حالتوں) کے تحت وقتی طور پر محفوظ کیا جاتا ہے جبکہ ’’ری ریم‘‘ ڈیزائن میں کچھ ایسی تبدیلیاں کی گئی ہیں جن کی بدولت اس پر کوارٹنری سسٹم (چار ممکنہ حالتوں) میں ڈیٹا محفوظ کیا جاسکتا ہے۔

تجربات کے دوران تبدیل شدہ ’’ری ریم‘‘ کی دو ممکنہ حالتیں استعمال کرتے ہوئے ان میں بائنری ڈیٹا محفوظ کیا گیا جبکہ باقی رہ جانے والی دو حالتوں سے پروسیسنگ کا کام لیا گیا۔

آسان الفاظ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ری ریم کا یہ پروٹوٹائپ بہ یک وقت ریم اور مائیکروپروسیسر، دونوں کا کام کرسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ترمیم شدہ ری ریم کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے کے لئے موجودہ ٹیکنالوجی میں بہت معمولی سی تبدیلی کرنا پڑے گی اور اس پر بہت زیادہ سرمایہ بھی خرچ نہیں ہوگا۔ یعنی امید کی جاسکتی ہے کہ جلد ہی ایسے ڈیسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز کے علاوہ اسمارٹ فون بھی منظرِ عام پر آجائیں گے جو اپنی کم تر موٹائی باوجود زیادہ تیز رفتار اور طاقتور بھی ہوں گے کیونکہ ان کی میموری ہی میں تمام پروسیسنگ کی جارہی ہوگی۔

اسی پر بس نہیں بلکہ نئی ’’ری ریم‘‘ کے باعث مختصر اور کہیں زیادہ باصلاحیت برقی آلات کی ایک پوری نئی نسل بھی وجود میں آجائے گی۔

اندازہ ہے کہ ابتداء میں یہی تکنیک آزماتے ہوئے ایسی یو ایس بی اسٹوریج ڈیوائسز تیار کی جائیں گی جو کمپیوٹر سے منسلک ہوکر نہ صرف اپنے اندر ڈیٹا محفوظ کریں گی بلکہ اضافی طور پر کمپیوٹر کی رفتار بھی بڑھا دیں گی۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative