Home » 2017 » January » 12

Daily Archives: January 12, 2017

کھانے میں نمک کی کم مقدار کئی امراض سے بچاتی ہے، تحقیق

بوسٹن:ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کھانے میں نمک کی مقدار کم کرکے کئی امراض سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اور یوں دنیا بھر میں لاکھوں زندگیاں ہرسال بچائی جاسکتی ہیں۔

یہ تحقیق امریکی شہر بوسٹن میں واقع ٹفٹ یونیورسٹی میں کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ اگر نمک کے روزمرہ استعمال میں صرف 400 ملی گرام بھی کم کردیا جائے تو اس سے امریکا میں 3 ارب ڈالر سالانہ کے وہ اخراجات بچائے جاسکتے ہیں جو نمک سے پیدا ہونے والے امراض کے علاج پر خرچ ہوسکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر چپس کا ایک پیکٹ بھی کم کیا جاسکے تو اس سے زندگی پر خوشگوار اثر پڑتا ہے اور عمر میں اضافہ ہوسکتا ہے، یعنی صرف 200 ملی گرام نمک کم کرنے سے ہزاروں لاکھوں زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے کیونکہ نمک کا استعمال گوناگوں جان لیوا امراض کی وجہ بن رہا ہے۔

اسی بنیاد پر برطانوی اور امریکی ماہرین نے 183 ممالک میں 10 سال تک نمک کے 10 فیصد کمی کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اگر ہر ملک اپنی صحت کی پالیسی میں نمک کا استعمال کم کرنے پر زور دے تو امراض ( امراضِ قلب اور بلڈ پریشر) سے پیدا ہونے والے بے عملی کے 58 لاکھ دنوں کو کم کیا جاسکتا ہے۔

حکومت پنجاب صحت کے مراکز شمسی توانائی پر منتقل کرے گی

حکومت پنجاب نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے پیش نظر صوبہ بھر کے تمام بنیادی مراکز صحت کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کیلئے ابتدائی طور پر 2 ارب روپے کے فنڈز مختص کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

صوبہ بھر کے دور دراز علاقوں میں واقعہ بنیادی مراکز صحت کو پہلے مرحلہ میں شمسی توانائی پر منتقل کیا جائیگا تاکہ بجلی جانے کی صورت میں بنیادی مراکز میں عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

طیبہ تشدد کیس ،نامزد جج کو عدالتی کاموں سے روک دیا گیا

کمسن گھریلو ملازمہ طیبہ تشدد کیس میں نامزد جج راجا خرم علی خان کو جوڈیشل ورک سے روک دیا گیا، اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق راجا خرم علی خان کی بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خدمات واپس لے لی گئی ہیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور دیگر ججز کے حکم پر راجا خرم علی خان کی خدمات واپس لی گئی ہیں، راجا خرم علی خان کو فوری طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور او ایس ڈی کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دوسری جانب جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن ملازمہ طیبہ سویٹ ہوم میں بہت خوش نظر آئی، طیبہ کا یہاں آج پہلا دن تھا جو اس نے خوب کھیلتے کودتے گزارا ۔

تھر میں پاکستان کا پہلا انٹرنیٹ ویلیج قائم کرنے کا اعلان

کراچی:تھر کے کوئلے سے کان کنی اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والی سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی نے وطین ٹیلی کام کے اشتراک سے تھر کے علاقے میں پاکستان کا پہلا انٹرنیٹ ویلیج قائم کرنے کا اعلان کردیا ہے جہاں وائی فائی کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی۔

کمپنی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تھر کے شہریوں کو جدید دنیا سے منسلک کرنے اور ڈیجیٹل سہولتوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے اس منفرد سہولت کا اعلان تھر بلاک ٹو میں خصوصی پریس کانفرنس کے ذریعے کیا گیا جس سے سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے سی ای او شمس الدین شیخ اور وطین ٹیلی کام کے سربراہ رضوان تیوانہ نے خطاب کیا۔

شمس الدین شیخ نے کہا کہ پہلے مرحلے میں تھاریو ہالیپوٹو اور سنہری دارس نامی دیہات کو وائی فائی کے ذریعے انٹرنیٹ کی مفت سہولت فراہم کی جائے گی اور ان دیہات کے مکین 3 ایم بی اسپیڈ سے مستفید ہوسکیں گے، دوسرے مرحلے میں تھر کول بلاک ٹو میں واقع تمام اسکولوں میں مفت وائی فائی سہولت فراہم کی جائیگی تاکہ ہماری میزبان کمیونٹی کے بچے بھی شہروں کے بچوں کی طرح اکیسویں صدی کے ڈیجیٹل عہد میں داخل ہوسکیں۔

کراچی ،دودھ فروشوں کی من مانی، 85 روپے فی کلو فروخت

کراچی کے ڈیری فارمرز نے قاعدے قانون کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا، سرکار نے فی کلو دودھ کی قیمت 80 روپے مقرر کررکھی ہے مگر شہر بھر میں 85 روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے۔

کمشنر نے گراں فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا انتباہ دیا تو دودھ فروشوں نے کاروبار بند کرنے کی دھمکی دیدی۔

لگتا ہے ڈیری فارمرز نے ٹھان رکھی ہے کہ کراچی میں دودھ ایسے بیچا جائے کہ خریدنے والوں کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے۔

شہر کی یومیہ ضرورت 56 لاکھ لیٹر ہے تاہم ڈیری فارمرز کا مؤقف ہے کہ پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث وہ اپنا کاروبار ختم کررہے ہیں اور سپلائی کم ہونے سے کراچی کو ضرورت سے تیس فیصد کم دودھ مل رہا ہے۔

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرایسوسی ایشن کے صدر شاکر گجر نے بتایا کہ مڈل مین کو ادائیگی 71 روپے سے بڑھا کر 75 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے، مارچ تک دودھ کی قیمت 12 روپے تک نہ بڑھائی گئی تو دودھ کا کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوجائے گا۔

ویسے تو سرکاری نرخ 80 روپے ہے لیکن اب عوام کو دودھ 84 سے 85 روپے میں فروخت ہونا شروع ہوگیا ہے۔

کمشنر کراچی نے خبردار کیا ہےکہ دودھ 80 روپے میں ہی فروخت ہوگا، مہنگا فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن ہوگا۔

بھارت نے پاکستان سے پہلی بار گندم مانگ لی، تاجروں کے محکمہ خوراک پنجاب سے رابطے

لاہور:بھارت نے پہلی بار پاکستان سے گندم مانگ لی جس پر تاجروں نے بھی محکمہ خوراک پنجاب سے رابطے کرلیے۔

بھارت کے ساتھ تجارت کرنیوالے تاجروں نے واہگہ کے راستے5 تا10 لاکھ ٹن گندم خریدنے کیلیے محکمہ خوراک پنجاب سے رابطہ کیا ہے جبکہ محکمہ خوراک پنجاب نے تاجروں کی جانب سے گندم کی قیمت165ڈالر فی ٹن کرنے کے مطالبے کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایکسپورٹ اور قیمت فروخت کے بارے میں حکومتی منظوری ملنے کی صورت میں محکمہ اخبارات میں ’’اظہار دلچسپی‘‘ کا اشتہار دے گا اور پھر جو بھی افراد حکومتی قیمت اور قواعد وضوابط کے مطابق بھارت ایکسپورٹ کیلیے گندم خریدنا چاہیں انھیں محکمہ گندم فروخت کریگا۔

محکمہ خوراک کی جانب سے بھارتی پیشکش کے بارے میں بریفنگ کے بعد چیف سیکریٹری نے کیبنٹ کمیٹی کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی ہے۔ علاوہ ازیں فلورملز ایسوسی ایشن نے بھارت کو گندم کی ایکسپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی تاجر ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت یہ پیشکش کر رہے ہیں تا کہ مستقبل میں وہ افغانستان کو گندم فروخت کرنے کیلیے واہگہ کے راستے راہداری استعمال کرسکیں۔

دوسری جانب بعض ایکسپورٹرز نے محکمہ خوراک پنجاب کے اعلی حکام سے ملاقات میں پیشکش کی ہے کہ اگر محکمہ خوراک انھیں 165ڈالر فی ٹن قیمت پر گندم فروخت کرے تو وہ 3 تا 5 لاکھ ٹن گندم واہگہ کے راستے بھارت لے جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ یہ مقدار10 لاکھ ٹن تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

اس حوالے سے سیکریٹری فوڈ نے ایکسپورٹرز پر واضح کیا ہے کہ پہلے تو ایک بڑی مقدار کی یقین دہانی کروائی جائے جبکہ 165 ڈالر کی قیمت پر یہ ایکسپورٹ ممکن نہیں ہے لہٰذا ایکسپورٹرز اس قیمت میں مناسب اضافہ کریں تا کہ حکومت پنجاب بھی اس بارے میں سنجیدگی سے سوچ سکے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے چیف سیکریٹری پنجاب کو بھی بریفنگ دی گئی ہے جس کے بعد انھوں نے کیبنٹ کمیٹی کا اجلاس بلا کر اس میں یہ معاملہ زیر بحث لانے کی ہدایت کی ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما عاصم رضا نے کہا ہے کہ واہگہ کے راستے بھارت میں گندم کی ایکسپورٹ بھارت کی سوچی سمجھی اسکیم ہے کیونکہ بھارت طویل عرصہ سے واہگہ کے راستے افغانستان میں گندم بھیجنے کیلیے راہداری کا مطالبہ کرتا رہا ہے، اب وہ پاکستانی گندم امپورٹ کرلے گا اور پھر کچھ عرصہ بعد واہگہ کے راستے گندم افغانستان بھیجنے کی کوشش کرے گا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کھاد پر سبسڈی بحال کردی

بحالی کے بعدکسان تنظیموںنے رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ سبسڈی کے فیصلے سے کسان خوشحال ہوں گے۔

کسان تنظیم کےرہنما ندیم چوہدری کا کہنا ہے کہکھا د کی قیمتوں میں کمی سے زراعت کو فروغ ملے گا۔

پاکستانی پپیتے پرحملہ آورکیڑے کوبایو کنٹرول سے ختم کرنے میں اہم کامیابی

لندن: گزشتہ کچھ سال سے پاکستانی پپتے پر حملہ آور ایک کیڑے نے اس کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا لیکن اب حیاتیاتی ( بائیلوجیکل) کنٹرول کے ذریعے اس پر کامیابی سے قابو پالیا گیا ہے۔

پاکستان میں پپیتے کے باغات پر پپیا مِیلی بگ (پیرا کوکس مارجینیٹس) کے حملے سے اس  کی فصل اپنے خاتمے کے قریب پہنچ چکی تھی، ملک میں پپیتے کے 80 فیصد درخت اس وبا کی لپیٹ میں آچکے تھے، کئی کیڑے مار دوائیں اس پر بے اثر ثابت ہوئیں لیکن بایو کنٹرول کے تحت کیڑے کے قدرتی شکاری کو شامل کرکے اس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں واقع مرکز برائے زرعی اور بایوسائنس انٹرنیشنل ( سی اے بی آئی) کے پاکستانی چیپٹر میں موجود بایوٹیکنالوجی اور حشرات (کیڑوں) کے ماہرین نے غور کرکے اس کیڑے کا ایک اور کیڑا دشمن آزمایا۔ اسے ایسروفیگس پپیائی کہتے ہیں جس کا لاروا پپیتے کے دشمن کیڑے پر پلتا ہے اور آخر کار اسے مارڈالتا ہے، اس کے بعد پپیتے کے باغات میں مِیلی بگ کو کامیابی سے ختم کیا گیا ہے۔

پاکستان میں سی اے بی آئی کے کوآرڈنیٹر عبدالرحمان نے کہا کہ کسان اس کم خرچ ، دواؤں سے پاک اور مؤثر طریقے سے خوش ہیں اور اب پپیتے کے باغات کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ تاہم جب تک یہ طریقہ آزمایا گیا اس سے پہلے ہی کسان دوسری فصلیں اگانے پر مجبور ہوچکے تھے۔

صرف سندھ اور بلوچستان میں ہی 921 ہیکٹر پر پپیتے کاشت کیے جاتے ہیں۔ نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ کونسل ( این اے آرسی) کے مطابق مِیلی بگ کا پہلا حملہ 2008 میں رپورٹ ہوا اور 2014 تک اس کی کاشت کم ہوتے ہوتے صرف 307 ہیکٹر تک محدود رہ گئی۔ یہاں تک کہ اس کیڑے کا دوسری فصلوں تک پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس کے سی اے بی آئی، امریکی زرعی ماہرین اور این اے آرسی نے مشترکہ طور پر 2014 میں پپیتے کا مینجنمنٹ پروگرام شروع کیا، پہلے کراچی سے پپیتے کے نمونے لے کر انہیں تجربہ گاہوں میں جانچا گیا اور ماحولیاتی پہلو نوٹ کیے گئے۔

اس کے بعد ماہرین نے باغات میں میِلی بگ پپیا کے قدرتی دشمن کیڑوں کا ایک گروہ بھی بنایا گیا جس میں ایسروفیگس پپیائی کے علاوہ دیگر کیڑے بھی شامل تھے۔ ماہرین نے ایک منتخب کیڑا ایسروفیگس پپیائی کو لیا اور اس سے کسانوں کو آگاہ کیا، اس تعاون کے بعد مِیلی بگ کی 80 فیصد تعداد کو کنٹرول کرلیا گیا۔

اس طرح بایو کنٹرول منصوبے کی افادیت سے پاکستان میں پپیتے کی فصل تباہی سے بچ گئی اور کم خرچ علاج سے مزید مالی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ بصورت دیگرمِیلی بگ ٹماٹر، رس دار کھٹے پھلوں، شکرقندی، چیری اورآم جیسی قیمتی فصلوں تک پھیل کر اسے تباہ کرسکتے ہیں جن کا نقصان کروڑوں ڈالر سے کم نہیں۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative