Home » 2017 » March

Monthly Archives: March 2017

فوجی عدالتوں میں توسیع کا بل سینیٹ سے منظور

سینیٹ نے دستوری ترمیم کا بل دوتہائی اکثریت کے ساتھ منظور کرلیا ہے جو فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کیلئے درکار ہے۔ 28 ویں ترمیمی بل 2017ء کے حق میں 78 مخالفت میں صرف 3 ارکان نے ووٹ دیا۔ وزیرقانون و انصاف زاہد حامد نے آئینی ترمیم کا بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی جس پر چیئرمین سینیٹ نے ارکان کو اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر بل کی حمایت یا مخالف کرنے کی ہدایت کی 78ارکان نے بل کے حق میں جبکہ تین ارکان نے مخالف میں ووٹ ڈالا،پہلی خواندگی کے بعد دوسری خواندگی کے دوران آئینی ترمیم کے شق وار منظوری لی گئی،جے یو آئی کے عطاء الرحمان کی عدم موجودگی کی وجہ سے انکی تین ترامیم مسترد کردی گئی،بل کی تمام شقیں بھی 78 ارکان کی حمایت سے منظور کی گئیں۔تیسری خواندگی کی تکمیل پر چیئرمین سینیٹ نے سیکرٹری سینیٹ کو دونوں کی گنتی کرنے کا حکم دیا۔ بعدازاں چیئرمین سینیٹ نے نتائج سنائے جس کے بعد بل کی حمایت میں 78اور مخالفت میں تین ووٹ پڑے۔ 28 ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی واقعات اور حالات اب بھی موجود ہیں جو اس امر کے متقاضی ہیں کہ بعض جرائم جو دہشت گردی پاکستان کے خلاف جنگ یا بغاوت سے متعلق ہیں کہ فوری سماعت کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں اور ان معرکوں کو روکا جائے جن سے دہشت گرد یا دہشت گرد جماعتیں یا مسلح گروہ جتھے اور جنگجو یا ان کے کے ارکان جو مذہب یا فرقہ کے نام کا غلط استعمال کرتے ہوئے یا ریاست کے خلاف سنگین اور انتہائی شدید دہشت گردی کے فعل کا ارتکاب کرتے ہوئے پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات سے دوچار کررہے ہیں۔پاکستان کی سلامتی اور مقاصد کو جو دستور سازوں کی جانب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے ابتدائیہ میں بیان کئے گئے ہیں ۔ دہشت گرد جماعتیں بشمول کوئی بھی ایسی دہشت گردی کی لڑائی جبکہ وہ مذہب یا فرقہ کے نام کا غلط استعمال کررہی ہوں یا ریاست کے خلاف سنگین اور انتہائی شدید دہشت گردی کے فعل کا ارتکاب کررہی ہوں مسلح افواج یا بصورت دیگر کے ساتھ لڑائی پر گرفتار ہوتا ہے یا گرفتار کیا جاتا ہے تو دفعہ 3 میں بعد ازیں متذکرہ ایکٹس کے تحت قائم کردہ عدالتوں کی جانب سے سماعت کیا جاتا ہے اور پاکستان کے لوگوں نے اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے ذریعے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردوں کو پاکستان سے مستقل طور پر پوری طرح سے ختم اور جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے یہ قرین مصلحت ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کے مفاد میں حسب ذیل خصوصی اقدامات لینے کے لئے ان کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے اور فوجی عدالتوں میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت کو ممکن بنایا جائے۔ آئین میں ترمیم کی اغراض و وجود میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی حالات و واقعات جنہوں نے ملک کی سلامتی اور سالمیت پاکستان کو مختلف دہشت گرد جماعتوں مسلح گروہوں ونگز اور مسلح جتھوں اور ان کے ارکان سے پیدا ہونے والے سنگین خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے دستور اکیسیویں ترمیم ایکٹ 2015 نمبر ابابت 2015دو سالہ انقضاکی شق کے ساتھ منظور کیا گیا تھا جس نے پاکستان بری فوج ایکٹ 1952کے تحت دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی فوری سماعت کے قابل بنایا۔ ان اقدامات نے دہشت گردی کی بیخ کنی میں مثبت نتائج فراہم کئے لہذا دستوری ترمیم کے ذریعے ان خصوصی اقدامات کو مزید دو سالہ مدت کے لئے بدستور رکھا جائے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی متذکرہ چاروں ترامیم کو آرمی ایکٹ اور آئینی ترمیم میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے ایوان میں یہ بھی اعلان کیا ہے کہ دو سال کی توسیع مدت مکمل ہونے پر مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو منتقل کر دیئے جائیں گے ۔ فوجی عدالتوں میں دو سالہ توسیع کے دوررس نتائج برآمد ہونگے، فوجی عدالتیں دہشت گردی کے خاتمے میں ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں اور دہشت گرد اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ فوجی عدالتوں کے معاملے کو التواء میں رکھنے کے منفی نتائج برآمد ہورہے تھے اب سیاسی جماعتوں اور حکومت نے جس تدبر اوربصیرت کا مظاہرہ کرکے فوجی عدالتوں کے معاملے کو سلجھایا ہے وہ لائق تحسین ہے اس کے مفید نتائج برآمد ہونگے۔
پاک فوج کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بہاؤلپور گیریژن کے دورے کے موقع پر افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن ردالفساد ہمارے ملک میں دیرپا امن و استحکام لائے گا ، دہشت گردی کیخلاف پاک فوج کو دنیا کی بہتر فوج بنا دیا ہے اور یہ ملک کو درپیش کسی بھی خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ نے مسلح افواج کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے ۔ آرمی چیف نے جوانوں کی قربانیوں کو زبردست خراج تحسین بھی پیش کیا اور کہاکہ پاک فوج کے نوجوان افسر میرا فخر ہیں اور جوان فوج کی اصل طاقت ہیں۔آرمی چیف نے فوج کی سطح پر جاری ہیلتھ کیئر،تعلیم اور معیار زندگی کے حوالے سے مختلف فلاحی کاموں میں فوجی جوانوں کے کردار کو سراہا ۔سی ایم ایچ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز بہاولپور کا بھی افتتاح کیا اور جوانوں کو تعلیم ،صحت کے منصوبے بارے آگاہی دی۔انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزبہاولپور میں 100ایم بی بی ایس سٹوڈنٹس کا پہلا بیج رواں سال اور 50سٹوڈنٹس کا بیج اگلے سال آئے ۔ آرمی چیف نے دشمن کو جو دوٹوک پغیام دیا ہے وہ اس امر کا عکاس ہے کہ پاک فوج کسی بھی جارحیت اور خطرے کیلئے تیار ہے پاک فوج کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ یہ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں سرگرداں ہے تو دوسری طرف یہ سرحدوں پر اس کی کڑی نظررکھے ہوئے اور دشمن کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقابلہ بھی کررہی ہے پاکستان کو عدم استحکام اور افراتفری کا شکار کرنے کیلئے بھارت کی ’’را‘‘ کے ذریعے کارروائیاں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔ پاکستان بھارتی دہشت گردی کیخلاف کئی بار احتجا ج کرچکا ہے اور عالمی برادری کے نوٹس میں لاچکا ہے بھارت اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پائے گا۔جہاں تک دہشت گردی کے خلاف آپریشن ردالفساد کا تعلق ہے تو یہ کامیابی سے جاری ہے اس سے قبل ضرب عضب نے بھی دہشت گردوں کی کمر توڑ دی اب جاری آپریشن کے اہداف پورے ہونے سے ملک سے دہشت گردی کا ناسور ختم ہوجائے گا اور اس ملک میں امن کی فضا چلے گی اور ملک میں دیرپا امن و استحکام آئے گا ۔ آرمی چیف نے جس عزم کا اعادہ کیا ہے وہ اس امر کا آئینہ دار ہے کہ عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اب دہشت گرد بچ نہیں پائیں گے ۔ پاک فوج کی دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ میں قربانیاں ناقابل فراموش ہیں جن پر قوم کو فخر ہے۔ دشمن دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوپائے گا کیونکہ ہماری افواج ہر وقت دشمن کی سازشوں سے نمٹنے کیلئے تیار بیٹھی ہے۔ آرمی چیف نے جو کہا ہے وہ دشمن کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ جارحیت اور دہشت گردانہ کارروائیوں سے باز رہے۔

کولڈسٹارٹ ڈاکٹرائن کا مردہ گھوڑا

پاکستان کوہڑپ کرنے کا خواب برسوں سے بھارتی کرتا دھرتاؤں کے دماغوں میں کلبلاتا رہتا ہے۔اسکے لیے کبھی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن (سی ایس ڈی)کے خواب میں رنگ بھرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی سرجیکل سٹرائیک کا سوچا جاتا ہے۔کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن 24 گھنٹے میں اچانک اور خوفناک حملے کی حکمت عملی کو کہا جاتا ہے۔ بھارت گزشتہ پندرہ برس سے اس پر کام کررہا ہے۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب دسمبر2001ء میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تو بھارت نے الزام لگایا کہ حملہ آور پاکستانی اور مولانا مسعود اظہر کے ساتھی ہیں۔اسکے ساتھ ہی بھارتی حکومت نے پاکستان پر فوج کشی کا اعلان بھی کر دیا اور اپنی افواج کو پاکستان کی مشرقی سرحد پر جمع کرنا شروع کردیا لیکن اس کام کیلئے اسے ایک ماہ لگ گیا۔جبکہ جواب میں پاکستان نے ایک ماہ میں ساری جنگی تیاریاں کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری سے بھی بات چیت کر لی۔اپنے میزائل اور جوہری ہتھیار بھی باہر نکال لیے۔یورپ اور امریکا درمیان میں آگئے۔ اقوام متحدہ نے بھی بھارت کو روکنا شروع کر دیا۔ یہ تمام چیزیں مل کر دباؤ بنیں اور بھارت بالآخر اس دباؤ کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گیا۔بھارت کو اس ایکسرسائز کے دوران اربوں روپے کا نقصان بھی ہوا اور اسے عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے یہ ڈاکٹرائن دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن فوج کی بلٹس کریگ (Blitzkrieg)اسٹرٹیجی سے مستعار لی جرمن زبان میں بلٹس کریگ کا مطلب بجلی کی تیزی سے وار ہے۔ نازی فوج دوسری جنگ عظیم میں اتحادیوں اور روسی فوجوں پر بجلی کی طرح حملہ آور ہوتی تھی۔ جرمن اپنی آرٹیلری ٹینکوں انفنٹری اور جنگی طیاروں کو اچانک موبلائز کرتے تھے اور دشمن کے جاگنے سے پہلے پورا شہر اڑا دیتے تھے بھارت کے عسکری ماہرین نے سوچا کہ شاید وہ بھی نازی فوج ہیں اور پاکستان کو ایک تر نوالہ سمجھ کر ہڑپ کر لیں گے مگر اب تک وہ اس حکمت عملی میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔اگرچہ روات بپن نے آتے ہی عندیہ دیا کہ سی ایس ڈی زندہ ہے لیکن خود کئی بھارتی عسکری ماہرین اسے ناکارہ حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ اس طرح پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ یہ بھی حقیقت ہے سی ایس ڈی میں ناکامی کے بعد مودی سرکار نے سرجیکل سٹرائیک کا سہارا لیا اور بزعم خود یہ دعویٰ بھی کرڈالا کہ اڑی حملے کا بدلہ لے لیا ہے۔حالانکہ اس سرجیکل سٹرائیک کوبھارت کے صفِ اول کے صحافی اور تجزیہ کار اسے فرضیکل سٹرائیک کا نام دے رہے ہیں۔ درحقیقت بھارت پاکستان کی اہلیت جانتا ہے کہ ایک دفعہ یہ معاملہ چھڑا تو بات دور تک نکل جائے گا۔پاکستان کی جوابی اہلیت کے بارے برطانوی جریدے دی ۔ اکانومسٹ نے بھی گزشتہ برس بھارت کو آئینہ دکھایا کہ اگر بھارت اس طرح کی حکمت عملیوں سے باز نہ آیا تو پاکستان اپنے محدود پیمانے پر تباہی پھیلانے والے چھوٹے ایٹمی ہتھیار آگے لے آئے گا، جن کا بھارت کے پاس کوئی توڑ نہیں ہے۔جریدے نے یہ بھی لکھا کہ بلاشبہ 2008کے ممبئی حملوں کے بعد بھارتی آرمی چیف نے اپنی حکومت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ اس کی فوج پاکستان سے جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔کنگز کالج لندن کے حربی امور کے ماہر والٹر لیڈونگ نے جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کے تحت بھارت آپریشنز کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے یا نہیں۔اگر بھارتی فوج کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن پر عمل پیرا رہتی ہے تو جہاں اسے دنیا کے غضب کا سامنا کرنا پڑے گا وہاں پاکستان کو چھوٹے ایٹم بموں کی تیاری اور انہیں بھارت کے خلاف استعمال کرنے کا جواز مل جائے گا۔سی ایس ڈی اور سرجیکل گیڈر بھبکیوں کے بعد اب مودی سرکار کو ایٹمی گیدڑ بھبکی سوجھی ہے کہ بھارت پاکستان پر ایٹمی حملے میں پہل کر سکتاہے۔ بھارتی ایٹمی ماہر ویپن نارنگ نے امریکہ میں سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی تبدیل کر دی ہے اور حملے میں پہل کر سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حملے پاکستان کی تنصیبات پر کیے جا سکتے ہیں۔یہ تو ہوا دیوانے کا ایک خواب مگر کچھ ہوش خرد والے سابق بھارتی فوجی افسران کیا کہتے ہیں وہ بھی ملاحظہ ہو۔پروین ساہنی اور غزالہ وہاب نامی سابق فوجی خواتین افسران نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی فوج چین تو کیا پاکستان سے بھی جنگ نہیں جیت سکتی۔ کسی بھی خطرے کی صورت میں پاکستان چین ہے اور چین پاکستان ہے۔ دونوں ممالک مل کر بھارت کا سامنا کریں گے۔بھارتی فوج کی ملازمت چھوڑنے والی پروین ساہنی اور غزالہ وہاب نے اپنی کتاب ڈریگن ان آور ڈور اسٹیپ میں لکھا ہے کہ چین اور پاکستان نے مل کر ایسا میکنزم تیار کیا ہے کہ جس کی مدد سے وہ کسی بھی خطرے کی صورت میں ایک دوسرے کے دست و بازو ثابت ہوں گے۔ڈریگن ان آور ڈور اسٹیپ کی مصنفین نے مودی سرکار کو صائب مشورہ دیا ہے کہ سی پیک کے بعد پاکستان سے کسی بھی قسم کی چھیڑ خانی چائنی مفادات پر حملہ تصور ہوگا۔سی پیک چین کیلئے کتنا اہم اس کا اعادہ چین نے اگلے روز ایک بار پھر کیا ہے کہ سی پیک طویل المیعاد ترقی کے حصول کیلئے چین اور پاکستان کی طرف سے قائم کیا جا نے والا تعاون کا نیا فریم ورک ہے ۔ خاتون ترجمان نے کہا کہ سی پیک بیلٹ وروڈ منصوبے کا ایک اہم پراجیکٹ بھی ہے یہ نہ صرف چین اور پاکستان کی مشترکہ ترقی کے فروغ بلکہ علاقائی رابطے اور علاقائی ممالک کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے فروغ کیلئے بھی اہم ہے۔اسکے بعد اب بھارتی سورماؤں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں یا تباہی,تاہم پاکستان روایتی اور غیر روایتی ہر طرح کی جنگ کی تیاری میں رہتا ہے۔

بھارتی نیوکلیئر ہتھیاروں پر آر ایس ایس کا قبضہ!

’امن اور محبت کی پکار‘ نامی بک کی مصنفہ جمیلہ صدیقی نے عالمی طاقت ور نام نہاد منصفوں کے چہروں سے بہت دلیری کے ساتھ نقاب کھینچا قلمکاری کی بہت ہی خوبی کے ساتھ اُن کے لباسوں کو تار تار کرکے اُنہیں ننگا کردیا ہے واہ ’ہرکمال را زوال‘ کی بہترین ترجمانی کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں’ تپتے توے پر پانی کی بوند کب تک سسک سکتی ہے؟‘ دنیا کے اور خطوں کو تو چھوڑئیے !جنوبی ایشیا ء کے دو ایسے پڑوسی ایٹمی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان70 برسوں کی پائے جانے والی آئے روز کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کی سنگینی اور دوطرفہ تناؤ کی کیفیتوں کی شدت کو تو وہ کم کیا کراتے جو کہ پہلے کی نسبت ہمیں اب اور زیادہ پیچیدہ ہوتی دکھائی د یتی ہے،9/11 سے قبل پاکستان کو اپنی مشرقی سرحدوں سے بھارتی جارحیت کے خطرات لاحق رہا کرتے تھے9/11 کے بعد افغانستان میں امریکی اور نیٹو اتحادی افواج کے آنے کے بعد سے تاحال پاکستان کی مغربی سرحدوں کے پار سے بھی پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کو شدید قسم کے مختلف النوع جارحیت اور دہشت گردی کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑرہا ہے، بلکہ براہِ راست دوبدو اُن بیرونی خطرات کا پاکستان کو اپنی مسلح افواج کو میدان میں لاکر مقابلہ کرنا پڑ گیا ہے، ایسی انتہا ئی گھمبیر اور تشویش ناک ’آلارمنگ اسٹرٹیجک‘ کی صورتحال میں عالمی طاقت ور منصفوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو کیا ’سوموٹو ایکشن‘ لینا نہیں چاہیئے تھا؟ پتہ نہیں ’عالمِ انسانیت کو کسی ممکنہ’ یکایک اور اچانک آپڑنے والی تباہ کن اور قیامت خیز ‘ ایٹمی ہلاکت کی بلا خیز ی سے بچا نے کیلئے ’سوموٹو ایکشن ‘ لینے کی کوئی’ عالمی اتھارٹی ‘ہے یا نہیں ؟ ہم کتنے سادہ ہیں’اُسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کی سوچتے ہیں جس کے سبب بیمار ہوئے‘ 9/11 کے بعد مسٹر بش نے بھارت کے دورے میں امریکا اور بھارت کے مابین سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی فراہمی کا معاہدہ کرلیا ،جب مسٹر بش چند گھٹنوں کے لئے پاکستان یاترا پر آئے تو اُن سے پوچھا گیا ’پاکستان اور بھارت دونوں تسلیم شدہ ایٹمی ملک ہیں بھارت کی نسبت پاکستان کئی عشروں سے امریکی بلاک کا اتحادی رہا ہے کئی عشروں پر محیط ایسی ہی نازک اور حساس ترین صورتحال میں امریکا نے بھارت کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا معاہدہ کرلیا کیا ایسا کوئی معاہدہ پاکستان کے ساتھ ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے ؟ مسٹر بش نے فوراً ٹکا سا جواب دیتے ہوئے فرار کی راہ اختیار کی ’ پاکستان اور بھارت کی مختلف’ تاریخیں ‘ہیں اور ہمیں یہ سب کچھ پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے ‘ بش کا یہ جواب کتنا مبہم غیر سنجیدہ اور بڑا ہی غیر تسلی بخش تھا، دونوں ممالک ( پاکستان اوربھارت کی مختلف ’تاریخ‘ کا ذکر کرکے نجانے وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے اُنہوں نے گو کھل کر اپنی بات کی تعریف نہیں کی ،مگر ہم پاکستانی خوب سمجھ گئے کہ امریکی صدر کا اشارہ کس جانب تھا؟ بھارت کی ایما ء پر ‘ اسرائیلی ایماء پر امریکا اور مغربی دنیا کل بھی مسلم دشمنی میں خاص کر پاکستانی دشمنی میں باہم متحد اور ایک ’مخصوص سوچ ‘ رکھتی چلی آرہی ہے، امریکیوں اور مغربی ممالک کے نزدیک جنوبی ایشیا ء میں پاکستان کا بطور ایک جوہری ملک بننے کے بعد عالمی اور علاقائی پسند اور ناپسند یدگی کے ’معیارات ‘ یکسر تبدیل ہو ئے، یعنی یہ کہ نہ تو امریکا نہ ہی مغربی دنیا پاکستان کی قومی سلامتی کو لاحق بھارتی ایٹمی خطروں کو کسی خاطر میں لانے پر رضامند دکھائی دیتی ہے، بلکہ اُلٹا بھارت جو اپنے مالی وسائل کے تمام تر خزانوں کو مہلک جنگی اسلحوں کی خریداری میں بے دریغ لو ٹتا چلا جارہا ہے بہت موثق و معتبر محتاط اندازے کے مطابق بھارتی دفاعی بجٹ 40 بلین ڈالرز کی اپنے ریکارڈ کی انتہا کو چھو چکا ہے ایک ارب اور بیس کروڑ بھارتی عوام کی غربت وافلاس ‘ ان کے طرزِ زندگی کی مفلوک الحالی ‘ جنہیں ’بیت الخلاء‘ جیسی اہم ضروریاتِ زندگی میسر نہیں‘ اُن کے پاس ‘ صحت نہیں ‘ پینے کا پانی تو رہا درکنارُ اکیسیویں صدی کے اِس عہد میں جسے امریکا نے یہ کہا تھا ’یہ مہذب اور ترقیِ یافتہ عہد ‘ کی صدی کہلائی جائے گی‘ بھارت کے کروڑوں عوام ’حیوانوں‘ جیسی زندگی گزارنے پر مجبور کردئیے گئے جب سے نئی دہلی کے ایوانوں کا قبضہ آر ایس ایس کے متشدد جنونی کارسیوکوں کے ہاتھوں میں آئے روز مضبوط تر ہوتا جارہا ہے بھارتی عوام کی مجموعی طرزِ زندگیاں انسانی سہولیات سے بُری طرح متاثر ہوتی نظر آرہی ہیں، جب ملکی وسائل کو متعصبانہ جنگی جنونیت کی نذر کردینے اور علاقائی بالادستی کے لئے وقف کردیا جائے تو اِس کانتیجہ یہی نکلے گا، بھارتی میڈیا میں جب بھی اِ س انسانی وسائل کی بربادی پر کوئی بات ہوئی تو آر ایس ایس کے جنونی تبصرہ نگار یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ’چین جیسے دنیا کے بڑے ملک کے ممکنہ خطرات کا اور پاکستان جیسے ملک کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں یہ سب کچھ تو کرنا ہی پڑے گا ‘ ایک طرف ایسے بیمار جواز اور ایسی نحیف دلیلیں؟ ذرا دوسری جانب نگا ہ دوڑائیں’ نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم100 ارب ڈالرز کو چھوتا نظرآتا ہے ‘بھئی کوئی بتلاؤ معاملہ کیا ہے؟ ’چین کو بھارت اپنے لئے خطرہ بھی سمجھتا ہے، چین کے تجارتی لین دین میں کمی کی بجائے اور زیادہ تیزی آرہی ہے اور اُدھر دنیا کو دھوکہ دئیے رکھنے کی نئی دہلی کی چا نکیائی پالیسی کے اطوار تو ملاحظہ فرمائیے امریکا اور مغربی ممالک کو چین سے خطرات کے ڈھول پر ڈھول پیٹ کر جو123 معاہدوں پر دستخط کیئے گئے، اُن معاہدوں میں بڑے پیمانے پر دفاعی سازوسامان میں مہلک جنگی آلات کی خریداری میں یہ ’سودا‘ کسی کو نظر آئے نہ آئے پاکستان اور چین کو صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت نیوکلیئر سپلائر گروپ (این ایس جی) کی رکنیت حاصل کرنے میں اپنی سی بڑی تگ ودو میں کھیتوں کے کنوؤں پر لگے ہوئے ’رہٹوں میں گھومنے والے بیلوں کی مانند آنکھوں پر چمڑے کی پٹیاں چڑھائے‘ گھومتا ہی رہتا ہے وہ جو جی میں آئے کرگزرے ،پاکستان اور بھارت کے مابین 70 سالہ دیرینہ مسئلہ ِٗ کشمیر کو سائڈ پر رکھ کر بھارت اپنی ’خواہش‘ کو کبھی پائیہ ِٗ تکمیل نہیں پہنچا سکتا، جی ہاں! ’ایشیا پیسفک ‘ کی تھانیداری یا پھر افغانستان میں مستقلاً ’عسکری ڈیر ے داری‘ کا اُس کا خواب شرمندہ ِٗ تعبیر کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے؟ بھارت بطور (این ایس جی) کی رکنیت کے اُصولی فارمولے پر بالکل نہیں اترتا، اگر بفرض بھارت کے ’ عالمی دوستوں‘ نے معروف اور طے شدہ عالمی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ایسی کوئی بہیمانہ ’شرارت ‘ یا ’حرکت‘ کی تو پھر یہ یادرہے صرف(این ایس جی) کا ہی نہیں، بلکہ مکمل ’عالمی امن ‘ کے نظام کا بوریا بستر گول ہوجائے گا، پاکستان اور بھارت کے مابین اگر طاقتور دنیا کے چند مخصوص گروہوں نے کسی قسم کے امتیازات میں ’پسند اور ناپسند‘ کی اپنی یکطرفہ پالیسی اپنائی ،چاہے وہ پاکستان کے ایٹمی ڈیٹرنس کے حوالے سے ہو یا پھر علاقائی یعنی مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے ،پاکستان اِس خطہ کا تسلیم شدہ ایک زمینی ’اسٹیک ہولڈر‘ ہے، لہذاء پاکستان کو کسی بھی اعتبار سے اور نکتہ ِٗ نظر سے’ بائی پاس‘ کرکے اب کوئی فیصلہ پاکستان پر ٹھونسا نہیں جاسکتا۔

عوام اور بازیگریاں

کہا جاتا ہے کہ مزاح نگاری نہایت مشکل کام ہے لطیفہ سازی بھی اسی فن لطیف ہی کا حصہ ہے جس کے ذریعے مزاح نگار یا لطیفہ گو اس دکھ بھرے معاشرے میں مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں چاہے چند لمحوں کے لئے ہی سہی لیکن یہ عظیم خدمت ہے اللہ نے ہمارے اکثر لیڈران کو اس فن سے نواز رکھا ہے اور بدرجہ اتم نواز رکھا ہے کل ہمارے ایک قومی لیڈر نے کمال ہی کردیا ویسے تو ان کے لطیفے اور کثیفے شہرہ آفاق ہیں کل انہوں نے خطاب کرتے ہوئے ظرافت اور لطافت کی انتہا کردی آپ فرماتے ہیں کہ ہم پنجاب میں وہ کر دکھائیں گے جو نون لیگ پوری طاقت و قوت لگانیکے باوجود نہیں کرسکی سچی بات ہے تھوڑی دیر کے لئے ہماری بھی سٹی گم ہوگئی کہ یہ کیافرما رہے ہیں موصوف کا بنیادی تعلق چونکہ سندھ سے ہے لہذا ایک نیوز چینل پر انہوں نے سندھ کو پیرس بنا دینے جیسے کارنامے پنجاب میں برپا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تو چینل کے معروف اینکر اپنی ہنسی نہ روک سکے اب اگر ہمیں کبھی موقع ملا تو ان اینکر سے کسب فیض کرتے ہوئے ہنسی وجہ ضرور پوچھیں گے اب سوچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایسا کیا کیا ممکن ہے جو سندھ کی طرح پنجاب میں کیا جاسکے پہلے تو دیکھیں کہ سندھ میں کیا کارہائے نمایاں انجام دئے گئے ہیں ابتدا لاڑکانہ سے کرتے ہیں جس کا تذکرہ قومی پریس میں اکثر ہوتا رہتا ہے کہ لاڑکانہ پیرس بن چکا ہے اور پیپلزپارٹی کے سنہرے دور میں چمکتی سڑکیں بنادی گئی ہیں ہم صرف ایک مثال پر اکتفا کریں گے کہ کراچی سے لاڑکانہ داخلے کے لئے رائس کینال پر سو سال پہلے جو پل بنایا گیا تھا اس میں ایک انچ کی توسیع نہیں کی گئی آج بھی مختلف سمتوں سے آنے والی گدھا گاڑی اور کار اکٹھے نہیں گزر سکتے لاڑکانہ میں آخری سڑک جو 1972 میں تعمیر کی گئی وہ وی آئی پی روڈ ہے جس پر لاڑکانہ انتظامیہ کے تمام دفاتر ہیں جن پر بھاری ٹریفک کے گزرنے کی پابندی ہے شاید اسی لئے یہ سڑک اب تک بہتر حالت میں ہے باقی شہر کی سڑکیں اور موئن جو دڑو میں کم ہی فرق رہ گیا ہے گٹرابل رہے ہیں گندہ پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو رہا ہیگورننس کا حال یہ ہے کہ شہروں میں تجاوزات کے سبب گاڑیاں تو چھوڑیئے پیدل چلنا بھی محال ہے نواب شاہ جو مقتدروں کا اپنا گھر ہے جس کی زبوں حالی کی رپورٹنگ ٹی وی چینلز پر اکثر ہوتی رہتی ہے سڑکیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں پورے سندھ کا کم بیش یہی حال ہے ضلع جیکب آباد دادو کشمور اور شکارپور قرون اولی کا منظر پیش کرتے ہیں سہون سے لاڑکانہ تک سڑک انتہائی زبوں حال ہے جو انڈس ہائی وے کا اہم حصہ ہے اور ملک کے شمال اور جنوب کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ جہاں حادثات کی صورت میں طبی عملہ موجود نہیں ہوتا اور دوائیاں ناپید امن و امان کی صورت حال کوئی ڈھکی چھپی نہیں تعمیراتی ٹھیکے جیالوں کو دے دئے جاتے ہیں جو محض لیپاپوتی کرکے بل وصول کر لیتے ہیں اور بعض اوقات یہ تکلف بھی نہیں برتا جاتا رشوت معمول ہے جو اب زندگی کے لازمی حصے اور حقیقت کے طور پر قبول کر لی گئی ہے کراچی میں شہری اور دیہی کی تفریق بڑھا دی گئی ہے اور یہ کوئی خوش آئند بات نہیں سماجی انصاف ہر شخص کا حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے تاکہ عوام کے کسی طبقے میں احساس محرومی پیدا نہ ہو نوکریوں کے معاملے میں شہری علاقوں کی کئی ویکنسیاں خالی چھوڑ دی جاتی ہیں جن پر مستحقین کو تعینات نہ کر کے کس کی خدمت کی جارہی ہے کراچی کی پارٹیوں کی اس آواز کی حمایت کرتے ہیں کہ کراچی سے سوتیلی ماں والا سلوک بند کیا جائے کراچی میں گندگی کے ڈھیر حکومتی گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہیں سندھ کی حد تک صرف سید ہی بدلا باقی کچھ نہیں تو پھر سابق سید میں کیا خرابی تھی سندھ کی ایک خاتون رہنما پر 100 ارب روپے کے خرد برد کا الزام ہے یہ 100 ارب لاڑکانہ کو بطور خصوصی پیکیج عطا کئے گئے تھے جن میں سے مبینہ طور پر 100 روپے بھی لاڑکانہ میں نہیں لگے عوامی سطح پر سندھ کے عوام شہیدوں کی بہت قدرت منزلت کرتے ہیں لیکن یہ کب تک رہے گا اور محض ان نیک جذبات پر کب تک ووٹ ملتے رہیں گے متعلقین کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہونا چاہئیے اب رہا پنجاب جہاں انہوں نے مسلم لیگ نون کو للکارا ہے لیکن پیپلز پارٹی اپنے دور میں اپنی حکومت کی کار گردگی کو بھی نظر میں رکھیں اس دور میں عام آدمی کو کیا ریلیف ملا آج بھی چیدہ چیدہ پارٹی رہنماؤں پر کیس چل رہے ہیں جو کبھی ثابت ہو سکیں گے کیا آج تک کوئی کیس ثابت ہوسکا ہے جو یہ ثابت ہوں گے اب تو ما شا اللہ شرجیل انعام صاحب بھی تشریف لا کر وفاقی حکومت کے خلاف خم ٹھونک چکے ہیں آج وفاقی وزیرداخلہ پیپلزپارٹی کا خصوصی ہدف ہیں اور وزیراعظم حیدرآباد میں ڈرامائی انٹری ڈال چکے ہیں ایک عدد یونیورسٹی اور بین الاقوامی ائیرپورٹ کی نوید سناچکے ہیں جیسا کہ سوات دیرہ اسماعیل خان کوہاٹ اور دیگر شہروں میں یہ ایئرپورٹ پورے زور و شور سے عوام کی خدمت کر رہے ہیں جس میں زور کم اور شور زیادہ ہے اور یوں نون لیگ نے بھی اس طرح کی باتیں کرکے عوام کو ہنسانے اور گد گدانے کا کام شروع کردیا ہے لیگ کے بزرجمہر دھواں دھار تقاریر اور ٹاک شوز میں بھرپور تاثر دے رہے ہیں پیپلزپارٹی اور نون لیگ ہی صرف قومی پارٹیاں ہے اور تیسری سیاسی قوت کا کوئی وجود نہیں الیکشن قریب ہیں کھلاڑی متحرک ہوچکے ہیں اور ہمیں لگتاہے کہ پھر سے عوام کو بے وقوف بنانے کا کام شروع ہوچکا ہے دونوں جانب سے زبانی معرکے لڑے جائیں گے مرنے مارنے کا تاثر شدید کیا جائے گا اور دونوں پارٹیوں کی عالم آشکار کار کردگی کو الزامات در الزامات کی دھول میں چھپایا جائے گا دونوں گلے گلے تک الزامات دل دل میں دھنسے ہوئی پارٹیاں اس طرح بقا کی جنگ لڑنا چاہتی ہیں ادھر ڈان لیکس میمو گیت پر پر اسرار خاموشی ہے لگتا ہے کہ کوئی مفاہمت ہو چکی ہے پانامہ کیس کا فیصلہ آیا ہی چاہتا ہے یہی قوم و ملک کے مستقبل کافیصلہ کرے گا اللہ ووم کو درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے۔ آمین

پاکستان اور افغانستان کا دشمن مشترکہ ہے

سویت یونین یلغار کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان کا رخ کیا ۔ پاکستان نے اپنے افغان بھائیوں کو خوش آمدید کہا اور ان کو ہرطرح کی سہولیات فراہم کیں جس میں اقوام متحدہ نے معاونت کی۔اس وقت اندازاًچالیس لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں رہتے ہیں جن میں تقریباً تیرہ لاکھ رجسٹرڈ جبکہ ستائیس لاکھ افغان باشندے غیر رجسٹرڈ ہیں۔ابھی تک ستائیس لاکھ افغان رجسٹرڈ کیوں نہیں ہوئے؟ یہ بات افسوس ناک اور پریشان کن ہے۔ ان ستائیس لاکھ افغان کی بھی رجسٹریشن ہونی چاہیے۔افغان مہاجرین ہمارے بھائی ہیں۔ یہ تقریباً چار عشروں سے ہمارے پاس رہتے ہیں۔یہ افغان مہاجرین کیمپوں میں رہتے ہیں اور بعض ہمارے شہروں اور دیہاتوں میں بھی رہتے ہیں۔انفرادی واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پُرامن رہے ہیں۔ان کی اکثریت پرامن ہے۔ہمارے قوانین اور ہمارے رسم ورواج کا بھی لحاظ رکھتے ہیں۔یہ بڑے محنتی اور جفاکش لوگ ہیں۔یہ چھوٹی سی دکان بناتے ہیں یاریڑھی لگاتے ہیں اور چند مہینوں یاسالوں میں کاروبار کو اتنی تیزی سے وسعت دیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دراصل ان کو کاروبار کرنے کا ڈنگ آتا ہے۔افغانی ایک دوسرے کو قرضِ حسنہ دیتے ہیں۔عام دکانداروں کی نسبت سستی چیز یں بیجتے ہیں اور زیادہ سیل کرتے ہیں۔افغانی بچوں کا مشاہدہ کیا تو وہ تعلیمی لحاظ سے بھی آگے ہیں۔اتنی قابلیت اور ٹائیلنٹ کے باوجوددر بدر ہیں۔ سویت یونین کے بکھرنے کے بعد افغان مہاجرین اپنے وطن واپس نہ جاسکے ۔ ان کے ساتھ امریکہ اور بھارت نے سب سے زیادہ ہاتھ کیا ۔ان کو سب سے زیادہ گزند انہی دو ممالک نے پہنچایا ہے۔امریکہ نے افغان سویت یونین جنگ میں اپنے مفادات کیلئے سپورٹ کیا۔دنیا بھر سے جہادیوں کو اکٹھا کیا اور ان سے کام لیا ۔جب سویت یونین ٹوٹ گیا تو امریکہ نے نظریں پھیر لی، تو کون ، میں کون ؟اس کے بعدافغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوئی جس میں افغانستان کا بہت زیادہ مالی وجانی نقصان ہوا۔ رہی سہی کسر نائن الیون کے ڈرامے کے بعد امریکہ نے پورا کیا۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے ہائی کمیشن کو متحرک کیا اور”را” نے زورو شور سے کام شروع کیا۔پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کا پروپیگنڈا شروع کیا۔چونکہ افغانیوں کی اکثریت ناخواندہ ہے ۔اس لئے ان پر بھارت کے پروپیگنڈے کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ “را” افغانستان کے بعض سیاسی رہنماؤں کو ورغلاتے ہیں جس کے باعث وہ پاکستان کے خلاف بے بنیاد بیان بازی کرتے رہتے ہیں۔ اسلام دشمن عناصر پاکستان اور افغانستان دو برادر ممالک کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دونوں ممالک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ علاوہ ازیں افغان سویت یونین جنگ کے دوران مہاجرین کے لبادے میں را کے متعدد ایجنٹ پاکستان آئے ۔جھنوں نے یہاں منشیات، اسلحہ اور دیگر غلط کام کیے جس کی وجہ سے عام افغان مہاجرین کا نقصان ہوا اورعام لوگ یہ سمجھنے لگے کہ سب افغانی غلط کام کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔زیادہ ترافغانی تجارت اور کاروبار کو ترجیج دیتے ہیں ۔ وہ غلط کام کو نا پسند کرتے ہیں۔افغان مہاجرین کو چاہیے کہ و ہ ایسے عناصر سے خبردار رہیں اور ان پر کڑی نظریں رکھیں، ان کی اطلاع دیں تاکہ وہ پاکستان ، افغانستان اور افغان مہاجرین کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔پاکستان اور افغانستان کو یکجان ہوکر کام کرنا چاہیے اور ماضی کی کوتاہیوں کو دوہرانا نہیں چاہیے۔افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے۔افغان مہاجرین کو اپنے گاؤں اور شہر واپس جانا چاہیے اور اپنے آبائی شہر اور گاؤں کو پھرسے آباد کرنا چاہیے۔ افغان مہاجرین واپس جاکر اپنے ملک کوترقی یافتہ ملک بنا سکتے ہیں ۔ لیکن امریکہ اوربھارت نہیں چاہتے ہیں کہ افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جاکر دوبارہ آباد ہوسکیں۔وہ نہیں چاہتے ہیں کہ افغانستان پرامن ، ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بن سکے۔ امت مسلمہ ایک جسم کی ماندہے۔جسم کے کسی حصے کو تکلیف ہو تو پوری جسم بے تاب اور بے قراررہتی ہے۔افغانی ہمارے بھائی ہیں۔ان کو تکلیف ہوگی تو ہمیں بھی تکلیف ہوگی۔ہمارے افغانی بھائیوں کو راحت ہوگی تو ہمیں راحت ہوگی۔افغان بھائیوں کے لئے پاکستان کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں لیکن ان کو اپنے وطن واپس جانا چاہیے اور پھر ویزہ بنوانا کر پاکستان آنا چاہیے۔ویزہ اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے افغان بھائیوں کے لبادے میں دشمن ممالک کے ایجنٹ ہمارے ملک میں داخل نہ ہوسکے۔اغیار کے ایجنٹ پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کیلئے مسائل تخلیق کرتے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کا دشمن مشترکہ ہے۔

ای روزگار پروگرام سے باعزت روزگار کا حصول ممکن

وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے گزشتہ روزارفع کریم سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میں ای روزگارٹریننگ پروگرام کا افتتاح کیا جس کے تحت صوبے کے 36 اضلاع میں 40ای روزگار سینٹرز بنائے گئے ہیں جہاں پرنوجوانوں کو3ماہ تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنا آن لائن جاب کے ذریعے باعزت کماسکیں۔وزیراعلیٰ نے ای روزگار سینٹرز کی تعداد مزید بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا 40 سینٹرز بہت کم ہیں۔ ہمیں صوبے میں ایسے 40 لاکھ سینٹرز بنانا ہوں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو بااختیار بنایا جاسکے۔ وزیراعلیٰ نے ای روزگارٹریننگ پروگرام کی افتتاحی تقریب اور پہلے نیشنل فری لانسنگ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ نوجوان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں جنہیں بااختیار بنا کر ملک و قوم کی تقدیر بدلیں گے۔ پنجاب حکومت نے نوجوانوں کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانے کے حوالے سے متعدد پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ ہر سال یونیورسٹیوں سے لاکھوں کی تعداد میں گریجوایٹس آ رہے ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوان پاکستان کا بڑا چیلنج ہے اور اسے ہم نے مواقع میں بدلنا ہے۔ قوم کی بیٹیاں اور بیٹے جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو کر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، وہاں اپنے خاندانوں کا بوجھ بھی بانٹ رہے ہیں۔ یہی ترقی کی شاہراہ ہے اور پاکستان کو خوشحال ملک بنانے اور اس کی تقدیر بدلنے کا یہی طریقہ ہے۔ اس مقصد کیلئے وسائل اور ماحول کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے اور پنجاب حکومت نے اس حوالے سے بے مثال اقدامات کئے ہیں۔ ’’خادم پنجاب خود روزگار سکیم‘‘ اور ’’ای روزگار ٹریننگ پروگرام‘‘ اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے آج ایک منفرد محفل منعقد کی گئی ہے۔ 3 سال قبل وائس چانسلر انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی ڈاکٹر عمر سیف نے ای روزگار سکیم کے پروگرام کی داغ بیل ڈالی تھی اور آج اس پروگرام کے تحت ہزاروں نوجوان انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کرکے اپنا روزگار کما رہے ہیں۔ اگر پاکستان اور پنجاب کو ترقی کرنا ہے تو اپنے نوجوانوں کو ترقی کا انجن بنانا ہوگا۔ نوجوانوں کو بااختیار بنائے بغیر ترقی و خوشحالی کا سفر طے نہیں کرسکتے۔ اسی مقصد کے پیش نظر پنجاب حکومت نے نوجوانوں کیلئے بے مثال پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ ’’خادم پنجاب خود روزگار سکیم‘‘ کے تحت نوجوانوں کو اپنے روزگار کیلئے بلاسود قرضے دیئے جا رہے ہیں اور ان قرضوں کے حصول سے 9 لاکھ بچے اور بچیاں اپنے پاؤں پر کھڑے ہوچکے ہیں۔ اسی طرح ای روزگارٹریننگ پروگرام بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے اور اس سکیم کے تحت بنائے گئے 40 تربیتی سینٹرز کم ہیں اس لئے 40 لاکھ ای روزگارٹریننگ سینٹرز کے قیام کیلئے منصوبہ بندی کی جائے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو میں کوئی سہانے خواب نہیں دکھانا چاہتا لیکن نوجوان میرے دل کے قریب ہیں اورمیں نے نوجوانوں کی ہر طریقے سے خدمت کی ہے اور2018ء عام انتخابات میں نوجوان یقیناًخدمت ،محنت اوردیانت کا ساتھ دیں گے۔مشیر ڈاکٹر عمر سیف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانو ں پر مشتمل ہے جو پاکستان کے تابناک مستقبل کی نوید ہے۔ یونیورسٹیوں سے ہر سال ڈگریاں لے کر نکلنے والے لاکھوں گریجوایٹس کو روزگار کی فراہمی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے تاہم پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کے ویژن کے مطابق ای روزگار پروگرام شروع کیا گیا ہے جو نوجوانوں کو اپنا روزگار کمانے کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ صوبائی وزراء سید رضا علی گیلانی اور جہانگیر خانزادہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ای روزگارٹریننگ پروگرام کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا جبکہ ای روزگارٹریننگ پروگرام کے تحت روزگار حاصل کرنے والے نوجوان مزمل عارف نے اپنی داستان سناتے ہوئے ای روزگار پروگرام کی اہمیت بیان کی۔ ہم اس شاندار پروگرام کے اجراء پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حکومت پنجاب، ڈاکٹر عمرسیف اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتے ہیں کہ ایسا پروگرام وقت کی اہم ترین ضرورت تھی اور ایسے پروگراموں سے ہی پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔ارفع کریم ٹاور میں ای روزگار پروگرام کی لانچنگ تقریب میں صوبائی وزرا ء سید رضا علی گیلانی، جہانگیر خان زادہ، چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر عمر سیف سمیت دیگر نے شرکت کی۔
****

مجھ جیسا آدمی سیاست نہیں کرسکتا، شاہد آفریدی

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی ’جیونیوز‘ کے پروگرام ’جرگہ‘میں ان خیالات کا اظہار کر رہے تھے، یہ پروگرام ’جیو نیوز‘ پر آج رات 10بج کر 5منٹ پر پیش کیا جائے گا۔

شاہد آفریدی نے اپنے سیاسی بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی تعریف کرنی چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ عمران خان کے ہر اچھے کام میں سب سے آگے رہے ہیں، پرویزخٹک کے خلاف بیان کے بعد وضاحت کرکے عمران خان کو خوش نہیں کیا۔

وطن پہلے ، کوئی بھی فرد یا ادارہ بعد میں ہے، آرمی چیف

چیف آف آرمی اسٹاف نے بلوچ رجمنٹ سینٹر ایبٹ آباد کا دورہ کیا اور شہداء کی یادگار پر پھول چڑھائے ۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہداء پر فاتحہ خوانی کی اور بلوچ رجمنٹ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر آرمی چیف نے بلوچ رجمنٹ کے ساتھ اپنی وابستگی کو اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والد بھی بلوچ رجمنٹ کے افسر تھے۔

Google Analytics Alternative