Home » 2017 » March » 10

Daily Archives: March 10, 2017

سندھ ہائیکورٹ نے کچرااٹھانے کے فنڈز کی تفصیلات طلب کرلیں

سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی وصوبائی حکومت ،کنٹونمنٹ بورڈز اور دیگر کو3 ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بنچ نے کراچی کے کچرےسے متعلق درخواست کی سماعت کی ۔ درخواست گزار عبدالحمید گاڈیا نے موقف اختیار کیا کہ شہر گندی اور غلاظت کا ڈھیر بن چکا ہے۔

درخواست گزار نے مزید کہا کہ صوبائی محتسب نے بھی نو روز میں شہر کچرا صاف کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے وفاقی وصوبائی حکومت، کنٹونمنٹ بورڈز اور دیگر سے تین ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی جبکہ کچرا اٹھانے کے اقدامات اور مختص فنڈز کی تفصیلات بھی پیش کرنے کاحکم دیا ہے۔

قندیل بلوچ کیس:گواہوں کو18مارچ تک پیش کرنے کا حکم

پولیس کی جانب سے گرفتار ملزمان وسیم اور حق نواز کو جیل سے ایڈیشنل سیشن جج ملتان کی عدالت پیش کیا گیا ، ملزم عبدالباسط ضمانت پر ہونے کی وجہ سے پیش نہ ہوا ۔

پولیس کے مطابق اشتہاری ملزم ظفر کو پولیس اب تک گرفتار نہ کر سکی ہے، جس کے باعث اسے بھی عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا ۔

عدالت نے شہادتیں ریکارڈ کرنے کے لئے گواہوں کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 18مارچ تک ملتوی کردی ۔

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد: فوجی عدالتوں کی مدت میں 2 سال کی توسیع کا بل منظوری کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2017 پیش کیا، بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروپوں اور مسلح جتھوں کی جانب سے ملکی سا لمیت کو اب بھی سنگین خطرات ہیں، دہشت گردی یا بغاوت سے متعلق جرائم کی فوری سماعت کے اقدامات ناگزیر ہیں اس لئے فوجی عدالتوں میں 2 سالہ توسیع تجویز کی گئی ہے۔

بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ آرمی ایکٹ کی رو سے اپنائے گئے خصوصی اقدامات مزید 2 سال کے لئے جاری رکھے جائیں، فوجی عدالتوں کے قیام میں 2 سال کی توسیع کی جائے گی، 21ویں  ترمیم 7 جنوری 2015 کو نافذالعمل اور 6 جنوری 2017 کو منسوخ ہوئی لیکن غیر معمولی واقعات اور حالات اب بھی موجود ہیں اس لئے فوجی عدالتوں کی مدت کے قیام میں دو سال کی توسیع کی جائے گی۔ آرمی ایکٹ کی منظوری کی صورت میں بل کا اطلاق 7 جنوری 2017 سے ہو گا، فوجی عدالتوں میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات کی سماعت ہو گی، 2 سال بعد فوجی عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات انسداد دہشت گردی عدالتوں کو منتقل ہو جائیں گے۔ پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے، مسلح افواج، عدلیہ، سرکاری ملازمین یا شہریوں پر حملہ کرنے والے کا ٹرائل فوجی ایکٹ کے تحت کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ پارلیمانی رہنماؤں کے 9 مشاورتی اجلاس ہوئے، فوجی عدالتوں کے بل پر تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا تھا اور اب بھی اتفاق رائے کے لئے کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اقدامات میں توسیع کے لئے یہ بل پیش کیے گئے ہیں اور آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد مسودہ 23ویں آئینی ترمیم بن جائے گی۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پیش کردہ حکومتی مسودوں کو دوبارہ پارلیمانی رہنماؤں کی کمیٹی میں بھیج دیا، انہوں نے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو ہدایت کی کہ کھلے ذہن کے ساتھ پیر کو پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس منعقد کریں اور پارلیمانی رہنماؤں کی کمیٹی مزید مشاورت کے بعد مسودوں کو حتمی شکل دے۔

Google Analytics Alternative