Home » 2017 » March » 12

Daily Archives: March 12, 2017

بھوانہ: جسٹس منصور کا نوٹس کام کر گیا، وکلاء نے عدالتوں کے تالے کھول دیئے

بھوانہ میں ججز کو باہر نکال کر عدالتوں کو تالے لگانے کا ڈراپ سین ہو گیا، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے سخت ایکشن سے وکلاء کا ری ایکشن سامنے آ گیا، وکلاء نے خود ہی عدالتوں کے تالے کھول دیئے۔

 

لاہور:  بھوانہ میں وکلاء کی جانب سے عدالتوں کو تالے لگانے کے معاملے کا ڈارپ سین ہو گیا۔ چیف جسٹس نے واقعے میں ملوث وکلاء کے خلاف سخت ایکشن کا حکم دیا تو انہوں نے خود ہی عدالتوں کے تالے کھول دیئے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس منصور علی شاہ نے تالے لگانے پر بھوانہ کے کیسز دوسرے اضلاع میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے بعد وکلاء راہ راست پر آ گئے اور انہوں نے تمام کیسز واپس منتقل کرنے کے لئے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کوخط بھی لکھ دیا ہے۔ وکلاء کی جانب سے آئندہ ججز کے ساتھ بدتمیزی نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کروا دی گئی ہے۔

 

شیل پاکستان کو ریکارڈ 6764 ملین روپے کا منافع

کراچی: 

شیل پاکستان لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سال 2016 کے لیے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیاہے جس کے مطابق شیل پاکستان کو6764ملین روپے کا بعداز ٹیکس منافع حاصل ہوا۔شیل پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر جواد چیمہ نے کہاکہ یہ سال شیل پاکستان کے لیے مالیاتی کارکردگی اور اپنے صارفین کو قابل قدر خدمات پیش کرنے کے لحاظ سے یادگار رہا ہے اورہم نے 6.7 ارب روپے کا ریکارڈ منافع حاصل کیا ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 گنا اور 2دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے، کمپنی نے 28روپے فی حصص حتمی ڈیویڈنڈ کا اعلان بھی کیا ہے جو 6 روپے کے عبوری منافع منقسمہ کے علاوہ ہے۔ اس سال ہم نے پاکستانی صارفین کیلیے شیل۔وی پاور کے نام سے عالمی معیار کا فیول پیش کیا تھا۔

جواد چیمہ نے کہا کہ یہ حکومت پاکستان کی جانب سے مارکیٹ میں پریمیم فیول پر سے پابندیاں ہٹانے کے فیصلے اور او ایم سی کو صارفین کے لیے پروڈکٹس کی پیشکشوں اور انتخاب میں اضافہ کرنے کی اجازت دینے کے بعد ہی ممکن ہوا ہے، کارکردگی میں مسلسل بہتری کیلیے ضروری ہے کہ ساز گار ماحول پیدا کیا جائے اور ہم اس شعبے میںانفرااسٹرکچر اور پالیسی میں مزید بہتری لانے کیلیے حکومت کی سپورٹ کے منتظر ہیں۔

فٹ بال اسٹار رونالڈینو رواں برس پاکستان کا دورہ کرینگے

برازیلین فٹ بال لیجنڈ رونالڈینو رواں برس پاکستان کا دورہ کریں گے ۔

برازیل کے فٹ بال اسٹار کراچی میں نمائشی میچ بھی کھیلیں گے اور شائقین کو گرائونڈ میں اپنی مہارت کے جوہر دکھائیں گے۔

ذرائع کے مطابق رونالڈینو نےاس حوالے سے منتظمین سے معاہدہ کرلیا ہے۔

لاہورمیں ورکرزکنونشن پی ٹی آئی کیلئے چیلنج بن گیا

لاہور کے علاقے ٹائون شب میں ورکرز کنونشن تحریک انصاف کے لئے چیلنج بن گیا ،ہال کا مالک تالا لگا کر غائب ہوگیا ، نامعلوم افراد نے پارٹی پرچم اور بینرز پھاڑ دئیے گئے۔

پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پارٹی پرچم اور بینرز پھاڑنے پر ن لیگ کے خلاف احتجاجی نعرے بازی کی اور سڑک پر ہی کرسیاں لگا کرورکرز کنونشن شروع کردیا ۔

پی ٹی آئی کے جھنڈے اور بینرز برساتی نالے میں پھینک دئیے گئے،جس پر تحریک انصاف کی قیادت نے الزام عائد کیا ہے کہ تمام کارروائی مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی طرف سے کی گئی ہے۔

گزشتہ شب ن لیگ کے کارکنوں نے بھی پارٹی دفتر کے قریب پروگرام کرنے پر احتجاج کیا تھا،جس کے بعد پی ٹی آئی نے کنونشن کیلئے جس شادی ہال میں بکنگ کرائی تھی اس کا مالک بھی ہال کو تالے لگا کر غائب ہوگیا ہے۔

وفاقی کابینہ نے اسحاق ڈار کو ضمنی بجٹ پیش کرنے کا اختیار دے دیا

اسلام آباد: 

وفاقی کابینہ نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو ضمنی بجٹ پیش کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

وزیر خزانہ اب وزیر اعظم کی توثیق کے بغیر اپنی وزارت کے حوالے سے فیصلے کرسکیں گے۔ دوسری جانب  آئینی و قانونی ماہرین نے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام غیر آئینی اور عدالتی احکام کی صریح خلاف ورزی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ فروری کے اوائل میں وفاقی کابینہ نے اسحٰق ڈار کو اختیار دیدیا تھا کہ وہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سمیت وزارت خزانہ کے  ماتحت اداروں اور شعبوں وزیر اعظم کی مشاورت سے خود تقرریاں کرسکیں تاہم اب انھیں کسی بھی فیصلے میں وزیر اعظم کی توثیق کی اجازت نہیں ہوگی۔

دوسری جانب قانونی ماہر بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی ہے کیونکہ سپریم کورٹ اس حوالے سے واضح طور پر قرار دے چکی ہے کہ کسی بھی وزیر کو کابینہ کے اختیارات نہیں دیے جاسکتے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب بہت سے معاملات پر عوام کو حکومتی اقدامات پر کافی تحفظات ہیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 3 سال میں وزارت خزانہ نے متعدد بار ضمنی بجٹ پیش کیے ہیں جن سے وزیر اعظم کیلیے لگژری گاڑیاں خریدی گئیں اور سیاسی طور پر جاری کئی پروجیکٹس پر فنڈ لگائے گئے۔

دہی کا استعمال ڈپریشن کے خاتمے میں مددگار

ورجینیا: 

تحقیق سے ثابت ہوا ہےکہ دہی میں نہ صرف ہاضمے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کا استعمال ڈپریشن دور میں کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ایک حالیہ تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ تازہ دہی میں موجود بیکٹیریا ’’لیکٹوبیکیلس‘‘ نہ صرف ہاضمے کے لیے ضروری ہوتے ہیں بلکہ جب وہ ڈپریشن کے شکار چوہوں کے پیٹ میں ڈالے گئے تو ان کی آنت میں بیکٹیریا کی تعداد بڑھی اور اس سے ان کی ڈپریشن دور ہوگئی۔ اس تحقیق کی بناء پر یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن نکے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چوہوں پر کیے گئے تجربات انسانوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔

تحقیق کے مرکزی محقق کا کہنا ہےکہ ڈپریشن کی دوائیں مہنگی اور سائیڈ افیکٹس سے بھرپور ہوتی ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دہی میں موجود خردنامیوں کو استعمال کرکے اس مرض کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی عادات بدل کر ہم جادوئی فوائد حاصل کرسکتے ہیں، جسم میں بیکٹیریا کی آبادی اور اقسام میں توازن سے صحت کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق تحقیق اور کئی مطالعات سے ثابت ہوچکا ہےکہ دہی میں موجود پروبایوٹکس جن مفید بیکٹیریا میں اضافہ کرتے ہیں وہ ذہنی تناؤ، الجھن اور ڈپریشن کو دور کرسکتے ہیں۔

ماہرین نے علاج سے پہلے اور بعد میں چوہوں کے اندر موجود لیکٹوبیکیلس کی مقدار اور ان میں ڈپریشن کی شدت کو نوٹ کیا۔ جیسے ہی چوہوں میں خاص بیکٹیریا کم ہوئے ان میں ڈپریشن جیسے آثار نمودار ہونے لگے، جب بیکٹیریا کی تعداد بڑھائی گئی تو وہ دوبارہ نارمل ہونے لگے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہوسکتی ہے کہ یہ بیکٹیریا خون کے ایک عنصر کائنو یورینائن کی مقدار کم یا زیادہ کرتا ہے اور اس کیمیکل کی وجہ سے دماغ میں اداسی اور مایوسی جنم لیتی ہے۔ یعنی بیکٹیریا کم ہونے سے کائنو یورینائن بڑھتے ہیں اور ڈپریشن کی وجہ بنتے ہیں۔

اس تحقیق پر دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ انسان بہت پیچیدہ ہے اور شاید چوہوں کا ماڈل انسانوں پر کارآمد ثابت نہ ہوسکے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے بڑے پیمانے پر انسانوں پر آزمایا جائے۔

فیس بک کا پیشگوئی کیلیے سافٹ ویئر بنانے کا منصوبہ

سان فرانسسکو: 

فیس بک کے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ وہ ایسے منصوبوں پر کام کررہے ہیں جن کے ذریعے کسی سافٹ ویئر اور روبوٹ کو ’’عقلِ سلیم‘‘ یا کامن سینس دے کر ان سے مستقبل بینی کا کام لیا جاسکے گا۔فیس بک میں مصنوعی ذہانت یعنی ’’آرٹی فیشل انٹیلیجنس‘‘ کے سربراہ یان لی کن کا کہنا ہےکہ نیورل نیٹ ورک کے ذریعے مشین اور سافٹ ویئر کو عقلِ سلیم سکھائی جاسکتی ہے جسے پیش گوئی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ پیچیدہ معاملات میں لگی بندھی ہدایات کی بجائے خود انہیں ماحول اور اطراف سے سیکھنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ بہتر انداز میں کسی معاملے کی پیش بینی کرسکیں۔

یان لی کن نے کہا کہ ہم ایسے نیٹ ورک بنانا چاہتے ہیں جو اپنے مشاہدات سے سیکھیں اور ان کی بنیاد پر فوری طور پر اگلے واقعے یا مستقبل کی پیش گوئی کرسکیں۔ اگرچہ فیس بک نے اس کی تفصیلات نہیں بتائی ہیں لیکن اتنا کہا ہے کہ اس ضمن میں مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔

فیس بک کے مطابق تصاویر اور مناظر کی بہتر شناخت کرنے کے قابل سافٹ ویئر کے ساتھ نیورل نیٹ ورک کا ملاپ کرادیا جائے تو ایک کمپیوٹر پیچیدہ تصاویر کو دیکھ کر پہچان سکتا ہے کہ ان کا موضوع کیا ہے۔ مثلاً آج کے سافٹ ویئر کسی تصویر کو اس کے خد و خال کی بنیاد پر پہچان تو سکتے ہیں لیکن وہ مبہم یا پیچیدہ مناظر میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ جیسے کہ ایک ایسا منظر جو قدرے پیچیدہ ہو اور اس میں جزئیات (details) بھی زیادہ ہوں تو سافٹ ویئر یہ فیصلہ ہی نہیں کرپاتا کہ آخر اس منظر میں کیا ظاہر کیا جارہا ہے لیکن اگر اس کے پاس انسانوں جیسی عقلِ سلیم ہو تو وہ پہلے وہ اس منظر کی تمام جزئیات کو جداگانہ طور پر شناخت کرے گا اور پھر ان تمام جزئیات کو باہم مربوط (integrate) کرتے ہوئے پورے منظر کی مجموعی شناخت کا عمل سرانجام دے گا۔

نیورل نیٹ ورک ایسے مصنوعی سسٹم ہوتے ہیں جو عین انسانی دماغ کی طرز پر کام کرتے ہیں اور ان پر کئی دہائیوں سے تحقیق ہورہی ہے۔  لی کن کے مطابق نیورل نیٹ ورکس کو مشین وژن کے ساتھ ملاکر کامن سینس پیدا کیا جاسکتا ہے جس سے عام زندگی میں بہت سے فوائد حاصل ہوسکیں گے۔

اسی طرح اگر اس کے سامنے کسی منظر کی ترتیب وار تصاویر ہوں تو وہ اس پورے سلسلے کو دیکھتے ہوئے یہ پیش گوئی بھی کرسکے گا کہ اگلا منظر کیا ہونا چاہیے۔ یہ بالکل اسی طرح سے ہے جیسے کسی سافٹ ویئر یا براؤزر میں عبارت کے لیے ’’آٹو کمپلیٹ‘‘ یعنی خودکار تکمیل کی صلاحیت ہوتی ہے۔ البتہ ہر تصویر کو علیحدہ علیحدہ دیکھتے ہوئے شناخت کرنا اور پھر ممکنہ طور پر اگلی تصویر کے بارے میں پیش گوئی کرنا تحریر کے معاملے میں کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔

پاکستان کیریبئنز کو اسپین جال میں الجھانے کے خواب دیکھنے لگا

لاہور: 

پاکستان کیریبیئنز کو اسپن جال میں الجھانے کے خواب دیکھنے لگا۔قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ  ویسٹ انڈیز کی کنڈیشز ہمارے لیے ہوم گراؤنڈ جیسی ہیں، تینوں ون ڈے میچز گیانا میں ہیں،گرین شرٹس کو کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ٹیم اچھا پرفارم کرے گی،کیریبیئنز جزائر میں اسپنرز اہم کردار ادا کریں گے اور ہمارے پاس ان معرکوں کیلیے موثر ہتھیار موجود ہیں، بعد ازاں چیمپئنز ٹرافی میں انگلینڈ کی کنڈیشنز بالکل مختلف ہوں گی لیکن بہترین کرکٹرز کے پول کی مدد سے اپنا گیم پلان تشکیل دے کر اچھا پرفارم کرسکتے ہیں۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ تربیتی کیمپ میں 31 کھلاڑی شریک ہیں، ان کی 2ٹیمیں تشکیل دے کر پریکٹس میچ کھیلیں گے، کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد دورئہ ویسٹ انڈیز کیلیے اسکواڈ تشکیل دیا جائے گا،کیمپ میں کرکٹرز کی فٹنس، فیلڈنگ، بیٹنگ، بولنگ میں بہتری اور کارکردگی میں  تسلسل لانے کیلیے کام ہورہا ہے۔

آرتھر نے کہا کہ ایمرجنگ کیمپ میں نئے باصلاحیت کھلاڑی دیکھ کر خوشی ہوئی، ان کی شمولیت سے دیگر نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اورپیغام ملے گا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین پرفارم کرکے اپنا مقام بنا سکتے ہیں۔

ایک سوال پر کوچ نے کہا کہ دورئہ آسٹریلیا میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل نہ ہونے کا سبب فٹنس کی کمی بھی تھی، کینگروز نے بہتر رننگ سے ٹوٹل میں 30یا 40رنز کا اضافہ کرنے کے ساتھ فیلڈنگ میں بھی رنز بچائے، ہم بیٹنگ اور بولنگ میں ان کے ہم پلہ تھے، آرتھر نے کہا کہ ہم ٹیم میں فٹنس کلچر بدلنے کی کوشش کررہے ہیں، تربیتی کیمپ میں شریک تمام کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں،گذشتہ 8ماہ میں محنت کے نتائج بھی سامنے آنے لگے، زیادہ تر کرکٹرز  کا معیار بہترنظر آیا تاہم دیگر غیر ملکی ٹیموں سے ابھی بہت پیچھے ہیں، مسلسل بہت کام کرنا ہوگا۔

ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ میرے ہیڈ کوچ کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پاکستان کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے،  ٹیم ہوم سیریز میں اچھی کارکردگی دکھا رہی اور ایشیا سے باہر کی کنڈیشز میں بھی بیٹنگ کافی اچھی ہوئی، نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر نہ ہو تو کوچ کو پریشانی ہوتی ہے لیکن ہمیں بابر اعظم، عماد وسیم اور حسن علی جیسے کرکٹرز میسر آئے ہیں، انھیں اعتماد اور تجربہ ملے گا تو مزید اچھے نتائج سامنے آئیں گے، آرتھر نے کہا کہ پاکستانی ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل کرکٹ میں کافی فرق ہے تاہم یہ سلیکشن کمیٹی اور ہمیں دیکھنا ہے کہ کون سا پلیئر آئندہ چل کر ملک کی نمائندگی کیلیے موزوں ہوگا۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ اظہر علی بھی تکنیکی طور پر بہتر کپتان تھے، پی سی بی ٹیم کو نئی جہت دینا چاہتا تھا،اس لیے سرفراز احمد کا انتخاب کیا،وہ اپنے نڈر اور جارحانہ اندازکی وجہ سے ہمیں جدید کرکٹ کے قریب لے جا سکتے ہیں۔ آرتھر نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ابھی کافی وقت ہے لیکن میگا ایونٹ کیلیے اسکواڈ میں بہترین کھلاڑی شامل کرنے کیلیے تیاریاں شروع کردی ہیں، ایمرجنگ کیمپ میں ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی صلاحیتوں کو پرکھنے کا موقع ملا، ان میں سے چند کو دورئہ ویسٹ انڈیز کیلیے ممکنہ کھلاڑیوں میں بھی شامل کرلیا ہے،اس ضمن میں کام جاری رکھیں گے،ہر پوزیشن کیلیے موزوں پلیئرز کا انتخاب کرلیا تو پھر ورلڈ کپ تک اسکواڈ میں زیادہ اکھاڑ پچھاڑ نہیں کریں گے۔

آرتھر نے کہاکہ کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل نہ ہونا ایک مسئلہ ہے،اس پر قابو پانے کیلیے فٹنس اور پریکٹس دونوں پر توجہ دینا ہوگی، ون ڈے میچز میں ہمیں اپنے پرانے روایتی انداز میں تبدیلی لانی چاہیے اور ٹیم کو 310سے 340تک رنز بنانے کے قابل بنانا ہوگا،چیف سلیکٹر انضمام الحق کے ساتھ ٹیم کے حوالے سے تفصیلی بات ہوتی ہے، نیشنل کرکٹ اکیڈمی حکام سے بھی ہم آہنگی ہے، سب مل کر کام کرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دینے کا سلسلہ جاری رکھیں گے جبکہ ایمرجنگ تربیتی کیمپ میں جگہ نہ بنانے والوں کو بنگلہ دیش میں انڈر 23 ایشیا کپ کیلیے اسکواڈ میں شامل کریں گے۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative