Home » 2017 » March » 15

Daily Archives: March 15, 2017

پاناما کیس پر حکمران گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں، عمران خان

راولپنڈی: چیرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ پاناما کیس پر حکمران گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس عدالتی فیصلہ ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

چیرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب کسی مسئلے سے جان نکالنی ہو تو کمیشن بنادیا جاتا ہے البتہ پاناما کیس کے فیصلے سے پاکستان بدل جائے گا جب کہ پاناما کیس پر حکمران گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کے پاس عدالتی فیصلہ ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس پر سیاست کرتے تو عدالت نہ جاتے جب کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ آیا قبول کریں گے۔

چیرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے اور اسحاق ڈار نے بھی وزیراعظم کے لیے منی لانڈرنگ کی جب کہ پاکستانیوں نے 4 سال میں 8 ہزار ارب کی دبئی میں پراپرٹی خریدی۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہے، پاکستان کے ہر بڑے پروجیکٹ میں کرپشن ہوئی اور ہورہی ہے، کرپشن ملک کو غریب کردیتی ہے اور ادارے تباہ ہوں تو ملک بھی تباہ ہوجاتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پولیس کا غلط استعمال کیا جارہا ہے جب کہ ہم نے خیبرپختونخوا میں پولیس کو پروفیشنل کردیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی پارٹی نہیں بلکہ مافیا ہے اور نوازشریف کا رویہ پرویز مشرف سے زیادہ آمرانہ ہے۔

وزیراعظم اپنے بیانیے کو واضح کریں، مولانا فضل الرحمان

نوشہرہ میں علماء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دینی مدارس جبر کے فلسفےکے خلاف اپنا مؤقف بیان کر چکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ وہ عمران خان کے بیانات پر تبصرہ کرکے اپنی توانائی ضائع نہیں کرنا چاہتے، عمران کوشکست دے دی ہے، ان کی رائے کی کوئی وقعت نہیں،ان کے بیان پر تبصرہ کرنا اپنا وقت ضائع کرنا ہے ۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف نے مزید کہاکہ کوئی وزیر کسی مدرسے میں چلاجائے اورامداددے جائے تو اسے بڑا مذہبی رہنما قرار دے دیا جاتا ہے، مدارس پرتنقید ہوتی ہے توہمیشہ اس کا جواب دیا جاتا ہے۔

مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسلام نے آزادی کو انسان کا پیدائشی حق قرار دیاہے، انسانی حقوق کا تحفظ امن کا ضامن ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پسماندہ طبقات کو پسماندگی سے نکالنا قرآن کی تعلیمات ہیں، آج دینی اورمذہبی طبقہ آزمائش کے دورسے گزررہاہے۔

مولانافضل الرحمان نے مزید کہا کہ ایک دوسرے کے حقوق پرحملے سے فسادات پیدا ہوتےہیں،خوش قسمتی ہے کہ ہماری زندگی میں جمعیت علمائے اسلام نے 100 سال پورے کئے۔

تارکینِ وطن کی قانونی رہنمائی کرنے والا سافٹ ویئر

سلیکان ویلی: امریکی سافٹ ویئر انجینئر نے ایسا کمپیوٹر پروگرام تیار کیا ہے جو امیگریشن اور پناہ کی درخواست دینے والوں کو درپیش قانونی مسائل حل کرنے کے لیے انہیں خودکار انداز میں قانونی مشاورت اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے انجینئر کا تیار کردہ یہ سافٹ ویئر امریکا، کینیڈا اور برطانیہ کے لیے امیگریشن اور پناہ کی درخواستیں دینے والوں کو مفت آن لائن قانونی مشاورت اور رہنمائی فراہم کرتا ہے جب کہ اس مقصد کے لیے یہ سادہ انگریزی میں اپنے صارف کے ساتھ معلومات کا تحریری تبادلہ کرتا ہے یعنی یہ ایک ’’چیٹ بوٹ‘‘ (Chatbot) ہے۔ فی الحال اسے صرف فیس بُک میسنجر کے ساتھ ہی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پہلے پہل اسے ایک کمپنی کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ ان لوگوں کو قانونی رہنمائی دی جاسکے جنہیں غلط طور پر ٹریفک چالانوں اور جرمانوں کا سامنا ہے مگر وہ اپنے لیے وکیل کرنے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ آن لائن شروع ہونے والی یہ مفت سروس کچھ ہی عرصے میں لندن، نیویارک اور سیاٹل میں 2 لاکھ سے زیادہ ڈرائیوروں کو ناجائز ٹریفک چالانوں اور جرمانوں سے چھٹکارا دلواچکی ہے۔ مزید ترامیم و اضافہ جات کے بعد اسی سافٹ ویئر کے ذریعے امریکا اور برطانیہ کے شہری جائیداد سے متعلق امور میں مفت آن لائن قانونی مشورے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

سابقہ کامیابیوں کے پیش نظر اس انجینئر نے وکلاء کی مدد سے اس پر مزید کام کیا اور اب اس کا جدید ترین ورژن ایک نئی سروس کی صورت میں امیگریشن اور پناہ (اسائیلم) کی درخواستیں دینے والوں کی خودکار رہنمائی کررہا ہے اور انہیں درست طور پر امیگریشن/ اسائیلم فارم بھرنے میں مدد بھی فراہم کررہا ہے۔ انجینئر کا کہنا ہےکہ وہ اس ’’چیٹ بوٹ‘‘ کو خوب سے خوب تر بنانے کے لیے مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں اور اس کے آئندہ ورژن میں واٹس ایپ پر کام کرنے کی سہولت بھی موجود ہوگی۔

ویسے تو مؤکلوں کو قانونی مشورے دینے کے لیے آئی بی ایم پہلے ہی ’’راس‘‘ کے نام سے ایک خودکار سافٹ ویئر بناچکا ہے لیکن زبان اور انٹرفیس میں سادگی کے باعث امریکی انجینئر کا یہ چیٹ بوٹ استعمال میں بہت ہی آسان ہے جس سے وہ عام شہری بھی فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو قانونی زبان سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے۔

صارفین کی پرائیویسی یقینی بنانے کے لیے چیٹ بوٹ اور صارف میں ہونے والا تبادلہ خیال مکمل ہوتے ہی سرور سے ڈیلیٹ کردیا جاتا ہے البتہ صارف کے کمپیوٹر پر وہ محفوظ رہتا ہے۔

گلوبل وارمنگ کے باعث سمندر تیزی سے گرم ہورہے ہیں، تحقیق

لندن: سمندر دنیا کے 70 فیصد سے زائد رقبے پر موجود ہیں اور عالمی موسموں پر ان کا غیرمعمولی اثر ہوتا ہے لیکن اس حوالے سے بری خبر یہ ہے کہ گلوبل وارمنگ سے ہونے والی حرارت تیزی سے سمندروں میں اتر رہی ہے اور اب ہمارے پرانے اندازے کے مقابلے میں سمندر 13 فیصد تیزی سے گرم ہورہے ہیں۔

جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 60 برس سے سمندروں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور گزشتہ تخمینوں کے مقابلے میں اب یہ گرمی 13 فیصد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے قبل 1992 میں کہا گیا تھا کہ 1960 کے مقابلے میں عالمی سمندروں کا درجہ حرارت دُگنا بڑھا ہے۔

اس مطالعے کی رپورٹ کے مصنف کے مطابق گزشتہ 60 برسوں میں سمندری پانی گرم ہونے کی شرح بھی تیزی سے بڑھی ہے کیونکہ گرین ہاؤس گیسز سے بڑھنے والی گرمی کی 90 فیصد مقدار سمندروں میں ہی جذب ہورہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ موسمیاتی نظام میں سمندر غیرمعمولی کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی گرمی سے زمین سے لے کر ہوا تک کا سارا سسٹم متاثر ہورہا ہے، ہم دیکھ چکے ہیں کہ 2015 تاریخ کا گرم ترین سال رہا لیکن اگلے ہی برس یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا اور اب 2016 تاریخ کا گرم ترین سال قرار پایا ہے۔ اس سے پوری دنیا میں خشک سالی، قحط، طوفان ، سیلاب اور بادوباراں کے غیرمعمولی واقعات پیش آئے ہیں۔

چین کا تعاون پاکستان میں صنعتی انقلاب برپا کریگا،احسن اقبال

ایک بیان میںاحسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں صنعتی انقلاب سی پیک منصوبے کا اہم حصہ ہے ، وفاقی دارالحکومت سمیت چاروں صوبو ں آزاد کشمیر گلگت بلتستان اور فاٹا میں صنعتی زون قائم کیے جائیں گے، پاکستان سمیت بڑی بڑی چینی کمپنیاں ان صنعتی زونز میں سرمایہ کاری کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں آج چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کی دوڑ لگ چکی ہے،چینی صنعتیں دنیا کے متعدد ملکوں میں منتقل ہو رہی ہیں پاکستان میں کیوں نہیں ۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی کا کہناتھاکہ سی پیک کے تحت صنعتی زونز کے قیام سے روز گار کے مواقع بڑھیں گے اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی بھی پاکستان منتقل ہو گی ۔

مہنگی گندم گلے پڑ گئی، فائدے کے بجائے بھاری نقصانات کا خدشہ

 کراچی: گندم کے بھاری ذخائر کے باوجود پاکستان فاضل گندم فروخت نہیں کرسکتا جس کی بڑی وجہ زائد قیمتیں ہیں اور یہ غلط سرکاری پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے مسلسل اچھی پیداوار کا پھل کاشت کار کو مل رہا ہے نہ عوام کو، بلکہ ملکی صارفین مہنگی گندم خریدنے پر مجبور ہیں۔

فلورملزانڈسٹری کے باخبرذرائع نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ رواں سال 30 مئی2017 تک گندم کی 2.5 کروڑ ٹن پیداوارکا تخمینہ لگایا گیا ہے  جبکہ کھپت 1 کروڑ 70تا 80 لاکھ  ٹن سالانہ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گندم کی مجموعی پیداوار میں72 فیصد حصہ پنجاب کا ہے جبکہ سندھ کا حصہ 25 فیصد ہے، پنجاب کے پاس سالانہ22 لاکھ ٹن، سندھ 6 لاکھ40 ہزار ٹن اور پاسکوکے پاس12 لاکھ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، ملک میں بڑے پیمانے پر فاضل ذخائر کو محفوظ بنانے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے  ہرسال مجموعی پیداوار کا10 فیصد گندم ضائع ہو جاتی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ بدلتے عالمی  رحجانات اور زمینی حقائق کے تناظر میں  پالیسی سازوں کی جانب سے سرپلس گندم کی برآمدات سے متعلق فیصلوں کے فقدان کے سبب گزشتہ 3 سال سے گندم کے سرپلس ذخائر کا حجم بڑھتا جارہا ہے جو نہ صرف ملک کو متوقع زرمبادلہ کی آمدنی سے محروم کررہا ہے بلکہ حکومت کے لیے بھی بھاری خسارے کا سبب بن رہا ہے۔ پاکستان فلورملزایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین چوہدری یوسف نے بتایا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں گندم کی قیمت170 ڈالر فی ٹن اور پاکستان میں330 ڈالر فی ٹن ہے، یہی وجہ ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے گندم کی برآمد پر 120 ڈالر فی ٹن مشترکہ زرتلافی (ری بیٹ) دینے کے باوجود پاکستانی گندم کی برآمدی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیِں،  یہی وجہ ہے کہ ملک میں گندم کے سرپلس ذخائرکا حجم بڑھتا جارہا ہے۔

پاکستان بیوروشماریات کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 7ماہ کے دوران ملک سے صرف885 میٹرک ٹن گندم برآمد کی جاسکی جس سے پاکستان کو 2لاکھ58ہزار ڈالر کا زرمبادلہ ملا۔  چوہدری یوسف نے حکومت پر زور دیا کہ فاضل ذخائر کی مد میں 1کھرب روپے سے زائدکے نقصانات سے بچنے کے لیے فی الفورگندم کے فاضل ذخائر برآمدکرنے کی حکمت عملی مرتب کرے، پالیسی ساز سالانہ بنیادوں پر مقامی کھپت کے علاوہ 3 تا4 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر کو محفوظ رکھیں اور باقی سرپلس گندم کو بیرونی منڈیوں میں فروخت کرنے کی طویل المدتی پالیسی ترتیب دیں تاکہ یہ غیرروایتی شعبہ بھی ملکی برآمدات میں اپنا حصہ اداکرنے کے قابل ہوسکے۔

ایک سوال پر انھوں  نے بتایا کہ حکومت کو فی ٹن گندم پر7500 روپے کے اخراجات مختلف مدوں میں آتے ہیں، فیومی گیشن کے ساتھ گندم کے ذخائر کو صرف ایک تا ڈیڑھ سال کی مدت کے لیے محفوظ رکھا جاسکتا ہے لیکن پرانی گندم میں اس کی بنیادی طاقت ختم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں گندم کا معیارگرجاتاہے۔

ایف بی آر میں ترقیوں کا فیصلہ کالعدم قرار

ایف بی آر کے گریڈ 21سے 22 میں ترقیوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے کی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ایک ماہ میں ازسرنو بلائے گئے اجلاس میں ممبران کے علاوہ کسی اجنبی کو شریک نہ ہونے دیا جائے۔

چیف جسٹس نے ایف بی آر کی ترقیوں سے متعلق اجلاس میں اسحاق ڈار اور خواجہ ظہیر احمد کی شرکت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دونوں کی شرکت اجنبی سے زیادہ نہ تھی ،اسحاق ڈار کس قانون کے تحت شریک ہوئے ، سینئر افسران کو نظر انداز کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی ۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ اسحاق ڈار کے پاس افسران کے بارےمیں ایسی کون سی معلومات تھیں جوچیئرمین ایف بی آر کےپاس نہیں تھیں۔

سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نےکہاکہ دونوں نے وزیر اعظم کی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔ جسٹس مقبول باقر نے ریماکس دیئے کہ جنہیں ترقی ملی ، ان کے خلاف متعدد رپورٹس موجود تھیں ، اجلاس میں اجنبی لوگ بیٹھیں گے توایسے فیصلے ہوں گے ۔

عدالت نے حکم دیا کہ اجلاس میں ممبران کے سوا کوئی اجنبی شریک نہ ہو، افسروں کی ترقی کیلئے نئے سرے سے اجلاس بلایاجائے، کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی ۔

دورہ ویسٹ انڈیز کیلئے قومی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا اعلان

لاہور: دورہ ویسٹ انڈیز کے لیئے قومی ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ اسکواڈ کا اعلان کردیا گیا ہے جس میں کامران اکمل اور احمد شہزاد کی واپسی ہوئی ہے جب کہ ون ڈے کے سابق کپتان اظہرعلی، عمر اکمل اور یاسر شاہ ٹیم میں جگہ  نہیں بنا سکے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے بتایا کہ عمرا کمل کو فٹنس مسائل کے باعث دورہ ویسٹ انڈیز کے لیئے قومی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا ہے جب کہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل اور اوپننگ بلے باز احمد شہزاد ٹیم میں واپس آئے ہیں،ٹیم کے کپتان سرفراز احمد ہیں جب کہ دیگر کھلاڑیوں میں محمد حفیظ ،بابراعظم،شعیب ملک ،فخر زمان،شاداب خان،عثمان شنواری،وہاب ریاض،عماد وسیم ،محمد نوازاور حسن علی،سہیل تنویر،رومان رئیس، شامل ہیں جب کہ فاسٹ بالر محمد عامر کو ٹی ٹوئنٹی میں آرام کا موقع دیا گیا ہے۔

ون ڈے ٹیم میں شامل 16 کھلاڑیوں میں کپتان سرفراز حمد،احمد شہزاد،کامران اکمل،محمد حفیظ،بابراعظم،شعیب ملک،فخرزمان ،آصف ذاکر،عماد وسیم،شاداب خان،فاسٹ بالرزمیں حسن علی،وہاب ریاض ،محمد عامر،فہیم اشرف اور جنید خان شامل ہیں جب کہ اسپن بالنگ کے لیئے محمد اصغر کو موقع دیا گیا ہے۔

ون ڈے ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں،اس حوالے سے انضمام الحق کا کہنا تھا کہ ہم فی الحال نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہتے ہیں تاہم آئندہ انگلینڈ میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی میں اظہر علی کو موقع دیا جاسکتا ہے۔چیف سیلکٹر کے مطابق ٹیسٹ ٹیم کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

Google Analytics Alternative