Home » 2017 » April » 02

Daily Archives: April 2, 2017

پاراچنار میں دہشت گردی

کرم ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پاراچنار کو آخری سانسیں لیتے دہشت گردوں نے ایک بارپھر لہولہان کردیا امام بارگاہ کے باہرکاربم دھماکے کے نتیجے میں خواتین ،بچوں سمیت24افراد شہید اور90سے زائد زخمی ہوگئے ۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ مارکیٹ اور وہاں پر موجود لوگ ڈھیر ہوگئے چاروں طرف آگ اور دھواں پھیل گیا۔ مرکزی امام بارگاہ کے قریب نور مارکیٹ کے مین گیٹ پر جو چند فٹ امام بارگاہ سے دور ہے موٹر کار میں شدید دھماکہ ہوا ۔ دھماکے میں کئی دکانیں اور گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے بعد بازار میں بھگدڑ مچ گئی۔ کالعدم تنظیم جماعت الاحرار نے ویڈیو پیغام کے ذریعے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ حملہ آوروں نے بازار سے کچھ فاصلے کی دوری پر موجود پھاٹک پر کھڑے لیویز اہلکاروں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے بعد دھماکہ ہوا۔ وزیراعظم محمد نوازشریف، صدر مملکت ممنون حسین، وزیرداخلہ چوہدری نثار، مولانا فضل الرحمان، سراج الحق، آصف علی زردرای، عمران خان، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف، اسحاق ڈار بلاول بھٹو، خورشید شاہ، طاہر القادری، میاں محمد جمیل اور دیگر نے دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ ملک سے دہشت گردی کے عفریت کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو پہلے ہی توڑا جا چکا ہے اور اب ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ اس جنگ کو اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک جاری رکھیں۔ متعلقہ حکام حالات سے نمٹنے کیلئے مقامی انتظامیہ کو مکمل مدد فراہم کی جائے۔ ملک سے دہشتگردی کا ہرقیمت پر مکمل خاتمہ کریں گے۔ وزیرداخلہ نے متعلقہ حکام سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ صوبائی حکومت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے 4، 4 لاکھ، زخمیوں کیلئے ایک ایک لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔دھماکے کے بعد علاقے کے لوگوں نے اپنے عزیزوں کی میتیں پولیٹیکل انتظامیہ کے دفتر کے سامنے رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیااوردھرنا بھی دیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ خیال رہے کہ کرم ایجنسی فرقہ وارانہ جھڑپوں کی وجہ سے انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ماضی میں فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے ہزاروں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ کرم ایجنسی کے ساتھ افغانستان کا علاقہ ننگر ہار لگتا ہے، جہاں سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی طرف سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ دریں اثنا مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام پاراچنار میں دھماکے کیخلاف ملک گیر احتجاج، چاروں صوبوں سمیت آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے گئے، اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، ملتان، فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں نماز جمعہ کے بعد مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ مبارک موسوی نے دہشتگردوں کی سفاکانہ و بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کی ۔کرم ایجنسی کاصدر مقام انتہائی حساس نوعیت کاحامل ہے ماضی میں بھی انسانیت کے دشمنوں نے اس کو تین بار نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں سینکڑوں افراد شہید وزخمی ہوگئے۔ اب افغان بارڈر کھولتے ہی دہشت گردوں نے اس کو نشانہ بنایا ۔اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ضرب عضب میں ہزاروں دہشت گردوں کاصفایا کیا جاچکا ہے اور بچے کھچے دہشت گردوں کے خلاف ردالفساد جاری ہے ۔دہشت گرد اب بچ نہیں پائیں گے کیونکہ سیاسی وعسکری قیادت انسداد دہشت گردی کیلئے پُرعزم ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
حکومت نے ایک بارپھرعوام پر پٹرول بم گرادیا ہے جس کے نتیجے میں عوام کے مسائل میں جہاں اضافہ ہوا ہے وہاں ان میں اضطراب کی کیفیت بھی دکھائی دیتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو اس تناظر میں دیکھاجاسکتا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات میں ردوبدل کا فیصلہ کرتے ہوئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک ایک روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں برقراررہیں گی۔حکومت اپریل کے مہینے میں پٹرولیم مصنوعات پر 3 ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں بدستور 44 روپے فی لیٹر برقرار رہیں گی حالانکہ اوگرا نے مٹی کے تیل میں 13 روپے 76 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں پونے 8 روپے کا اضافہ تجویز کیا تھا۔ ان دونوں آئٹمز کی قیمتوں میں وزیراعظم اور حکومت نے اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 28 پیسے اور ڈیزل میں 2 روپے 4 پیسے اضافہ تجویز کیا تھا مگر وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ دونوں میں صرف ایک ایک روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 6 ماہ تک کوئی اضافہ نہیں کیا تھا اور 3 ماہ میں جزوی طور پر اضافہ کر رہے ہیں۔ اس مد میں ہمیں مجموعی طور پر 100بلین کے قریب بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ اضافے کے ساتھ پیٹرول کی نئی قیمت 73 روپے سے بڑھ کر 74 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت 82 روپے سے بڑھ کر 83 روپے فی لیٹر ہو جائے گی جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمت بدستور 44 روپے فی لیٹر ہی رہیں گی۔حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام لانے میں ناکام ہے کئی بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیاجاچکا ہے حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کوبرقراررکھے۔لیکن ایسا کرنے میں حکومت کامیاب نہیں ہوپارہی جس سے عوام پریشان دکھائی دیتی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
پاکستان کوتنہاکرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ عمران نے ترقی اور تعیناتی پر آرمی چیف کو مبارکباد دی۔ اس موقع پر مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں قومی اور عالمی معاملات زیر غور آئے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، افغان مہاجرین کا معاملہ، آپریشن ردالفساد اور خیبر پی کے کے مسائل پر بات چیت ہوئی۔آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے منگلا کے قریب پبی میں نیشنل کانٹر ٹیررزم سنٹر کا دورہ کیا انسداد دہشتگردی سنٹر میں آرمی چیف نے ٹیم سپرٹ مقابلوں کا جائزہ لیا۔ آرمی چیف نے غیر ملکی ٹیموں سے ملاقات کی۔ آرمی چیف نے کہا کہ دہشتگردی پوری دنیا کو متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان نے امن و استحکام کیلئے اہم کردار ادا کیا دنیا امن و استحکام کیلئے ہماری کوششوں کو تسلیم کرتی ہے۔ غیر ملکی ٹیموں کی یہاں موجودگی ہماری کوششوں کو تسلیم کئے جانے کا ثبوت ہے۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں دھری رہ جائینگی پاکستان کو تنہا کرنے کا پروپیگنڈا کرنے والے دیکھیں گے کہ عالمی دوست ہمیں کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ آرمی چیف نے بجافرمایا ہے انسداد دہشت گردی کیلئے مشترکہ جدوجہد اورحکمت عملی کی ضرورت ہے۔ پاک فوج دہشت گردی کیخلاف برسر پیکار ہے اور دہشت گرد بزدلانہ کارروائیاں کرکے ملک کی فضاء کو خون آلود کررہے ہیں لیکن اب یہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوپائیں گے۔

انسانی سمگلنگ کی روک تھام

جب بھی غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کی کوئی کشتی حادثے کا شکار ہوتی ہے تو اس میں کئی پاکستانی اپنی جان ہار جاتے ہیں ایسے لوگ بیچارے غریب گھرانوں تعلق رکھتے ہیں اور اپنے گھروں کی غربت کو خوشحالی میں بدلنے کے لئے وہ اپنی جان تک کا ر رسک لیتے ہیں کئی قسمت کے دھنی اپنی منزل تک پہنچ ہی جاتے ہیں مگربہت سے لوگ عموما لوگ راستے ہی میں بے رحم حالات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔پاکستان میں بسنے والے لوگ اپنے بہتر مستقبل کی خاطر عموما بیرون ممالک اور خاص طور پر یورپ جانے کیلئے ہر ممکن طریقے ازاماتے ہیں گو کہ ایسے لوگ جب وہاں پر سیٹل ہوجاتے ہیں تو ملک میں زرمبادلہ کی اچھی خاصی رقم بھیجتے ہیں جو ان کے گھرانوں کو غربت سے خوشحالی کی طرف لے آتی ہے ستر ،اسی اور نوئے کی دہائی میں جو لوگ بیرون ممالک میں آباد ہوئے اب تک ان کی دو، دو نسلیں ان ممالک کی پرورش پا چکی ہیں اور یورپ کی اگر بات کی جائے تو لاکھوں لوگ وہاں پر آباد ہیں جنھوں نے اپنے بہتر مستقبل کی خاطر وہاں کی سکونت اختیار کی اس کی بنیادی وجہ پاکستان میں وہ تمام سہولیات نہ ہونا ہے جن کی کوئی بھی ترقی پسند شخص خواہش کر سکتا ہے ایوب دور میں اور بعد ازاں بھٹو دور میں لاکھوں لوگوں کو بیرون ممالک میں بھیجا گیا جس کا خاطر خواہ فائدہ حکومت کو ہوا لیکن ساتھ ساتھ ایک نقصان بھی ہوا وہ ایسے کہ ان افراد میں بہت سے ہنر مند افراد جو کہ پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے وہ بھی اپنے اچھے مستقبل کی خاطر بیرون ملک چلے گئے جس سے پاکستان میں بہت سے شعبے ترقی نہیں کر سکے ایک اندازے کے مطابق پاکستان سے ساٹھ فیصد بہترین زہین لوگ بیرون ممالک میں آباد ہوئے جو ان ممالک میں ناصرف بڑے بزنس مین ہیں بلکہ وہاں کی معیشت ،سیاست ،اور دیگر شعبوں میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی تعریفیں وہاں کی حکومتی بھی کرتی ہیں انھیں لوگوں کی بدولت وہاں ترقی و خوشحالی ہے بات کی جائے ا گر امریکہ کی تو اس میں بیس فیصد پاکستانی ڈاکٹرز وہاں کے شعبہ طب میں اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں بیرون ممالک میں بسنے والے لوگوں کی خوشحال زندگی کو سامنے رکھتے ہوئے اب ہر تیسرا پاکستانی ملک سے باہر جانے کی خواہش دل میں لئے بیٹھا ہے اسی خواہش کو کچھ لوگ کیش کرواتے ہیں جس سے ناصرف وہ شخص بلکہ اس سے جڑی کئی اور زندگیاں بھی داؤ پر لگ جاتی ہیں ایسے لوگ بڑے آرام سے لوگوں کو بیرون ممالک میں ترقی اور خوشحالی کے خواب دیکھاتے ہیں اور اپنے جال میں پھانس کر ان سے رقم بھی بٹورتے ہیں اور بعض اوقات انھیں راستے ہی میں پار لگا دیتے ہیں ایسے لوگوں کو ایجنٹ کہتے ہیں جس سے آج ہر خاص و عام واقف ہے۔ انسانی سمگلنگ اب ڈھکی چھپی بات نہیں پوری دنیا میں اٹھنے والے بحرانون کی وجہ سے یہ عام ہو چکی ہیں کہیں غربت کہیں جنگ نے ایک ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس نے ایجنٹوں کا روبار خوب چمکایا اب بیرون دنیا بھی ان اقتصادی مہاجرین سے تنگ ہوتی دیکھائی دے رہی ہے اس وجہ سے ان ترقی یافتہ ممالک نے اپنی پالیسیاں سخت کر دی ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ پکڑے بھی گئے اور بہت بڑی تعداد میں ڈی پورٹ بھی ہوئے ہیں گزشتہ تین برسوں کے دوران دو لاکھ 66ہزار چار سو بارہ پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کرکے پاکستان بھیجا گیا کویت ساڑھے انیس ہزار اور ملائیشیا سے ساڑھے دس ہزار سے زائد پاکستانی بے دخل ہوگئے گزشتہ دنوں سعودی عرب سے بھی بہت سے پاکستانیوں کو محض اس وجہ سے نکالا گیا کہ وہ غیر قانونی طور پر مقیم تھے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انسانی سمگلنگ کی صورتحال سنگین سے سنگین تر ہوتی جارہی ہے۔ غیر قانونی طور پر یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ جانے والے پاکستانیوں کی شرح میں 18فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بہت سے ممالک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد جب پکڑے جاتے ہیں تو انہیں وہاں ملکی قوانین کے تحت سزا دی جاتی ہے اس کے بعد ڈی پورٹ کیا جاتا ہے اس تمام تر صورتحال کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جو لوگ اپنے ان ہم وطنوں کو غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھیجتے ہیں وہ انہیں لوٹ کر بھی آزادانہ زندگی گزارتے ہیں اور قانون کی زد سے محفوظ رہتے ہیں۔اگرچہ ملک کے مختلف حصوں میں ایسے جعلی ایجنٹ موجود ہیں جو بیرون ملک روزگار کی تلاش کے لئے جانے کے خواہشمند افراد سے بھاری رقمیں لے کر انہیں لانچوں، ٹرکوں،کنٹینروں اور کشتیوں میں بٹھا کر دوسرے ملکوں میں بھیجواتے ہیں موجودہ حکومت نے لوگوں کو لوٹنے والے ان جعلی ایجنٹوں کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی ان جعلی ایجنٹوں کی پشت پر بااثر افراد کا ہاتھ ہے چنانچہ ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی جاتی یہ صورتحال وزارت داخلہ کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں وزیر داخلہ ایک بہت باصلاحیت شخصیت اور موجودہ حکومت کے ایک طاقتور وزیر ہیں لیکن بدقسمتی سے انہوں نے ابھی تک جعلی ایجنٹوں کی روک تھام اور انہیں قانون کے سپرد کرنے کے معاملات پر توجہ نہیں دی اگر وہ اس معاملے پر توجہ دیں تو ہفتوں اور دنوں میں عوام کو لوٹنے اور انہیں بیرون ملک مصائب میں مبتلا کرنے والے یہ ایجنٹ قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔ ضروررت اس امر کی ہے کہ حکومت ایسے اقدامات اٹھائے جس کی وجہ سے انسانی سمگلنگ پر قابو پایا جا سکے غیر قانونی ایجنٹون کے خلاف بھر پور اور موثر کارروائی کی جائے انھیں کڑی سے کڑی سزا دی جائے اس سے انسانی سمگلنگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی دوسری صورت میں عوام یوں ہی ان ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹتے رہیں گے ۔

سلطان نورالدین زنگی

اللہ رب العزت نے سچے مسلمانوں کو نوازنے میں کبھی کوئی کمی نہیں رکھی اللہ کا سب سے بڑا احسان ہم مسلمانوں پر یہ کیا کہ ہمیں خیر البشر و رحمت العالمین صل اللہ تعالی علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا آپ صل اللہ علیہ وسلم چونکہ خاتم النبیین ہیں اس کے بعد نہ وحی آئے گی اور نہ کوئی نبی دین اسلام کو عامہ الناس میں پھیلانے کا کار خیر بھی ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ٹھہری ہے جس کیلئے صحابہ کرامؓ نے اپنے گھر بار چھوڑے بیوی بچوں کو چھوڑ کر اللہ کا دین باقی دنیا تک پہچانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے اور واپس مدینہ نہیں آئے اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے صحابہ کرام کے مزارات اس حقیقت کے غماز ہیں آج کے دور میں بھی مسلمان سائنسدان آسمان علم پر چمکتے دمکتے ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں جس میں البیرونی خوارزمی جابر بن حیان ابن رشد ابن البیطار ابن خلدون ابن الہیثم ابو عبیدہ بن جراح ان جیسے بے شمار محسنان انسانیت جن کے کسب علم نے جدید سائنس کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں اور کروڑوں لوگ فیضیاب ہو چکے ہیں اور فیض جاری و ساری ہے اسی طرح مسلمان جرنیل جن میں اہم ناموں میں طارق بن زیاد خالد بن ولیدؓ جیسے جید صحابہ جرنیل شامل ہیں انہوں نے نبی مکرم صل اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور رہنمائی میں جہاد کیا اس کے بعد یہ سلسلہ خلفائے راشدینؓ کے ادوار میں بھی جاری رہا اور انسان کو مظالم نجات دلائی جاتی رہی اور انسانوں کی راحت کا سامان ہوتا رہا لیکن یہودی ہمیشہ سے ایک مسئلہ اور فتنہ رہا ہے نبی مکرم صل اللہ علیہ وسلم کے دور میں یہودی ہمیشہ کفار کے معاون اور شریک کار رہے ہیں اور سازشوں میں ان کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے لیکن فتنہ اس قدر شدید کہ رحمت للعالمین صل اللہ علیہ وسلم نے اس خطے کو یہودیوں سے پاک فرمادیا اور جدید دور میں ہونے والی عالمی جنگوں کے پیچھے ہمیشہ یہودی ہی رہا ہے جس نے مسیحیوں کو استعمال کرتے ہوئے امن عالم کو تہ و بالا کر رکھا ہے عالمی امن تباہ کرنے کا بنیادی مقصد 1901 میں ہونے والے پروٹوکول آف ایلڈرس(یہودی دستاویز) کے مطابق اسرائیل کا قیام تھا تاریخ گواہ ہے کہ ان کے فتنے کبھی رکے نہیں اسلام کے خلاف صلیبی جنگوں میں ان کا کردار بہت اہم رہا ہے آج ہم یہودیوں کے ایک اور فتنے نے کا ذکرکرتے ہیں جس میں مسیحی استعمال ہوئے سلطان نورالدین اسلامی مملکت کے حاکم اور دمشق میں مقیم تھے ان کے دور کا ذکر کہ سلطان نفل کی ادائیگی کے بعد سو رہے تھے کہ اچانک ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے کہنے لگے کہ وجہ تخلیق کائنات صل اللہ علیہ وسلم کو کون تنگ کر رہا ہے آپ مسلسل 3 دن سے سلطان نورالدین زنگی کے خواب میں آکر فرما رہے ہیں مجھے دو لوگ ستا رہے ہیں اور ان دونوں کی شکلیں بھی سلطان پر واضح کردی تھیں اب سلطان کو چین کہاں فورا چند سپاہیوں کو ساتھ لیا اور دمشق سے مدینہ منورہ کے لئے نکل پڑے جو اس زمانے کے وسائل نقل و حمل کے اعتبار سے کم و بیش 25 دن کی مسافت پر تھا سلطان چونکہ پکے عاشق رسولؐ تھے مسلسل سفر کرتے 16 دن میں مدینہ منورہ پہنچ گئے اور آتے ہی تمام اہل مدینہ کو کھانے کی دعوت دی اور خود فردا فردا سب سے ملنے کی خواہش کا اظہار کردیا تمام اہل مدینہ دعوت میں شریک ہوئے لیکن وہ لوگ نظر نہیں آرہے جن شکلیں نبی مکرم صل اللہ علیہ وسلم نے خواب میں سلطان کو دکھا دیں تھیں سلطان نے پوچھا کہ کوئی رہ تو نہیں گیا سلطان کو بتایا گیا کہ دو درویش ہیں جو پورا دن عبادت کرتے رہتے ہیں اور شام کو جنت البقیع میں زائرین کو پانی پلاتے ہیں حکم ہوا ملنا چاہتا ہوں سلطان کی سپاہ ان دونوں کو بلا لائی جیسے ہی سلطان کی ان پر نظر پڑی سلطان نے پہچان لیا سلطان نے ان سے پوچھا تم کون ہو اور کہاں رہتے ہو دونوں نے بتایا کہ ہم نے روضہ اطہر کے قریب مکان لے رکھا ہے اور ہم عبادت کرتے ہیں جب سلطان کو ان کے کمرے میں لے جایا گیا ان بوریہ نشینوں کے کمرے میں کوئی سامان نہیں ما سوائے چند کھانے پینے کی اشیا اور پانی کے برتن کے کہ اچانک فرش لرز اٹھا جب چٹائی ہٹاکر دیکھا گیا تو ایک سل رکھی گئی تھی جس کے نیچے ایک گڑھا برآمد ہوا جس میں ایک سرنگ کھودی گئی تھی ایک سپاہی کو سرنگ میں اترنے کا حکم دیا گیا جس نے اندر جاکر دیکھا اور آکر بتایا کہ یہ سرنگ روضہ نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک کی جانب جارہی ہے اس کے بعد سلطان نورالدین زنگی خود سرنگ میں اترے آخر تک جانے کے بعد دیکھا کہ یہ بد بخت سرور کائنات صل اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر تک پہنچ چکے ہیں اور بعض روایات کی مطابق آقا کریم صل اللہ علیہ وسلم کا قدم مبارک سلطان کو نظر آگیا سلطان نے قدم مبارک کا بوسہ لیا اور باہر آگئے سلطان نے ان دونوں سے پوچھا وہ سچ سچ بتاؤ کہ تم کون ہو انہوں نے بتایا کہ وہ نصرانی ہیں اور محسن انسانیت صل اللہ علیہ وسلم کا جسد مبارک چوری کرنے پر معمور ہیں ہم نے اپنا کام تو کرلیا تھا ہمارے لئے اس سے بڑھ کر کوئی بات باعث ثواب ہوہی نہیں سکتی تھی بلکہ ہماری بد قسمتی کہ ہمارا راز فاش ہو گیا اہل مدینہ ان کفار کی حرکت دیکھ کر ششدر رہ گئے سلطان نورالدین رحمت اللہ علیہ نے غضب ناک ہوکر نیام سے تلوار نکالی اور ان بد بختوں کے سر تن سے جدا کر دیئے اور ان مردودوں کی لاشیں جلتے الاؤ میں ڈال کر جلادیں اور دیوانہ وار روتے ہوئے گلیوں میں گھومتے پھرے اور اللہ تعالی کاشکر ادا کرتے رہے کہ اس کام کی سعادت کو اللہ اور اس کے رسول نے مجھ غلام کے نصیب میں لکھا اور مجھے اس کے لئے منتخب فرمایا جب سلطان کو کچھ قرار آیا تو حکم دیا کہ سرنگ فورا بند کی جائے اور ساتھ ہی قبر اظہر کے گرد خندق کھدوانی شروع کی تاوقتیکہ زمین میں سے پانی نکل آیا تو اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھروا دیا تاکہ آنے والے زمانوں میں اس طرح کی دست برد کا امکان نہ رہے اور یہ دیوار آج بھی روزہ اطہر کے اطراف میں موجود ہے اہل مدینہ اور اہل اسلام سلطان نورالدین زنگی رحمت اللہ علیہ کا نام نہایت عقیدت اور محبت سے لیتے ہیں اور ان کو نفوس قدسیہ میں شمار کرتے ہیں جن کو رسول خدا صل اللہ علیہ وسلم اس خدمت کے لئے منتخب فرمایا اور ان کیسچے عاشق رسول صل اللہ علیہ وسلم ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی دو دن قبل ان کا یوم وصال تھا اللہ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کو اجر عظیم عطا فرمائے اور ایسے نفوس طاہرہ کے صدقے اہل اسلام و پاکستان کی حفاظت اور فضل عطا فرمائے ۔آمین

آخر ایسا کیوں ہے۔۔۔؟

ہمارا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو چکا ہے لالچ،ہوس اور حرص نے انسان کوحیوانیت کے درجے سے بھی گرادیا ہے انسان کے انسان کی غم گیری مفقود ہوگئی ہے اور اسکی جگہ خود غرضی نے لے لی ہے آخر ایسا کیوں ہے ؟اس کا صاف اور واضح جواب یہ ہے کہ ہماری طرز سیاست غلط ہے اور غلط ہاتوں میں ہے کوئی جاگیر کی بنیاد پر سیاست کرتا ہے اور کوئی اپنی سیاست کو دولت سے چمکاتا ہے اور کوئی مذہب کا نام لیکر اپنے لیئے سیاسی راستہ ہموار کرتا ہے ۔سب جھوٹ بولتے ہیں،پروپگنڈے کرتے ہیں ،عوام کو سبز باغ دیکھا کر انھیں قائل کرتے ہے اور ان کی جیب کاٹ کر ان کا سکون غارت کرتے ہیں اور محض نعرے لگا کر من موجی ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ظلم اور تشدد کی سیاست ،سرمایہ داری اور سرمایہ داریت کی سیاست اور منافقت اور فرقہ واریت کی سیاست نے کبھی دانشوری اور روشن خیالی کا ڈھول پیٹ کر ،کبھی فلسفی کے روپ میں آ کر کبھی عقیدے اور مسلک کا جھگڑا لیکر کبھی زمیندار کی شکل میں کبھی مذہب کی آڑ لیکر کبھی روحانیت کاجبہ اوڑھ کر کبھی بے دینی کا پرچار کرکے کبھی سائنسی ترقیات کے نام پر کبھی تاجر کی شکل اختیار کرکے چہرے آ تے ہیں اور چہرے جاتے ہیں اور بیچارے عوام محو تماشہ ہیں۔انسان کا بدترین المیہ یہ ہے کہ اس کو آزادی سے محروم رکھ کر ہر دور میں انسان کا غلام بنایاگیا ہے اور مجبور کیا گیا ہے کہ وہ جانوروں کی طرح لاچار کی حیثیت سے زندگی گزارے اور اسے ایک قسم کی افیوم دیکر یہ پٹی پڑھائی گئی ہے کہ یہاں کی پروقار زندگی کے بارے میں سوچو بھی نہ ۔تمہارے لیئے معاشی اور معاشرتی جدوجہد عبث ہے اگر تم بھوک سے مرتے ہو تو مرجاؤ ،یہی مرجانا تمہارے لیئے بہتر ہے لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دو ،تمہارے یہا کی تکلیف ہی میں وہاں کی عیش ہے مالداروں مالداروں سے لڑ کر اپنی عاقبت مت خراب کرو ۔صبر کا جو فلسفہ یہاں پیش کیا جاتا ہے اسکے رموز بڑے نرالے ہیں کہا جاتا ہے کہ اپنی اور افلاس کی شکایت اور ظلم اور زیادتی کے خلاف آ واز اٹھانا ایک ایسا عمل ہے جس سے اجر ضائع ہوجاتا ہے اور دوسروں کو ظالم کہنے سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے اور اپنے گریبان میں دیکھنا چائیے کہ ہم خود کتنے پانی میں ہیں ،اگر یہاں انصاف نہیں ملتا تو نہ ملے وہاں ضرور انصاف ہوگا ،غریب غربت لیکر پیدا ہوتا ہے ،یہ اسکی اپنی قسمت ہے اور یہی غربت اسے آخرت نعمت بھی ہے اور مالدار بھی اپنی قسمت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں،اور بعض دانشور اور فلسفی یہ اپنے دانش کدے سے یہ فلسفہ بکھیرتے ہیں کہ دنیا نصیب سے ہے اور آخرت محنت سے ،جمود کا یہ فلسفہ بڑا نرالہ ہے اور یہی وہ نظریہ ہے جو قنوطیت کی عکاسی کرتا ہے ان کی دانست میں اقبال نے یوں ہی کہہ دیا ہے کہ
تقدیر کے پابند ہیں نباتات و جمادات
مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند
اگر دیکھا جائے تو عجیب فلسفوں اور نظریات نے انسانی مزاج کا جنازہ نکال دیاہے ،بزدلی کو صبر کے معنی دیدیئے گئے ہیں شاید ایسے ہی فلسفیوں کیلئے اقبال زاغوں کے تصرف میں عقاب کا نشیمن والی پھبتی کسی ہے ، انفرادیت پسندی کو ایمان کی پختگی کی علامت اور گروہیت اور فرقہ واریت کو مسلمان کی پہچان قرار دیا گیا ہے ،اسکا نتیجہ یہ ہے کہ مسجدوں میں سنگینوں کے سایہ میں نمازادا کی جاتی ہے ،رواداری کے سارے دروازے بند کردئے گئے ہیں ذاتی مفاد ات اور امفرادیت پسندی کی تسکین کیلئے اسلام کے زریں اصولوں کو بھی اپنے تابع بنا کر اس سبق کوبھلا دیا گیا ہے کہ اسلام کل انسانیت کی بھلائی چاہتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اجتماعی سوسائٹی کو مخاطب کیا ہے ۔اللہ تعالٰی کو انسانیت کی ارتقاء مطلوب ہے اور اللہ تعالیٰ انسان تنزلی سے نکال کر ترقی اور فلاح کا راستہ دیکھاتا ہے اور یہی راستہ انسان کیلئے قرآن نے متعین کیا ہے اور اجتماعیت کے ذریعے اس راستے کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔اجتماعیت اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند ہے کہ اپنا تعارف بھی اللہ تعالیٰ نے اجتماعی حوالے سے کرایا ہے ’’رب العالمین،کے الفاظ کہ کر بیان کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی ذات پوری اجتماع کو پالنی والی ہے پیغمبر اسلام ﷺ نے بھی اپنی دعوت کے حوالے سے ہمیشہ اجتماعیت کی بات کی ہے کسی جگہ فرمایا گیا ہے کہ تمام انبیاء ایک دعوت لیکر آئے ہیں کہیں فرمایا ہے کہ میں جو اصول لایا ہوں وہ ابراہیمی اصول ہیں کسی مقام پر آپﷺ پچھلی امتوں کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ اجتماعیت ہی سے معاشرت کی روح قائم ہوتی ہے۔آج ہمارے معاشرے میں اخلاقی دیوالیہ پن کا دور دورہ ہے سرمایہ داریت اور حرص نے انسانیت پر پردے ڈالے ہوئے ہیں اور حیوانیت کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔انسان خواہشات کا تابع ہوگیا ہے دولت کی پوجا نے صرف روٹی کا کیڑا بنادیا ہے ،سارا دن وہ روٹی کی تلاش میں وہ مارا مارا پھرتا اور پھر بھی قلاش ہے یہ سب کچھ کیا ہے ؟اسکا جواب یہ ہے کہ یہ سب افرادیت پسندی کا شاخسانہ ہے نیک بننے کا جذبہ تو ہم میں ہے لیکن انفرادی پسندی کا نشہ اسکے راستے میں رکاوٹ ہے ۔کیا حرام کی کمائی پر پلنے والے اور حرام کی کمائی کو شیر مادر کی طرح حلال سمجھنے والوں کے حج اور عمرے انہیں بچاسکیں گے؟ کیا ٹیکس چھپانے والے اور دو نمبر کا مال تیار کرکے بیچنے والوں کے صدقے اور خیرات اور نیکیاں ان کو بچاسکیں گی؟۔
*****

داعش تنظیم ۔۔۔افغانستا ن کیسے پہنچ گئی؟

دولتِ اسلامیہ عرفِ عام میں داعش نامی مسلح تنظیمی گروہوں نے یوں تودنیا بھر کے ممالک میں اپنی خونریز انسانیت سوز اور انتہائی حیوانی اور شرمناک سرگرمیوں کے ذریعے بڑی ہی خوفناک وحشت ودہشت پھیلا ئی ہوئی ہے، مگر خصوصا پہلے عراق سے پھر ملکِ شام سے عبرتناک پسپائی اور شکست خوردگی کے بعد داعش کے یہ مسلح گروہ کیسے اور کس عالمی ملک کی ایماپر افغانستان میں داخل ہوئے؟ جہاں اب بھی نیٹو اور امریکی فوجیوں کا سکہ چل رہا ہے افغانستان کی عسکری قوت میں دم خم کل بھی نہیں تھا آج بھی ا س میں ایسی پیشہ ورا نہ اہلیت نام کو بھی دکھائی نہیں دیتی پھر اِس تلخ اور سنگین سوال کا جواب کون دے سکتا ہے سوائے امریکی اعلی فوجی حکام کے کہ افغانستان میں ماضی کی القاعدہ یا ٹی ٹی پی کی جگہ اِتنی آسانی کے ساتھ داعش نے کیسے بنالی ہے؟ اس کے محفوظ ٹھکانے وہاں پر کیسے قائم ہوئے؟ کابل میں کئے گئے حالیہ خود کش حملوں کی ذمہ داری داعش قبول کرلیتی ہے، پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھی داعش کا نام سنا جارہا ہے جبکہ دنیا بخوبی آگاہ ہے کہ واشنگٹن اور برطانیہ سے آنے والے اعلی عسکری عہدیداروں نے پاکستان کی سیاسی قیادت اور اعلی عسکری قیادت سے اپنی ہونے والی ہر ایک ون ٹو ون ملاقاتوں میں آپریشن ضرب عضب میں پاکستانی فوج کے دلیرانہ کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور برملا وہ اعتراف کرتے ہیں کہ آپریشنِ ضربِ عضب کی تاریخ ساز کامیابیوں کے نتیجے میں پاکستانی قبائلی علاقوں سمیت پاک افغان سرحدوں تک پھیلی علاقائی وعالمی دہشت گردی کو اس کی جڑ بیخ سمیت اکھاڑ پھینکنے کے پاکستانی فوج کے کارناموں کو پرامن دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکتی دنیا مان رہی ہے کہ اب پاکستانی فوج کی تینوں سروسنز کے افسر وجوانوں نے آپریش ردالفساد اپنے اِس پختہ عزم کے پیشہ ورانہ جذبوں کو مدِ نظر رکھ کر شروع کیا ہے کہ فوج صرف دہشت گردوں کے گرد ہی نہیں بلکہ پاکستان میں ان کے سہولت کاروں کو اب بالکل برداشت نہیں کرسکتی آپریشن ردالفساد کے دوران کسی قسم کے امتیازی سلوک کو پاک فوج خاطر میں نہیں لائے گی، یہ کتنے افسوس کامقام ہے کہ بدقسمتی سے ا پنے اختیار کردہ عقید ے یا مسلک کو زبردستی طاقت وقوت کے زور پر دوسروں پر ٹھونسا جائے، بالخصوص کمزور وں کو مجبور کیا جائے کہ وہ بہیمانہ طاقتوروں کے عقیدے اور مسلک کو مانیں ورنہ قتل کردئیے جائیں گے اللہ تبارک وتعالی نے جہانِ عالم پر نازل کردہ اپنے تمام ادیان بشمول دینِ اسلام میں بھی جبروقہر کے نفاذ کو پسندید ہ امر قرار نہیں دیا ،بلکہ یہاں تک حکم آیا ہے جس کسی نے ایک انسان کی جان کا تحفظ کیا گویا اس نے عالمِ انسانیت کا دفاع کیا عالمِ انسانیت کو ظلم وزیادتی سے محفوظ کیا اسلام کی بنیادی تعلیمات میں انسانی کردار کو اہمیت اور اولیت حاصل ہے ہمارے نبی آخر زماں حضرت محمد ﷺ کی پاک ومحترم زندگی ان کی سیرتِ پاک کی ایک ایک ساعتِ مبارکہ اِیسی ہی الہی تعلیمات کی شہادت ہے، آپ ﷺ نے کبھی بہیمانہ غصہ کو پسند نہیں فرمایا، آپﷺ پر مکہ میں کیسے کیسے مظالم نہیں کیئے گئے ؟ مشرکین اور کفار نے آپﷺ پر اعلان بنوت کے بعد آپ ﷺ کے جانثار وں پر اولین اسلام لانے والوں پر کیسے غیر انسانی ہتھکنڈے اور اوچھے حربے استعمال نہیں کیئے نہ آپﷺ کی زبانِ مبارک سے نہ ہی آپﷺ کے دستِ مبارک سے کسی بھی ایمان نہ لانے والے کو انسانی اذیت کبھی نہیں پہنچی، پھر یہ کون ہیں ؟ داعش ہو یا ٹی ٹی پی ہو اِن کے مذموم انسانیت کش شرمناک ا یجنڈے کے آخر کیا مقاصد ہیں ؟ دنیا بھر میں کہیں یہ مسلح غنڈے یہ لٹیرے اور آوارہ منش مسلح جتھے دینِ اسلام کے جھنڈے اٹھائے نظرآتے ہیں اور اسلام کے نعرے لگاتے اپنی خودساختہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرکے ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان کا تعلق اسلام کی شریعت کے نفاذ سے ہے اِن کے یہ دعوے نِرے جھوٹ کے پلندوں کے سوا کچھ نہیں یہ گمراہ ہیں کرائے کے ٹٹو ہیں اِن کے کھروں کے پیچھے اگر جان توڑ تحقیقی تفتیش کی جائے تو راقم کو یہ یقین ہے ہونہ ہوامریکی اعلی حکام تسلیم کریں نہ کریں،دنیا ئےِ اسلام کے چند اہم ممالک، مثلا پہلے سعودی عرب ایران ترکی عراق اور پھر شام کے بعد اب افغانستان کے ذریعے سے دنیا ئےِ اسلام کے واحد ایٹمی ڈیٹرنس کے حامل ملکِ پاکستان کی اندرونی وبیروبی سلامتی کو اتنی کھلی دیدہ دلیری سے چیلنج کرنے والا کوئی اور نہیں ہوسکتا ،یقیناًیہ مسلح بہترین جنگی تربیتِ یافتہ گروہ بلیک واٹر جیسی عالمی تنظیم سے وابستہ نکلے گے ،پاکستان کو اندرونی عدم استحکام کس عالمی وعلاقائی طاقت کوسوٹ کرتا ہے؟ امریکا اور بھارت کے علاوہ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جو پاکستان میں حقیقی امن کا دشمن ہو پاکستان میں جاری سیاسی وجمہوری طرزِ حکمرانی کی کامیابی پاکستان کے ایسے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھارہی امریکا اسرائیل اور بھارت کے علاوہ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ہے جس سے پاکستان کی مجموعی قومی اقتصادی ترقی کی بڑھتی نمو پذیری کا خوشگوار عمل ان کی آنکھوں میں کانٹے بن کر نہ چبھ رہا ہو،دہشت گردی دنیا میں کہاں نہیں ہورہی؟مگر لے دے کہ دہشت گردی کے لیبل کو اسلام کے ساتھ منسلک کرنا کہاں کی انصافی تسلیم کی جائے؟ دنیا کی چند ایک غیر جانبدار امن پسند انصاف پسند طاقتوں، مثلا چین اور روس کے علاوہ کسی اور عالمی طاقت میں بھارت اور اسرائیل کی جانب انگشت نمائی کرنے کی جسارت کبھی کسی نے دیکھی ؟ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مقدمہ کا ایک اصل فریق ملک ہے جبکہ فلسطین پر بھی اہلِ پاکستانی اپنا بردرانہ تحفظ رکھتے ہیں، بطور برادر اسلامی ملک ہونے کے ناطے سے امریکا کو فلسطین پر اہلِ پاکستان کا یہ دیرینہ ٹھوس موقف بہت تکلیف دیتا ہوگا ، کشمیر کے معاملے میں بھی امریکا کا کھلا ہوا جھکاو بھارت کے پلڑے میں ہمیشہ رہا ،جیسا بین السطور عرض کیا گیا کہ 100فیصدمیں سے اگر بالفرض10فیصدبھی افغانستان کو مسلسل عدم استحکام کیئے رکھنے کے پسِ پردہ چھپے مقاصد تک کوئی پہنچنا چاہے گا وہ نیک نیت اور باطنی لحاظ سے مکمل طور پر انصاف پسند بھی ہو تو یکدم اِس قرار واقعی نتیجہ پر جا پہنچے گا کہ امریکی اور نیٹو حکام کی موجودگی میں داعش تنظیم ملکِ شام سے بسرعت سرپٹ دوڑتی ہوئی شکست خوردگی کے عالم میں پریشان وپشمان کیوں کر اور کسے افغانستان میں اپنے محفوظ اڈے اور ٹھکانے بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے؟

پارا چنار کار بم دھماکہ

فاٹا کے سب سے بڑے شہر کرم ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پارا چنار میں جمعہ کے روز صبح 11 بجے کے قریب مین بازار میں واقعہ مرکزی امام بارگاہ کے خواتین گیٹ کے قریب کھڑی کار میں اچانک زوردار دھماکہ ہوا اس وقت بازار میں لوگوں کا رش تھا جو نماز جمعہ کے لئے آئے تھے۔ کار بم دھماکہ کے نتیجہ میں 24 افراد شہید اور 90 سے زائد زخمی ہو گئے۔ 16افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ شاہد علی خان نے بتایا کہ مرکزی امام بارگاہ کے قریب نور مارکیٹ کے مین گیٹ پر جو چند فٹ امام بارگاہ سے دور ہے موٹر کار میں شدید دھماکہ ہوا عالم خان، جابر حسین، ناصر حسین، ملک علی حسین، مقبول حسین، نواب حسین، امجد علی، جاوید رضا، ممتاز حسین، سید کمال، ممتاز حسین نامعلوم آٹھ سالہ لڑکا اور ایک نامعلوم خاتون سمیت دیگر آٹھ افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے‘ دیگر نے ہسپتال میں دم توڑا۔ شدید زخمیوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پشاور اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ دھماکے میں کئی دکانیں اور گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں جبکہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔کالعدم تنظیم جماعت الاحرار نے ویڈیو پیغام کے ذریعے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ وزیراعظم نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے پسماندگان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے حکومت کے ٹھوس عزم کو دہرایا کہ ملک سے دہشت گردی کے عفریت کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا۔ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو پہلے ہی توڑا جا چکا ہے اور اب ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ اس جنگ کو اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک جاری رکھیں۔ کرم ایجنسی فرقہ وارانہ جھڑپوں کی وجہ سے انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ماضی میں فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے ہزاروں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ کرم ایجنسی کے ساتھ افغانستان کا علاقہ ننگر ہار لگتا ہے، جہاں سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی طرف سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ افغانستان میں عدم استحکام کی وجہ سے کئی دہشت گرد تنظیمیں فروغ پا رہی ہیں جس کی وجہ سے دہشت گرد عناصر جن میں حقانی نیٹ ورک کی قیادت، تحریک طالبان پاکستان، تحریک طالبان افغانستان، داعش، القاعدہ، جماعت الاحرار اور اس جیسی دوسری تنظیموں کیلئے خلاء پیدا ہوا ہے اس لئے افغانستان میں امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال کا الزام دوسروں پر لگانا درست نہیں اور بار بار محفوظ پناہ گاہوں کے حوالے سے دعوے کرنا بیان بازی کے سوا کچھ نہیں۔ کچھ بیرونی عناصر صورتحال کو خراب کررہے ہیں اور خطے اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کیلئے پْرعزم ہے کیونکہ یہ نا صرف پورے خطے بلکہ پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ بدقسمتی سے افغانستان میں استحکام کیلئے ہماری مخلصانہ کوششوں کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ ہم بارڈر مینجمنٹ میں مصروف ہیں جو دہشت گردی کے موثر خاتمے کیلئے ضروری ہے۔ پاکستان دہشت گردی کو شکست دینے کیلئے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کی پالیسی کو جاری رکھے گا۔ ہم الزامات کے کھیل میں نہیں پڑیں گے اور دوسروں سے بھی اسی بات کی توقع رکھتے ہیں۔افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ راء، این ڈی ایس پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ داعش، حقانی نیٹ ورک، ٹی ٹی پی افغانستان میں ہیں۔ہماری سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مرتب کردہ رپورٹوں کے مطابق یہ ساری دہشت گردی افغانستان کی طرف سے سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہونیوالے سفاک دہشت گرد ہی کرتے رہے ہیں جنہیں ہمارے دشمن ملک بھارت کی ایجنسی ’’را‘‘ کی تربیت‘ سرپرستی‘ فنڈنگ اور معاونت حاصل ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے بھارت نے پاکستان کو دہشت گردی کے ذریعے غیرمستحکم کرنے کیلئے ہمارے برادر مسلم پڑوسی افغانستان کو استعمال کیا جس کے سابق صدر کرزئی بھی بھارت کے ہاتھوں کھلونا بنے رہے اور اب انکے جانشین افغان صدر اشرف غنی بھی ہماری سالمیت کیخلاف بھارت کے مقاصد کی تکمیل کیلئے دہلی کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں جنہوں نے آپریشن ضرب عضب کے دوران یہاں سے فرار ہونیوالے دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دی اور ہماری سول اور عسکری قیادتوں کے باربار کے تقاضے کے باوجود ان کیخلاف اپریشن سے گریز کیا جبکہ یہی دہشت گرد ’’را‘‘ کی سرپرستی میں افغان سرحد سے واپس پاکستان آتے ہیں اور یہاں دہشت و وحشت کا بازار گرم کرکے اپنے آقاؤں کے پاس واپس چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں سانحہ کوئٹہ سمیت اب تک ہونیوالی دہشت گردی کی بڑی وارداتوں میں افغانستان سے آنیوالے دہشت گردوں کا ہاتھ ہی ثابت ہوا ہے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ اگر صرف پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کا ناسور اس خطہ میں جڑ سے اکھاڑنے کی مشترکہ حکمت عملی طے کرلیں اور اس پر عملدرآمد شروع کردیں تو دہشت گردوں کو کہیں چھپنے کا ٹھکانہ نہیں ملے گا اور کسی بیرونی مدد کے بغیر ہی دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ جیت لی جائیگی مگر بدقسمتی سے اس معاملہ میں ہمیں افغانستان کی جانب سے ہمیشہ سردمہری اور بھارتی لب و لہجے میں الزامات کی بوچھاڑ کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان نے اپنے طور پر پاک افغان سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حمل روکنے کے اقدامات کا آغاز کیا جس کے تحت طورخم بارڈر پر پاکستان نے اپنے علاقے میں گیٹ کی تنصیب شروع کی تو کابل انتظامیہ نے اسکی سخت مزاحمت کی اور سرحدی فورسز کی باہمی جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں ہمارے درجن بھر سکیورٹی اہلکار شہید بھی ہوگئے۔ افغانستان اب بھی سرحد پر پاکستان کے سیکورٹی انتظامات کی مزاحمت کررہا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے پاکستان میں داخلے کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونے دینا چاہتا۔ اس وجہ سے ہی دہشت گردوں کو کوئٹہ میں کھل کھیلنے کا موقع ملا جبکہ اس سانحہ کے باعث قوم آج بھی سوگ کی کیفیت میں ہے۔ اس سانحہ کے بعد سول اور عسکری قیادتوں نے نئے عزم کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کیا ہے ملک بھر میں کومبنگ آپریشن کا آغاز کرکے دہشت گردوں کو کیفر کردار کو پہنچانے کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس کے تحت بیسیوں دہشت گرد گرفتار بھی ہوئے ہیں اور متعدد دہشت گردوں کو جہنم واصل بھی کیا جا چکا ہے۔

یہ بھارتی جرائم ۔ ۔کب تلک ؟

کرم ایجنسی کے مرکزی شہر پاڑہ چنار میں اکتیس مارچ کو ایک بم دھماکے میں کم از کم 24 بے گناہ افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔اس سانحہ پر تبصرہ کرتے ماہرین نے کہا ہے کہ ’’ را ‘‘ اور ’’ این ڈی ایس ‘‘ اس قسم کے واقعات کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اپنی دیرینہ مکروہ روش پر عمل پیرا ہیں ۔ دوسری جانب یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ دہلی کے حکمران نہتے کشمیریوں کے خلاف غیر انسانی مظالم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہمیشہ سے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اسی پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کیخلاف سراپا احتجاج مظاہرین پر بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ سے 4کشمیری نوجوان شہید جبکہ 17افراد زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق چند روز قبل چاڑورہ کے علاقے میں ہونیوالی کارروائی میں بھارتی افواج نے پیلٹ گنوں اور خود کار اسلحے کا استعمال کیا۔ حریت کانفرنس نے کشمیری نوجوانوں کی شہادت کیخلاف پوری مقبوضہ ریاست میں ہڑتال کا اعلان کیا لیکن تمام حریت قیادت کو نظر بند کر دیا گیا ۔ یاد رہے کہ ضلع بڈگام کے قصبے چاڑورہ میں 4کشمیری اس وقت شہید ہوئے جب وہ بھارتی فوج کی جانب سے جعلی مقابلوں میں کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کر رہے تھے۔ احتجاجی مظاہرے پر قابض بھارتی فوج نے آنسو گیس، پیلٹ گنوں اور جدید اسلحے سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4افراد شہید اور17افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ خود بھارتی ٹی وی چینل ’’ آج تک ‘‘ کے مطابق بھارتی فوج نے گھر گھر تلاشی کے دوران عورتوں کی بے حرمتی کی اور نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہونے والے مجاہدین کو سپرد خاک کردیاگیا ٗ نمازجنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ لوگوں کے جم غفیر کے باعث نماز جنازہ کئی مرتبہ ادا کی گئی۔ مجاہدین کی تدفین کے بعد احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں اور علاقے میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ ریاست میں بھارتی مظالم کا یہ عالم ہے کہ صرف فروری 2017 کے دوران 15 معصوم کشمیریوں کو شہید کیا گیا جن میں سے تین کی شہادت حراست کے دوران ہوئی ۔ صرف فروری کے مہینے میں تشویش ناک حد تک زخمی ہونے والوں کی تعداد 287 ہے ۔ جبکہ اس نہایت قلیل عرصے کے دوران 51 دکانوں اور مکانوں کو مسمار یا نذرِ آتش کیا گیا ۔ اور یہ سلسلہ ہنوذ اسی بربریت کے ساتھ جاری ہے ۔ ’’ را ‘‘ اور ’’ این ڈی ایس‘‘ کی ان سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ایک انسانی المیہ ہے کہ ’’ تاریخ سے بالعموم کبھی کسی نے سبق نہیں سیکھا ‘‘ اور یہی معاملہ دہلی کے حکمرانوں کے ساتھ بھی ہے ۔ دوسری جانب گذشتہ چند ہفتوں میں افواجِ پاکستان کے افسروں اور جوانوں نے جس دلیری سے وطنِ عزیز کے طول و عرض میں فسادیوں کا سر کچلا ہے ، اس میں دہلی اور کابل انتظامیہ کے لئے بہت سے سبق پنہاں ہیں بشرطیکہ وہ اس بارے میں دھیان دیں کیونکہ نہایت تھوڑے عرصے میں پاکستان کے سر فروشوں نے جس طرح پاکستان سے دہشتگردی کی جڑیں اکھاڑ پھینکی ہیں ، اس کی جتنی بھی ستائش کی جائے وہ کم ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ نام نہاد TTP اور اس کے پالتو دیگر دہشتگرد گروہوں کو چھٹی کا دودھ یاد دلایا ہے وہ اپنے آپ میں پاکستان کی حالیہ تاریخ کے سنہرے ابواب ہیں ۔ اور اسی تناظر میں با وقار سنجیدہ حلقوں کی رائے ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے یہ بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ افغانستان کے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اپنی اس کوشش میں پاکستان کو خاصی حد تک کامیابی بھی حاصل ہو رہی ہے ۔ بہر کیف توقع رکھنی چاہیے کہ ’’ را ‘‘ اور ’’ این ڈی ایس ‘‘ جس طرح سے پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دینے میں مصروف ہیں جس کی تازہ مثال ’’ پاڑا چنار ‘‘ کا واقعہ ہے ۔ اور جس طرح سے سی پیک کے خلاف اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں ، ان کی بیخ کنی کے لئے عالمی برادری بھی اپنا مثبت کردار ادا کرے گی ۔

Google Analytics Alternative