Home » 2017 » April » 03

Daily Archives: April 3, 2017

آئی جی خیبر پختونخوا کی تقرری سے متعلق درخواست کی سماعت

اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئی جی خیبرپختونخوا صلاح الدین کی تقرری سےمتعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواست ایڈیشنل آئی جی ہیڈکوارٹرز اختر علی شاہ کی جانب سے دائر کی گئی، جس کی سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اور آئی جی کے پی کو نوٹسز جاری کیے گئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی جی کی تقرری خیبر پختونخوا پولیس آرڈی نینس 2016ء اور عدالتی احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے، صلاح الدین محسود کو خلاف ضابطہ ترقی دی گئی۔

بیرسٹر مسرور شاہ کے مطابق سلیکشن بورڈ 2016ء کی کارروائی سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دی تھی۔

وکیل درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ قانون کے مطابق گریڈ 21 یا 22 کا افسر ہی آئی جی تعینات کیا جاسکتا ہے، آئی جی کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن کا کالعدم کیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کے حکم پرآئی جی اے ڈی خواجہ نے دوبارہ چارج سنبھال لیا

کراچی: آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لی ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے سردارعبدالمجید دستی کو قائم مقام آئی جی مقرر کرنے کا نوٹی فکیشن معطل کئے جانے کے بعد اے ڈی خواجہ نے سینٹرل پولیس آفس کراچی میں دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں، اس موقع پر سی پی او آفس میں تعینات عملے اور افسران نے ان کا استقبال کیا۔

دوسری جانب سردار عبدالمجید دستی نے فوری طور پر اپنے پرانے عہدے پر کام شروع کردیا ہے لیکن وہ سی پی او آفس سے اے ڈی خواجہ کی کرسی بھی ساتھ لے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ 3 روز قبل سندھ حکومت نے  اے ڈی خواجہ کی جگہ عبدالمجید دستی کو قائم مقام آئی جی  مقرر کردیا تھا تاہم سندھ ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا جس کے بعد عدالت نے اے ڈی خواجہ کو آئی جی سندھ کے عہدے سے ہٹانے کا نوٹی فکیشن معطل کردیا۔

پارٹی نشان الاٹ نہ کرنے کیخلاف پی ٹی آئی کا عدالت جانے کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی نشان بلے کی بحالی کے لیے قانونی ماہرین کو پٹیشن تیارکرنے کی ہدایت کر دی۔

اس پٹیشن میں تحریک انصاف الیکشن کمیشن حکم کو غیر قانونی اورغیرآئینی قرار دے گی اور الیکشن کمیشن کا حکم واپس لینے کے لیے استدعا بھی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کی رپورٹ جمع نہ کرانے پر تحریک انصاف کو آئندہ کسی بھی ضمنی انتخابات یا عام انتخابات میں انتخابی نشان الاٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

نئی دہلی کا تاریخی ریگل سینما 84 سال بعد بند

گزشتہ 84 برس سے یہ سینماا ہل عام و خاص کی تفریح کا مرکز رہا تاہم اب اسے بدلتے حالات کے پیش نظر بند کرنا پڑا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریگل سینما میں پنڈت جواہر لال نہرو، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور اندرا گاندھی سمیت ملک کی معروف سیاسی رہنما یہیں فلم دیکھنے آتے تھے، بالی کے فنکاروں اور عظیم فلمی ہستیوں کی یادیں بھی ریگل سے وابستہ ہیں جہاں بہت سی سپر ہٹ فلموں کا پریمیئر ہوا کرتا تھا۔

راج کپور کی میرا نام جوکر، بابی، سنگم اور ستیم شیوم سندرم جیسی فلموں کا پریمیئر ریگل سنیما میں ہی ہوا تھا۔1932 میں کھلنے والا یہ باب اب بند ہو گیا۔

آخری دن اس میں راج کپور کی سنگم اور میرا نام جوکر دکھائی گئیں۔ریگل میں 660 سیٹیں تھیں اور روزانہ چار شو ہوا کر تے تھے۔

اس سنیما ہال کو اب چار اسکرین والے ملٹی پلیکس میں بدلنے کی بھی باتیں ہو رہی ہے۔

بھارتی عدالت کا راکھی ساونت کو گرفتار کرنے کا حکم

لدھیانہ: بھارتی ریاست پنجاب کی عدالت نے بالی ووڈ کی متنازعہ اداکارہ راکھی ساونت کو مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مقدمے میں گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

بالی ووڈ اداکارہ راکھی ساونت بے باک اداکاری اور متنازع بیانات کے باعث خبروں میں رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آئٹم گرل بغیر کچھ سوچے سمجھے بیانات داغ دیتی ہیں لیکن اب اداکارہ کو ایک سال قبل دیئے گئے بیان کی بڑی قیمت چکانی پڑرہی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی شہر لدھیانہ کی عدالت نے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے مقدمے میں بار بار طلب کیے جانے کے باوجود عدم پیشی پر اداکارہ راکھی ساونت کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ اداکارہ کو 10 اپریل کو گرفتار کرکے پیش کیا جائے جس کے بعد لدھیانہ پولیس کی 2 رکنی ٹیم ممبئی روانہ کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اداکارہ راکھی ساونت نے گزشتہ سال ٹی وی شو میں ہندوؤں کے مذہبی رہنما وال میکی کے حوالے سے بیان دیا تھا جس پرانہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

’بدری ناتھ کی دلہنیا‘ نے اب تک 200کروڑ کمالیے

بالی ووڈ فلم’ہمٹی شرما کی دلہنیا‘ کے سیکوئل ’بدری ناتھ کی دلہنیا‘نے اپنی فلم کی ریلیز سے اب تک بھارت میں 161کروڑ جبکہ دنیا بھر سے 39اعشاریہ 5کروڑ کا بزنس کر کے 200اعشاریہ 5کروڑ کما کر دو سو کروڑ کلب میں شامل ہوگئی ہے۔

’بدری ناتھ کی دلہنیا‘ میں ورون دھون اور عالیہ بھٹ کی اداکاری کو شائقین کی جانب سے بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔

ششانک کھیتن کی ہدایتکاری اور کرن جوہر کی پروڈیوس کردہ اس فلم میں عالیہ بھٹ اور ورون دھون مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ فلم کی دیگر کاسٹ میں گوہر خان، موہت مروہ اور شویتاباسو پراساد شامل ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ’بدری ناتھ کی دلہنیا‘شائقین کو کافی حد تک متاثر کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کے بزنس میں مزید اضافہ ہوگا۔

نازیہ کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھول رہے ہیں

عالمی شہرت حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی پاپ سنگر نازیہ حسن 3اپریل 1965ءکوکراچی میں پیدا ہوئیں ۔

نازیہ حسن نے 1980ءمیں صرف 15سال کی عمر میں پاپ گلوکارہ کی حیثیت سے پی ٹی وی سے اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا ۔

انہوں نے اپنے بھائی زوہیب حسن کے ساتھ مل کر بہت سے خوبصورت صدا بہار فلمی گیت گائے، جن میں بھارتی اداکار فیروز خان کی فلم قربانی کا گیت ’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے‘ نازیہ حسن کو شہرت کی بلندیوں پر لے گیا ۔

اس کے بعد انہوں نے درجنوں مقبول نغمے بھی گائے، جن سے نازیہ حسن کو دنیا بھر میں پہچان ملی۔ انہوں نے متعدد کمرشلز میں بھی کام کیا ۔

نازیہ حسن 1999ءمیں کینسر کے عارضہ میں مبتلا ہو گئیں تھیں۔ انہیں علاج کیلئے لندن منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں اور 13اگست 2000ءکو خالق حقیقی سے جاملیں۔

مچھلیاں جان بچانے کے لیے خشکی پر آنے لگیں

سڈنی: آسٹریلوی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ بلینی فش کہلانے والی چھوٹی مچھلیاں بڑی شکاری مچھلیوں سے اپنی جان بچانے کے لیے پانی سے خشکی پر آنے لگی ہیں۔

گزشتہ چند سال سے سائنسدان یہ مشاہدہ کررہے تھے کہ جنوبی بحرالکاہل کے علاقوں میں پائی جانے والی چھوٹی ’’بلینی فش‘‘ کی چار اقسام نے پانی کے علاوہ خشکی پر رہنا بھی سیکھ لیا ہے اور کئی بار انہیں بڑی تعداد میں جزائر کی ساحلی زمین پر آرام کرتے ہوئے دیکھا جاچکا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ آخر ان میں یہ صلاحیت حاصل کرنے کی وجہ کیا ہے۔

اب آسٹریلیا میں یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے ماہرِین ماحولیات نے انکشاف کیا ہے کہ مچھلیوں کے اس طرح ساحلی زمین پر آنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ سمندر میں موجود بڑی شکاری مچھلیوں سے اپنی جان بچانا چاہتی ہیں۔ ماہرین نے اس دریافت کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’امریکن نیچرلسٹ‘‘ میں شائع کروائی ہیں۔

مچھلیوں میں یہ ارتقائی تبدیلی بہت اہم ہے کیونکہ اس کی بدولت وہ ’’جل تھلیوں‘‘ (amphibians) یعنی ایسے جانوروں کے قریب تر آگئی ہیں جو بیک وقت پانی میں اور خشکی پر رہ سکتے ہیں۔ البتہ ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ اگر چھوٹی مچھلیوں کو بڑی شکاری مچھلیوں سے جان بچانا اتنا ہی ضروری محسوس ہوا تو کیا وجہ ہے کہ آخر صرف بلینی فش ہی کی چند اقسام نے ارتقائی طور پر خود کو بدلا ہے۔

واضح رہے کہ خشکی پر رہنے والے جانوروں کی طرح مچھلیوں میں پھیپھڑے نہیں ہوتے بلکہ گلپھڑے ہوتے ہیں جن کی مدد سے وہ پانی میں موجود آکسیجن جذب کرکے سانس لیتی ہیں لیکن اگر وہ خشکی پر آجائیں تو ہوا میں سانس نہیں لے پاتیں اور چند ہی منٹوں میں مرجاتی ہیں۔

Google Analytics Alternative