Home » 2017 » April » 15

Daily Archives: April 15, 2017

رضا ربانی نے بطور چیرمین سینیٹ مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا، اسحاق ڈار

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے مذاکرات کے بعد رضا ربانی نے بطور چیرمین سینیٹ مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا۔

سینیٹ میں قائد ایوان راجا ظفرالحق اور وزیرخزانہ وسینیٹر اسحاق ڈار نے چیرمین سینیٹ رضاربانی سے ملاقات کی جس میں سینیٹر شیری رحمان، عثمان کاکڑ اور اعظم موسٰی خیل بھی موجود تھے۔ حکومت نے چیرمین سینیٹ کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ایوان بالا میں وزرا کی دوبارہ عدم حاضری کی نوبت نہیں آئے گی جب کہ وزیراعظم خود سینیٹ میں وزرا کی حاضری کی نگرانی کریں گے۔

 

اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی جانب سے سینیٹ میں وزرا کی حاضری کی یقین دہانی کروانے کے بعد چیرمین سینیٹ رضا ربانی نے ناراضی ختم کردی اور وزیراعظم کے پیغام پر اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے جس کے بعد وہ بطور چیرمین سینیٹ کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ رضا ربانی پیر کو سینیٹ کا اجلاس بلائیں گے جب کہ وزیراعظم پیر کو وزرا کو حاضری کی ہدایت کریں گے۔

واضح رہے کہ چیرمین سینیٹ رضا ربانی نے سینیٹ اجلاس کے دوران حکومتی وزرا کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجاً اجلاس ملتوی کر دیا تھا اور حکومت کو استعفے کی پیشکش کی تھی۔

زرداری کے معاونین کے غائب ہونے پر وزیرداخلہ کا اظہار تشویش

انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح لوگوں کاغائب ہونا خلاف قانون ہے، اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پہلے بلاگرز اور اب پھر ان 3افراد کا واقعہ، کسی صورت قابل قبول نہیں، اسلام آباد سے اٹھائے گئے شخص پر تحقیق کی ہے اور کچھ شواہد بھی ملے ہیں،اس معاملے پر ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی بی سے بھی کہہ دیا ہے، اسلام آباد سے اٹھائے گئے شخص کے بارے میں جو کچھ شواہد وزارت داخلہ کے پاس ہیں ، عدالت سے شیئر کریں گے ۔

چوہدری نثار نے میڈیا بریفنگ میں مزید کہا کہ یہاں آئی این جی اوز خاص ضابطہ کار کے اندر کام کرسکتی ہیں، مادر پدر آزادی کوئی ملک نہیں دے سکتا، پاکستان کے ویزے اس طرح بانٹے گئے کہ نہیں دیکھا گیا کون آر ہاہے، کون جارہاہے، سیکیورٹی کلیئرنس ہونے کا کوئی ریکارڈ نہیں،ہم نے ساڑھے تین سال میں مجموعی طورپر ویزہ سسٹم کو اسٹریم لائن کرنے کے بہت سے اقدامات کیے ہیں،آج کوئی بھی شخص بغیر دستاویزات کے پاکستان میں داخل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ایسے ایسے مشہور نام بغیر دستاویز کے پاکستان آئے لیکن ہم نے دوسرے جہاز سے واپس بھیج دیا، غیر ملکی شادی شدہ خاتون کے لیے اوریجن کارڈ کے بجائے ٹیمپریری ریذیڈنس کارڈ جاری ہوگا، 2005ءسے 2008ءتک 103ارب روپے کا زرمبادلہ باہر بھیجا گیا،اس معاملے میں اس وقت کی حکومت اور ایف آئی اے سب ملے ہوئے تھے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ مزید کچھ کہا تو توہین عدالت میں نہ پکڑا جاؤں، پہلے ہی کئی جج مجھ سےناراض رہتے ہیں، یا تو ریکارڈ نظر انداز کیا گیا، یا تباہ کیا گیا، یہاں صحیح کام میں سو رکاوٹیں ہیں، غلط کام کرو تو کوئی پوچھتا نہیں، زرمبادلہ میں جو تھوڑا بہت ریکارڈ ملا ہے اس میں سیاستدان، بیورکریٹ اور بزنس مین شامل ہیں، یہ تو بہت بڑے اسکینڈل کا چھوٹا سا حصہ ہے، خانانی کالیا کیس میں تفتیش کرنے والوں کو گرفتار کرنا پڑا تو کریں گے، ایف آئی سے معاملہ شروع ہوگا، امریکا، عرب امارات اور برطانیہ سے معاونت بھی لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 12سے 14 سال میں چند ہزار روپے میں ریوڑیوں کی طرح نیشنیلٹی بیچی گئی، پشتونوں کو ہرجگہ خوش آمدید کہا گیا، ایک لاکھ 25ہزار شناختی کارڈ نان پشتونوں کے بلاک کیے گئے ہیں، تین ہزار سے زائد افراد نے کارروائی کے ڈر سے ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ شناختی کارڈ واپس کیے، جو پاکستانی نہیں ہے اس کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ نہیں ہونا چاہیے، شناختی کارڈ واپس کرنے والے افغان پشتون تھے، لیکن یہاں اینٹی پشتون کی سیاست ہوتی ہے، ایک وزیراعلیٰ اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے آئے اور الزام لگادیا کہ پشتونوں کو روک دیا گیا،اگر جعلی شناختی کارڈ کے خلاف مہم چلائی تو کیا یہ میری ذمہ داری نہیں تھی۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ جعلی شناختی کارڈ پر کوئی رعایت نہیں دوں گا، غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا اجرا قومی جرم ہے، اس میں پشتون اس لیے زیادہ ہیں کہ 35 لاکھ افغان پناہ گزین اس ملک میں ہیں، زیادہ تر انہوں نے ہی بنوائے ہیں، 3لاکھ 53 ہزار شناختی کارڈ بلاک کیے گئے، ایک لاکھ 74 ہزار تصدیق یافتہ غیر ملکی تھی، ایک لاکھ 78 ہزار کو ان بلاک کررہے ہیں، یہ شناختی کارڈز صرف 60دن کے لیے بحال کررہے ہیں، اس میں یہ لوگ اپنا پاکستانی ہونا ثابت کریں،1978ء سے پہلے کا اجراء شدہ ڈومیسائل، زمینی ملکیت کے دستاویز لے آئیں، شناختی کارڈ مستقل بحال ہوجائے گا، اپنے یا اپنے کسی رشتہ دار کی 1990ء سے پہلے کی سرکاری ملازمت کا سرٹیفکیٹ بھی لاسکتے ہیں، 1978ء سےپہلے کی تعلیمی اسناد بھی قابل قبول ہوں گی۔

انٹرنیٹ پر گستاخانہ مواد کے حوالے سے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ گستاخانہ مواد والی بہت ساری پوسٹس مٹانے میں کامیاب ہوگئے ہیں، ایک ایسی کانفرنس بلانے کی تجویز آئی جس میں او آئی سی ممبران اور سروس پرووائیڈر بھی ہوں، ہم دو تین ماہ میں ایسی ایک میٹنگ بلارہے ہیں، فیس بک کے نائب صدر بھی اگلے ماہ پاکستان آرہےہیں، انہوں نے 80 سے زائد پوسٹس ہٹادی ہیں، آئندہ تین چار دن میں ڈان لیکس کے حوالے رپورٹ آجائے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ کرنل حبیب ظاہر کے اغوا کی گتھی سلجھانے میں چند دن لگیں گے ، نیپال اس سلسلے میں کافی تعاون کر رہا ہے۔

سانحہ مردان میں یونیورسٹی ملازمین کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف

مردان: عبدالولی خان یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات نے نیا موڑ لے لیا ہے اور واقعے میں یونیورسٹی ملازمین کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف ہوا جب کہ پولیس نے مزید 5 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

سانحہ مردان کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس نے اس حوالے سے نئی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سانحے میں یونیورسٹی ملازمین کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ نمائندہ ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے واقعے کی ویڈیو کی مدد سے یونیورسٹی کے مزید 6 ملازمین کو شناخت کرلیا جو بلوائیوں میں شامل تھے جب کہ ان میں سے 3 کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ڈی پی او مردان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد واقعے میں مزید 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا جس کے بعد گرفتار افراد کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔ ڈی پی او کے مطابق مشال خان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس کی موت گولی لگنے سے واقع ہوئی ہے جب کہ اس حوالے سے مختلف پہلوؤں سے بھی تفتیش جاری ہے جس کے لیے 3 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جب کہ تفتیش میں سی ٹی ڈی کی بھی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مردان میں طالب علموں کے تشدد سے ایک طالب مشال خان جاں بحق ہوگیا تھا جس کے بعد پولیس نے واقعے میں 20 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ تقریب

آئی ایس پی آر کے مطابق قطر کے وزیر دفاع ڈاکٹر خالد بن محمد تقریب کے مہمان خصوصی تھے، پاس آؤٹ ہونے والوں میں سعودی عرب اور فلسطین کے کیڈیٹس بھی شامل تھے۔

اکیڈمی سینئر انڈر آفیسر عمران فیض کو اعزازی تلوار ،بٹیلین سینئر انڈر آفیسر احمد جواد کو صدارتی گولڈ میڈل جبکہ اوورسیز میڈل فلسطین کے الائیڈ انڈر آفیسر اشرف صبحیت کو دیا گیا۔

سلمان اور کترینہ کی فلم’ٹائیگر زندہ ہے‘ کی جھلک

بالی ووڈ کے سلطان اور باربی ڈول کترینہ کیف کئی سالوں کی جدائی کے بعد پھر سے دوست بن گئے ہیں، بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان اپنی پرانی دوست اور محبوبہ کے ساتھ ایک بار پھر اسکرین پر جلوہ گر ہورہے۔

بالی ووڈ انڈسٹری کو زبردست بزنس دینے والی فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ کا سیکوئل بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اوراس کے پہلے حصے کی شوٹنگ آسٹریا میں مکمل کرلی گئی ہیں جس کی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں۔

’ایک تھا ٹائیگر‘ کی سیکوئل فلم کا نام ‘ ’ٹائیگرزندہ ہے‘ رکھا گیا ہے جب کہ فلم بھی وہیں سے شروع کی جائے گی جہاں پہلی فلم کا آخری منظرختم ہوا تھا۔

اس فلم میں سلمان خان ٹائیگر کا جبکہ کترینہ زویا کا کردارنبھاتی نظر آئیں گی، واضح رہے کہ یش راج فلمز کے بینر تلے بننے والی یہ فلم رواں سال کرسمس کے موقع پر ریلیز کی جائے گی۔

سنجے دت کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

ممبئی: مقامی عدالت نے بالی ووڈ اسٹار سنجے دت کے 15 سال پرانے مقدمے میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

سنجے دت کی گزشتہ سال سزا پوری کرنے کے بعد جیل سے رہائی ہوئے اور طویل عرصہ آرام کے بعد وہ ایک بار پھر فلمی دنیا میں واپسی کررہے ہیں لیکن سنجو بابا کی یہ خوشی بھی چند دن کی ثابت ہوئی اور وہ اب ایک بار پھر قانونی مسائل کا شکار ہوچکے ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی کی مقامی عدالت نے 2002 میں فلمساز شکیل نورانی کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں سنجے دت کے کئی بار سمن جاری کیے لیکن عدالت میں پیش نہ ہونے پر اب اداکار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں جس کے بعد جلد ہی سنجے دت کی گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ 2002 میں فلمساز شکیل نورانی نے سنجے دت کو فلم ’’جان کی بازی‘‘ کے لیے 50 لاکھ معاوضہ دیا تھا لیکن سنجے کے فلم کو ادھورا چھوڑنے پر فلمساز کو 5 کروڑ کا نقصان ہوا تھا جس پر انہوں نے اداکار پر انڈر ورلڈ سے دھمکیاں دلوانے کا مقدمہ درج کرایا تھا۔

پرینیتی اور ایوشمان کی فلم ’میری پیاری بِندو‘کانیا ٹریلرجاری

اکشے رائے کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم’میری پیاری بِندو‘ کی کہانی محبت کرنے والے جوڑے کے گرد گھومتی ہے جس میں پرینیتی چوپڑا سنگر جبکہ ایوشمان کھرانہ ایک مصنف کے روپ میں نظر آئیں گے ،فلم کیلئے پرینیتی نے اپنا پہلا ڈیبیو گانا بھی ریکارڈ کروایا ہے۔

ادیتیہ چوپڑا اور منیش شرماکی پروڈیوس کردہ فلم ’میری پیاری بِندو‘ رواں سال 12مئی کو سینما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کی جائے گی۔

پدماوتی کی شوٹنگ میں دیپیکا رکاوٹ بن گئیں

ممبئی: بالی ووڈ کی اداکارہ دپیکا پڈوکون کچھ عرصے سے نئی آنے والی فلم “پدماوتی” کی شوٹنگ میں مصروف تھیں لیکن اب وہ اچانک بیمارپڑ گئیں ہیں اور فلم کی شوٹنگ بھی روک دی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بالی ووڈ میں سنجے لیلا بھنسالی کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم پدماوتی کے مسائل ختم ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں جہاں ایک جانب فلم متعدد مسائل کے باعث کچھ عرصے سے بہت سست روی کا شکارہے جب کہ اس سے قبل فلم کے اداکارشاہد کپور اوررنویر سنگھ کے درمیان جھڑپ کی خبریں بھی آرہی تھیں لیکن اب فلم کی مرکزی اداکارہ دپیکا پڈوکون ہی بیمارپڑگئی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق دپیکا پڈوکون فلم پدماوتی کی شوٹنگ کے لیے بھاری بھرکم کپڑے پہن رہی تھیں جو فلم کی مانگ ہے جس کے باعث ان کی گردن اورکمرمیں شدید تکلیف ہوگئی۔ ڈاکٹروں کی جانب سے انہیں کچھ روز کے لیے بالکل آرام کا مشورہ دیا گیا ہے جس کے پیش نظر فلم کی شوٹنگ روک دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ فلم ’’پدماوتی‘‘ شروع سے ہی تکمیل کے مراحل میں ہی خاصے تنازعات کا شکارہوگئی تھی جہاں دوبار فلم کے سیٹ میں گھس کرنا معلوم افراد نے توڑ پھوڑ کی جب کہ سیٹ کوآگ بھی لگادی تھی۔

Google Analytics Alternative