Home » 2017 » April » 19

Daily Archives: April 19, 2017

بڑے کیس کے بڑے فیصلے کا سب کو انتظار، سیاسی جماعتیں تیار

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ تاریخی کیس کا فیصلہ مدر آف جسٹس کہلائے گا۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے توقع ظاہر کی ہے کہ عدالت ایسا فیصلہ دےگی جو عدالت اورقوم دونوں کی عظمت بڑھائے گا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ریاست کو مضبوط بھی کرسکتا ہے اور کمزور بھی۔

ممتاز قانون دان بیرسٹر سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ پاناما اسکینڈل کا فیصلہ قانون اور اصولوں کے مطابق آئے گا جس سے قانون دان اور قانون کے طالب علم مطمئن ہوں گے۔

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ پاناما کیس کے فیصلے میں کرپشن کے خلاف بات ہوگی، مستقبل میں اسے کیسے کنٹرول کیاجائے اس پر بھی بات ہوسکتی ہے۔

وزیر اعظم نے بھکھی پاور پلانٹ کا افتتاح کر دیا

اس موقع پر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ٹھیک 18 ماہ پہلے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا اور آج اس کے افتتاح کے لیے حاضر ہیں،یقین نہیں آتا کہ یہ منصوبہ 18 ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کیا گیا ہے، 18مہینے میں تو ایک گھر نہیں بنتا لیکن یہ منصوبہ مکمل کرلیا گیا، آج پاکستان کی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان میں روایت ہے کہ ایک سال کے کام کو دس سال میں مکمل کیا جاتا ہے، اگر ہم منصوبوں میں وقت ضائع نہیں کرتے تو 2013 میں پاکستان ڈیفالٹ کے قریب نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں 77 ارب خرچ کیئے گئے ہیں 53 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے، بلوکی پاور پلانٹ میں 52ارب روپے کی بچت کی گئی ہے، حویلی بہادر شاہ بجلی کے منصوبے میں 49 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے، بجلی کے 3منصوبوں میں 154 ارب کی بچت کی گئی ہے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر احتجاج کی دھمکی وہ دے رہے ہیں جو خود اس کے ذٕمہ دار ہیں، جو لوگ ملک کو اندھیرے میں ڈبونے کے ذمہ دار ہیں، انہیں شرم آنی چاہیے، یہ لوگ ایمانداری اورحب الوطنی سے کام کرتے توآج یہ دن نہ دیکھناپڑتا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم ہر مہینے یا دوسرے مہینے بجلی کے منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں، مئی،جون اور اگست میں بجلی کے کئی منصوبوں کا افتتاح کریں گے، بن قاسم پاور پلانٹ کا افتتاح دسمبر میں ہو گا، 2018ء کے شروع میں بجلی کے کئی منصوبے کام کرنا شروع کر دیں گے، جون 2018 ءتک مزید 10 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی، قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ لوڈ شیڈنگ کے ذمہ داروں کو سخت سے سے سزا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی طلب میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،بجلی کی طلب بڑھنے کا مطلب ہے کہ ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے، 2018ء کے بعد جو آنے والے سال ہیں اس میں ہمیں 20ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی ملے گی، گزشتہ 3سال میں بجلی کے اتنے منصوبے لگائے ہیں جتنے گزشتہ 70 سال میں مجموعی طور پر لگے، لاہور سے کراچی موٹر وے زیر تعمیر ہے، 2020 ءتک یہ موٹر وے مکمل ہو جائے گی، بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھا رہے ہیں۔

نوازشریف کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت کراچی میں امن و امان بھی قائم کرے اور منصوبوں کے لیے پیسے بھی دے، یہ کام صوبائی حکومت کا ہے، لاہور، راولپنڈی، ملتان میں میٹرو بس چلائی گئی، یہ منصوبہ پنجاب کے مختلف شہروں تک بڑھایا جا رہا ہے، جن لوگوں نے پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کیا ان سے سوال کیا جانا چاہیے، گزشتہ چند سالوں میں بلوچستان کا کیا حال تھا اور آج کا بلوچستان کتنا پر امن ہے، جب بلوچستان میں اچھی حکومتیں آئیں گی تو وہاں ترقی بھی ہو گی، اگر ہر مہینے منصوبوں کا افتتاح ہوتا رہے گا بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ضرور ہو جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب اقتدار میں آئے تو منصوبوں کے لیے پیسے نہیں تھے، چین کے بڑے شکر گزار ہیں جب ہمیں بہت سارے منصوبوں کی ضرورت تھی تو انہوں نے ہماری مدد کی، پاکستان خوشحال ہو گا اور غریبوں کے مسائل حل ہوں گے، آج بڑھ چڑھ کر وہی باتیں کر رہے ہیں، جنہوں نے اس ملک کا بیڑہ غرق کیا،سیاست میں نووارد، دھرنے دینے ہیں، پتہ نہیں کیا کیا کرتے ہیں، وہ کل کا ضمنی الیکشن بھی ہار گئے ہیں، تہمت بازی اور روز روز کا جھوٹ بولنا ختم کرو، اگر جھوٹ کی سیات ختم نہیں کرو گے تو تم بھی ختم ہو جاؤ گے اور صرف ن لیگ کے لیے میدان رہ جائے گا۔

نوازشریف کو ضرورت پڑی تب بھی ان کے کام نہیں آؤں گا، آصف زرداری

اسلام آباد: پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے ہمارے ساتھ بہت زیادہ بددیانتی کی اور اب انہیں ہماری ضرورت بھی پڑی توفون نہیں اٹھاؤں گا۔

آصف زرداری نے کہا کہ ہمیں پاناما کیس کے فیصلے کا بڑی شدت سے انتظار ہے، نوازشریف کو کسی فیصلے کو ماننے کی عادت نہیں اس لیے معلوم نہیں کہ وزیراعظم پاناما کیس فیصلے کے بعد کیا کریں گے تاہم پاناما فیصلے پر احتجاج جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہوگا جب کہ فیصلہ نوازشریف کے خلاف آیا تو مان لینا بہتر ہوگا کیونک ان کے پاس بہت لوگ ہیں جن میں سے کسی کو بھی وزیراعظم بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہ شہنشاہ بن کر پارلیمنٹ چلا رہے ہیں جب کہ حکومت کے خاتمے تک پورے پاکستان میں تحریک چلائیں گے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ 2014 میں حکومت کوسیاسی شہید نہیں ہونے دیا لیکن اب نااہل حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا ہی ہوگی جب کہ حکومت بھی قبل ازوقت الیکشن پرجاسکتی ہے اور ہم بھی جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے ہمارے ساتھ بہت زیادہ بددیانتی کی اور اب نوازشریف کو ضرورت بھی پڑی توفون نہیں اٹھاؤں گا جب کہ وفاق اورصوبے کی لڑائی ہے جو بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوسکتی ہے لیکن وفاق تنازعات کو سیاسی معاملہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز حکومت سستا تیل ملنے کے باوجود بجلی سستی نہیں کررہی، اب توکسان کے پاس پانی ہے نہ بجلی، حکمران روڈ بنواسکتے ہیں اور کمیشن لے سکتے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے جب کہ میں نوازشریف سے بہتر مینجمنٹ کرسکتا ہوں۔

بینظیرایئرپورٹ پر خواتین پر تشدد، وزیر داخلہ نے شفٹ انچارج کو معطل کر دیا

اسلام آباد: وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بے نظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خواتین مسافروں پر تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد شفٹ انچارج کو معطل کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سے رپورٹ طلب کرلی۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایئرپورٹ پر خواتین مسافروں پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی انکوائری میں تاخیر پر ایف آئی اے اہلکاروں کی سرزنش کی اور ایئرپورٹ پر تعینات ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے وقوعہ پر موجود شفٹ انچارج کو معطل کردیا۔ شفٹ انچارج کی معطلی کا فیصلہ وزارت داخلہ کو موصول شواہد کی روشنی میں کیا گیا جب کہ وزیر داخلہ نے جلد از جلد انکوائری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

دوسری جانب بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ناروے جانے والی 2 خواتین مسافروں پر تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون نے تشدد کے الزام میں خاتون کانسٹیبل غزالہ شاہین کو کو معطل کر دیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد ایئر پورٹ پر ناروے جانے والی 2 خواتین مسافروں کی انٹرنیشل لاؤئج کے امیگریشن کاؤنٹر پر تعینات خاتون اہلکار غزالہ شاہین کی کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جس پر خاتون اہلکار نے دونوں خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر بعد ازاں ان کے پاسپورٹ ضبط کر کے زبردستی صلح نامے پر دستخط کر وا کے خواتین کو جانے کی اجازت دی گئی۔

پہلی بار بجلی کی طلب 20 ہزار میگا واٹ سے تجاوزکرگئی

سورج جیسےجیسےگرمی برسارہاہے، وہیں ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کادورانیہ بھی 16گھنٹوں تک جاپہنچا ہے، گرمی میں اضافےکےساتھ ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی بڑھتی جارہی ہے۔

حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر سمیت دیگرشہروں اور دیہی علاقوں میں10 گھنٹوں سےزائد کی لوڈشیڈنگ معمول ہے۔

جھنگ، چنیوٹ، گجرات، حافظ آباد اوردیگرشہروں میں گرمی کےساتھ 14،14گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ نےشہریوں کو پریشان کررکھاہے۔

ملتان سمیت جنوبی پنجاب کےشہروں میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھتی جارہی ہے، شہری علاقوں میں چھ اور دیہی علاقوں میں آٹھ گھنٹوں کی اعلانیہ جبکہ 14گھنٹوں تک کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جاری ہے۔

خیبرپختونخواہ کےشہروں نوشہرہ، رسالپور، جہانگیرہ اور پبی میں 12سے16گھنٹوں تک بجلی غائب رہنےسےشہریوں کوشدید پریشانی کاسامناہے۔

آزادکشمیراور گلگت بلتستان کےشہری بھی لوڈشیڈنگ کےستائےہوئےہیں، 14گھنٹوں سےزائدبجلی غائب رہتی ہے۔

ملک میں زائد المیعاد درآمدی ادویہ کی کلیئرنس کا انکشاف

کراچی: ملک میں زائد المیعاد درآمدی ادویہ کی کلیئرنس کا انکشاف ہوا ہے جو منظم گروہ کی جانب سے پاکستان کسٹمزاپریزمنٹ ایسٹ کلکٹریٹ سے کرائی گئی۔

میسرزالحیات انٹرپرائززنے چین سے جیلاٹین نامی کیپسول کا 2500 کلوگرام وزنی کنسائمنٹ درآمدکیا تھا جس میں 56 کلوگرام جیلاٹین کیپسول زائد المیعاد تھے، مذکورہ درآمدکنندہ کمپنی نے کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ برج کمپنی کی باہمی ملی بھگت سے مذکورہ کنسائمنٹ میں موجود 56 کلوگرام زائد المیعادکیپسول کی کلیئرنس کسٹمزحکام کوچکمادے کر حاصل کی اوریہ چکما متعلقہ کلیئرنگ ایجنٹ نے جیلاٹین کیپسول کے 7 کارٹن پر چسپاں اسٹکر ہٹاکردیا جس پر جیلاٹین کیپسول کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ درج تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ کسٹمزانٹیلی جنس اینڈانویسٹی گیشن کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ پاکستان کسٹمز اپریزمنٹ ایسٹ کلکٹریٹ سے زائدالمیعاد جیلاٹین کیپسول کی کلیئرنس کی کوشش کی جارہی ہے جس پر ڈائریکٹوریٹ نے مذکورہ درآمدکنندہ کی جانب سے درآمدہ کنسائمنٹ کی کڑی نگرانی شروع کردی، پاکستان انٹرنیشنل کنٹینرزٹرمینل پرتعینات کسٹمزافسران نے جیلاٹین کیپسول کے کنسائمنٹ کی ایگزامینشن رپورٹ میں واضح طورپر 2500 کلو گرام میں سے 56 کلوگرام زائد المیعادکیپسول کی نشاندہی بھی کی لیکن ایسسمنٹ گروپ میں تعینات کسٹمزآفیسرنے کنسائمنٹ کو کلیئرکرنے کے احکام جاری کردیے تاہم کسٹمزانٹیلی جنس نے کنسائمنٹ پی آئی سی ٹی کے گیٹ پر روک کر اس کی دوبارہ جانچ پڑتال کی تویہ حقیقت سامنے آئی کہ جیلاٹین کیپسول کے 2500 کلوگرام وزنی کنسائمنٹ میں سے 56 کلو گرام کیپسول کے خول زائدالمیعاد ہیں جس پرکسٹمزانٹیلی جنس نے کنسائمنٹ ضبط کرتے ہوئے کنٹراونشن رپوٹ متعلقہ کسٹمزایڈجیوڈکیشن کلکٹریٹ کو ارسال کردی۔

اس ضمن میں پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل میںتعینات ایڈیشنل کلکٹرمتین سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایاکہ کلیئر کیے جانے والے جیلاٹین کیپسول خول کی ایگزامینشن رپورٹ میں واضح طور پر 56 کلو گرام جیلاٹین کیپسول خول کو زائد المیعاد ظاہرکیاگیاہے۔ اس سلسلے میں کلکٹر کسٹمز اشہدجوادنے رابطہ کرنے پربتایاکہ کسٹمزانٹیلی جنس کی جانب سے پکڑے جانے والے کیپسول زائد المیعادنہیں ہے بلکہ چین سے جیلاٹین کیپسول کے خول پرانے ڈبوں میں رکھ کربھیجے گئے ہیں جس سے غلط فہمی پیداہوئی اورکسٹمزانٹیلی جنس نے کنسائمنٹ کو روک لیاہے۔

یہاں یہ امرقبل ذکرہے کہ ایڈیشنل کلکٹرکا کہنا ہے کہ زائد المیعاد کیپسول کو رپورٹ میں ظاہرکیاگیاتھاجبکہ کلکٹر اپریزمنٹ ایسٹ کا کہناہے کہ جیلاٹین کیپسول کے خول زائد المیعاد نہیں ہیں۔ ٹریڈ سیکٹر کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ زائدالمیعاد ادویہ درآمدکرنے والے اوراس زائدالمیعاد ادویہ کی کلیئرنس میں تعاون کرنے والے کسٹمزکلیئرنس ایجنٹ کالائسنس فوری طورپرمنسوخ کیاجائے جبکہ درآمدکنندہ پرادویہ سمیت ہرقسم کی درآمدی سرگرمیوں کی پابندی عائد کی جائے کیونکہ ایسے عناصر معمولی نوعیت کے مالی فوائد کی خاطرقیمتی انسانی جانوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان

پاکستانی شیئرز بازار میں کاروبار کاآغاز 100 انڈیکس نے 600 پوائنٹس کمی سے کیا، جس کی وجہ کل سنایا جانے والا پاناما کیس کا فیصلہ ہے۔

کاروبار کے دوران انڈیکس 826 پوائنٹس کمی سے 46 ہزار 48 تک گرا لیکن پھر اس موقع پر خریداری کی لہر کے سبب انڈیکس کا منفی نمبر 200 تک باقی رہ گیا۔

23 فروری کو پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ کئے جانے کے بعد سے آج کے 800 منفی تک 100 انڈیکس 3104 پوائنٹس کم ہوچکا ہے، لیکن اسکے باوجودسرمایہ کاروں کی اکثریت پر امید ہےکہ پاناما فیصلہ آجانے پر مارکیٹ کا رجحان بہتر ہوجائے گا۔

آئندہ مالی سال کے لئے وفاقی بجٹ کی تیاریاں تیز

آئندہ مالی سال دوہزار سترہ ،اٹھارہ کے وفاقی بجٹ کے لئے مشاورتی اجلاس ہوا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں نئے مالی سال کےوفاقی بجٹ حجم میں چار سے ساڑھے چار فیصد تک اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ تجاویز میں مہنگائی کی شرح کو مد نظر رکھ کر تجویز دی گئی ہیں ۔

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کے لیے 835 ارب رکھنے کی تجویز ہے جو رواں مالی سال 800 روپے مختص ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال نو ماہ اور 7 اپریل تک پی ایس ڈی پی کی مد میں ساڑے پانچ سو ارب روپے جاری کئے جا چکے ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت منصوبہ بندی کو مختلف وزارتوں سے 1800 ارب روپے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

مالی سال 2017-18 کے وفاقی بجٹ میں دفاع کے لئے 900 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جو رواں مالی سال کے بجٹ ے 40 ارب روپے زائد ہے۔

Google Analytics Alternative