Home » 2017 » April » 20

Daily Archives: April 20, 2017

اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا، وزیراعظم نوازشریف

وزیر اعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے بعد اپنے ردعمل میں عدالتی فیصلے پر من و عن عملدرآمد کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر رکھا۔

وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شکرانہ ، مبارکیں اور محبت کا اظہار، سب تعریفیں اور بڑائی اللہ کی ذات کے لیے ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ کئی مہینےسماعت کےبعد کورٹ کاتحقیقات کاحکم دینا درخواست گزاروں کی شکست ہے، درخواست گزار 4 مہینے میں اپنا کوئی الزام ثابت نہیں کر سکے۔

جے آئی ٹی بنانا نواز شریف کو راہ فرار دینا ہے، اعتزار احسن

اعتزاز احسن نے سابق صدر اور پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دو سینئر ججوں نے نوازشریف کو نااہل قرار دیا ہے،باقی 3ججز نے اس رائے کی تردید نہیں کی،معاملہ مؤخر کر دیا ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دو سینئر ججز کی رائے سپریم کورٹ کی رائے سمجھی جا سکتی ہے،اکثریتی فیصلے میں سے نظریہ ضرورت کی باس آتی ہے ۔

مختلف شہروں میں ن لیگ کے کارکنوں کا جشن

لاہور، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ، سرگودھا، گوجرانوالہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، حیدر آباد، نواب شاہ سمیت کئی شہروں میں ن لیگ کے کارکنوں نے جشن منایا اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔

ن لیگ کے کارکنوں نے ڈھول کی تھاپ پررقص کیا اور بھنگڑے ڈالے جبکہ کارکنوں نے ایک دوسرے کو مبارک باد بھی پیش کی۔

آصف زرداری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کردیا

انہوں نے پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ نواز شریف کا بیان کیا تھانے میں لیا جائے گا یا افسران پی ایم ہاؤس جاکر لیں گے،پیپلز پارٹی اور قوم کو ان ججز سے کبھی انصاف نہیں ملا ہے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے عمران خان سے کہا تھا کہ ہمارے ساتھ آؤ، قانون بنا کر سپریم کورٹ چلتے ہیں لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں مانی، نا تجربہ کار ہیں، انہیں نہیں پتہ یہاں ججز کیسے انصاف چلاتے ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ آج پاکستان میں انصاف اور جمہوریت کا نقصان ہوا ہے اور پاکستانی عوام کو دھوکا دے کر بے وقوف بنایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بات ہمارے سامنے آئی ہے اس پر ہمارا یہ تجزیہ ہے کہ سینئر ججوں نے بہترین فیصلہ دیا ہے تاہم جونیئر ججوں کی اکثریت نے عوام سے مذاق کیا ہے،دو سینئر ججوں نےکہہ دیا ہے کہ نوازشریف صادق اورامین نہیں رہے۔

شریک چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو پتہ ہے کہ نواز شریف ، شریف نہیں ہیں ، اگر پاکستان نواز شریف کے ہاتھ میں محفوظ نہیں تو عمران خان کے ہاتھ میں بھی محفوظ نہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سے مایوس ہوا، میری نظر میں تو عمران خان نے نواز شریف کو بچالیا،اگر اعتزاز احسن عدالت میں کھڑے ہوکر دلیل دیتے تو کوئی اور بات ہوتی۔

آصف علی زرداری نے امید کا اظہار کیا کہ مولانا فضل الرحمان سے بھی توقع کرتے ہیں کہ نواز شریف کو چھوڑ کر ہمارے پاس آجائیں گے۔

عمران خان کا نواز شریف سے فوری استعفے کا مطالبہ

عمران خان نے کہا کہ پانچوں ججز نے نواز شریف کا موقف مسترد کردیا ہے، جے آئی ٹی بنانے کا پانچوں ججز کا متفق فیصلہ سامنے آیا ہے، اس کا مطلب نوازشریف کی منی ٹریل مسترد کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسینئر ججز نے تو فوری طور پر نواز شریف کو ڈی نوٹیفائی کرنے کاکہا ہے، جے آئی ٹی کی تحقیقات تک نواز شریف مستعفی ہوں۔

آج کے فیصلےنے وزیراعظم کے خط کی تائید کی،مریم اورنگزیب

مریم اورنگزیب نے کہا کہ مسلم لیگ ن ایک بار پھر سرخرو ہوئی، جھوٹے الزامات لگانے والی پارٹی عدالت سے شرمندہ ہوکر نکلی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے جھوٹے الزامات کا سامنا تحمل،صبر اور بردباری سے کیا، وزیراعظم نے ان کی منفی سیاست کا جواب پاکستان کیلئے دن رات کام کرکے دیا۔

مخالفین کے ثبوت یا شہادتیں ناکافی تھیں، خواجہ آصف

پاناما کیس کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عدالت نے کہا ہےکہ وزیرا عظم نا اہل نہیں ہوئے، اس دوران خواجہ آصف جذبات پر قابو نہ رکھ سے اور رو پڑے۔

وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ناقابل تردید ثبوت کا دعویٰ کرنے والوں نے منہ کی کھائی، ہم نے بار بار یہ کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا احترام کیا جائے گا، آج ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے ساتھ پورا تعاون کریں گے، پاکستان کو آگے بڑھانے کا سفر جاری رہے گا، نواز شریف صادق بھی ہیں امین بھی ہیں ، وہ جدید پاکستان کے معمار ہیں۔

وزیر ریلوے نے پی ٹی آئی پر طنز کے تیر برساتے ہوئے کہا کہ اب رونا بند کر دو، عمران خان اب بھی وقت ہے ،خیبر پختون خوا جاؤ۔

لائیو:پاناما کا فیصلہ آنے کو تیار، ہر شخص کو بے صبری سے انتظار

پاناما کیس کی سماعت کے دوران 35سماعتوں میں 25ہزار دستاویزات پیش کی گئیں، ان دستاویز کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ فیصلہ کس کے حق میں آئے گا، پورے ملک کی نظریں سپریم کورٹ پر جمی ہوئی ہیں۔

پاناما لیکس میں آف شور کمپنیوں کے انکشاف پرعمران خان، شیخ رشید اور سراج الحق نے نواز شریف، اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کی نا اہلی کی درخواستیں دائر کررکھی ہیں۔

سپریم کورٹ نے کاز لسٹ جاری ہوچکی ہے۔سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ۔ کیس کا فیصلہ 5 رکنی لارجر بنچ کےسربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کورٹ روم نمبر ون میں پڑھ کر سنائیں گے ۔

کیس کے حوالے سے عدالت میں 25 ہزار دستاویزات داخل کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے 26 سماعتوں کے بعد 23 فروری 2017ء کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ تقریباً 55 دن کے طویل انتظار کے بعد آج دوپہر دو بجے یہ فیصلہ سنایا جائے گا۔

عمران خان، شیخ رشید اورسراج الحق کی عدالت سے استدعائیں :

پاناما کیس میں عمران خان ، شیخ رشید اور سراج لحق درخواست گزار تھے اور تینوں کی سپریم کورٹ سے ایک ہی استدعا تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا جائے۔

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی درخواست میں 7 استدعائیں کی گئیں۔
۔وزیر اعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور کیپٹن صفدر کو قومی اسمبلی سے نا اہل قرار دیا جائے۔
۔منی لانڈرنگ کے ذریعے لوٹی گئی دولت سے برٹش ورجن آئی لینڈ اور دیگر جگہوں پر بنائی گئی کمپنیوں اور جائیدادوں کی رقم پاکستان لانے کا حکم دیا جائے۔
۔چیئرمین نیب کو حکم دیا جائے کہ گزشتہ 155 سال سے زیر التواء میگا کرپشن کیسز کی تحقیقات مکمل کی جائیں۔
۔سیکریٹری داخلہ کو نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا جائے۔
۔بیرون ملک جائیدادوں کی رقم واپس لانے کے لیے سیکریٹری قانون اور چیئر مین نیب کو کارروائی کا حکم دیا جائے۔
۔چیئر مین ایف بی آر کو شریف خاندان کے ٹیکس گوشواروں اور اثاثوں کی تحقیقات کا حکم دیا جائے ۔
۔ عدالت جو بھی مناسب سمجھے حکم جاری کرے۔

شیخ رشید کی استدعا :
۔ وزیر اعظم آرٹیکل62اور63 پر پورا نہیں اترتے ،وہ صادق اور امین نہیں رہے ، انہیں نا اہل قرار دیا جائے ۔

سراج الحق کی استدعا :
۔وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے ، انہیں نا اہل قرار دیا جائے ۔

سیکورٹی کے سخت اقدامات :

پاناما کیس کے فیصلے کے موقع پر شاہراہ دستور پر سپریم کورٹ کی بلڈنگ کے اطراف سخت سیکورٹی کےاقدامات کئے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے اطراف ایک ہزار پولیس، رینجرز اور سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے جبکہ قریبی چوراہوں اور اہم عمارتوں کے ارد گرد بھی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔


سپریم کورٹ کا رخ صرف وہی افراد کرسکے جنہیں پاسز جاری کیے گئے۔ پولیس نے پاسز کی تصدیق شناختی کارڈز سے کی۔سیاسی کارکنوں کا ریڈزون میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کا ریڈزون میں داخلہ بند کردیا گیا جبکہ وی آئی پیز کے گارڈز کو بھی اسلحہ لانے کی اجازت نہ تھی۔

ایس پی سیکورٹی سپریم کورٹ نے تحریک انصاف سے پاناما کیس کے فیصلے کے لیے آنے والوں کی فہرست طلب کی تھی جبکہ پولیس نے سرکاری ملازمین کو بھی آفیشل کارڈز ہمراہ لانے کی ہدایت کی تھی۔ میڈیا کے نمائندوں کو بھی خصوصی پاسز جاری کیےگئے تھے۔

Google Analytics Alternative