Home » 2018 » May » 02

Daily Archives: May 2, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

گزشتہ احتیاطوں کو بالائے طاق رکھ کر ایسے کام بھی کیے جو کہ درست نہ تھے آپ جانتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ درست نہیں اس کے باوجود اپنی فطری جلد بازی کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت کچھ کرررہے ہیں۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

آپ کا مزاج بھی قدرے گرم رہے گا ممکن ہے کہ مزاج کی یہ گرمی آپ کے قریبی دوستوں کو آپ سے بدظن کر دے آپ کے مخالف بھی آپ کے خلاف سازش کر سکتے ہیں۔

جوزا:
21مئی تا21جون

یقینا آپ کو گزشتہ پیش آنے والے واقعات نے ایک اچھا سبق دے دیا ہو گا اسے سامنے رکھ کر ہمیشہ زندگی گزاریں تاکہ کبھی سابقہ غلطیوں کا اعادہ نہ ہو سکے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آپ کے گھریلو حالات بہتر رہیں گے شریک حیات کی وفاداری اور خلوص پر شک نہ کیا کریں، اس طرح آپ اپنی وقعت کم کر بیٹھیں گے، اپنے قریبی عزیزوں سے بھی دور رہنے کی کوشش کیجئے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

عجیب و غریب تبدیلیاں آ سکتی ہیں ایسی تبدیلیاں جن سے یقینا آپ پہلے آشنا نہیں تھے پہلے بھی ہم نے آپ کو مختلف امور کے سلسلے میں بہتر مشورے دیے تھے یقینا آپ کو ان کی درستگی کا یقین آ چکا ہو گا۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

ہم آپ کو یہ نصیحت کریں گے کہ خود کو اس قدر رنگین مزاج نہ بنایئے کہ آخر کار آپ قطعی طور پر بے رنگ ہو جائیں یا پھر کسی بھی رنگ کی تمیز کرنے کا ہوش ہی باقی نہ رہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

گزشتہ آپ کا کاروبار ترقی کر سکتا تھا لیکن آپ جلد بازی کے تحت ایسے اقدامات کر گئے جنہوں نے بہتر نتائج پیدا نہیں کیے، یہ عرصہ کافی حد تک آپ کی موافقت کر سکتا ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

اپنے پرانے دوستوں سے استفادہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے لیکن ذرا نئے دوستوں سے ہوشیار رہیں نئے دوستوں ہی میں کوئی شخص آپ کے گھر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

اپنے قریبی رشتہ داروں کو اپنے گھر میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے دیں ورنہ پھر وہ کچھ ہو سکتا ہے جس کی توقع کبھی بھی آپ نے نہیں رکھی تھی بہت زیادہ جدوجہد ہی آپ کو مالی طور پر مطمئن کر سکے گی۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

تعلیمی مسائل بخوبی حل ہو سکتے ہیں، محبوب سے تعلقات استوار ہونے کی توقع بھی زیادہ ہے، مقدمہ بازی سے قطعی اجتناب برتیں لہٰذا اپنے مخالفین سے صلح ہی کر لیں۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

موجودہ کاروباری مقام ہرگز نہ بدلیں، آپ کی الجھنوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، اگر آپ پوری محنت اور توجہ کے ساتھ کاروبار کو وسعت دینے کی کوشش کریں تو بفضل خدا کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

ملازمت سے تعلق رکھنے والے حضرات ترقی کر سکیں گے، منگنی یا شادی کی توقع بھی رکھی جا سکتی ہے، آپ اپنے اخراجات کم کر دیں تاکہ بہتر موقع پر کام آ سکے۔

قبائلی علاقوں میں تعمیر ترقی کے در ’’وا‘‘ ہونے لگے ہیں

adaria

پیر کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اورچیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شمالی وزیرستان ایجنسی کے علاقوں میرانشاہ اور غلام خان کادورہ کیا۔ میرانشاہ پہنچنے پر وزیراعظم نے شہدا کی یادگار پر پھول چڑھائے اورفاتحہ خوانی کی جنہوں نے امن و استحکام کی بحالی کیلئے عظیم قربانیاں دیں۔ وزیراعظم نے پاکستان آرمی انجینئرز کی جانب سے نوتعمیر شدہ میرانشاہ مارکیٹ کمپلیکس کا افتتاح کیا جسمیں1344دکانیں، پارکس، کار پارکنگ، سولرلائٹس، ڈرائیو ویز اور واٹر سپلائی نیٹ ورک شامل ہے۔ غلام خان نیشنل لاجسٹک سیل ٹرمینل شمالی وزیر ستان کابھی افتتاح کیا گیا جو سنٹرل ٹریڈکوریڈور کاحصہ ہے،نوتعمیر شدہ ٹریڈ ٹرمینل اور کمیونیکیشن انفراسٹرکچر اس مارکیٹ کمپلیکس کو ڈیرہ اسماعیل خان میں سی پیک کے ساتھ منسلک کریں گے،اس سے علاقہ میں معاشی ترقی اور خوشحالی کے نئے باب کا اضافہ ہو گا۔ اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ سماجی و اقتصادی منصوبے صرف شروعات ہیں،فاٹا کیلئے ایسے کئی منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عارضی نقل مکانی کرنے والوں کی بحالی اور فاٹا کی معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقہ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے بلاتعطل حمایت پر قبائلیوں کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہاہے کہ فاٹاسے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، فوج نے اپنا کام پورا کر دیاہے،اب ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرناہے کہ ہم ان برائیوں کو دوبارہ اپنے علاقوں میں نہیں آنے دیں گے۔انہوں نے کہاکہ اب یہ مقامی انتظامیہ اور پولیٹیکل ایجنٹس کی ذمہ داری ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھیں۔ اگر فاٹا میں امن نہیں ہو گا تو پاکستان میں امن نہیں ہو گا، یہ سب معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،فاٹاکو قومی دھارے میں لاناطویل المدتی ترقی و خوشحالی کی کنجی ہے اور حکومت فاٹا کے عوام کی خواہشات کے مطابق اس پرکام کر رہی ہے۔ایک ایسے موقع پر جب قبائلی علاقوں میں ایک بار پھر شر پسندوں نے اپنی سرگرمیوں کے ذریعے علاقے کی عوام میں مغالطوں کو ہوا دینا شروع کر دی ہے وزیراعظم کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔حالیہ چند ہفتوں میں بعض امن دشمن عناصر نے نام نہاد حقوق کی آڑ میں بے چینی پھیلا رکھی ہے۔ لسانی تعصب کو ہوا دے کر پاکستان دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔پاکستان دشمن قوتیں نہیں چاہتیں کہ خطے میں خوشحالی اور ترقی ہو اور امن قائم ہو۔بلاشبہ قبائلی عوام نے بے پناہ قربانی دی ہے گھر بار اور کاروبار سب کچھ چھوڑا مگر سوال ہے کہ کس لیے۔کیا یہاں کسی پنجابی یا سندھی نے آ کر آباد ہونا تھا۔نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ انہیں اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل اور پرامن آزادانہ زندگی بسر کرنے کیلئے کیا۔پاک فوج نے تو جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشتگردوں کو مار بھگایا جو ہر قبائلی کی جان کو آئے ہوئے تھے۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ قبائلی عوام ان دہشت گرد گرہوں اور ان کی قیادتوں کے سامنے غلاموں کی سی زندگی بسر کر رہے تھے جن کی زندگی اور موت کے فیصلے دہشت گرد کر رہے تھے۔ہر طرف جنگل کا قانون تھا۔ایسے میں حکومت اور سکیورٹی اداروں نے قبائلی عوام کی جان و مال کیلئے وہ اقدام کیا جو وقت کا تقاضہ تھا۔اس اقدام کی کامیابی کے لیے خطے کی عوام کی قربانی مثالی بھی اور ضروری بھی تھی کیونکہ لمحوں کی غفلت کی سزا صدیوں پر منتج ہوتی ہے۔ملک دشمن عناصر چاہتے تھے بربادی کے سائے اس خطے کی عوام کے سروں سے نہ چھٹنے پائیں لیکن حکومت ،سکیورٹی اداروں اور عوام نے مل کر دشمن کے سب منصوبوں کو خاک میں ملا کر امن بحال کردیا۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سب مل کر اسے قائم بھی رکھیں جیسے کہ وزیراعظم نے اس نکتے پر زور دیا کہ فاٹاسے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے پاک فوج کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، فوج نے اپنا کام پورا کر دیاہے،اب ہمیں اپنے عمل سے ثابت کرناہے کہ ہم ان برائیوں کو دوبارہ اپنے علاقوں میں نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب یہ مقامی انتظامیہ اور پولیٹیکل ایجنٹس کی ذمہ داری ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھیں۔تاہم یہاں حکومت پر بھی پہلے سے زیادہ ذمہ داری آن پڑی ہے کہ قبائلی عوام کے نقصانات کا جلد از جلد زالہ کرے۔ کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے لیے ممکنہ سہولیات فراہم کرے،رہ گئے وہ عناصر جو آج کسی کی ڈگڈگی پر تماشہ دکھا رہے ہیں وہ جلد اپنے عزائم میں ناکام ہونگے کیوں کہ ان کا اصل چہرہ سب کے سامنے آ چکا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپے 70 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 31 پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں3روپے55پیسے اور مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں3روپے41پیسے اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔اس بلاجوازاضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت87روپے70پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت98روپے76پیسے، مٹی کا تیل79روپے 87 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 68 روپے 85 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔اس کے باوجود کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہ راست مارکیٹ اور عوامی زندگی پر پڑتے ہیں حکومت نے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کی اجازت دے دی۔حکومت پہلے ہی تیل کی قیمتوں سے فی لٹر 35سے 40 روپے کما رہی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔عوام دوست حکومتیں اپنی عوام ریلیف دینے کی مواقع تلاش کرتی ہیں لیکن شومئی قسمت کہ آج یہ معاملہ ہی برعکس ہے۔ابھی عوام بجٹ کے گورکھ دھندے کو رو رہی تھی کہ پٹرول بم گرا کرحکومت نے اپنی ساکھ کو بٹہ لگا لیا ہے جسے دانشمندی نہیں کہا جا سکتا۔
مقبوضہ کشمیر بربریت،مودی حکومت ہوش کے ناخن لے
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی جانب سے ہلاکت خیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ضلع پلوامہ میں قابض سیکیورٹی فورسز کی جانب سے تازہ ریاستی دہشت گردی میں ایک بچے سمیت تین کشمیری جاں بحق ہوگئے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز اور سینٹرل ریزور پولیس فورس نے ضلع پلوامہ کے علاقے درادگام میں مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کی جسکے نتیجے میں50سے زائد نوجوان کشمیری زخمی ہوگئے۔مذکورہ واقعے کے بعد ضلع بھر میں مکمل شٹر ڈان کیا گیا جبکہ مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ادھر کشمیر کے حریت پسند رہنماں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد یٰسین ملک اور دیگر نے ضلع پلوامہ میں بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی کی مزمت کی۔دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت وادی کے پولیس اسٹیٹ ہونے کا مظہر ہے۔ اس ساری صورتحال میں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ وادء میں آزادی کی تحریک کو دبانے کیلئے فورسز اور سیکیورٹی اداروں کی مدد کے لیے این ایس جی کمانڈوز کو تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے جنہیں بلیک کیٹس کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھارتی حکومت نوجوانوں کے حوصلے پست نہیں کر سکی اور وہ تیزی کیساتھ مسلح جدوجہد کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

پی ٹی آئی : بدعنوانی ، کرپشن کے خلاف جہاد کا اعلان

موجودہ اسمبلیوں کی میعاد پوری ہونے والی ہے اور اس کے بعد نئی اسمبلیوں کے انتخابات ہونا ہیں اس لئے ہر سیاسی جماعت پبلک جلسے کر کے اپنا انتخابی منشور بیان کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، پی ایس پی، اے این پی، جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام(ف)، پختون خوا ملی عوامی پارٹی، مسلم لیگ (ق) ، تحریک لبیک اور متحدہ مجلس عمل سمیت انتخابات میں حصہ لینے والی ہر سیاسی، دینی جماعت اور اتحاد نے گزشتہ دو ماہ سے اپنے پبلک جلسوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مینار پاکستان کے جلسہ میں الیکشن 2018ء کے لئے پارٹی کے گیارہ نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قائداعظم اور علامہ اقبال کے افکار کے مطابق ریاست مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنانے کا موقع کھو دیا تو تباہی میں گرتا ہوا پاکستان مزید تباہی سے دوچار ہو جائے گا۔ انہوں نے موجودہ حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اسی طرح قر ضے لیتے رہے تو ملک ٹوٹ جائیگا اگر فوج کیلئے پیسہ نہیں ہوگا تو پاکستان کو کون بچائیگا؟ انہوں نے اپنے گیارہ نکات کی تفصیلات بتاتے ہوئے اعلان کیا کہ ہم اقتدار میں آکر سپریم کورٹ، نیب اور ایف آئی اے سمیت تمام کر پشن ختم کر نیوالے اداروں کو مضبوط کریں گے۔ جنوبی پنجاب کو انتظامی بنیادوں پر ایک صوبہ بنائیں گے۔ فاٹا کو خیبر پی کے کا حصہ بنائیں گے۔ ملک میں غریب اور امیروں کے بچوں کیلئے یکساں نظام تعلیم لائیں گے۔ ملک میں فیڈریشن کو مضبوط کر نے کیلئے تمام صوبوں کو انکے حقوق دلائیں گے۔ انصاف کا ایسا نظام لائیں گے جس میں سول مقدمات کا فیصلہ ایک سال میں ہوگا۔ پورے پنجاب میں خواتین کیلئے الگ سے پولیس سٹیشن بنائے جائیں گے اور خواتین کو جائیداد میں انکا حق دیا جائیگا۔ ٹیکس کے نظام کا شفا ف بنائیں گے اور ملک سے سالانہ8ہزار ارب کا ٹیکس جمع کریں گے۔ عالمی معیار کا بلدیاتی نظام لیکر آئیں گے اور شہروں کے میئر کا الیکشن ڈائر یکٹ کروایا جائیگا۔ ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کر یں گے اور 10ارب درخت لگائیں جائیں گے۔ ملک میں غر یبوں کو پینے کا صاف پانی دیں گے ۔ پولیس کو پورے ملک میں خیبر پی کی طرح مکمل طور پر غیر سیاسی کریں گے۔ ایگریکلچر ایمرجنسی نافذ کی جائیگی۔ایگری یونیورسٹیز بنائیں گے۔ کسانوں کو سستے قر ضے دیں گے اور کسانوں کی بجلی پر ٹیکس ختم کر یں گے۔ہسپتالوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پورے ملک میں اعلیٰ میعار کے ہسپتال بناؤں گا اور پیسے والے لوگوں کو ملک سے باہر نہیں جانا پڑیگا جہاں غریبوں کا مفت وی آئی پی علاج ہو گا۔ غریبوں کیلئے اعلی میعارکے مفت ہسپتال بنائیں گے۔پاکستان سے جتنے پیسوں سے لوگ کینسر کا علاج کروانے باہر جاتے ہیں اتنے پیسوں سے ایک نیا کینسر ہسپتال بنایا جاسکتا ہے۔ پورے ملک میں سب کیلئے ہیلتھ انشورنس کا پروگرام لیکر آئیں گے۔ پاکستان سے جتنے بچے باہر جاکر پڑھتے ہیں یہ پیسے پاکستان کے پورے تعلیم بجٹ سے زیادہ ہیں۔ اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور آسٹر یلیا کی آبادی اڑھائی کروڑ ہے۔دنیا میں جس ملک نے ترقی کی اس نے اپنے بچوں کو تعلیم دی۔ پاکستان میں 8لاکھ بچے انگلش میڈیم سکولوں میں 25لاکھ بچے دینی مدار س میں ہیں لیکن آج تک کبھی ہمارے معاشر ے نے پوچھا کہ دینی مدار س کے بچے کیوں جنرل جج یا سر کاری افسر نہیں بنتے؟ ہم پورے ملک میں ایک تعلیمی نصاب لیکر آئیں گے امیر اور غر یب کے بچوں کو ایک جیسی تعلیم ملے گی۔بقول عمران خان آج اگر ہم اپنا رخ تبدیل کر لیں پاکستان عظیم ملک بن سکتا ہے۔ 60 سالوں میں6ہزار ارب قر ضہ پاکستان نے لیا۔ 2008سے13تک 13ہزار ارب قرضہ پہنچ گیا اورموجودہ حکومت نے قر ضہ 27ہزار ارب تک پہنچادیا جو پاکستانی قوم دے گی۔ مہنگائی ہوگی آپ پر ٹیکس لگیں گے بجلی اور گیس سمیت ہر چیز پر ٹیکس لگیں گے۔ پٹرول اور ڈیز ل بھی مہنگا ہوگا کیونکہ ہم نے قر ضوں کی قسطیں واپس کر نی ہیں۔ ہم نے اب تباہی کے راستے پر نہیں جانا۔ ملک چلانے کیلئے غیرملکی قرضوں کی بجائے پاکستانی عوام سے پیسہ لیکر ملک چلائیں گے اگر قوم کو اعتماد ہو کہ ان کا پیسہ ضائع نہیں ہوگا۔ پیسہ بڑ ے بڑے محالات خر یدنے پر نہیں عوام کی بہتر ی کیلئے خر چ ہوگا تو قوم پیسہ دے گی۔ 8ہزار ارب سالانہ قوم سے جمع کروں گا۔ ایف بی آر کو مضبوط کروں گا اور اداروں کو مضبوط کر وں گا۔ آپ سے دعویٰ کرتاہوں کہ آپ کو بھیک نہیں مانگنی پڑ ے گے اور قوم کو اپنے پاؤں پر کھڑ اکروں گا۔ ہم ملک میں سپر یم کورٹ ’نیب اور ایف بی آر سمیت چوری روکنے والے اداروں کو مضبوط کریں گے کیونکہ اگر آپ خود چور نہ ہوں تو کوئی کرپشن نہیں کر سکتا۔ میں ملک کو کرپشن سے نجات دلاؤں گا۔ ہم نے کر پشن کی وجہ سے 20اراکین کو تحر یک انصاف نے فارغ کر دیا ہے اور ہم نے اس وقت ہی انکو اراکین کو پارٹی سے نکالا ہے جب میں نے انکی پیسے لیتے ہوئے خود ویڈ یو دیکھی جس میں آپ سب پیسے گن رہے تھے۔ چوری کا پیسہ چھپانے کیلئے پاکستان سے منی لارنڈنگ کی جاتی ہے اور پاکستان سے سالانہ 10ارب کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے اور بیرون ملک سے پیسہ پاکستان لیکر آئیں گے اور جو پیسہ لیکر آئیں گے اس کو اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کریں گے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھائیں گے۔ ملک میں انڈسٹریل پر ٹیکس کم کریں گے۔ ملک میں بجلی اور گیس کو مہنگا نہیں کیا جائیگا۔ وزیر اعظم ہاؤس میں سر مایہ کاروں کیلئے خصوصی کاؤنٹر بنایا جائیگا۔ ملک میں گورننس قائم ہوگی تو بیرون ملک سے پاکستانی اپنے ملک میں سر مایہ کار ی کریں گے اور بے روزگار نوجوانوں کا روزگار ملے گا ۔ ملک میں50لاکھ سستے گھر بنائیں گے اور پاکستان میں لوگوں کو روزگارملے گا اور ملک میں بے روزگاروں کو ٹیکنیکل اور سکل ایجوکیشن دیں گے۔ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دیا جائیگا۔ ہر سال 4نئے مقامات سامنے لائے جائیں گے اور اس سے پاکستان میں سیاحت کے ذریعے پیسہ آئیگا۔ پاکستان میں ایسے مقامات ہیں جہاں سیاحت کے ذریعے اربوں روپے کمائے جاسکتے ہیں۔ ہم اقتدار میں آکر ملک میں ایگر یکلچر ایمرجنسی نافذکر یں گے ملک میں ایگر ی یونیورسٹیز بنائیں گے۔ ملک میں کسانوں کو سستے قرضے دیں گے اور کسانوں کی بجلی پر ٹیکس ختم کریں گے۔

اسلامی ضابطہ اخلاق اور مسلم لیگی قیادت(1)

rana-biqi

مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کیلئے قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی تحریکِ پاکستان کی جدوجہد کا محور جنوبی ایشیا میں قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بّرصغیر ہندوستان کی دو آزاد و خودمختار ریاستوں میں تقسیم کا مطالبہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ تحریک پاکستان کی مسلم لیگی قیادت اسلامی ضابطہ اخلاق پر یقین کامل رکھتی تھی جس کی اساس اسلامی فلسفہ حیات پر استورا کی گئی ہے۔نظریہ کا مطلب ایسا فلسفہ یا مشترکہ لائحہ عمل مراد ہے جو انسانی زندگی سے متعلق سیاسی، سماجی، مذہبی ، معاشی اور تہذیبی مسائل کے حل میں معاون ہوتا ہے یعنی نظریہ اُن تمام سیاسی، مذہبی اور تمدنی اصولوں کا مجموعہ ہے جن پر کسی قوم یا تہذیب کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ عام طور پر نظریے کے ماخذ کے طور پر کسی بھی قوم کیلئے مشترکہ مذہبی فکر و نظر قوموں کی یکجہتی کو ممکن بنانے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے جیسا کہ مختلف قومیں اور مغربی تہذیبیں بشمول یورپین ، جاپانی، چینی، یہودی ، ہندو اور مسلمان اپنے اپنے مذاہب اور اخلاقی فلسفہ حیات کیمطابق اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔دنیا کے کسی بھی خطے میں مشترکہ مذہبی، سماجی اور اخلاقی روایات کا شمار ایک مضبوط انسانی رشتہ میں ہوتاہے چنانچہ قوموں کی زندگی میں نظریاتی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافت کے جذبات و خیالات بیدار کرنے میں سچ اور حق پر مبنی اخلاقی قدریں مثبت کردار ادا کرتی ہیں ۔ تاریخ کے مطالعہ سے بھی یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسانی زندگی کے ہر دور میں بہت سے لوگ اخلاقی قدروں کی پامالی کے مرتکب ہوکر انسانی تمدنی زندگی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن اچھے اور بُرے کی تمیز کے حوالے سے ماضی میں بھی اخلاقی نظام کے علم برداروں نے ایسے افراد کی بیخ کنی میں قرار واقعی کردار ادا کیا ہے۔ قومیں آج کے جمہوری دور میں بھی تاریخ سے سبق لیتی ہیں اور اخلاقی قدروں کی حفاظت کیلئے سینہ سپر ہوجاتی ہیں تو قومی زندگی میں گناہ اور جرائم پر بخوبی قابو پایا جا سکتا ہے۔چنانچہ قومی نظریات کی حفاظت کیلئے تاریخی حوالے سے کہنے والے درست ہی کہتے ہیں کہ در حقیقت قوموں کا وجود اُن کے مذہبی و اخلاقی نظریات سے ہوتا ہے اور جو قومیں اپنے نظریات کی حفاظت نہیں کرتی وہ مٹ جاتی ہیں۔

بلاشبہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے جس کے آئین میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے، لہذا قومی زندگی میں اسلامی اخلاقی قدروں کو مسلمہ حیثیت حاصل ہے چنانچہ آئینِ پاکستان اور اسلامی نظریات کی پاسداری ہر محب وطن پاکستانی پر فرض ہے۔ ابتدائی طور پر ہی قومی زندگی کو اسلامی اخلاقی قدروں میں ڈھالنے کیلئے قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی ملک میں حلال اور حرام ذرائع آمدنی میں فرق کو واضح کرنے اور جرائم کی اساس یعنی رشوت اور کرپشن کے خاتمے کیلئے The Prevention of Corruption Act, 1947 کو کامل وضاحت کیساتھ ملک کے تمام شہریوں اور سرکاری ملازموں پر لاگو کیا گیا تھا۔پیغمبر اسلامؐ کے ایک ارشاد عظیم میں بھی ملت اسلامیہ کو تلقین کی گئی ہے کہ ” رزق حلال کی طلب ہر مسلمان پر واجب ہے “۔ جو آدمی حلال روزی کماتا ہے اُس کا دل نور سے معمور ہو جاتا ہے اور رزقِ حلال سے حکمت و عقل مندی بڑھتی ہے۔ مستند اسلامی فکر و نظر رکھنے والے عالم و فاضل مذہبی دانشوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک کھانا پینا اور پہننا مالِ حلال سے نہیں ہوگا تو کسی عبادت اور تسبیح کا روحانی فائدہ ہرگز نہیں ہوگا۔ حقیقت یہی ہے کہ دنیا بھر کی جمہوری حکومتیں چاہے وہ سوشلسٹ یا سیکولر حکومتیں ہی کیوں نہ ہوں اچھائی اور برائی میں فرق قائم رکھنے کیلئے جمہوری آداب میں اخلاقی اصولوں پر ترجیحی بنیادوں پر عمل درامد کرتی ہیں۔ درج بالا تناظر میں جمہوری ملکوں کی عصری سیاسی تاریخ کے مطالعہ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا بھر کی قومیں کرپشن و بدعنوانی کیلئے زیرو ٹالرنس کے جذبات رکھتی ہیں اوع اِن اقدار پر پورا نہ اُترنے والی سیاسی شخصیتوں کو اقتدار سے علیحدہ کر دیتی ہیں۔ البتہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چند برس کے اندر ہی بانیانِ پاکستان کے جہانِ فانی سے جلدی رخصت ہونے کے باعث تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی قیادتیں ملک میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور کرپشن کو نہ صرف روکنے میں ناکام رہی بلکہ یہاں تک ہوا کہ خود سیاسی قیادت ہی پانی کی چادر کی طرح پھیلتی ہوئی کرپشن کا حصہ بن گئیں۔یہ اَمر انتہائی افسوسناک ہے کہ آئین ، قانون اور انتظامی مینول موجود ہونے کے باوجود ملک میں تسلسل سے اقتدار میں آنے والی حکومتوں نے 1947 کے ابتدائی کرپشن ایکٹ اور دیگر متعلقہ قانونی اور انتظامی احکامات کی موجودگی کے باوجود انتظامیہ کو مافیائی سیاسی نظام کا حصہ بنانے کیلئے متعلقہ قوانین کو کارپٹ کے نیچے دھکیلتے ہوئے حالات کو بد سے بدتر کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ملک کے اہم محکمے یعنی پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ ، امپورٹ ایکسپورٹ ڈیپارٹمنٹ، انکم ٹیکس، محکمہ مال، محکمہ پولیس اور مقامی انتظامیہ کرپشن کی راہ پر چل نکلے تو پھر بات وفاقی وزارتوں سے لیکر محکمہ صحت، محکمہ تعلیم ، اسکولوں کالجوں،یونیورسٹیوں سے لیکر امتحانی سینٹرز تک پہنچ گئی۔ جب ملک کے بیشتر حکومتی ادارے اور محکمے ہی کرپشن و بدعنوانی کا شکار ہوگئے تو نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ تواتر سے کہا جانے لگا کہ ملک کا آوے کا آوہ ہی بگڑ گیا ہے۔کرپشن اور بدعنوانی میں غیر معمولی فروغ کی ایک وجہ سیاسی اور انتظامی قیادت کی کرپشن اور مالی و انتظامی امور میں صوابدیدی ختیارات میں بلا جواز اضافہ بھی ہے جس کے سبب انتظامی اور مالی ادارے حکومت کی مافیائی قوت کے سامنے نہ صرف سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوئے بلک وفاقی اور صوبائی قیادتوں نے ذاتی مفادات کو مہمیز دینے کیلئے پسند و ناپسند کے حوالے سے بیوروکریسی میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل لیول تک تعیناتی کیلئے ریاستی نظام کو جوابدہ افسران کی تعیناتی کرنے کے بجائے پسندیدہ پولیس اور انتظامی افسران کو ترجیح دی جانے لگی جس نے ملک کے ریاستی انتظامی نظام کو غیرمعمولی نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ اندریں حالات ، ملکی سیاسی قیادت کی انتظامی بے راہ روی اور آئین و قانون سے ماورا مالی و سیاسی بددیانتی کا بلآخر عدالت عظمیٰ نے نوٹس لیا ہے اور حلات کو بہتر بناے کی کوشش کی ہے ۔ چنانچہ اسلامی فکر و عمل کے حوالے سے آف شور کمپنیوں میں دولت چھپانے، قول و فعل میں تضاد اور آئین کے آرٹیکل 62/63 کی صریح خلاف ورزی پر میاں نواز شریف کو وزیراعظم اور پارٹی چیف کے منصبوں سے تا حیات سبکدوش کیا گیا ۔اِسی طرح گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے فل بنچ نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کی جانب سے وفاقی وزیر ہوتے ہوئے بھی غیر ملک کیلئے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے اور اقامہ رکھنے کے الزام میں تا حیات نااہل قرار دے دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کیمطابق خواجہ آصف نے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت اقامہ اور نوکری کے معاہدے کو چھپایا اِس لئے وہ 2013 کا الیکشن لڑنے کے بھی اہل نہیں تھے لہٰذا وہ آئین کے آرٹیکل 62(1)f پر پورا نہیں اُترے اِس لئے تاحیات نااہل قرار دئیے گئے۔ یہ درست ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کو وفاقی وزیر ہونے کے باوجود بیرون ملک ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے اور بیرون ملک رہائش کا اقامہ رکھنے اور 2013 انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت اقامہ اور بیرون ملک نوکری کے معاہدے کو چھپانے پر کہا گیا تھا کہ وہ صادق و امین نہیں رہے کیونکہ وہ اِن اطلاعات کو الیکشن کمیشن سے چھپانے کے باعث 2013 کا الیکشن لڑنے کے بھی اہل نہیں تھے لہذا وہ آئین کے آرٹیکل 62(1)f پر پورا نہیں اُترے اِس لئے تاحیات نااہل قرار دئیے گئے۔ دوسری جانب سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اُنہوں نے اقامہ یا ملازمت چھپائی نہیں تھی چنانچہ وہ قانونی ماہرین سے مشورہ کرنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ بلاشبہ خواجہ آصف صاحب کو سپریم کورٹ میں اپیل میں جانے کا قانونی حق ہے۔

یہ آگ آخر کب بجھے گی

صبح کے اخبارات اٹھائے جائیں تو ذہن بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ ہمارے خطے میں اتنی آگ کیوں لگی ہوئی ہے اور کس نے لگائی ہوئی ہے۔کچھ دن پہلے افغانستان میں ایک شدید جھڑپ ہوئی۔جس میں 5افغان فوجی اور 6طالبان ہلاک ہوئے۔پینٹاگون کے مطابق رواں سال 1186بم گرائے گئے۔افغانستان کے صوبہ میں طالبان نے حفاظتی چوکی پر حملہ کر دیا۔یہ جھڑپ مسلسل تین گھنٹے تک جاری رہی۔ جس میں ہلاک ہونے والوں کے علاوہ تین فوجی اہلکار اور تین جنگجو بھی زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ غزنی میں 4اہلکار مار دئیے گئے۔افغان حکومت کے مطابق 56فیصد اضلاع پر حکومت کا کنٹرول ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ افغان حکومت کے مطابق افغانستان کے 44فیصد حصے پر افغان حکومت نہیں بلکہ طالبان کا قبضہ ہے۔ اگر56فیصد رقبہ گورنمنٹ کے پاس ہے تو امریکی فوجیں وہاں کیا کرتی رہی ہیں ۔ہندوستانی افواج اور ’’را‘‘صرف پاکستان میں آگ لگانے کے لئے بیٹھی ہوئی ہے۔کچھ دن پہلے کی اخبارکی خبر کے مطابق کوئٹہ میں ائیرپورٹ روڈ پر پولیس ٹرک پر خودکش حملہ کیا گیا۔جس میں6اہلکار شہید اور 15زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ ایف سی کی چوکی پر بھی حملہ کی کوشش کی گئی۔جوابی فائرنگ میں 2حملہ آور ہلاک ہوگئے۔وزیراعظم آزاد کشمیر نے کوئٹہ آنا تھا ۔ ان کی آمد کے موقع پر ائیرپورٹ روڈ پر موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ آور نے ڈیوٹی پر جانے والے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔جس کی وجہ سے نعشیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر دور دور تک بکھر گئیں ۔کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق حملہ آور نے15سے20کلو کے مواد کے دھماکے کئے۔جس کے نتیجے میں 4افراد زخمی ہوئے ۔پنجاب میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔اسی دن کی اخبار کے پہلے صفحے پر مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے چارکالم کی سرخی کے ساتھ ایک خبر شائع ہوئی کہ وہاں ایک اور بے گناہ اور نہتے کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا گیا۔جس کی وجہ سے طلباء کے احتجاج میں شدت آگئی۔اننت ناگ میں معروف لال چوک میں طلباء کا کمسن آصفہ کے قتل کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا جس پر بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے ڈگری کالج کھنہ بل میں گھس کر طلباء پر شدید تشدد کیا۔پیلیٹ سے ایک نوجوان کی بینائی متاثر ہوئی۔پولیس کی طرف سے شدید ظلم و ستم کے باوجود مظاہرین پاکستان زندہ آ باد اور بھارت مردہ آبادکے نعرے لگاتے رہے۔مقبوضہ کشمیر میں سانحہ کھٹوعہ کے خلاف طلباء کا احتجاج جاری ہے۔ ان جھڑپوں میں30افراد زخمی اور80سے زائد کو گرفتار کیا گیا ۔بھارتی فوج کی طرف سے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔کھٹوعہ میں معصوم بچی کے ساتھ منصوبہ بندی کر کے زیادتی کی گئی۔اور اس کے بعد اس کو قتل کر دیا گیا۔ا س قتل کے خلاف احتجاج میں شدت آ رہی ہے اور سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔مختلف سکولوں اور بڑے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچے ایک قصبہ میں جمع ہوئے۔جس دوران انہوں نے نعرہ بازی کرتے ہوئے کھٹوعہ میں متاثرہ لڑکی کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا۔چند نوجوانوں نے جذباتی طور پر فورسز کی ایک گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا۔فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور پیلیٹ کا استعمال کیا۔گورنمنٹ ڈگری کالج اننت ناگ میں بھی فورسز اور طلباء کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ۔گورنمنٹ ڈگری کالج کھنہ بل میں طلباء نے کالج کے گراؤنڈ میں حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے۔وہ طلباء جب کالج سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے تو گیٹ کے باہر فورسز اہلکاروں نے انہیں باہر نہیں نکلنے دیا۔گورنمنٹ ہائر سکول بارہمولہ نے بھی شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل کر بھارت مخالف نعرہ بازی کی۔پولیس نے جھڑپوں کے دوران 70طلباء کو گرفتار کر لیا۔اس دوران طالبعلموں نے بھارت مخالف نعرہ بازی کرتے ہوئے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بھی لہرا دیا۔جامع قدیم ہائی سکول سوپور میں زیر تعلیم بچوں نے بھی کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے سکول سے باہر آکر شدید احتجاج کیا۔بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کاروائی میں آج ضلع پلوامہ میں ایک کشمیری نوجوان کو شہید کر دیا۔اطلاع کے مطابق بھارتی فوجیوں نے نوجوان کو ترال کے علاقے میں شہید کر دیا۔افغانستان،کوئٹہ بلوچستان اور مقبوضہ کشمیر میں کھٹوعہ کی وارداتوں کا موازنہ کیاجائے تو ان تینوں وارداتوں کے پیچھے ہندوستان ہے۔ افغانستان میں بھی ہندوستان نے مکمل پنجے گاڑے ہوئے ہیں ۔جہاں وہ دہشت گردوں کی نرسریاں تیار کر کے اپنے ہدف پر بھیجتا ہے۔کوئٹہ بلوچستان میں ہونے والا خودکش حملہ اس نرسری کے تیار کردہ دہشت گرد کی کاروائی ہے اور اس بات کو اب بلوچستانی اچھی طرح سمجھ چکے ہیں ۔وہاں پر ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں بھی ہندوستان مردہ باد کے نعرے گونجتے ہیں ۔2017ء میں چمن بارڈر پر ہونے والی جھڑپ کے پیچھے بھی ہندوستان کی شرارت تھی۔میری تحقیق کے مطابق اس پورے خطے میں بدامنی ، جھڑپوں ، دہشت گردی کی وارداتوں کے پیچھے ہندوستان ہوتا ہے۔اس کے ساتھ اب جن لوگوں کوپاک چین دوستی یا سی پیک گوادر کی ترقی چھبتی ہے وہ بھی اب کھل کر بھارت کاساتھ دے رہے ہیں ۔اس خطے کی آگ ہمیشہ ہمیشہ بجھانے کیلئے افغانستان کو پہل کرنی ہوگی ۔ وہ فوری طور پر ہندوستان کو اپنے ملک سے نکال دے۔ یاد رہے کہ ہندو کبھی مسلمان کا دوست نہیں ہوسکتا۔وہ افغانستان کی مدد نہیں کر رہا بلکہ ا س کی تباہی اور بربادی کا سبب بن رہا ہے۔وہ مسلمان ملکوں بلکہ مسلمان علاقوں کو آپس میں لڑانے کی کوششیں کررہا ہے۔دہشت گردی کی واردات افغانستان میں ہو یا پاکستان میں اس کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔

شب برات یا شب قدر

راتیں تو سب اللہکی ہیں اور اللہ ہی نے بنائیں ہیں لیکن شب برات،شب قدر،شب معراج اور شب عید، یہ خاص راتیں ہیں جس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ جس طرح عاشورہ کے دنوں کی عام دنوں پر فضیلت ہے۔ اسی طرح ان راتوں کی بھی عام راتوں پر فضیلت ہے۔ یعنی جس طرح قرآن شریف کو دوسری قرآنی کتابوں پر فضیلت دی گئی ہے اسی طرح ان راتوں کی عام راتوں پر فضیلت ہے۔ اصل میں یہ راتیں اللہ کی طرف سے ایک قسم کا خاص انعام ہیں۔ ان راتوں میں عام راتوں سے زیادہ عبادت کرنے کا کہا گیا ہے۔ یعنی کسی نہ کسی طرح اللہ سے لو لگانے کی بات کی گئی ہے۔ قرآن شریف میں فرمایا گیا کہ اللہ نے انسانوں اور جنوں کو صرف اور صرف عبادت کے لیے پیدا کیا۔ بندہ چاہے انسان ہو یا جن اپنے رب کا ہو جائے ۔اللہ سے زیادہ سے زیادہ روجوع کرے تا کہ اللہ اپنے بندے سے خوش ہو جائے ۔ اللہ بندے سے راضی ہو جائے اور جب اللہ بندے سے راضی ہو جاتا ہے تو اسے اپنی جنت سے نوازتا ہے جو انسان کی اصل منزل ہے ۔ کیا کہنا اس بندے کا جسے اپنی آخری منزل یعنی جنت نصیب ہو جائے۔ مثلاً کچھ علماء کے نزدیک شب برات جو پندرہ شعبان کو ہے اس میں لوگوں کی قسمتوں کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے مانگنے والوں سے کہا گیا ہے کہ اس رات کو جاگ کر اللہ کی عبادت کر کے اللہ سے مانگوں جو کچھ بھی جائز دعا کرو گے، قبول ہو گی۔ جبکہ شب قدر کی رات کے لیے کہا گیا ہے کہ اس کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو یعنی ۲۱،۲۳،۲۵،۲۷ اور ۲۹ رمضان کو اور اللہ سے دعائیں کرو تماری جائز دعائیں قبول ہو نگی۔ اسی رات ما ہِ صیام میں قرآن شریف اُترا ہے یہ شب بڑی شان والی ہے۔ یہ ایک رات ہزار راتوں سے بہتر ہے ۔ اس رات میں رزق بانٹا جاتا ہے۔ اسی طر ح شب معراج ہے جب ایک رات میں رسولؐ اللہ مکہ(بیت اللہ) سے بیت المقدس(مسجد اقصیٰ) لے جائے گئے اور اسی رات واپس بھی آ گئے۔ جب مکہ کے اندر اللہ کے رسول ؐ اللہ نے اس بات کا اعلان کیا تو مکہ کے کافروں نے اس پر یقین نہیں کیا۔انہوں نے حضرت ابو بکرؓ سے کہاکہ تمارا دوست کہہ رہا ہے کہ وہ ایک رات میں مکہ سے بیت المقدس کیا ہے اور واپس بھی آ گیا، کیا یہ ممکن ہے؟ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے کہا ٹھیک ہے نا وہ اللہ کا رسولؐ ہے اللہ چائے تو اسے اپنی سلطنت میں جہاں بھی لے جائے ، جب بھی لے جائے جتنے وقت کے لیے لے جائے، اس میں شک اور ناممکن کی کیا بات ہے؟ شب عید مسلمانوں کے لیے خوشیوں کی رات ہوتی ہے۔ مسلمان دوسرے دن مسلمان عید مناتے ہیں جو مسلمانوں کا ایک سنجیدہ اور باوقار تہوار ہے۔ غیر مسلموں کی طرح کھیل تماشہ، فسق و فجور، ناچ گانے، شراب نوشی اور طاؤس و رباب کرنے والا تہوارنہیں۔ بلکہ اللہ کا شکر منانے کا دن ہے۔ مسلمان اللہ کے حضور عیدگاؤں میں جا کر اللہ کے سامنے دو رکعت نماز عید ادا کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر ایک دوسرے سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہیں۔ رشتہ داروں کے گھروں میں جاتے ہے ایک دوسرے کو تحفے دیتے ہیں اس سے مہر و محبت بڑتی ہے۔صاحبو! اللہ نے اپنی مخلوق انسانوں میں سے مسلمانوں کو ایک خاص اہمیت دے رکھی ہے وہ اہمیت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔پھر انسان کو اپنی جنت میں جگہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ وہ اہمیت اللہ کی جنت ہے جو مسلمان کی آخری منزل ہے۔ اللہ کی جنت کیسے حاصل ہوتی ہے ۔اللہ کی عبادت کرنے سے ہوتی ہے ۔ اس لیے مسلمانوں کو دن میں حلال روزی کمانے اللہ کے راستے میں جد و جہد کرنے اور راتیں اللہ سے گڑ گڑا کر دعائیں مانگنے سے گزارنی چاہیے ہیں۔ کافروں کی طرح راتوں کو فسق و فجور، ناچ گانوں، شراب و کباب اور عیش عشرت میں نہیں گزارنی چاہیں ہیں۔ فسق و فجور کرنے والوں اللہ کے نافرمانوں کے لیے اللہ نے دوزخ تیار کی ہوئی ہے۔ کافر ساری عمر دوزخ میں ہی رہیں گے۔ وہ چائیں گے بھی تو دوزخ سے باہر نہ نکل سکیں گے۔ آ ج ہم شب برات کی بات کر رہے جو کچھ علماء کے نزدیک ماہ شعبان کی پندرویں رات ہے۔ اس رات میں اللہ اپنے بندوں کے بے شمار گناہ معاف فرماتاہے اس رات اللہ اپنی مخلوق میں رزق تقسیم کرتا ہے۔سال بھر ہونے والے واقعات و حادثات کو لکھ دیتا ہے۔ لیکن رزق بانٹنے والی رات کو قرآن میں شب قدر کو کہا گیا ہے۔ حضرت علیؓ نے بیان کیا کہ رسولؐاللہ نے فرمایا شعبان کی پندرویں شب کو قیام کیا کرو۔یعنی اللہ کی عبادت کیا کرو، نفل نماز ادا کیا کرو دن کو روزہ رکھا کرو۔ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک شب میں نے رسولؐاللہ کو نہ پایا۔میں تلاش میں نکلی تو آپ کو بقیع قبرستان جو مسجد نبوی کے قریب ہے میں دیکھا ۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ اے عائشہؓ میرے پاس جبرائیل ؑ تشریف لائے تھے اور کہا کی آج نصف شب شعبان کی رات ہے اس میں اللہ تعالیٰ اتنے لوگوں کو جہنم سے نجات دے گا جتنے قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے با ل ہیں۔قبائل عرب میں اس قبیلے کی بکریاں سب سے زیادہ تھیں اس لیے اس کی مثال دی گئی۔ مگر چند بدنصیب افراد کی طرف اس رات بھی اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت نہیں ہو گی۔ یہ کینہ پرور، قطع رحمی اور شراب نوشی اور تصویریں بنانے والے ہیں۔یعنی جانداروں کی تصویریں بنانے والوں کا ذکر ہیں۔ کیا اب مسلمان ملکوں تصویریں بنانا فن کی شکل اختیار نہیں کر گیا؟ ضرورت کے مطابق تصویریں بنانے کی علما ئے اسلام نے اجازت دے رکھی ہے۔ مگر بلا ضرورت تصویریں بنانے کو منع کیا گیا ہے۔ہاں اسلام میں بے جانوں ،جیسے پہاڑ ، سمندر، جنگلات اور اللہ کی تخلیق کی تصوریں بنانے کی اجازت ہے اور مناظر کی تصویریں بنانا منع نہیں۔ویسے تو شعبان کیا تمام راتوں میں اللہ کی رحمت ہی تورحمت ہے مگر اس ماہ مبارک کی پندرویں شب برات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ علماء فرماتے ہیں کہ جس رات میں رزق بانٹا جاتا ہے وہ رات شب قدر کی رات ہے جو رمضان کے مہینے میں ہے نہ کہ شب برات جو شعبان کے مہینے میں ہے ۔ اس شب میں اللہ کی عبادت کرناافضل ہے۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے۔ ہماری عبادتوں کو قبول فرمائے۔ ہمارے ملکِ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔

*****

سپریم کورٹ سمیت تمام طاقتور اداروں کی عقابی نظریں پنجاب پر مرکوز ہیں، شہباز شریف

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کا سورج پنجاب کی دھرتی پر پورے زور و شور سے چمک رہا ہے لیکن دہرا معیار نہیں چلے گا۔

لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ نیب کا سورج پنجاب کی دھرتی پر پورے زور و شور سے چمک رہا ہے، سپریم کورٹ بھی بڑی گہرائی میں جاکر نوٹس لے رہی ہے، ریاست کے تمام طاقتور اداروں کی عقابی نظریں صرف پنجاب پر مرکوز ہیں، اگر پچھلے 10 سال میں میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت ہوجائے تو عوام کا ہاتھ ہوگا اور میرا گریبان، قبر سے میری لاش نکال کر ٹانگ دیا جائے، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ کرپشن کے خلاف نیب کے کریک ڈاؤن کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن دہرا معیار نہیں چلے گا، ایک طرف تو آپ کرپشن کو نظر انداز کر رہے ہیں اور کوئی پوچھ نہیں ہورہی، لیکن دوسری طرف آپ ہر چیز کا جائزہ لے رہے ہیں، بتایا جائے کہ کیا آگ اور پانی مل سکتے ہیں؟ آگ اور پانی کبھی نہیں مل سکتے، دونوں میں سے ایک نے ختم ہونا ہے، اگر نیب نے کرپشن کے خاتمے کا ٹھیکہ اٹھایا ہے تو اچھی بات ہے لیکن بلاامتیاز سب کا احتساب ہونا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ اورنج لائن چین کا منصوبہ ہے جسے پی ٹی آئی نے 22 ماہ تک تاخیر کا شکار کرایا، لاہور والوں نے پی ٹی آئی سے بدلہ لیا جس پر انہیں سلام کرتا ہوں، اورنج لائن منصوبے میں ہم نے چین سے کہا کہ بڈنگ (بولی) کرانی ہے جس پر چین نے کہا کہ ہمارا قانون اس کی اجازت نہیں دیتا، 70 سال سے ہم نے پاکستان کو جتنے قرضے اور گرانٹس دیں ان کی کبھی ٹینڈرنگ نہیں ہوئی، تو آپ کہاں سے آگئے، لیکن میں نے چین سے کہا کہ عوام کو منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے ہم نے اس منصوبے کی بڈنگ کرانی ہے جس پر وہ آمادہ ہوگئے اور چین کی کمپنیاں نامزد کردیں جن کی بڈنگ ہوئی۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ سب سے کم بولی 2.1 ارب ڈالر (210 ارب روپے) کی دی گئی، میں نے کمپنی سے قیمت کم کرنے کا کہا، تو وہ کہنے لگے کہ 70 سال سے اس کی مثال نہیں ملتی، اس کام میں 7 ماہ لگ گئے، لیکن چینی کمپنی نے قیمت کم کرکے 165 ارب روپے کردی، اس طرح تقریبا 50 ارب روپے کی بچت ہوئی، پھر میں نے کہا کہ منصوبے کا سول ورکس ہم کریں گے، جس پر چین نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارا پیسہ ہے ، اس لیے ہم چینی کمپنی کو ٹھیکہ دیں گے، باالآخر مذاکرات کے بعد چینی ہمارے مطالبے پر راضی ہوگئے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ غریب قوم کے ساتھ اس سے بڑا جرم کیا ہوسکتا ہے کہ اشرافیہ نے چند دہائیوں میں کئی سو ارب کے قرضے معاف کرائے، مٹھی بھر لوگوں کو دنیا کی تمام نعمتیں حاصل ہیں جب کہ باقی عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں، اس بوسیدہ نظام کو بدلنے کے لیے نوجوانوں کو کھڑا ہونا ہوگا۔

سونم کپور کی شادی کا باضابطہ اعلان ہوگیا

بالی وڈ اداکارہ سونم کپور اپنے دوست آنند آہوجا سے 8 مئی کو شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گی۔

سونم کپور کی شادی کی خبریں سال کے آغاز سے ہی شہ سرخیوں میں رہی ہیں کہ وہ اپنے قریبی دوست آنند آہوجا سے شادی کررہی ہیں تاہم اس کی تصدیق دونوں میں سے کسی خاندان نہیں کی تھی۔

گزشتہ دنوں بھی سونم کپور کے گھر کو برقی قمقموں سے سجائے جانے کے بعد ایک بار پھر ان کی شادی کی خبریں زور و شور سے سامنے آئیں تھیں جس پر ان کے والد انیل کپور نے بھی صحیح وقت آنے پر شادی سے متعلق بتانے کا وعدہ کیا تھا۔

اب دونوں خاندانوں نے مشترکہ بیان میں سونم کپور کی آنند آہوجا سے شادی کی خبروں کی تصدیق کردی ہے ۔

دونوں خاندانوں کے بیان کے مطابق سونم کپور اور آنند آہوجا کی شادی 8 مئی کو ممبئی میں ہی ہوگی جس میں قریبی دوست شریک ہوں گے۔

یاد رہے کہ سونم کپور اور دہلی کے بزنس مین آنند آہوجا کئی سالوں سے دوست ہیں اور دونوں کو متعدد مقامات پر ایک ساتھ بھی دیکھا جاچکا ہے۔

آنند آہوجا نے سونم کپور کے ساتھ سرکاری اعزاز کی تقریب میں بھی شرکت کی تھی جس کے بعد سے ہی دونوں کی شادی کی چہ مگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔

Google Analytics Alternative