Home » 2018 » May » 04

Daily Archives: May 4, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

آج کا دن آپ سے سخت محنت کا طلبگار ہے کوئی بھی چیز آپ کو بیٹھے بیٹھائے نہیں ملے گی بلکہ اس کے لیے آپ کو غیر معمولی کوشش کرنا پڑے گی۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

کاروبارکی گرتی ہوئی ساکھ کو کسی حد تک سہارا مل سکتا ہے اگر آپ نے اعلیٰ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس موقع سے استفادہ کرنے کی کوشش کی تو بہت حد تک پریشانی سے نجات مل سکے گی۔

جوزا:
21مئی تا21جون

تعمیراتی بزنس کرنے والے حضرات کے لیے آج کا دن بہت اہم ہے اپنے ان رشتہ داروں سے ہوشیار رہیں جو آپ کے آشیانے کو جلا دینے سے بھی دریغ نہ کریں گے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

ملازمت کرنے والے احباب عجیب و غریب حالات سے دوچار ہو سکتے ہیں لہٰذا اپنے مزاج پر قابو رکھتے ہوئے فرائض انجام دیں اور کسی سے بھی نہ الجھیں۔ آپ کو بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

جانے انجانے میں اگر آپ کسی کا دل دکھا چکے ہیں تو اس سے معافی مانگ لیجئے یہی بہتر ہے کوئی دیرینہ آرزو پوری ہونے کے امکان روشن ہیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

اخراجات میں قدرے اضافہ ہوگا بسلسلہ کاروبار کوئی تبدیلی نہ کریں مشترکہ بزنس نقصان کا موجب بن جائے گا نزدیکی سفر ہرگز نہ کریں۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

تعلیمی معاملات حسب منشاء طے نہ ہو سکیں گے بھائیوں کے ساتھ جائیداد کے معاملے میں تنازعہ ہو سکتا ہے قریبی عزیزوں سے کوئی فائدہ ہوگا۔انشاء اللہ۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

دوسروں کی کسی غلطی کا خمیازہ آپ کو بھگتنا پڑ سکتا ہے سفر کا ارادہ عملی شکل اختیار کر سکتا ہے کسی مخالف سے آج صلح کا امکان ہے۔ بفضل خدا پریشانیوں سے کافی حد تک چھٹکارا مل جائے گا۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

اگر آپ سیاستدان ہے تو پھر فوری طور پر خود کو بدلنے کی کوشش کیجئے ورنہ حالات آپ کو ایسے چوراہے پر لاکر کھڑا کردیں گے جہاں سے کوئی راستہ بلندی کی طرف نہیں جاتا۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

رہائش میں تبدیلی کا منصوبہ اگر آپ بنا چکے ہیں عمل درآمد کرنے کیلیے آج کا دن موافق ثابت ہوگا کاروباری معاملات میں جلد بازی ہرگز نہ کریں۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

گھریلو حالات پرسکون رہیں گے اپنے اس دوست سے ہوشیار رہیں جو بظاہر تو آپ کی ہاں میں ہاں بہت زیادہ ملا رہا ہے لیکن درپردہ آپکو غلط راستوں پر چلانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

بیشک اس وقت آپ ایک مضبوط پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن اپنے اردگرد نظر رکھیں تاکہ کوئی آپ کے خلاف سازش نہ کرسکیں۔نزدیکی سفر بہ شوق کریں۔

آئندہ انتخابات 90 نہیں 60 دن میں ہوں گے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات شفاف اور وقت پر ہوں گے جب کہ الیکشن 90 نہیں بلکہ 60 دن میں ہوں گے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی بات کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی، آئندہ انتخابات شفاف ہوں گے اور الیکشن 90 دن میں نہیں بلکہ 60 دن میں اور اپنے وقت پر ہوں گے جب کہ نگران وزیراعظم ریٹائرڈ سیاستدان بھی ہو سکتا ہے تاہم کسی ریٹائرڈ جنرل کا کوئی آپشن نہیں آیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نگران وزیراعظم اتنا اہم عہدہ نہیں جتنا ہم نے بنادیا ہے جب کہ اپوزیشن لیڈر کو کہا ہے کہ خود ہی نگران وزیراعظم پراتفاق رائے کرلیں اور وہ جو نام دیں گے وہ ہمیں منظور ہے اور اگر صحافی کوئی 3 نام دے دیں ہم ان پر بھی غور کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے صحافیوں پہ تشدد کی معذرت کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کل بھی تھے آج بھی ہیں اور آیندہ بھی رہیں گے۔

نواز شریف پاکستان کو کھوکھلا کرکے ہمیں آنکھیں دکھا رہے ہیں،آصف زرداری

لاہور: پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف پاکستان کو کھوکھلا کرکے اب ہمیں آنکھیں دکھا رہے ہیں جب کہ  عمران خان کا کوئی منشور ہی نہیں ہے۔

لاہور میں پارٹی کارکنوں کی تقریب سے خطاب کے دوران سابق صدر نے مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ  نوازشریف نے ملک کو کھوکھلا کردیا اور اب  اداروں، ججوں اور ہمیں آنکھیں دکھا رہے ہیں جب آپ نے کھلونا توڑ دیا تو اب ہم پر الزام لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا  کہ  اسٹیج پر چڑھ کر لمبی لمبی تقریریں کرنے والے عمران خان کے پاس کوئی منشور یا پالیسی نہیں ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ ہمارے دور میں سرحدوں پر کوئی محاذ گرم نہیں تھا کیونکہ ہمارے پاس خارجہ پالیسی اور ڈپلومیسی تھی  لیکن اب محاذ گرم ہیں اور اس کی وجہ موجودہ حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نہ ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے غریبوں ،کسانوں اور کاشت کاروں کے لیے نئی پالیسی بنائی ہے میں ان کے لیے نئے فلاحی منصوبے بنائے ہیں، نئی پالیسی کےتحت یوریا کی بوری 500 روپے میں ملے گی جب کہ شہر میں بسنے والے غریبوں کے لیے  بھی راشن کارڈ کا اجرا کیا جائے گا۔

آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ  ہم نے 18 ویں ترمیم دی تو پورے پاکستان کے لیے دی، بے نظیر بھٹو فاٹا کے انضمام کے لیے عدالت میں گئیں کیونکہ فاٹا کے عوام اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے میں اور آپ پاکستانی ہیں، ہم نے جو کام پانچ سال پہلے کیے آج وہ یہ سب کررہے ہیں۔

آرمی چیف سے ترکش چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ہولوسی اکار کی ملاقات

 راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ترکش چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ہولوسی اکار نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ترکش چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ہولوسی اکار نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا، اس موقع پر ترک جنرل کو پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جب کہ ترک چیف آف جنر ل اسٹاف نے یادگار شہدا پر پھول بھی چڑھائے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور افواج میں تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے علاوہ علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دفاعی تعاون بڑھانے کے اقدامات پر بات چیت بھی کی گئی۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مہمان جنرل نے پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے میں استحکام کے لیے مخلصانہ کوششوں کو سراہا جب کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے ترک جنرل کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

جماعت اسلامی کا خیبر پختونخوا حکومت سے علیحدگی کا اعلان

پشاور: جماعت اسلامی 4 سال 11 ماہ کی رفاقت ختم کرکے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت سے علیحدہ ہوگئی۔

دونوں جماعتوں نے باہمی رضامندی کے ساتھ ایک دوسرے سے راہیں جدا کیں۔

اس بات کا اعلان وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور جماعت اسلامی کے سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ نے وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اے پی پی‘ کے مطابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ شراکت اقتدار کے بعد ہم نے اچھا وقت گزارا ہے، جماعت اسلامی متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کا حصہ بننے کے بعد ایک اچھے موڈ کے ساتھ حکومت سے علیحدہ ہو رہی ہے اور آج ہم ایک ٹرینڈ سیٹ کر رہے ہیں جو کہ دوسری جماعتوں کے لیے قابل تقلید مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے جانے پر افسوس ہے لیکن سیاست میں ایسا ہوتا رہتا ہے اور یہ ایک مکمل طور پر سیاسی فیصلہ ہے۔

اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ نے کہا کہ 2013 میں گیارہ نکات پر تحریک انصاف کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا جن میں نصاب میں ہونے والی تبدیلیوں کی واپسی، بونیر اور دیر میں تعلیمی اداروں کے قیام، صوبائی حقوق، میرٹ کی بالادستی، بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اور دیگر نکات شامل تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پانچ سال تک پی ٹی آئی کے ساتھ شریک اقتدار رہے جس دوران برداشت کی قوت کو فروغ دیا، صوبے کے عوام کے مفاد کا خیال رکھا اور پانچ سال تک تحریک انصاف کے ساتھ رہے۔‘

عنایت اللہ نے واضح کیا کہ اگر وزیر اعلیٰ کے خلاف صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائی جاتی ہے یا حکومت کے خلاف کوئی دوسرا محاذ کھلتا ہے تو جماعت اسلامی صوبائی حکومت کا ساتھ دے گی۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) خود فیصلہ کرے گی کہ وہ کب اقتدار سے علیحدہ ہوگی، لیکن ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر ہونے والے فیصلوں کی جماعت اسلامی پابند ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران جماعت اسلامی کے تین صوبائی وزراء عنایت اللہ، مظفر سید اور حبیب الرحمٰن نے اپنے استعفے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے حوالے کر دیئے۔

میشا شفیع نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیوں کیے؟

اداکار و گلوکار علی ظفر پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات کے چند ہفتوں بعد اب گلوکارہ میشا شفیع نے اپنے فیس بک اور انسٹاگرام اکاﺅنٹ ڈی ایکٹیویٹ کردیئے ہیں۔

گلوکارہ کو علی ظفر پر الزامات کے بعد آن لائن لوگوں کے توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا تھا اور میشا شفیع نے  بتایا کہ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے تمام سوشل میڈیا اکاﺅنٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا اور بس ٹوئٹر اکاﺅنٹ باقی رکھا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا لگتا کہ آپ نے اپنے انسٹاگرام اور فیس بک اکاﺅنٹ بند کردیئے ہیں، اس بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ تو میشا شفیع نے بتایا ‘ انہیں چند نمایاں وجوہات کی بناءپر بند کیا گیا، یعنی دھمکیاں، بدزبانی، توہین اور جھوٹے الزامات، جن کا مجھے سامنا کرنا پڑا اور اسی وجہ سے مجھے لگا کہ مجھے نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنے خاندان کے تحفظ کی ضرورت ہے، خصوصاً میرے 2 چھوٹے بچے، جو کہ آن لان حملوں کا نشانہ بن رہے تھے’۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگرچہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے کچھ افراد نے ہراساں ہونے والے کے حق میں آواز بلند کی مگر بیشتر خاموش رہے، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ اس چیز نے آپ پر کیا اثر مرتب کیا؟

میشا شفیع ‘ میرا یقین کریں، اب میں جانتی ہوں کہ سچ بولنے پر کن حالات کا سامنا ہوتا ہے اور یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ہر ایک کو ایسے ہی رویے کی امید رکھنی چاہئے، خاموشی یقیناً تکلیف پہنچاتی ہے، مگر میں نے اکیلے کھڑے ہونے کو ترجیح دی اور میں کسی کے بارے میں فیصلہ کرنے والی نہیں’۔

ایک سوال کرتے ہوئے ان سے پوچھا گیا کہ سوشل میڈیا پر متعدد افواہیں گردش کررہی ہیں، مگر انہیں کس افواہ نے سب سے زیادہ حیران کیا؟

میشا شفیع ‘ میں افواہوں پر توجہ نہیں دیتی، میرے خلاف جھوٹی مہم سیکڑوں برسوں سے آگے بڑھ کر آواز اٹھانے والی خواتین کے خلاف رکاوٹ ہے، میرے پاس پی آر کا ایسا میکنزم نہیں جو افواہوں کا مقابلہ افواہوں، جھوٹ کا مقابلہ جھوٹ جبکہ تضحیک کا مقابلہ تضحیک سے کرسکے، میرے پاس بس سچ ہے اور میرا ماننا ہے کہ سچ سب سے طاقتور عنصر ہے’۔

ان کا مزید کہنا تھا ‘ کسی خاتون کو بدنام کرنا بہت آسان ہوتا ہے مگر میرے خلاف اس مہم کا مقصد دیگر اہم حقائق سے توجہ ہٹانا ہے، جیسے وہ خواتین جو آواز اٹھاتی ہیں، مجھے مثال بناکر یہ پروپگینڈہ ٹیم خواتین کو خاموش رکھنا چاہتی ہے’۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کا علی ظفر اور ان کی ٹیم سے رابطہ ہے؟ اس معاملے میں ان کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

میشا شفیع ‘ میں نے یہ معاملہ ان قانونی ماہرین پر چھوڑ دیا ہے جن کی خدمات میں نے حاصل کی ہیں’۔

2013 کے انتخابات میں نواز شریف کو فوج کی مدد حاصل تھی، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2013 کے انتخابات میں نواز شریف کو فوج کی مدد حاصل تھی۔

نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’2013 کے انتخابات میں پاک فوج کے ایک بریگیڈیئر نے پنجاب میں نواز شریف کی بہت مدد کی تھی، پنجاب میں پوری منصوبہ بندی سے آر اوز کو گھیرا گیا اور اصل دھاندلی وہاں ہوئی، نواز شریف کو آج یہ شکایت نہیں ہے کہ فوج ان کے خلاف ہے بلکہ یہ شکایت ہے کہ فوج ان کی مدد نہیں کر رہی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’نواز شریف نے ہمیشہ اپنے امپائرز کے ذریعے میچ کھیلا، ضیا الحق کے دور سے 2013 کے انتخابات تک فوج اور عدلیہ دونوں نے نواز شریف کا ساتھ دیا، انہوں نے قوم کا اتنا پیسہ لوٹا ہے کہ اگر ان کے اپنے امپائرز نہ ہو تو وہ بہت پہلے پکڑے جاتے۔‘

واضح رہے کہ عمران خان اس سے قبل بھی کئی بار 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی بات کر چکے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے انتخابات میں آر اوز کے ذریعے منظم طور پر دھاندلی کی۔

دھاندلی کے حوالے سے انہوں نے عام انتخابات سے قبل پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی پر مسلم لیگ (ن) کو 35 نشستوں پر کامیاب کرانے کا الزام لگایا تھا، جسے ’35 پنکچر‘ کا نام دیا گیا۔

تاہم بعد ازاں عمران خان نے کہا کہ ان کا 35 پنکچر کا بیان ایک سیاسی بات تھی۔

’منظور پشتین کی بات ٹھیک،طریقہ کار غلط ہے‘

فاٹا میں فوجی آپریشن اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے مطالبات کے حوالے سے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’آپ کبھی بھی فوج اپنے لوگوں کے خلاف نہیں بھیجتے اور جب آپ ایک بار فوج بھیج دیتے ہیں تو پھر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات نہیں ہونی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آج جو پی ٹی ایم کے لوگ فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں وہ یہ نہیں سمجھ رہے کہ جب فوج کو قبائلی علاقے میں بھیجا تو یہ ہونا ہی تھا، وہاں گاؤں میں دہشت گرد چھپے ہوئے تھے، فوج کو کیسے پتہ چلے گا کہ کون طالبان ہے اور کون نہیں ہے اس لیے انسانی حقوق کی خلاف ورزی تو ہونی تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین کے چند مطالبات جائز ہیں، میں 2003 سے فاٹا کے لاپتہ افراد سے متعلق آواز اٹھاتا رہا ہوں، لیکن یہ پرانا مسئلہ ہے اور اب معاملہ قبائلی عوام کی دوبارہ بحالی کا ہے، میں نے پی ٹی ایم سے کہا ہے کہ ان کی طرف سے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات کرتا ہوں، ان کی باتیں ٹھیک ہے لیکن طریقہ غلط ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ ان کا ملک کے خلاف استعمال ہوگا۔‘

’انتخابات میں کچھ تاخیر ہوسکتی ہے‘

آئندہ عام انتخابات سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’ہم وقت پر انتخابات کے لیے تیار ہیں، ہوسکتا ہے حلقہ بندیوں پر اعتراضات کی وجہ سے الیکشن میں ایک یا ڈیڑھ ماہ کی تاخیر ہو جائے لیکن اس سے زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔‘

سینیٹ انتخابات کی طرح عام انتخابات میں بھی کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے خدشے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’مخلوط حکومت بننا کچھ لوگوں کی خواہش تو ہوسکتی ہے لیکن میرے خیال میں ایسا نہیں ہوگا۔‘

یوم آزادی صحافت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف تو بنی ہی آزاد میڈیا کی وجہ سے ہے، اگر مجھے میڈیا کا پلیٹ فارم پر نہ ملتا تو میں کئی مسائل کو سامنے نہیں لاسکتا تھا، بعد ازاں پی ٹی آئی کو سوشل میڈیا کی وجہ سے مقبولیت ملی۔‘

نواز شریف کی آزاد صحافت کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’جس نواز شریف نے صحافیوں کو مار پڑوائی وہ آج جمہوریت اور آزاد میڈیا کی بات کر رہا ہے۔‘

سندھ میں سی این جی کی قیمت میں ایک روپے 70 پیسے کا اضافہ

سندھ میں سی این جی پمپ مالکان نے گٹھ جوڑ کرکے گیس کی قیمت میں اضافہ کردیا۔

انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ پمپ مالکان نے خفیہ اجلاس کےبعد سی این جی کی قیمتیں بڑھائیں۔

ذرائع کے مطابق سندھ میں سی این جی کی قیمت میں ایک روپے 70 پیسے کا اضافہ  کردیا گیاہے جس کے بعد سی این جی کی نئی قیمت 81 روپے 69 پیسےہوگئی ہے۔

Google Analytics Alternative