Home » 2018 » May » 05

Daily Archives: May 5, 2018

’نہ تیرا خدا کوئی اور ہے نہ میرا خدا کوئی اور ہے‘

پاکستان کی نامور گلوکارہ مومنہ مستحسن نے ماہ رمضان کے آغاز سے قبل چینلز پر نشر ہونے والی رمضان ٹرانسمیشنز کے لئے اوریجنل ساؤنڈ ٹریک (او ایس ٹی) ریکارڈ کروا دیا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کردی گئی۔

گلوکارہ نے حمد باری تعالیٰ ’نہ تیرا خدا کوئی اور ہے نہ میرا خدا کوئی اور ہے‘ جیو ٹی وی کی رمضان ٹرانسمیشن کے لیے ریکارڈ کروایا، جس کی ویڈیو کی ہدایات وجاہت رؤف نے دی۔

اس او ایس ٹی کا ٹیزر وجاہت رؤف نے اپنے فیس بک پیج پر شیئر کیا، جس میں مومنہ مستحسن سفید اور گلابی رنگ کے جوڑے میں سمندر کنارے کھڑی نظر آئیں۔

تاہم اب تک یہ بات واضح نہیں ہوپائی کہ اس ٹرانسمیشن کے او ایس ٹی کے ساتھ ساتھ مومنہ اس کی میزبانی بھی کرتی نظر آئیں گی یا نہیں۔

مومنہ کے اس او ایس ٹی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی ٹوئٹر پر بھی نئی بحث کا آغاز ہوگیا، جہاں صارفین نے مومنہ کو نتقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ مذہبی روایات میں مداخلت کرنے کے بجائے اپنا نام میوزک انڈسٹری کے ساتھ ہی جوڑے رکھیں۔

جبکہ کئی صارفین نے ان کی گائیکی کی تعریف بھی کی۔

خیال رہے کہ یہ حمد باری تعالیٰ ’نہ تیرا خدا کوئی اور ہے نہ میرا خدا کوئی اور ہے‘، دو دہائی قبل گلوکار نجم شیراز نے پڑھا تھا، جو آج تک اتنا ہی مقبول ہے۔

مومنہ مستحسن کی بات کی جائے تو انہوں نے گزشتہ سال بھی ‘اے پلس’ اور ‘اے ٹی وی’ چینل کی رمضان ٹرانسمیشن کے لیے ’قصیدہ بردہ شریف‘ کو منفرد انداز میں پیش کیا تھا۔

مومنہ مستحسن کی جانب سے پڑھا گیا ’قصیدہ بردہ شریف‘ ریلیز کے فوری بعد ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا۔

مومنہ مستحسن کو پاکستان میں شہرت 2016 میں کوک اسٹوڈیو کے سیزن 9 کی ریلیز کے بعد ملی، جب مومنہ کا راحت فتح علی خان کے ساتھ گانا ’آفریں آفریں‘ ریلیز ہوا۔

مومنہ کی گائیکی کو تو شائقین کا ملا جلا ردعمل موصول ہوا، تاہم وہ اپنے لکس کی وجہ سے طویل عرصے سے مداحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئیں ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے کوک اسٹوڈیو 10 میں بھی علی ظفر کے بھائی دانیال ظفر کے ساتھ پرفارم کیا تھا۔

’102 ناٹ آؤٹ‘ نے شائقین کو کتنا متاثر کیا؟

بولی وڈ کے دو لیجنڈری اداکار 75 سالہ امیتابھ بچن اور 65 سالہ رشی کپور 27 سال بعد فلم اسکرین پر ایک ساتھ اپنی فلم ’102 ناٹ آؤٹ‘ کے ساتھ جلوہ گر ہوئے۔

اس فلم میں امیتابھ بچن نے 102 سال کے بوڑھے والد جبکہ رشی کپور نے ان کے 75 سالہ بیٹے کا روپ نبھایا۔

فلم کی کہانی میں امیتابھ بچن اس دنیا میں سب سے طویل عرصہ گزارنے والے شخص بننا چاہتے ہیں، وہ خاصے فٹ اور ایکٹو بھی ہیں۔

وہ اپنے بیزار بیٹے (رشی کپور) کی اہلیہ کو ان کی جانب سے رومانوی خط (لو لیٹر) لکھنے کا فیصلہ بھی کرتے ہیں، کیوں کہ ان کا ایسا ماننا ہے کہ ان کا بیٹا اپنی زندگی میں کچھ بھی نہیں کرے گا۔

وہ شاید اس دنیا کے پہلے والد بھی بننا چاہتے ہیں جو اپنے بیٹے کو خود اولڈ ہاؤس بھیجنے کا فیصلہ کریں گے۔

’102 ناٹ آؤٹ‘ کی کہانی ایک گجراتی ڈرامے پر مبنی ہے جس کی ہدایات امیش شکلا نے دی، اس فلم کا اسکرپٹ سومیا جوشی نے لکھا ہے۔

فلم کو 4 مئی کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا، جس کے بعد ہر طرح سے شائقین نے اپنے ریویوز فلم کے حوالے سے جاری کیے۔

کیا آپ کو یہ فلم دیکھنی چاہیے؟ اس کا فیصلہ یہ ریویوز پڑھنے کے بعد کرے گا۔

ہندوستان ٹائمز

ہندوستان ٹائمز نے اپنے ریویو میں بتایا کہ فلم ’102 ناٹ آؤٹ‘ کی کہانی کافی جذباتی ہے، بہت سے اہم اداکاروں کو اسکرین پر امیتابھ بچن اور رشی کپور کی وجہ سے زیادہ وقت نہیں مل پایا، لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ دونوں نامور اداکار اس فلم کی جان تھے۔

فلم کے آخر میں شائقین کو مثبت پیغام بھی دیا گیا، جبکہ اس کی کہانی بھی نہایت خوبصورتی سے پیش کی گئی۔

انڈین ایکسپریس

اس ریویو میں فلم کی خامیوں پر بات کرتے ہوئے بتایا گیا کہ فلم میں دو پرانے اداکاروں کو دوبارہ ایک ساتھ دیکھنا یقیناً بہترین تجربہ رہا، لیکن امیتابھ بچن اور رشی کپور کو اس سے بہتر فلموں میں کام کرتے دیکھا جاچکا ہیں، جن میں خاص طور پر ’پیکو‘ اور ’کپور اینڈ سنز‘ شامل ہیں۔

فلم کی کہانی کمزور نظر آئی، جس میں ایک والد اپنے بیٹے کو اس کی شرائط نہ ماننے پر اولڈ ایج ہوم بھیجنے کی دھمکی دیتے نظر آیا، اور اس ہی میں فلم کا بہت وقت ضائع کردیا گیا۔ فلم میں بہت جگہ ریائلٹی کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے ایسے واقعات دکھائے جن کا حقیقی زندگی میں تصور مشکل ہے۔

بولی وڈ لائف

بولی وڈ لائف نے اپنے ریویو میں فلم کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ فلم میں صرف 3 کرداروں کو باخوبی انداز میں استعمال کیا گیا، ان کرداروں کے جذبات بھی اسکرین پر بہترین انداز میں نظر آئے، فلم کی کہانی کافی جذباتی تھی، جسے دیکھ شائقین ہنسنے اور رونے دونوں پر مجبور ہوگئے۔

امیتابھ بچن یقیناً جادوگر ہیں جو آج بھی اپنے دیکھنے والوں کو متاثر کرنے میں ناکام نہیں ہوتے، دوسری جانب رشی کپور نے بھی اپنا کردار بہترین انداز میں نبھایا۔ ان دونوں کے علاوہ جمت تریویدی نے بھی فلم میں شاندار اداکاری کی۔

اگر آپ کوئی ایسی فلم دیکھنا چاہتے ہیں جس میں کامیڈی کے ساتھ ساتھ جذبات کو بھی اہمیت دی گئی ہو تو ’102 ناٹ آؤٹ‘ ضرور دیکھیں۔

ٹائمز آف انڈیا

ہدایت کار امیش شکلا نے فلم کو باخوبی انداز میں تیار کیا، جبکہ سومیا جوشی نے فلم کی کہانی بھی بہترین انداز میں تحریر کی۔

فلم میں ڈرامہ بھی ہے، کامیڈی بھی ہے اور اس کی جذباتی کہانی آپ کو امیتابھ بچن اور رشی کپور کے کرداروں میں گھما دے گی۔

’102 ناٹ آؤٹ‘ جیسی فلموں کو اپنے گھروالوں کے ساتھ دیکھنا چاہیے، اس فلم میں رشتوں کو نہایت اچھے انداز میں پیش کیا گیا، اس طرح کی فلمیں آپ کو خوشی دیتی ہیں۔

این ڈی ٹی وی

اس ریویو میں 102 ناٹ آؤٹ کو اچھی فلم قرار دیا گیا، تاہم فلم میں امیتابھ بچن اور رشی کپور کو میک اپ کے ذریعے اس حد تک تبدیل کرنے کے انداز کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

فلم کی کہانی بھی کمزور نظر آئی، جو ہدایت کار امیش شکلا کی گزشتہ ریلیز فلم ’او مائے گاڈ‘ کی کہانی سے کئی حد تک متاثر تھی۔

فلم میں کرداروں نے کام تو اچھا کیا، لیکن کہانی کے آگے نہ بڑھنے اور تبدیل نہ ہونے کے باعث یہ کہیں نہ کہیں بیزار کن بھی ثابت ہوئی۔

ان ریویوز کو پڑھ کر آپ کو اندازہ ہورہا ہوگا کہ فلم کو بولی وڈ تجزیہ کاروں کی جانب سے ملا جلا ردعمل ملا، تو کیا آپ امیتابھ بچن اور رشی کپور کی فلم ’102 ناٹ آؤٹ‘ سینما گھروں میں دیکھنے جائیں گے، یا پھر اپنے ٹکٹ کے پیسے بچانے کا ارادہ کررہے ہیں؟ ہمیں کمنٹس میں بتائیں۔

شمسی طوفان 6 مئی کو زمین سے ٹکرائے گا

 واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے متنبہ کیا ہے کہ شمسی طوفان 6 مئی کو زمین سے ٹکرائے گا۔

 
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناسا نے پیش گوئی کی ہے کہ شمسی طوفان زمین سے ٹکرائے گا جس کے باعث مقناطیسی لہروں سے جزوی تکنیکی بلیک آؤٹ ہوسکتا ہے جس کے باعث بجلی کی ترسیل، پروازوں کی آمد و رفت اور سیٹلائٹ آپریشن کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ اس شمسی طوفان کی پانچ درجہ بندی کی گئی ہیں جن میں سےچار معمولی قسم کے ہوں گے جب پانچواں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ شمسی طوفان (Geomagnetic Storm) کی وجہ سورج میں سوراخ ہوجانا ہے ۔ سورج کا سوراخ والا حصہ زمین کی طرف گردش کر رہا ہے جس کی شمالی اور جنوبی روشنی شمسی طوفان برپا کر سکتی ہے۔ شمسی طوفان اس وقت برپا ہوتا ہے جب سورج میں کچھ سوراخ نمودار ہو جاتے ہیں جہاں سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں جنہیں Coronal mass ejection کہا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ سورج سے چارج شدہ پلازمہ برقی اور مقناطیسی میدان کے ساتھ زمین کی جانب 3 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھتے ہیں۔ یہ منظر دائرہ قطب شمالی کے قریبی ممالک میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

آپ اپنی تیز مزاجی اور جلد بازی کی وجہ سے اہم امور کے بارے میں نہ صرف اندازے قائم کر سکتے ہیں، محض آپکی اس جذباتیت کے سبب بعض اہم چانسز ضائع ہو سکتے ہیں۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

آپ کی وہ سکیم کامیاب ہو سکتی ہے جو کہ آپ گزشتہ کئی عرصہ سے بنا رہے تھے آپ کا دوست بھی آپ کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، سیاسی اور سماجی کام کرنے والے حضرات بھی بہت کچھ حاصل کر سکیں گے۔

جوزا:
21مئی تا21جون

اپنی صحت کا خصوصی خیال رکھیں اور راہ چلتے یا گاڑی چلاتے ہوئے زیادہ محتاط رہیں، کسی مخالف کے ساتھ جھگڑا نہ کریں تاکہ متوقع حادثہ ٹل جائے، مقدمہ میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

اپنے شریک حیات سے ہر معاملے میں تعاون کرتے رہئے، یہ عرصہ آپ کی دیرینہ خواہشات کو پورا کر سکتا ہے، اپنے اخراجات حتی الامکان گھٹا دیجئے تاکہ کچھ رقم جمع ہو سکے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

آپ پہلے بھی بھروسے ہی بھروسے میں بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں، عقلمندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ جس راہ پر ایک بار ٹھوکر لگے دوبارہ اسے منزل تک پہنچنے کا ذریعہ ہی نہ بنایا جائے۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

آپ ملازمت کریں یا کاروبار دونوں ہی صورتوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں، گھریلو زندگی بھی خوشگوار ہو سکتی ہے، آپ گھریلو ماحول کو خوشگوار رکھنے کے لیے کسی بھی فرد سے اختلاف نہ کریں۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

آپ اپنی غلطیوں کی وجہ سے جو نقصانات گزشتہ کر چکے ہیں، ان کی تلافی بہت حد ہو سکتی ہے، ترقی کی حقیقی منزل تک پہنچنے کے لیے آپ کو نئی راہیں مل سکتی ہیں، صحت جسمانی بھی گاہے بگاہے خراب ہو سکتی ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

اختلافات بہت حد تک ختم ہو سکتے ہیں جنہوں نے گزشتہ آپ کو انتہائی پریشان کیے رکھا تھا، آپ بھی ماضی کے ان اذیت ناک واقعات کو بھلا کر شریک حیات کو ہر طرح اطمینان کرتے رہئے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

اپنی تمام تر توجہ تعلیم ہی پر مرکوز رکھیں، انشاء اللہ تعالیٰ اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، یہ عرصہ آپ کے مستقبل کو انتہائی درخشاں بنانے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

آپ خواہ کسی بھی قسم کا کاروبار کرتے ہوں نتائج بفضل خدا بہتر برآمد ہو سکتے ہیں، نہ صرف کاروبار وسعت اختیار کر سکتا ہے بلکہ آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

بسلسلہ جائیداد بھی آپ اپنے بنائے ہوئے پروگرام کو عملی شکل دے سکیں گے، اپنے شریک حیات سے ہر معاملے میں تعاون کرتے رہئے تاکہ انھیں شکایت کا موقعہ ہی نہ مل سکے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

اگر آپ اپنے گھریلو حالات درست کرنے کی صلاحیت خود میں نہیں پاتے تو پھر کسی بزرگ روحانی کی مدد حاصل کر لیں، ملازمت میں بھی گڑ بڑ ہو سکتی ہے۔

اٹک میں حساس ادارے کی بس پرخودکش حملہ

adaria

انسانیت کے دشمنوں نے اٹک بسال روڈ پر حساس ادارے کی بس کو نشانہ بنایاجس کے نتیجہ میں دو افراد شہید جبکہ 18زخمی ہوگئے، یہ بزدلانہ وار اس وقت کیا گیا جب ادارے کی بس سول ملازمین کو واپس لارہی تھی جب یہ ڈھوک گاما کے قریب پہنچی تو وہاں پہلے سے موجود موٹرسائیکل سوار خودکش حملہ آور نے فائرنگ شروع کردی،ڈرائیور نیچے اترا تو حملہ آور اس سے لپٹ گیا اور دھماکہ کردیا جس کے نتیجے میں20سالہ حبیب خان اور ڈرائیور دونوں شہید ہوگئے جبکہ بس میں سوار افراد شدید زخمی ہوگئے ۔دھماکے کے فوری بعد ڈی پی او اٹک اور آرپی او راولپنڈی فخر سلطان راجہ جائے حادثہ پہنچے اور پولیس اہلکاروں کی مدد سے شواہد اکٹھے کئے اور زخمی افراد کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔آرپی او راولپنڈی نے واقعے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بس سپیڈ بریکر عبور کرنے کیلئے آہستہ ہوئی تو حملہ آور کی طرف سے فائرنگ شروع کردی گئی اور بس میں سوار وں کو نشانہ بنایا گیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے، فائرنگ رکتے ہی ڈرائیور نے بس سے اتر کو فائرنگ کرنے والے شخص کو پکڑنے کی کوشش کی تاہم حملہ آور نے بارودی مواد کے ذریعے خود کو اڑا لیا جس کے نتیجے میں بس ڈرائیور اور ایک راہگیر شہید ہوگئے جب کہ دھماکے میں حملہ آور بھی ہلاک ہوگیا۔اٹک ایک حساس ضلع ہے یہاں دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کی ضرورت ہے، قبل ازیں سابق نگران وزیراعظم شوکت عزیز پرفتح جنگ کے مقام پر خودکش حملہ کیا گیا لیکن وہ بال بال بچ گئے جبکہ سابق صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ بھی دہشت گردی کا شکار ہوچکے ہیں ، حالیہ حملہ اس امر کا عکاس ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار موجود ہیں جن کیخلاف موثر ترین آپریشن کی ضرورت ہے، دہشت گردی کے اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جاتا تو دہشت گردی کا ناسور کب کا ختم ہوچکا ہوتا، اٹک میں افغان مہاجرین کی ایک خاصی تعداد موجود ہے جو دہشت گردوں کو پناہ دینے میں مدد گار ثابت ہورہی ہے اورکئی کالعدم انتہا پسند تنظیمیں بھی موجود ہیں جن کیخلاف آپریشن کی ضرورت ہے۔ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں ان کا کوئی مذہب نہیں، اسلام ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ دہشت گردی میں پڑوسی ملک بھارت کا عمل دخل طشت ازبام ہوچکا ہے، ’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیاں پاکستان کیلئے تشویش کا باعث ہیں جن کیخلاف پاکستان کئی بار اپنا احتجاج ریکارڈ کروا چکا ہے لیکن عالمی سطح پر کوئی کردار دیکھنے میں نہیں آیا۔ اٹک خودکش حملہ کی ذمہ داری حزب الاحرار نے قبول کی ہے،حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے اس واقعے کی فوری تحقیقات کرے اور سہولت کاروں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچائے تاکہ پھر انسانیت کے دشمن اس کی طرح کی بزدلانہ کارروائیاں نہ کرپائیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے ، پاک فوج دہشت گردوں کیخلاف دن رات کوشاں ہے، کئی علاقے دہشت گردوں کے تسلط واگزار کروائے جاچکے ہیں اور ان کا نیٹ ورک تباہ کردیا گیا ہے تاہم اس طرح کے واقعات کاہونا لمحہ فکریہ ہے۔ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچا کر ہی ملک میں امن قائم کیا جاسکتا ہے، دہشت گردی کے اس واقعہ نے اٹک اور گردونواح میں خوف و ہراس کی ایک نئی لہر پھیلا دی ہے۔لوگوں میں عدم تحفظ پایا جاتا ہے، دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کو موثر بنایا جائے۔

انتخابات میں خلائی مخلوق کا عندیہ
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات نگران حکومت نہیں بلکہ خلائی مخلوق کروائے گی اس کے باوجود ہم الیکشن میں حصہ لینگے ، آئندہ عام انتخابات 90 نہیں بلکہ 60 روز میں ہی ہونگے ، پھر بھی ہم الیکشن میں حصہ لیں گے اور امید ہے انتخابات شفاف ہونگے ، نگران وزیر اعظم کا عہدہ اتنا اہم نہیں جتنا بنا دیاگیا ہے ، قائد حزب اختلاف سے کہا ہے کہ نگران وزیر اعظم کا فیصلہ ہمیں کرنا چاہیے ،یہ معاملہ الیکشن کمیشن تک نہیں جانا چاہیے ، خورشید شاہ جو بھی نام دیں گے وہ ہمیں قبول ہو گا،نواز شریف کل بھی تھے آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے ۔ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی ۔ دوسری طرف سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ خلائی مخلوق مرضی کی پارلیمنٹ لانے میں مصروف ہے ، ریاست پر ایک ستون نے قبضہ کرلیا ہے، پارلیمنٹ اور حکومتی رٹ کہا ہے جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن 2013ء میں نوازشریف کو فوج کی مدد حاصل تھی، معلق پارلیمنٹ ملک کیلئے اچھی نہیں ہوگی، انتخابات ایک ڈیڑھ ماہ کیلئے ملتوی ہوسکتے ہیں۔ نواز شریف فوج کی مدد سے جیتے میں نہیں وہ فوج اور عدلیہ کے لاڈلے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اورسابق وزیراعظم نواز شریف جس خلائی مخلوق کا ذکر کررہے ہیں اس نے عوام کو متجسس کردیا ہے یہ راز اب افشاں ہو جانا چاہیے یوں سینے میں راز چھپائے رکھنا اچھا نہیں ، الیکشن سے قبل اس طرح کی باتیں سمجھ سے بالاتر ہیں، اس وقت ملک میں ایک آزادعدلیہ ہے اور پاک فوج بھی غیر جانبدار ہے،سیاستدان اس طرح کی باتیں کرکے اداروں کے بارے میں بدگمانیاں پیدا نہ کریں اور سیاسی وسیع النظری کا مظاہرہ کرے۔آزاد اورخودمختار عدلیہ کے ہوتے ہوئے ملک میں کسی قسم کی کرپشن اور نا انصافی نہیں ہوسکتی۔
موبائل کارڈز ٹیکس پر عدالت کا ازخودنوٹس
عدالت عظمیٰ نے موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کٹوتی کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کر لی ، کیس کی سماعت آئندہ منگل کو ہو گی ۔ چیف جسٹس نے موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے کارڈ چارجنگ پر ہونے والی کٹوتیوں کا از خود نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ بتایا جائے موبائل فون کارڈ پر کون کون سے ٹیکس لاگو ہوتے ہیں، 100 روپے کا کارڈ چارج کرنے پر تقریبا 40 روپے کاٹ لئے جاتے ہیں، یہ کٹوتیاں کس قانون کے تحت کی جاتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے آئندہ منگل کو کیس سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس کا موبائل کارڈز پر ہوشربا ٹیکس کا ازخود نوٹس اس امرکا آئینہ دار ہے کہ چیف جسٹس عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے اور انصاف کی فراہمی میں کوشاں ہیں، عدالت ایک طرف عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے تو دوسری طرف عوامی مسائل پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ایسے اقدامات کررہی ہے جس سے لوگوں کے مسائل حل ہورہے ہیں اور عوام چیف جسٹس کے اقدامات سے مطمئن ہیں اور وہ چیف جسٹس کومسیحا گردان رہے ہیں، ریاست اگر اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی تو چیف جسٹس کو اس طرح کے احکامات اور اقدامات نہ اٹھانے پڑتے۔حکومت عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرتی تو عدالت عظمیٰ کواس طر ح کے انقلابی اقدامات نہ اٹھاناپڑتے۔

اسلحے کے زور پر خطے کا چودھری بننے کی بھارتی خواہش

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان کے خلاف جو معاندانہ اور جذباتی رویہ اختیار کیا اس سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہشات پر ناامیدی کے سائے منڈلانے لگے۔ مذاکرات کی باتیں تو ہوئیں مگر بھارت کے جارحانہ اور غیر سفارتی رویے کے باعث بات چیت کا سلسلہ ایسا منقطع ہوا کہ ابھی تک اس کے بحال ہونے کے قریبی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔مودی نے بھارت کے جنگی جنون کو مزید ہوا دی اور خطے کی بالادست قوت بننے اور اپنے جنگی عزائم کو پروان چڑھانے کیلئے جدید ترین اسلحے کے ڈھیر لگانے کیلئے امریکا سمیت دیگر قوتوں سے رابطے بڑھانا شروع کر دیے۔ اب بھارت نے پاکستانی سرحد پر تعینات فوجیوں کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کیلئے غیر ملکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ٹینڈر جاری کردیے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کی سرحد پر تعینات ہندوستانی فوجیوں کو جلد ہی نئی جدید رائفلیں ، ہلکی مشین گنیں اور دیگر اسلحہ فراہم کیا جائے گا۔ وزارت دفاع نے کہا کہ غیر ملکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ٹینڈر جاری کردیے گئے ہیں۔ جلد ہی 72400 اسالٹ رائفلیں، 93895 کاربائنز اور 16479ہلکی مشین گنیں مل جائیں گی جن کی قیمت 5366کروڑ روپے ہے۔ اسلحہ کی ڈلیوری 3تا 12ماہ میں ہوگی۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بھارت نے خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع کر رکھی ہے۔ آئے دن وہ کسی نہ کسی میزائل کا تجربہ کرکے اپنی جنگی قوت میں اضافے کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ بھارت کے اس جنگی جنون کو دیکھتے ہوئے اور اپنی ملکی سلامتی اور بقا کو یقینی بنانے کے لیے ردعمل کے طور پر پاکستان کو نا چاہتے ہوئے بھی اس دوڑ میں شامل ہونا پڑتا ہے اور پاکستان کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ بھارت کا یہ جنگی جنون کہاں جا کر رکے گا اور اس کا انجام کیا ہو گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال بھارت کے فوجی اخراجات میں 8.5 فیصد کے قریب اضافہ ہوا جس کے بعد 55.9 بلین فوجی اخراجات کے ساتھ دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا۔رپورٹ کے مطابق امریکا 2015 سے 2016 کے درمیان 1.7 فیصد اضافے سے 611 بلین ڈالر اخراجات کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا فوجی اخراجات کرنے والا ملک ہے۔دیگر سرفہرست فوجی اخراجات کرنیوالوں میں چین، جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ چین کا اس فہرست میں 215 بلین ڈالر اخراجات کے ساتھ دوسرا نمبر ہے۔ رپورٹ کے مطابق روس نے گزشتہ سال اپنے فوجی اخراجات میں 5.9 فیصد اضافہ کر کے 69.2 بلین ڈالر اخراجات کئے اور اس طرح وہ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان فوجی اخراجات کرنیوالے سرفہرست پندرہ ممالک میں شامل نہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت نے گزشتہ دس برس میں سو ارب ڈالر سے زیادہ نئے ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی خرید پر صرف کیے۔ بھارت گزشتہ دس برس سے جنگی ہتھیار خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ پچھلے دس برس کے دوران بھارت کے ہتھیاروں کی خرید میں چوبیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس اس مدت میں پاکستان میں ہتھیاروں کی خرید میں ایک تہائی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان حقائق کا انکشاف سویڈین کے ایک سرکردہ تحقیقی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے پوری دنیا میں ہتھیاروں کی برآمدات کے اس جائزے میں کہا ہے کہ اسلحے کی خریداری میں مشرق وسطی کے ممالک اور ایشیا سب سے آگے ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ، روس، فرانس ، جرمنی اور چین ہتھیار برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر محقق سیمون ٹی ویزے مین نے بتایا کہ اس رپورٹ میں بڑے جنگی ہتھیاروں کی خرید اور برآمدات کی بنیاد پر ملکوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ لیکن اس میں ان ہتھیاروں کی خرید پر آنے والے اخراجات کو سامنے نہیں رکھا گیا ہے۔2013 ۔17 کے دوران بھارت بڑے ہتھیار خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک رہا۔ پورے دنیا میں جتنے ہتھیار بکے اس کا بارہ فیصد اکیلے بھارت نے خریدا۔ 2008 سے 2017 تک دس برس میں بھارت کے ہتھیاروں کی خرید میں جوبیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ روس بھارت کا سب سے بڑا سپلائیرہے۔ لیکن پچھلے دس برس میں امریکہ سے ہتھیاروں کی خریدی میں 557 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اسرائیل بھارت کا تیسرا سب سے بڑا دفاعی سپلائیر ہے۔چین اور پاکستان سے کشیدگی بھارت کی ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ میں اضافے کا سبب ہے کیونکہ وہ خود بڑے جنگی ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت نے گزشتہ دس برس میں سو ارب ڈالر سے زیادہ نئے ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی خرید پر صرف کیے۔ اس مدت میں نئے جنگی جہازوں، میزائل، آبدوزوں، ٹینکوں، ہاویٹزر توپوں، سپیشل طیاروں اور دوسرے ہتھیاروں کی خرید کیلئے سودے کیے گئے۔ ابھی گزشتہ مہینے بھارت نے دفاعی اخراجات کیلئے 51 ارب ڈالر مختص کیے ہیں جس میں تقریباً 16 ارب ڈالر نئے ہتھیاروں اور جنگی ساز وسامان کے حصول کیلئے ہیں۔ بھارت سے مسلسل کشیدگی کے باوجود گزشتہ دس برس کے دوران پاکستان کے ہتھیاروں کی درآمد میں 36 فیصد کی کمی آئی ہے۔ یہ پوری دنیا میں ہتھیاروں کی فروخت کا تقریباً تین فیصد ہے۔ پچھلے پانچ برس میں پاکستان میں امریکہ سے خریدے جانے والے ہتھیاروں میں 76 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔گزشتہ دس برس کے دوران افریقی ممالک ، یورپ اور جنوبی امریکہ میں ہتھیاروں کی درآمد میں بائیس فیصد کی کمی آئی ہے۔چین میں ہتھیاروں کی درآمد میں 19 فیصد کی کمی آئی ہے۔چین بڑی تیزی سے ہتھیار اور جنگی ساز وسامان بنانے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ وہ دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ایکسپورٹر بن چکا ہے۔ پاکستان کا وہ سب سے بڑا سپلائیر ہے، اس کے علاوہ برما، بنگلہ دیش اور کئی افریقی ممالک بھی ہتھیاروں کیلئے اب چین کا رخ کر رہے ہیں۔

میرا مقا بلہ نادیدہ قوتوں وخلائی مخلوق سے ہے

حضرت علیؓ کا قول ہے کہ جس پہ احسان کرو اُس کے شر سے بچو،سو اَب نادیدہ قوتیں ہوں یا خلا ئی مخلوق کو ئی بھی ہو سب ہوں کو ن لیگ کے شر سے بچنا چاہئے ، آج جنہیں ن لیگ بُرا بھلا کہہ رہی ہے اِن ہی نا دیدہ قوتوں اور خلائی مخلوق کا نواز شریف اور ن لیگ پر احسان ہی توہے کہ اِنہوں نے نواز شریف کو گود میں اُٹھا کربحرِ سیاست کی کشتی میں مسافربنا کر سوار کیاتھااور آج جب نوازشریف سیاست کی کشتی کے ناخدا(کیپٹن) بن گئے ہیں تو یہ اپنے اُن محسینوں کو ہی بھول گئے ہیں جنہوں نے اِنہیں اپنے کاندھوں پر بیٹھاکراِنہیں سیاست کی لولی پاپ تھمائی تھی اور بحرِسیاست کی کشتی میں سوار کیا تھا ۔ آج یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ نواز شریف اینڈ فیملی کو اور ن لیگ والے جس معصومیت سے اپنی انتخا بی مہم اور عوامی اجتماعات میں لہک لہک کر نادیدہ قوتوں اور خلائی مخلوق کانام لے کراُنہیں کھلے عام جس طرح تنقیدوں کا نشا نہ بنا رہے ہیں اَب اِن کے اِس عمل سے یہ اندازہ لگانا کو ئی مشکل نہیں رہا کہ اِس بار ن لیگ کا یہ پہلا الیکشن ہوگا جو یہ بغیر نادیدہ قوتوں اور خلائی مخلوق کے سہارے لڑے گی اگرواقعی ایسا ہوگیا جیساکہ آج نظر آرہاہے اور خیال کیا جارہاہے تو پھریقینی طورپر ن لیگ کا انتخابی نتیجہ توقعات کے برخلاف آئے گاجس کے لئے ایک بڑا امتحان اور چیلنج ہوگا اور یہیں سے اِس کے مستقبل کا پتہ چلے گا۔بہرکیف آج جب کہ ن لیگ اپنے تئیں نادیدہ قوتوں پر عقا بی نظروں سے تنقیدیں جاری رکھے ہوئے ہے اِس طرح نظر نہ آنے والی قوتوں،خلائی مخلوق اور اداروں کے خلاف ن لیگ کی بیٹھے بیٹھائے محاذ آرا ئی اِسے کِدھر لے جاکرگرا ئے گی فی الحال ابھی کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے مگر اِس سارے عمل میں اتنا اندازا ضرورہے کہ سارانقصان ن لیگ کا ہی ہوگا۔اَب اِس صورتِ حال میں یہ بھی یاد رہے کہ جن نادیدہ قوتوں اور خلائی مخلوق کے خلاف نواز شریف جھوم جھوم کر لب کشا ئی کررہے ہیں یہی وہ ن لیگ ہے جس نے ہمیشہ انتخابات میں اِن ہی کے کاندھوں پر چڑھ حصہ کر لیا تب ہی ہمیشہ نتائج بھی اِس کے حق میں آئے اور یہ کسی نہ کسی طرح اقتدار سے چمٹی رہی ہے مگر آج پہلی بار ایسا ہوگا کہ ن لیگ بغیر نادیدہ قوتوں کے انتخابات میں حصہ لے گی تو پھر نہ صرف اِسے بلکہ دنیا کو بھی ن لیگ کی اصل حقیقت کا لگ پتہ جا ئے گاکہ یہ کل اور آج تک کتنے پا نی میں تھی اور اِس کے سر پر کتنے بال تھے کون اِسے بنا سنوار کر ہیروبنا کر پیش کرتا رہااور یہ اندر ہی اندر اپنے ہی محسنیوں کے خلاف لاواپکاتی رہی ۔جیسا کہ پچھلے دِنوں ساہیوال اور صادق آباد میں علیحدہ علیحدہ منعقدہ عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے نااہل سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے پھٹے ہوئے گلے کے ساتھ اپنے مخصوص معصومانہ لہجے میں کہا کہ’’میری نااہلی کے فیصلے کوووٹ سے باہر پھینک دیں میرے پیارے ہم وطنو، میرے باعزت اور میرے جان نثار ووٹروں سنو، میرا قصور بس اتنا سا ہے کہ میں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی اور میرا اقامہ ہے بس اتنی تھوڑی سی بات پر چند افراد نے مجھے نااہل قرار دے دیاہے عوام کا ووٹ میرا واپسی کا راستہ ہے ، زرداری اور عمران اندرسے ایک ہیں دونوں کے درمیان سب کچھ طے ہے شرم کریں لوگوں کو بیوقوف نہ بنا ئیں عمران خان اور زرداری کو ووٹ دینادراصل نادیدہ قوتوں کو کامیاب کرانے کے مترادف ہوگا یہ روشن پاکستان کو پیچھے دھکیل رہے ہیں،لاڈلے کی دال نہیں گل رہی ، اَب وہ کچی فیل ہوگیاہے میرا مقابلہ بچے عمران خان اورسِیانے زرداری سے نہیں ہے بلکہ میرا مقا بلہ تو نا دیدہ قوتوں اور خلائی مخلوق ہے جو ستر سالوں سے نظر نہیں آتی ہے مگر مُلک کو نقصان پہنچا نے کے در پر ہے؛آج نوازشریف جو کہہ رہے ہیں یہ اِن کا کھِسیان پت ہے مگر کیا نادیدہ قوتوں کو تنقیدوں کا نشا نہ بنا نے والے قائدن لیگ یہ بتانا پسند کریں گے کہ کیا واقعی نا دیدہ قوتیں عمران و زرداری کو کامیاب کروا کر روشن پاکستان کو پیچھے دھکیل دیں گیں؟ آج جب نادیدہ قوتیں زرداری اور عمران کو اقتدار سونپ کر روشن پاکستان کو پیچھے دھکیل دیں گیں تو پھرآپ یہ بھی بتائیں اِن قوتوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیر کرکب تمہارے روشن پاکستان کو پیچھے دھکیلا؟ اگر نا دیدہ قوتوں کا کام روشن پاکستان کو پیچھے دھکیلناہی ہے تو پھرآپ یہ بھی تو بتا دیں کہ اِن قوتوں نے آپ سے کب کب روشن پاکستان کو پیچھے دھکیلنے کی بات کی ہے؟ اگر آپ سے نا دیدہ قوتوں نے مُلک کو پیچھے دھکیلنے کی بات اور اشارہ نہیں کیا ہے تو پھرآج آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ عمران و زرداری کو ووٹ دینا نادیدہ قوتوں کو کامیاب کرانے کے مترادف ہوگا یہ روشن پاکستان کو پیچھے دھکیل رہے ہیں؛ تاہم میرااپنا خیال یہ ہے کہ آج ہر پاکستا نی یہ نقطہ اچھی طرح سے جانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خواہ نوازشریف ہوں کہ زرداری اور عمران ہوں گے الطافی سب ہوں کو روزِ اول سے نادیدہ قوتیں ہی چلاتی ہیں اور چلاتی رہیں گیں ہمارے یہاں اِن سے کسی خوش فہمی یا کسی کے بہکاوے کی بنا پر سیاست دانوں کا روٹھ جانا اپنی موت آپ مرنے کے مترادف ہے سو آج ضروری ہے کہ نوازشریف اور ن لیگ کا نادیدہ قوتوں کے خلاف اِس طرح صف آرا ہونا اور جگہہ جگہہ نظر نہ آنے والی خفیہ طاقتوں اور متحرک اداروں کے خلاف کی جا نیوالی تنقیدوں کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اُن محرکات کا بھی پتہ لگایاجائے آج جن کی بنیاد پر ن لیگ متوقع اگلے الیکشن سے قبل نادیدہ قوتوں اور اداروں کے خلاف چیخ چلارہی ہے تو پھر اِس کے خلاف تاریخ سزا سخت قدم ضرور اُٹھایا جائے تاکہ آئندہ کو ئی اداروں اور نادیدہ قوتو ں پر انگلیاں نہ اُٹھائے۔ آج ہمیں ضرور یہ مانناپڑے گا کہ ارضَِ مقدس پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کو مُلک و قوم اور معیشت کے ساتھ پوری طرح مخلص ہونے اور ترقی و خوشحالی کی را ہ پر گامزن کرنے کا تمغہ نہیں دیا جاسکتاہے اِس پاک سر زمین کو ستر سالوں سے شرافیہ نے لوٹ کھایا ہے اِس عرصے کے دوران خواہ سِول حکمران ہو یا آمر سب ہی نے مُلک اور قوم کواپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے لئے ثوابِ دارین سمجھ کر استعمال کیا اور ہنوز کررہے ہیں مگرآج جب احتسا بی اداروں کی جانب سے احتسابی عمل شروع ہوکر ختم نہ ہونے والے ٹائم فریم تک جاری ہے تو پھر جو احتسا بی شکنجے میں جکڑے جارہے ہیں او ر اپنے ظاہر و باطن بڑے اور چھوٹے سیاہ کرتوتوں کی بنا پر نااہل قرار پارہے ہیں آج یہی کرپٹ لوگ اور عناصرہی الیکشن سے قبل اپنی انتخا بی مہم کے دوران اپنی سُبکی مٹانے کیلئے اداروں کو تنقیدوں کا نشا نہ بنارہے ہیں کبھی مجھے کیو ں نکالا؟ کی بات کرتے ہیں توکبھی اپنی نااہلی کا ملبہ نادیدہ قوتوں کے سر پر ڈال کر عوام کے سا منے مگر مچھ کے آنسوبہارہے ہیں آج اگر یہ اپنے گریبان میں جھانکیں تو سب کیا دھرا اِن کا اپنا ہے اگر یہ جھوٹ اور دھوکہ دے کر اقتدار حاصل نہ کرتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔

دینی مدارس اسلام کے قلعے

ہمارے نزدیک دینی مدارس اسلام کی فوجی چھاؤنیاں ہیں۔مساجد کے مینار اسلام کے میزائل ہیں۔مدارس، اسلام کی چھاؤنیوں میں مسلمانوں کی اصل، یعنی قرآن اور حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے۔سکھایا جاتا ہے کہ اللہ کا دین کیا ہے۔سکھایا جاتا ہے کہ اللہ کے دین ہی کو اللہ کی زمین پر غالب ہو کر رہنا ہے۔ مسلمانان اس دنیا میں محکوم ہورہنے کے لیے نہیں پیدا کیا گیا۔کس طرح اللہ کے رسولؐ نے تکالیف برداشت کر کے اللہ کا پیغام عام غافل لوگوں تک پہنچایا۔کس طرح لوگ اسلام پر ایمان لا کر مسلمانوں میں شامل ہوئے ۔اللہ، ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمدصلی اللہ علیہ و سلم سے راضی ہوا۔ حجۃ الوداع پر اللہ کے رسولؐ نے لاکھوں صحابہؓ سے پوچھا کیا میں نے اللہ کا دین آپ تک پہنچا دیا ہے۔ صحابہؓ نے کہا جی آپ نے اللہ کا دین ہم تک پہنچا دیا ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا، اے اللہ آپ بھی گواہ رہیں کہ میں نے آپ کا دین آپ کی مخلوق تک پہنچا دیا۔پھر آیت نازل ہوئی کہ آج میں نے تھاراا دین یعنی دستور زندگی مکمل کر دیا ہے ۔ دنیا کے انسانوں کے لیے یہ دین پسند کیا ہے۔اب رہتی دنیا تک اس ہی دین پر عمل ہو گا۔ پھر کس طرح صحابہ کرامؓ نے اللہ کے رسولؐکا ساتھ دے کر اس دین اسلام کو دنیا پھیلا یا۔ رسولؐ اللہ نے مدینہ کے اندر اللہ کے حکم کے مطابق اسلامی ریاست دنیا میں نمونہ کے طور پر قائم کی ۔ انسانیت کو بتایا کہ کیسے اللہ کے احکامات پر عمل کر کے اس دنیا کو جنت بنایا جا سکتا ہے۔پھر مدینہ کی اسلامی ریاست پر عمل کر کے مسلمانوں کے خلفاء راشدینؓ نے اس دنیا پر اللہ کے بندوں کیلئے اللہ کی حکومت چلا کر دکھائی۔ اسی نمونہ پر عمل کرنے کیلئے اور اسے دنیا میں قائم کرنے کیلئے مسلمان دینِ اسلام کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔اس پر عمل کرتے ہیں اور اسے آگے مخلوق خدا کودین اسلام سکھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دینی مدارس سے طالبعلم دین کی تعلیم اور تربیت حاصل کرکے مساجد میں امام کے فرائض ادا کرتے ہیں۔ عام مسلمانوں کو دین اسلام سکھاتے ہیں۔ اسلام کے فرائض، سنت اور نفافل پر عمل کرنے کی تریت دیتے ہیں۔ مساجد میں نماز یں پڑھاتے ہیں۔ نماز پڑھنے کے طریقے سکھاتے ہیں۔دینِ اسلام کو اللہ کے بندوں میں پھیلانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ جہاد کے طریقے سکھاتے ہیں تاکہ دنیا میں صرف اللہ کا کلمہ بلند ہو۔جب دنیا میں اسلام کی حکمرانی تھی تو حکمران اسلامی مدارس بناتے تھے۔ اسلامی دنیا میں مدارس کا جال پھیلا ہوتا تھا۔ ان ہی مدارس سے پڑھ دنیا اسلام میں بڑے بڑے نام ور عالم، دانشور، سائنسدان، قانون دان اور حکمران پیداہوئے۔اسلامی کی ہی تعلیمات سے روشناس ہو کر مسلمانوں نے بنوامیہ کے دور حکمرانی تک اس وقت کی معلوم دنیا کے غالب حصہ پر اسلام کا جھنڈا لہرا دیا تھا۔ اسلام پر عمل پیرا مسلمانوں نے اس دنیا پر ایک ہزار سال تک کامیابی سے حکمرانی کی۔ دنیا میں علم و ادب کو عام کیا۔اسلام کے نامور مسلمان سائندانوں نے دنیا میں راج جدید علوم کی بنیاد رکھی۔ جس پر آگے عمل کر کے مغرب کے عیساؤں نے ترقی کی منازل طے کیں۔ پھر اس ہی علم کے بنیاد پر قوت حاصل کر کے مسلمانوں پر غلبہ حاصل کیامسلمانوں کو غلام بنا لیا۔ پہلے مسلمانوں کے علم کے ماخذ اسلامی کتب کو بغداد کے اندر تباہ کیا گیا۔ طاقت کے ماخذ مدارس سے عام مسلمانوں کو شیطانی علم اور تہذب کے طرف مائل کیا۔جس پر اکبر الہ بادی نے اپنے شعر میں اس طرح بیان کیا:۔ مسجد ہم نکل گئے بسکٹ کی چاٹ میں۔ صاحب سلام اب بھی میری شیخ جی ہے۔لیکن چھٹے چھ ماہے وہی رہ بانٹ میں۔ صاحبو! و لارڈ مکالے نے برصغیر کے اندر ایسا نظام تعلیم قائم کیا جس نے مسلمان کو مسجد اور مدرسے سے کاٹ کر بسکٹ کی چاٹ میں لگا دیا۔ یعنی نوکری کیلئے کلرک تیار ہونے لگے۔پھر مسلمانوں نے دین کی تعلیم کے بجائے بچوں کو انگریزی ذریعہ تعلیم کے اسکولوں میں داخل کرنا شروع کیا۔ مدارس کی دینی تعلیم سے عام مسلمان کٹنے لگے۔ انگریزی نظام تعلیم میں پڑھنے والے طالب علموں گورنمنٹ میں نوکریاں ملنے لگیں۔ مسلمان حکومتوں نے انگریزی نظام تعلیم کیلئے اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بنائی۔ اس سے تعلیم حاصل کرنے والے مسلمان عیسایوں کے الہ کار بنے۔ ملک میں اسلامی نظام حکومت کے بجائے سیکولر حکومتیں قائم کیں جو مسلمانوں کی تباہی کی جڑ ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے دین، تہذیب، تمدن اورتاریخ سے کاٹ کر رکھ دیا۔مسلمان حکومتوں نے اپنی میراث ،دینی تعلیم اور مدارس کو کاٹ پھینکا ۔ ان حالات میں علمائے دین نے مساجد اور مدارس کو قائم رکھنے کی کوششیں کی جدو جہد جاری رکھی۔عام مسلمانوں کی زکوٰۃ و عطیات سے مدارس کا نظام چلایا۔ آج لاکھوں غریب مسلمان طالب علم ان میں مفت تعلیم حاصل کر رہے۔ ان کے رہنے، لباس خوردو نوش کا انتظام ان مدارس نے سنبھال رکھا ہے۔ مسلمان حکومتوں نے نہ تو مدارس قائم کیے نہ کسی قسم کا فنڈ جاری کیا۔ عیسائیوں کے شیطان کبیر اور نیو ورلڈ آڈر والے امریکا نے پاکستان میں اسلام اور اس کی چھاؤنیوں مدارس کو ختم کروانے کیلئے طرح طرح سے حکمرانوں کو اُکسایا۔۹؍۱۱ کا جعلی واقعہ کروا کر مسلم دنیا کو تہس نہس کر دیا۔یہودی میڈیا سے مل کر دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کے پر امن مشن کو دہشت گرد مشہور کیا۔ پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے افراتفری پھیلائی۔پاکستان کی میڈیا کے کچھ اداروں کوفنڈدے کر خریدا۔ حکمرانوں کو امداد دے کر پاکستان کے مدارس کو دہشت گردی کے اڈے قرار دیا۔مسلمانوں کے مذہبی فریضہ جہا فی سبیل اللہ کو دہشت گردی قرار دیا۔ اسلام دشمنی میں مسلمانوں کو انتہا پسند اور دہشت گرد مشہور کیا۔ اس میں سیکولر مسلمانوں حکمرانوں کو استعمال کیا۔ دینی مدارس جس میں غریب طالب علموں کو فری تعلیم دی جاتی ہے کو بند کرانے کی سازش کی۔ ہمارے اسلام دشمن حکمرانوں کو نظر نہیں آتا کہ دینی مدارس کس طرح ڈسپلن سے چلتے ہیں۔ ان مدارس کو نہ تو حکومت فنڈ دیتی ہے نہ اس کی عمارتیں بناتی ہے۔ یہ سب کام علمائے دین خود کرتے ہیں۔ عام مسلمان دینی فریضہ سمجھتے ہوئے ان مدارس کی اپنی زکوٰۃ و صدقات سے مدد کرتے ہیں۔ انگریزی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آئے دن قتل و غارت ہوتی رہتی ہے۔ حکومت نے برسوں سے ان یونیورسٹیوں میں امن امان قائم کرنے کے لیے رینجرز تعینات کی ہوئی ہیں۔ جبکہ دینی مدارس میں ہمیشہ امن و امان قائم رہتا ہے۔ نہ کوئی قتل و غارت ہوتی ہے نہ حکومت کو ان مدارس میں رینجرز کو امن قائم کرنے کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔ صاحبو! الحمد اللہ ہم مسلمان ایک عظیم قوم ہیں۔ ہم دنیا کی آبادی میں ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہیں۔ ہم نے اس دنیا پر ہزار سال حکمرانی کی ہے۔ ہماری تہذیب تمدن ،ثقافت،کلینڈر اور شاندار تاریخ ہے۔دنیا میں ہمارے ۵۷ کے قریب آزادا ریاستیں ہیں۔ ہمارے پاس تربیت یافتہ افواج ہیں۔ ہم دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہیں۔ہمارے ملکوں میں معدنیات موجود ہیں۔ہمارے پاس سمندری ہوئی اور بحری راستے ہیں۔ کیا نہیں ہے؟ ہاں ہماری حکومتوں کو دشمنوں نے تقسیم کر رکھا ہوا ہے۔ہمارے درمیان فرقہ بازی اور قومیتیوں اور لسانیتیوں کے جال پیچھا کر آپس میں لڑایا دیا ہے۔ ان حالت میں ہمیں دینی تعلیمات کی ضرورت ہے۔ہمارے مدارس کو بھی چاہیے کہ اپنے اپنے مسلک کی تعلیم دینے کے بجائے صرف اور صرف دین اسلام کی تعلیم عام کریں تاکہ مسلمانوں میں اتحاد کو فروغ ملے اور دشمن کی چالیں فیل ہو۔ ہم دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کریں۔ اپنے اندر مسلمان لیڈر شپ پیدا کریں جو صرف دین اسلامی کی تعلیمات سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے موضوع ترین جگہ ہمارے ملک پاکستان کے دینی مدارس اور یونیورسٹیا ں ہیں۔اللہ ان کو دشمنوں سے محفوظ رکھے آمین۔

*****

Google Analytics Alternative