Home » 2018 » May » 06

Daily Archives: May 6, 2018

نارووال میں وزیرداخلہ احسن اقبال قاتلانہ حملے میں زخمی

نارووال میں وزیرداخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے، وزیرداخلہ کے بازو میں دو گولیاں  لگی ہیں  جس سے وہ زخمی ہوگئے ہیں جب کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

واقعہ نارووال کے علاقے قصبہ کنجروڑ میں پیش آیا جہاں وزیرداخلہ احسن اقبال ایک کارنر میٹنگ میں شریک تھے، بتایا جاتا ہے کہ  ایم پی اے رانا منان  کے ڈیرے پر کارنر میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا، کارنر میٹنگ کے اختتام پر احسن اقبال جب ڈیرے سے باہر آرہے تھے کہ اس دوران مجمع میں شریک  ایک مسلح شخص نے پستول سے  ان پر فائرنگ کردی ، ملزم نے وزیرداخلہ پر براہ راست فائرنگ کی جس سے دو گولیاں احسن اقبال کے بازو میں  لگی ہیں۔

وزیرداخلہ احسن اقبال کو زخمی حالت میں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر  اسپتال منتقل کردیا گیا ہے اور اس وقت ڈاکٹرز احسن اقبال کا آپریشن کررہے ہیں۔

دوسری جانب پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کا نام عابد حسین ہے اور اس کی عمر 21سال ہے۔

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

پلے باندھ لیجئے کہ جب تک آپ اپنے آپ پر بھروسہ نہیں کریں گے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ہے اگر دوسروں کے مشوروں کو اہمیت دیتے رہیں تو پھر ترقی کے تمام دروازے آہستہ آہستہ بند ہو سکتے ہیں۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

وقت واپس نہیں آ سکتا آپ لاتعداد غلطیاں کر چکے ہیں اب تھوڑی سی سزا بھگت لیں اور پھر ہرج بھی کیا ہے؟ کم از کم چند دکھ سہہ کر یہ اندازہ تو ہو سکے گا کہ خوشی کی اصل قیمت کیا ہے۔

جوزا:
21مئی تا21جون

اگر نیا کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو پھر ایسا کام کریں جس میں زیادہ بھاگ دوڑ نہ کرنی پڑے یہ ضرور خیال رکھیں کہ کاروبار وہی کامیاب ہو سکتا ہے جس میں آپ کا دخل زیادہ ہو اور اس کاروبار کو اچھی طرح سمجھتے ہوں۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

کسی جائیداد کی وجہ سے ذہنی کوفت ہو سکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ آپ کاروبار میں بھی دلچسپی نہ لیں کسی بڑے تعمیراتی منصوبے کو عملی شکل دینے کی کوشش کیجئے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

مزاج کی گرمی کو مصلحت کے سرد خانے میں ڈال دیں تاکہ دوسروں کی سچی باتیں برداشت کر سکیں، اگر آپ نے ہماری باتوں کو کسی دیوانے کی بڑ سمجھ لیا تو انتہائی پریشان کن واقعات کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

شریک حیات کسی بنا پر ناراض بھی ہو جائے تو اسے منانے کے لیے دوسروں کا سہارا نہ لیں تو مناسب ہے آپ کی اولاد کے وہ مسائل لازمی حل ہو سکتے ہیں جو کہ آپ کی پریشانی کا باعث بنے ہوئے تھے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

سیاسی اور سماجی کاموں سے وابستہ حضرات کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں ان کی جدو جہد رنگ لا سکتی ہے اور کوئی بہتر مقام بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ بسلسلہ تعلیم کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

اگر آپ نے حالات کا اندازہ لگاتے ہوئے بھی اپنا طرزعمل وہی رکھا تو پھر اس میں قصور آپ کا ہے وقت کا نہیں کیونکہ وقت تو آپ کا ساتھ دینے پر پوری طرح آمادہ ہے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

گھریلو ماحول درست رہے گا لیکن شرط ہے کہ آپ بھی اپنا مزاج ٹھنڈا رکھیں کیونکہ چند موقعوں پر تلخ باتوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جنہیں آپ برداشت نہ کر سکے ۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

بعض معاملات آپ کی خلاف منشاء طے پا سکتے ہیں۔ جائیداد کے معاملات افہام و تفہیم کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کریں۔ بہت زیادہ محتاط رہ کر سرمایہ کاری کریں۔

۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

آپ کا ذہن حسب سابق کافی الجھ سکتا ہے، آپ کے لیے بہتر یہی ہے کہ فضول قسم کی تمام سوچوں سے نجات حاصل کر لیں ورنہ اس سے آپ کی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

وہ رشتہ دار جن کی وفا داری پر آپ کو بڑا ہی ناز تھا اور جن کی خاطر اکثر آپ اپنے شریک حیات کو بھی ناراض کرتے رہے آپ کے مخالفین بھی آپ کیلیے نت نئی پریشانیوں کے انبار لگانے میں مصروف رہیں گے۔

ہمیں پاپا، پھپھو اور پپو پارٹی نے للکارا ہے، فاروق ستار

کراچی: ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ ہمیں پپا، پھپو اور پپو پارٹی نے للکارا ہے لیکن انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ متحدہ کا ووٹ بینک کل بھی مضبوط تھا اور آج بھی ہے۔ 

کراچی میں لیاقت آباد کے ٹنکی گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے جلسے کے جواب میں اپنے بزرگوں کو زحمت نہیں دی، ہماری مائیں اور بیٹیاں ہی کافی تھیں جب کہ جو یہ کہہ رہے تھے کہ ایم کیوایم دھڑوں میں تقسیم ہوگئی انہیں کہتا ہوں کہ عارضی طور پر کسی اختلاف کی وجہ سے تقسیم نظر آئے لیکن ہمارا ووٹ بینک تقسیم نہیں ہوا یہ کل بھی مضبوط تھا آج بھی ہے اور آئندہ بھی ہوگا۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 10 سال سے ہم بولنگ کرارہے تھے لیکن اب ہماری بیٹنگ کی باری ہے، ہمیں کسی اور نے نہیں للکارا بلکہ پاپا، پھپھو اور پپو پارٹی نے للکارا ہے، لیاقت آباد میں جو چیلنج کیا گیا اسے قبول کرتے ہیں جب کہ یہ تو صرف ٹریلر ہے ابھی تو پوری فلم باقی ہے اور ابھی تو پارٹی  شروع ہوئی ہے، ٹنکی گراونڈ میں نوٹنکی کا میلہ سجا کر یہ  سمجھا گیا کہ  فاتح بن کر نکلے ہیں لیکن ہمارے صبر کو کب تک آزمائیں گے ۔

فاروق ستار نے کہا اگر مہاجر صوبے کا مطالبہ نہیں آیا تو ہم نے لوگوں کو روکا ہوا ہے جب کہ  پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کو غدار نہیں کہیں گے اب واپسی کا گیئر لگ گیا ہے جتنے لوگ چھوڑ کرگئے اب اس سے زیادہ ہمیں جوائن کریں گے۔

اس سے قبل ایم کیو ایم بہادرآباد گروپ کے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کی آبادی کم اور لاہور کی آبادی زیادہ دکھائی گئی، پشاور سے زیادہ پٹھان، لاہور سے زیادہ پنجابی، کوئٹہ سے زیادہ کراچی میں آباد ہیں لیکن پھر بھی کراچی کی تین کروڑ کی آبادی کو ڈیڑھ کروڑ دکھایا جارہا ہے، جتنی حلقہ بندیاں ہونی تھیں انہیں بھی آدھا کردیا، ہماری شہریت پر سوال اٹھائے جارہے ہیں، ان ناانصافیوں کے خلاف چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ مہاجروں کے حقوق دلائے جائیں وہ ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا بھی نوٹس لیں۔

دریں اثنا ناراض رکن قومی اسمبلی کمال ملک اور رکن رابطہ کمیٹی قمر منصور بھی جلسہ میں شریک ہوئے، خواجہ سہیل منصور نے بھی ایم کیو ایم پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں کامران ٹیسوری کے معاملے اور پارٹی تقسیم کی وجہ سے فاروق بھائی سے ناراض تھا، پارٹی تقسیم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے بعد میں اب فاروق بھائی اور خالد مقبول کے ساتھ کھڑا ہوں۔

واضح رہے کامران ٹیسوری بھی جلسہ گاہ میں موجود تھے اور وہ  اسٹیج کے بجائے کارکنوں میں جا کر بیٹھ گئے جب کہ میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ میں ایک کارکن کی حیثیت سے جلسہ گاہ پہنچا ہوں۔

کوئٹہ میں کوئلے کی 3 کانیں بیٹھنے سے16مزدور جاں بحق

کوئٹہ: مارگٹ کے علاقے میں کوئلے کی تین کانیں بیٹھ گئیں جس کے باعث جاں بحق مزدوروں کی تعداد 16 ہوگئی جب کہ متعدد مزدور تاحال لاپتا ہیں۔

کوئٹہ میں مارگٹ کے علاقے میں کوئلے کی تین کانیں بیٹھ گئیں جس کے باعث کانوں کے اندر کام کرنے والے 30 کانکن پھنس گئے جن میں سے 16 جاں بحق ہوگئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینس اور ریسکیو اہلکار فوراً موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔

کمشنر کوئٹہ جاوید انور شاہوانی کے مطابق حادثے کے وقت 23 مزدور کوئلے کی کان میں کام کررہے تھے کہ حادثہ پیش آیا جس سے یہ ہلاکتیں ہوئیں جب کہ چیف انسپکٹر مائز افتخار احمد کا کہنا ہے کہ کانوں میں پھنسنے والے مزدوروں کی تعداد 30 ہے جس میں سے 16 مزدور جاں بحق ہوچکے ہیں۔

’میں کسی کی جوتیاں اٹھانے والا نہیں‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت کے تاثر کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں کسی بھی آزاد گروپ کا حصہ نہیں اور نہ ہی کسی کی جوتیاں اٹھانے والا ہوں، پارٹی کے ہر اُس اجلاس میں شرکت کی جس میں مجھے مدعو کیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نثار علی خان کا کہنا تھا کہ غلط فہمیاں دور کر لی جائیں، کیونکہ وہ کبھی بھی کسی سے احکامات نہیں لیتے۔

انھوں نے کہا کہ سیاسی کیریئر کے دوران بڑے بڑے امتحان آئے لیکن میں ثابت قدم رہا اور مسلم لیگ (ن) کو نہیں چھوڑا، اور اس وقت بھی نہ پارٹی چھوڑی ہے اور نہ ہی چھوڑنے کا ارادہ ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ اگر حالات معمول کے مطابق ہوتے تو یہ پریس کانفرنس نہیں بلاتا، میں پاکستان اور حلقے کے عوام سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔

انھوں نے کہا کہ میں واضح کردوں کہ میں مسلم لیگ (ن) سے ناراض نہیں اور نہ ہی میرے کسی سے اختلافات ہیں، میں نے آج تک پارٹی سے کسی عہدے کا مطالبہ نہیں کیا نہ ہی پارٹی میں کوئی عہدہ رکھا۔

سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ میں 34 برس سے نواز شریف کے ساتھ ہوں، لیکن آج پارٹی میں میرے سوا کوئی بانی رکن نہیں ہے، اس کے علاوہ 70 فیصد لوگوں نے پارٹی چھوڑی اور دوبارہ اس کا حصہ بنے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پاناما کیس شروع ہوا تو میرا موقف تھا کہ ہم سپریم کورٹ نہیں جائیں، جب نواز شریف نے تقریر کا فیصلہ کیا تھا تو میں واحد آدمی تھا، جس نے کہا تھا کہ آپ تقریر نہ کریں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ جب پاناما کیس کا فیصلہ آگیا، تو میں وزیراعظم ہاؤس گیا اور کہا کہ ایسا کام کیا جائے، جس سے پارٹی کو استحکام ملے اور اب پورا زور انتخابات پر لگائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاست کوئی جنگ یا دنگل نہیں بلکہ سیاست اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر راستہ نکالنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ میں کسی کی جوتیاں اٹھانے والا نہیں ہوں، میں نے مسلم لیگ (ن) کے ہر اس اجلاس میں شرکت کی جس میں مدعو کیا گیا۔

سینیٹ الیکشن پر بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ انھیں سینیٹ الیکشن میں پارٹی کے امیدواروں کے حوالے سے شدید اختلافات تھے، لیکن پھر بھی میں گیا اور وہاں جا کر پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیا۔

انھوں نے کہا کہ جب بھی پارٹی کو ان کی ضرورت پڑی وہ پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے، موقف میں اختلاف ہونے کی وجہ سے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

سابق وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ میں نے کسی کو مشکل وقت میں نہیں چھوڑا، تاہم جن لوگوں پر مشکل وقت تھا ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ اب یہ سوچنا ہوگا کہ جو پرانے ساتھی ہیں ان کو ساتھ لے کر چلنا ہے یا پھر ایسے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ساری زندگی نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا سیاسی بوجھ اٹھایا ہے، لیکن اختلافِ رائے کی وجہ سے انہیں طعنوں دے کر نشانہ بنایا گیا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے پارٹی میں شمولیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے انھیں پارٹی میں شمولیت کی دعوت باعثِ عزت ہے، اس کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں لیکن اس وقت مسلم لیگ (ن) کا ہی حصہ ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے ساری زندگی اختلافِ رائے کے ساتھ گزری ہے، لیکن مسلم لیگ (ن) کو پہلے چھوڑ کر جانے والوں نے پارٹی کو برا بھلا کہا لیکن وہ لوگ دوبارہ پارٹی میں آئے اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے قریب ہوگئے جبکہ جو لوگ ہمیشہ سے ساتھ ہیں انہیں صرف اختلافِ رائے کی وجہ سے دور کردیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ میں سیاست عزت کی خاطر کرتا ہوں اور میں اپنی ہر چیز کا ذمہ دار ہوں، لیکن خدا کے لیے اس وقت جب آپ مشکل میں ہیں تو سچ سننے کا زیادہ حوصلہ ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر جو حملے کیے جارہے انھیں ہضم کرنا مشکل ہے، جمہوریت کی بات یہ ہے کہ ہر ایک کو وضاحت کا حق ہونا چاہیے، اسی حوالے سے میں نے نواز شریف کو خط لکھا اور کہا کہ مجلس عاملہ کا اجلاس بلائیں۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اگر میں آج وضاحتیں پیش کر رہا ہوں تو میں نے اپنی ساری زندگی ضائع کی، لیکن اس کے باوجود میں نے جو کچھ کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں، مگر میں نے نہ پارٹی چھوڑی ہے نہ چھوڑنے کا ارادہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ پارٹی کو کس طرف لے کر جانا ہے وہ پارٹی قیادت کی ذمہ داری ہے، اس وقت پاکستان کے لیے مشکل ترین حالات ہیں، لیکن یہاں کسی کو احساس نہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ حالات کو سدھارنے کی ذمہ داری نواز شریف پر عائد ہوتی ہے۔

‘خلائی مخلوق کے بیان پر افسوس ہوا’

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ نواز شریف اگر خوشامدیوں کے چنگل سے نکل کر ملک اور قوم کے لیے فیصلہ کریں گے تو میں نہیں پوری قوم ان کے ساتھ ہوگی، گزشتہ 2 دنوں سے جو خلائی مخلوق کے بیانات آرہے، اس پر افسوس ہورہا۔

انھوں نے کہا کہ مجھے عمران خان کے بیان پر بھی افسوس ہوا، لیکن جب ہم اپنے معاملات پر اس طرح روتے ہیں تو دنیا میں کیا پیغام جاتا ہے، مجھے شاہد خاقان عباسی کے کردار پر بھی مایوسی ہوئی۔

چوہدری نثار نے کہا کہ سب سے پہلی ذمہ داری حکومت اور سیاست دان کی ہوتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلائیں اور اگر ان کے پاس شواہد ہیں تو معاملات حل ہوسکتے ہیں، کیونکہ جو شک و شہبات ڈالے گئے ہیں وہ سیاسی بیانات نہیں ہیں۔

نواز شریف کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ انھیں پہلے یہ سن کر پشیمانی ہوئی کہ نواز شریف نظریاتی نہیں ہیں لیکن اب سن کر مزید حیرانی ہوتی ہے کہ نواز شریف نظریاتی ہیں، کیا ان کا نظریہ وہ تو نہیں جو محمود خان اچکزئی کا ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) دائیں بازو کی جماعت ہے اور اس کا محمود خان اچکزئی کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے نظریے سے اختلاف ہے۔

جاوید شیخ، ندیم اور شاہد پہلی بار ایک ’وجود‘ میں

لولی وڈ کے ماضی کے مقبول ہیروز جاوید شیخ، ندیم اور شاہد پہلی بار آںے والی تھرلر رومانٹک فلم ’وجود‘ میں ایک ساتھ نظر آئیں گے۔

خیال رہے کہ جاوید شیخ، ندیم اور شاہد نے ایک ساتھ ’وجود‘ سے قبل کوئی فلم نہیں کی، تاہم ندیم اور شاہد جب کہ جاوید شیخ اور ندیم نے بھی ایک ساتھ متعدد فلموں میں کام کیا ہے۔

تینوں اداکار ماضی میں ہیروز کے طور پر فلم انڈسٹری پر راج کرتے رہے، تاہم اب پہلی بار انہیں ایک ساتھ ایکشن میں دیکھا جائے گا۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

’وجود‘ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی ہدایات بھی خود جاوید شیخ نے دی ہیں، جو فلم میں ممکنہ طور پر منفی کردار میں نظر آئیں گے۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ فلم کی کہانی کس واقعے کے گرد گھومتی ہے، تاہم فلم کے ٹیزر ٹریلرز کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں شائقین کو نہ صرف ایکشن بلکہ بدلے اور رومانس کا تڑکا بھی دیکھنے کو ملے گا۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

’وجود‘ کو رواں برس میٹھی عید پر ریلیز کیا جائے گا۔

فلم کی دیگر کاسٹ میں نوجوان اداکار دانش تیمور، فریحہ الطاف، اداکارہ سعیدہ امتیاز اور بھارتی اداکارہ ادیتی سنگھ بھی جلوہ گر ہوں گی۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

فلم کی شوٹنگ نہ صرف پاکستان بلکہ یونان، ترکی اور دبئی میں کی گئی ہے، جس وجہ سے فلم میں جہاں خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملیں گے، وہیں بدلے اور رومانس کے گرد گھومتی اس فلم کی کہانی بھی شائقین کو محظوظ کرے گی۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

فلم کا پہلا ٹیزر ٹریلر گزشتہ ماہ 26 اپریل کو جاری کیا گیا تھا، جس میں جاوید شیخ کے کردار کی بھی جھلک دکھائی گئی تھی۔

فلم کے جاری کیے گئے دوسرے ٹیزر ٹریلر میں جہاں سعید امتیاز اور ادیتی سنگھ کے کرداروں کی جھلک دکھائی گئی ہے، وہیں دانش تیمور اور ندیم کو بھی دکھایا گیا ہے۔

آرمی چیف نے 11 دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 11 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملٹری کورٹ سے سزا پانے والے 11 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی جب کہ عدالت کی جانب سے3 دیگر دہشت گردوں کو مختلف مدت کی قید کی سزا بھی سنائی گئی، تمام دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق دہشت گردوں کو سنگین کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزا دی گئی، سزا پانے والے افراد مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مالاکنڈ یونیورسٹی پر حملوں اور شہریوں کے قتل میں بھی ملوث ہیں، دہشت گردوں نے مجسٹریٹ کے سامنے خیبرپختون خوا کے صوبائی رکن اسمبلی عمران خان مہمند سمیت مجموعی طور پر 60 شہریوں کو قتل اور 36 افراد کو زخمی کرنے کااعتراف بھی کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق  سزا پانے والے دہشت گردوں میں عارف اللہ، بخت محمد، برہان الدین، محمدزیب، سلیم، عزت خان، محمد عمران، یوسف خان، شہیر خان، گل خان اور نادر خان  شامل ہیں۔ جب کہ 3 دہشت گردوں کو قید کی بھی سزا سنائی گئی ہے۔ برہان الدین، شہیر خان اور گل خان نے مردان کے علاقے زرگرانو کلی میں ایک نماز جنازہ پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں ممبر صوبائی اسمبلی عمران خان مہمند سمیت 30 افراد شہید اور 100 زخمی ہوئے تھے۔

تحریک انصاف نے رانا ثناء اللہ کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا

لاہور: تحریک انصاف نے خواتین سے متعلق تضحیک آمیز الفاظ استعمال کرنے پر وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کو 50 ملین ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا۔

پی ٹی آئی کی خاتون رہنما عظمیٰ کاردار کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ نے خواتین کے خلاف نازبیا بیانات دے کر نہ صرف ان کی بلکہ 52 فیصد پاکستانی خواتین کی تضحیک کی۔

قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ 7 روز میں اپنے بیان پر معافی مانگیں بصورت دیگر ان کے خلاف 5 کروڑ ہرجانے کی قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی چیئرمین عمران خان نے عظمیٰ کاردار کو  رانا ثنا اللہ کے خلاف بھرپور قانونی جنگ لڑنے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ لاہور میں تحریک انصاف کے جلسے میں شریک خواتین سے متعلق رانا ثناء اللہ نے نامناسب الفاظ استعمال کیے تھے جس پر مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے معافی مانگی تھی جب کہ رانا ثناء اللہ نے بیان واپس لیا تھا تاہم انہوں نے معافی نہیں مانگی تھی۔

Google Analytics Alternative