Home » 2018 » May » 08

Daily Archives: May 8, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

ہم نے تو آپ کو سمجھانے کے لیے کئی صفحات کالے کر ڈالے آپ نہ سمجھ سکے اب پھر ایک بار ہم واضح طور پر یہ تلقین کرنا چاہتے ہیں کہ خود کو بدلنے کی کوشش اچھے اور مروجہ اصولوں کی روشنی میں کیجئے۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

کس قدر تعجب انگیز ہے یہ حقیقت کہ اتنی ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی آپ اب بھی انہی راستوں کو اپنائے ہوئے ہیں جن پر چل کر آج تک آپ کچھ نہ حاصل کر سکے۔ صحت جسمانی بہتر رہے گی۔

جوزا:
21مئی تا21جون

اپنے موجودہ کاروبار میں بھی خصوصی دلچسپی لیجئے اس سلسلے میں آپ نے جو سکیمیں بنائی تھیں ان پر عمل کر لیں بفضل خدا نتائج خوشگوار برآمد ہو سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ جلد بازی سے کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

سوچ کا انداز اور اپنی راہ بدلنے کی کوشش کیجئے چند ایسے ’’چانسز‘‘ ہیں کہ اگر آپ ہمت کرکے خود کو اخلاقی پابندیوں کا احساس دلانے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر تمام الجھے مسائل بآسانی سلجھتے جائیں گے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

اپنے بکھرے ہوئے خیالات کو اکٹھا کریں تاکہ بعض اہم معاملات کے سلسلے میں درست فیصلے کیے جا سکیں، رشتہ داروں پر زیادہ بھروسہ کرکے ان کے ہر مشورے پر عمل نہ کریں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

اپنی سوچوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کیجئے، موجودہ کاروبار خصوصی توجہ کا طلب گار ہے، اگر لاپرواہ رہے تو پھر ملنے والا منافع خاک میں مل سکتا ہے، اپنے بزرگوں کو ناراض نہ کریں۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

والدین کا رویہ کچھ بدل سکتا ہے آپ ان سے مرضی کے مطابق مفاد بھی حاصل کر سکیں گے اس کیلیے آپ کو اپنے اصول بدلنے پڑیں گے، سیاسی پوزیشن مضبوط تو ہو گی لیکن آپ اپنی حدود سے آگے نہ بڑھیں۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

خیالات خاصے منتشر رہیں گے دوستوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، کوئی دیرینہ آرزو پوری ہو سکتی ہے، راہ چلتے اور گاڑی چلاتے ہوئے بہت زیادہ محتاط رہیں، مفت کی دولت مل سکتی ہے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

کسی نئے کاروبار میں شمولیت کا چانس ملے تو اسے ضائع نہ کریں، یہ کاروبار ماضی کے نقصان کی تلافی کر سکتا ہے، ذہنی کیفیت عجیب و غریب رہے گی، کسی سے بھی الجھنے کی غلطی ہرگز نہ کریں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

ذہنی کیفیت عجیب و غریب رہے گی کسی سے الجھنے کی غلطی نہ کریں ورنہ بات بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے اور ہاتھ بھی کچھ نہیں آئے گا، مخالفین کو شکست دینے کا موقعہ مل سکتا ہے۔

۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

کسی مقتدر شخصیت کے ساتھ مراسم مضبوط ہو سکتے ہیں، کسی نئی رشتہ داری کے قائم ہونے کا امکان ہے نزدیکی سفر وسیلہ ظفر بن سکتا ہے، اخراجات میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

شادی شدہ افراد کا گھریلو سکون قائم و دائم رہے گا، یعنی شریک حیات ہر معاملے میں معاون و مددگار ثابت ہو سکیں گے، محبوب سے کسی قسم کی بھلائی کی توقع نہ رکھیں۔

مجھے جیل بھیجنے کی سر توڑ کوشش کی جارہی ہے، نوازشریف

جہلم: مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کا کہنا ہے کہ مجھے جیل بھیجنے کی سر توڑ کوشش کی جارہی ہے جب کہ ہمارا مقابلہ زرداری اور عمران خان سے نہیں بلکہ ان کے اوپر والوں سے ہے جہاں سے وہ ڈکٹیشن لیتے ہیں۔ 

جہلم میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط کیا، ملک بھر میں لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جب کہ مجھ پر کسی قسم کی کرپشن اور لوٹ مار کا الزام نہیں لیکن لوٹ مار کرنے والے آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں اور انہیں پیشیاں نہیں بھگتنی پڑرہی مگر میری آج نیب میں 62ویں پیشی تھی، اس بات کی سر توڑ کوشش کی جارہی ہے کہ نوازشریف کو جیل بھیج دیا جائے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ووٹ کو 70 سال سے عزت نہیں ملی لیکن اب ہم نے یہ کھیل ختم کرنے ہیں، ہم تاریخ نہیں دہرائیں گے اور اگلے سال پچھلے سالوں سے بہت بہتر ہوں گے جب کہ اب ووٹ کی عزت کریں گے اور کروائیں گے کیوں کہ ووٹ کو عزت دینے سے پاکستان ترقی کی طرف جائے گا اور پاکستان ایشین ٹائیگر بنے گا، 2018 کا الیکشن ریفرینڈم ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا میرے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں، کبھی گیدڑ بھی شیروں کا مقابلہ کرتے ہیں جب کہ اب عوام آپ کی چور دروازے سے انٹری روکیں گے کیوں کہ یہ بہادر عوام بزدل لوگوں کو پسند نہیں کرتے کہ وہ ان کی قیادت کریں۔ انہوں نے کہا کہ آپ جس امپائر کی طرف اشارہ کرتے ہو، وہ کون ہے، اوپر والوں کے نیچے لگ کہ کیوں چھپتے ہو، جرت ہے تو آو سامنے آکر مقابلہ کرو لیکن آپ بزدل انسان ہو۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں مجھے پرانا پاکستان ہی نظر آیا، پشاور کا حال کراچی جیسا ہوگیا ہے، وہاں بھی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، کوئی اسکول بنا ہے اور نہ کوئی اسپتال جب کہ عمران خان آصف زرداری سے ہاتھ نہ ملانے کا کہتے تھے مگر اب صرف ہاتھ ہی نہیں دل بھی ملا رہے ہیں۔ انہوں نے آصف زرداری اور عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرا مقابلہ آپ لوگوں سے نہیں بلکہ آپ کے اوپر والوں سے مقابلہ ہے جہاں سے تم لوگ حکم لیتے ہوں۔

چیف جسٹس وہ کام کررہے ہیں جو حکومت کو کرنے چاہیے تھے، عمران خان

 اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ چیف جسٹس وہ کام کررہے ہیں جو حکومت کو کرنے چاہیے تھے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے کہا کہ تعلیم کے بعد صحت پاکستان کے عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، پیسے والے لوگ علاج کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں اور غریب سرکاری اسپتالوں میں علاج کے لیے مجبور ہوتا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان وہ کام کر رہے ہیں جو حکومت کو کرنا چاہیے تھا، انہوں نے ہمارے اسپتالوں کا نوٹس لیا ہے، ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ چیف جسٹس کو کہوں گا غیر جانبدار ماہرین کی کمیٹی بنائیں۔

عمران خان نے کہا کہ 40 سال میں کسی نے خیبر پختونخوا کے اسپتالوں میں اصلاحات نہیں کیں، پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں وہ کام کیا جو 40 سال میں کسی نے نہیں کیا۔ ہم خیبر پختونخوا کے اسپتالوں میں ایسی اصلاحات لائے جو پورے پاکستان میں کہیں نہیں لائی گئیں لیکن اس کے لیے ہمیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ سرکاری اسپتال میں کسی کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جاتی ہے تو وہ عدالت سے حکم امتناعی لے آتا ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کورہیڈ کوارٹرز کراچی کا دورہ

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کورہیڈ کوارٹرز کراچی کا دورہ کیا اس موقع پر انہیں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کورہیڈ کوارٹرز کراچی کا دورہ کیا اس موقع پر انہیں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کراچی میں اقتصادی سرگرمیاں بحال کرنے کوششوں کو سراہا اور کراچی میں امن لانے پر رینجرز، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

ولادی میر پوٹن نے مسلسل چوتھی بار بحیثیت روسی صدر حلف اٹھا لیا

ماسکو: ولادی میر پوٹن نے چوتھی بار صدارت کا حلف اٹھا لیا ہے اور اب وہ 2024 تک روس میں برسرِاقتدار رہیں گے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ولادی میر پوٹن نے مسلسل چوتھی بار بحیثیت روسی صدر حلف اٹھا لیا ہے اور اب وہ 2024 تک اپنے ملک میں برسرِاقتدار رہیں گے، چوتھی بار صدارت کا حلف لینے  کے بعد ولادی میر پوٹن سوویت یونین کی تاریخ میں طویل عرصہ تک منصبِ صدارت پر فائز رہنے والے دوسرے لیڈر بن گئے ہیں، 65 سالہ ولادی میر پیوٹن 1999 سے وزیراعظم اور صدر کی حثیثت سے روس کی سربراہی کررہے ہیں۔ اس سے قبل جوزف اسٹالن کے پاس یہ ریکارڈ تھا جنہوں نے 30 سال تک سوویت یونین کی صدارت کی۔

نومنتخب روسی صدر ولادی میر پوٹن نے گزشتہ ماہ بھاری اکثریت سے برتری حاصل کی تھی اور انہوں نے 74 فیصد ووٹ حاصل کئے جب کہ 2012 کے صدارتی انتخابات میں انہیں 64 فیصد ووٹ ملے تھے تاہم یہ امر بھی قابلِ زکر ہے کہ حالیہ انتخابات میں ان کے سخت ترین حریف الیکسی نیوالنی پر صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد تھی۔

نوازشریف کی مدد کرنے والے بھلائی مخلوق اور نہ کرنیوالے خلائی مخلوق، بلاول

منڈی بہاؤالدین: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے لیے مدد کرنے والے بھلائی مخلوق اور نہ کرنے والے خلائی مخلوق ہوتے ہیں۔

منڈی بہاؤالدین میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان 2 ، 2 گھنٹے تقریریں کرتے ہیں اور اس میں ایک بھی کام کی بات نہیں ہوتی، انہوں نے خیبرپختون خوا میں غربت ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں دیا اور ناہی دے سکتے ہیں۔ وہ کوئی اسپتال یا یونیورسٹی ہی بتا دیں جو انہوں نے 5 سال میں بنائی ہو، ان کا ناہی کوئی نظریہ ہے اور ناہی کوئی منشور، وہ صرف ہوائی فائرنگ کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان بھی نوازشریف کا ہی تسلسل ہیں، دونوں صرف سرمائے کے لئے سیاست کرتے ہیں اور اقتدار کے بھوکے ہیں، (ن) لیگ نے بھی کسانوں اور کاشتکاروں کو برباد کردیا ہے، کسانوں کو ان کی فصلوں کی پوری قیمت بھی ادا نہیں کی گئی، غریب مر رہے ہیں اور یہ خوشحالی کی باتیں کرتے ہیں۔ امیروں کو زیادہ امیر بنانے سے ملک خوشحال نہیں ہوتا، میاں صاحب خلائی مخلوق کی بات کرتے ہیں، ان کی مدد ہو رہی ہو تو بھلائی مخلوق اور مدد نہ ہورہی ہو تو خلائی مخلوق کہتے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ

adaria

وزیر داخلہ احسن اقبال قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے،نارووال کی تحصیل کنجروڑ میں انتخابی جلسے میں شریک حملہ آور کی فائرنگ سے گولی بازو سے گزرتی ہوئی احسن اقبال کے پیٹ میں چلی گئی، ملزم کو موقع واردات سے گرفتار کرلیا گیا، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور منتقل کردیا گیا اس واقعے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے، حملہ آور نے وزیر داخلہ کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ خطاب کے بعد گاڑی میں بیٹھ رہے تھے، ملزم عابد حسین جلسہ گاہ میں موجود تھا اور باور کیا جاتا ہے کہ خطاب کے وقت وہ فرنٹ لائن میں بیٹھا تھا۔ حملہ آور نے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ اس نے ختم نبوت کے معاملے پر احسن اقبال پر حملہ کیا ہے اور یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے، وفاقی وزیر داخلہ پر حملہ بزدلانہ اقدام ہے، سیاسی و عسکری قیادت نے اس کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پرامن فضا کوخراب نہیں ہونے دینگے۔ اختلاف کا اظہار تشدد کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے عدم برداشت کے رویے نے تلخیوں کو جنم دیا ہے اور اس کی ذمہ دار وہ تمام سیاسی پارٹیاں ہیں جو اپنے جلسے ، جلوسوں میں مخالفین پر نہ صرف لفظی گولہ باری کرتی ہیں بلکہ گالم گلوچ اور تشدد کے جذبات ابھارتی ہیں، یہ رویہ خطرناک ثابت ہورہا ہے، الیکشن سے پہلے سیکورٹی کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، احسن اقبال پر کیا جانے والا حملہ سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے، انتشار کی ہر کوشش کو کچلنے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ تشدد کا یہ رجحان بڑھتا چلا جائے گا جس کے سیاسی اُفق پر منفی اثرات مرتب ہونگے، حالیہ واقعہ نے سیاسی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے اور لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں،پاکستان میں سیاسی تشدد اور سیاسی محرکات کے منظر اور پس منظر پر نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کئی عام سیاسی شخصیات پر ماضی میں حملے ہوئے جن کی وجہ سے وہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، سابق وزیراعظم لیاقت علی خان کو1951 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کررہے تھے ان کے قاتل سید اکبر کو اسی وقت ایک پولیس آفیسر نے گولی مار کر ہلاک کردیا جس سے قتل کے محرکات سامنے نہ آسکے ، پاکستان کی تاریخ کا دوسرا اہم سیاسی قتل سابقہ وزیراعظم بینظیر بھٹو کا تھا جنہیں 27دسمبر2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی ما ر کر شہید کردیا گیا اسی طرح حیات خان شیرپاؤ ایک سیاسی جلسہ میں دھماکے میں قتل کیے گئے، خواجہ محمد رفیق، نواب احمد خان بھی قتل کی بھینٹ چڑھے، نواب احمد خان قصوری کے قتل کی بنیاد پر1970ء میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا، عدالت عظمیٰ نے انہیں سزائے موت دی اور جنرل ضیاء الحق کے فوجی دور میں انہیں پھانسی دیدی گئی، خود ضیاء الحق 17اگست 1988ء فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے جبکہ 1991ء سابق گورنرفضل حق کو بھی قتل کردیا گیا اسی طرح چوہدری ظہور الٰہی بھی قتل ہوئے اور 1988ء میں حکیم سعید قتل کردئیے گئے ،ممتاز صحافی صلاح الدین اور سابق وزیر مملکت صدیق خان کانجو کو بھی قتل کیا گیا۔ سابق وزیراعلیٰ و گورنراکبر علی بگٹی کو بھی قتل کیا گیا، سیاسی مخالفین کو سیاسی مہم کے دوران قتل کیا جاتا رہا، وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ کسی سیاسی شخصیت پر تازہ ترین حملہ ہے اس سے قبل سیاستدانوں پر جوتے پھینکنا اور سیاہی گرانے کے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں، سیاست میں عدم برداشت کا رویہ خطرناک ہے، سیاست میں بردباری اور برداشت کے جمہوری کلچر کو اپنانے کی ضرورت ہے، وفاقی وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ جہاں سیکورٹی معاملات کے لئے سوالیہ نشان ہے وہاں اس امر کا آئینہ دار بھی ہے کہ آمدہ الیکشن میں سیاسی رہنماؤں کو سیکورٹی معاملات کو فعال بنانا ہوگا۔ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کے ملزم کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور اس کوعبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی مذموم کوشش نہ کرے پائے۔سیاسی لیڈروں پر حملے سیکورٹی پر جہاں سوالیہ نشان ہے وہاں تشدد کے رویے کے آئینہ دار بھی، یہ صورتحال کسی بھی لحاظ سے سودمند نہیں ہے ، سیاست میں برداشت ازحد ضروری ہوا کرتا ہے ، سیاسی رہنماؤں کو جلسے اور کارنر میٹنگ میں اشتعال انگیز تقریروں سے گریز کرنا ہوگا اور اپنے پارٹی منشور کو عوام کے سامنے رکھنا چاہیے، ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ تلخ رویوں کو جنم دیتا ہے جس سے اشتعال انگیزی پیدا ہوتی ہے اور ناخوشگوار واقعات رونما ہونے لگتے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ کالعدم تنظیموں پر بھی کڑی نظر رکھے اور انتہا پسندانہ سوچ کو روکنے کیلئے فوری اقدامات بروئے کار لائے، اسلام ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قراردیتا ہے ، سیاسی تلخ رویے لچکدار رویوں میں تبدیل ہونے چاہئیں تاکہ تشدد کا رجحان دم توڑ پائے اور مثبت سوچ پروان چڑھے۔ وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ قابل مذمت ہے، حملہ آور کو سخت سے سخت سزا دے کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جاسکتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی
مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید 10کشمیریوں کو شہید کردیا، شہداء میںیونیورسٹی پروفیسر سمیت طلباء بھی شامل ہیں ، گزشتہ 36گھنٹوں میں شہید افراد کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے،پانچ نوجوانوں کو شوپیاں کے علاقے باڈیگام میں محاصرے اور سرچ آپریشن کے دوران شہید کیا گیا جبکہ پانچ دیگر نوجوان بشمول یونیورسٹی پروفیسر کو مظاہرین پر فائرنگ کے دوران نشانہ بنایا گیا ، نوجوانوں کی شہادت کیخلاف وادی بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے اور ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ، او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قرارداد منظور کی ہے اور کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر تمام مسلمانوں کے ساتھ ہیں، مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی بھارتی بربریت اور سفاکی عالمی برادری کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے، بھارت ایک طرف کشمیریوں پر مظالم ڈھاتا چلا آرہا ہے تو دوسری طرف سرحدی قوانین کی خلاف ورزی بھی اس نے اپنا معمول بنالیا ہے اور ’’را‘‘ کے ذریعے پاکستان کے اندر اس کی دہشت گردانہ کارروائیاں بھی خطے کے امن کیلئے خطرے کا باعث بنتی جارہی ہیں، بھارتی ریاستی دہشت گردی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا، پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور چاہتا ہے کہ تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے لیکن پاکستان کی امن کاوشوں کو بھارت سبوتاژ کررہا ہے جس سے خطے کا امن خراب ہوتا جارہا ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا اس وقت خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا، بھارت پاکستان کی امن کاوشوں کو کمزوری نہ گردانے ، پاکستان بھارتی جارحیت کا منہ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، بھارت سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کو سردخانے میں ڈالے ہوئے ہے جو لمحہ فکریہ ہے ، عالمی برادری کو بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لینا چاہیے اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے موثرکردار ادا کرنا چاہیے، یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔

افغانستان میں اتحادی فوج کی فضائی بمباری میں 42 جنگجو ہلاک

کابل: افغانستان میں اتحادی افواج کی بمباری میں 42 جنگجو ہلاک جب کہ 24 زخمی ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی خبرایجنسی کے مطابق افغانستان میں اتحادی افواج نے فضائی بمباری میں طالبان اور داعش جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 42 جنگجو ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے ہیں جب کے اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کو بھی تباہ کردیا گیا۔ فضائی کارروائی افغان نیشنل آرمی، افغان ایئرفورس اور نیٹو افواج نے مشترکہ طور پر کی۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائیوں کے دوران صوبہ ارزگان میں 18، قندھار کے ضلع معروف میں 9، ضلع فریاب میں 3 اور شمالی صوبے زابل میں 10 دہشت گرد مارے گئے جب کے اسلحے اور گولہ بارود کے ذخیرے تباہ کر دیئے گئے۔ بری فوج نے علاقے کو کلیئر کروا لیا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے ایک ماہ قبل اپنے سالانہ آپریشن ’الخندق‘ میں اتحادی افواج کے ٹھکانوں اور اہلکاروں کو ہدف بنانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اتحادی فوجوں کی کارروائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب کے دو روز قبل طالبان جنگجوؤں نے افغانستان کے ضلع کوہستان میں گھمسان کی جنگ کے بعد اتحادی فوج کو شکست دے کر قبضہ کرلیا ہے۔

Google Analytics Alternative