Home » 2018 » May » 09

Daily Archives: May 9, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

اپنے گھر میں غیر ضروری افراد کی آمدورفت پر پابندی لگا دیں تاکہ کسی کو کچھ کرنے کرانے کا موقع نہ ملے، اگر آپ اپنی مزاجی کیفیت نہ بدل سکیں تو پھر خلاف منشاء معمولی سی بات پر بھڑکنا نقصان دہ ہے۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

اگر آپ ملازمت کرتے ہیں تو پھر بہت زیادہ محتاط رہ کر اپنے فرائض کی تکمیل کریں ورنہ آپ کی ملازمت ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے، قریبی رشتہ داروں کے ساتھ بھی تعلقات بہتر نہ رہ سکیں گے۔

جوزا:
21مئی تا21جون

آپ کے گھریلو حالات قدرے بہتر ہی رہیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ کسی بھی موقعہ پر آپ جذباتیت کا مظاہرہ ہرگز نہ کریں، اپنے اخراجات بھی حتی الامکان گھٹانے کی کوشش کیجئے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آپ کے غلط طرز عمل اور اشتعالی مزاج کے سبب اچھے اور بڑے کاروباری لوگ متنفر ہوتے جائیں گے، آمدنی کم ہو گی اور اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

کاروباری اسکیموں کو شوق سے عملی شکل دیں نتائج شاندار برآمد ہو سکتے ہیں، کوئی جذباتی فیصلہ آپ کے ہمدردوں کی تعداد بہت کم کر سکتا ہے، گھریلو ماحول خاصا بہتر رہے گا۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

دماغ پر فضول قسم کے خیالات کا غلبہ رہے گا، نئی سکیموں کو عملی شکل نہ دیں نقصان ہو سکتا ہے نزدیکی سفر کے دوران کوئی اہم مقصد پورا ہو سکتا ہے، والدین سے غیر معمولی فائدہ ہو سکتا ہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

بسلسلہ تعلیم رکاوٹ کا خاتمہ ہو سکتا ہے، بسلسلہ جائیداد بنائی ہوئی سکیمیں کامیاب ثابت ہو سکتی ہیں، دوستوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، صحت جسمانی گاہے بگاہے خراب ہو سکتی ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

مخالفت کا بڑی حد تک خاتمہ ہو سکتا ہے، زیادہ امکان یہی ہے کوئی بااثر شخص کوشش کرکے مخالفین سے آپ کی صلح کروا سکتا ہے، کاروبار کو مزید وسعت دینے کا موقعہ مل سکتا ہے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

محبوب سے وابستہ کوئی اہم توقع پوری ہو سکتی ہے لیکن اس سلسلے میں بے صبری کا مظاہرہ ہرگز نہ کیجئے، کسی بزرگ روحانی سے خصوصی فیض حاصل ہو سکتا ہے، تعلیمی سلسلے میں شاندار کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

دوستوں کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں، کسی خاص دوست کی اعانت سے کاروبار کو بھی وسعت دینے کا موقعہ مل سکتا ہے، گھریلو حالات خاصے بہتر ہو سکتے ہیں۔

۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

اگر آپ نے عقلی غلطیاں نہ کیں اور اپنی صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں بروئے کار لے آئے تو پھر یقین کیجئے کہ آپ کے قدموں میں لاتعداد کامیابیاں ڈھیر ہو سکتی ہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

بسلسلہ جائیداد خصوصی فائدے کا امکان ہے، بے دھڑک ہو کر بڑے بڑے سودے کیجئے، بفضل خدا غیر معمولی فائدہ ہو سکتا ہے اور آپ ہونے والے نقصان کی تلافی کر سکیں گے۔

بعض عناصر نوجوانوں کے ذہنوں پر اثرانداز ہوکر انتشار پھیلا رہے ہیں، آرمی چیف

کوئٹہ: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بعض عناصر ہمارے نوجوانوں کے ذہن پر اثرانداز ہونے اور معاشرے میں انارکی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف نے بلوچستان پنج پائی میں پاک افغان بارڈ پر آہنی باڑ کے کام کا افتتاح کیا۔ آرمی چیف نے باڑ کے معاملے میں مکمل حمایت اور تعاون اور سکییورٹی صورتحال میں شرکت پر قبائلی رہنماؤں اور مقامی لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ باڑ لگنے سے سرحد پر دہشت گردوں کی نقل و حمل پر نظر رکھی جائے گی اور قانونی آمدو رفت مقرر کردہ کراسنگ پوائنٹس کے ذریعے رہے گی۔

بعد ازاں آرمی چیف نے کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس پروجیکٹ پر 2.28 بلین روپے لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ 5 سال میں مکمل ہوگا جب کہ سیف سٹی پراجیکٹ سے کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کوئٹہ کی مختلف یونیورسٹیز کے نوجوانوں سے بھی ملے۔ اس موقع پر جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد ہے بلوچستان کے عوام کو ملک کے دیگر حصوں کی طرح سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی  جائے۔ آرمی چیف کوئٹہ کی مختلف یونیورسٹیز کے نوجوانوں سے بھی ملے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج بلوچستان میں تعلیم، صحت، بجلی اور پانی کی فراہمی کے حکومتی اقدامات کی حمایت کرتی ہے ہم نہیں چاہتے بلوچستان کسی مخصوص کوٹے یا پیکیج کا مرہون منت ہو، پاکستان نے دہشت گردی کو مسترد کردیا اور مسلح افواج نے قوم کی حمایت سے عظیم قربانیاں دے کر امن حاصل کیا لیکن بعض عناصر اس مرحلے پر ہمارے نوجوانوں کے ذہن پر اثر انداز ہونے اور معاشرے میں انارکی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سندھ بے حال اور آصف زرداری خوشحال ہے، شہبازشریف

مٹیاری: مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے سندھ کی عوام کے ساتھ بہت زیادتی کی جب کہ آج سندھ بے حال ہے اور صرف آصف زرداری خوشحال ہے۔

مٹیاری میں مسلم لیگ (ن) کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے سندھ کی عوام کو نوکریاں دیں نہ خوشحالی و ترقی کے لیے کوئی کام کیا، پی پی نے یہاں کے لوگوں کے ساتھ بہت زیادتی کی تاہم اب ظلم و ستم کا بدلہ لینے کا وقت آگیا ہے، اگر سندھ  ترقی نہیں کرتا تو پاکستان ترقی نہیں کرسکتا جب کہ آپ نے آئندہ انتخابات میں (ن) لیگ کو ووٹ دیا تو سندھ کو پنجاب بنا دوں گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سندھ میں غریب و یتیم بچوں کو نہ وظیفے ملتے ہیں اور نہ تعلیم و صحت کی سہولیات میسر ہیں جب کہ ہم نے پنجاب میں غریبوں کے لیے وظیفے دیے، دانش اسکولز بنائے اور بے روزگار افراد کو قرضے دیے، صحت کے شعبے میں پنجاب میں بہترین اسپتال بنائے جہاں معیاری و جدید طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور بنی گالا والے اکٹھے ہوگئے ، زرداری کہتے ہیں کہ  مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں لیکن میں کہتا ہوں مرسوں مرسوں کم نہ کرسوں، آصف زرداری اربوں روپے لوٹ کر باہر لے گئے اور سبق دیتے ہیں کہ ہم ملک کو کرپشن سے پاک کرکے ترقی یافتہ بنائیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ جب پی پی کی حکومت ختم ہوئی تو یہاں گھنٹوں لوڈشیڈنگ تھی اور ترقی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا، ہماری حکومت نے پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا اور کھربوں روپے کے ترقیاتی کام کیے جب کہ آئندہ عوام نے ووٹ دیے تو سندھ کے گاؤں گاؤں میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیں گے اور سندھ کو پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ صوبہ بنائیں گے۔

عام انتخابات جولائی کی 25 یا 26 تاریخ کو کرانے پر غور

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخاب 2018 کے انعقاد کیلئے دو مجوزہ تاریخوں پر غور شروع کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان عام انتخابات 2018 کی پولنگ کے لیے دو تاریخوں پر غور کررہی ہے جس میں سے ایک تاریخ کا حتمی فیصلہ جلد کرلیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق الیکشن 2018 کی پولنگ کے لیے 25 یا 26 جولائی کی تاریخوں پر غور کیا جارہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عام انتخابات کی تاریخ طے ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے سمری صدر مملکت کو بھیجی جائے گی جن کی منظوری کے بعد عام انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان ہوجائے گا۔

الیکشن کمیشن اس وقت صدر مملکت کو بھجوائی جانے والی سمری پر کام کررہا ہے اور پولنگ کے لیے 25 یا 26 جولائی کی تاریخ زیر غور ہے۔ یہ سمری رواں ماہ کے تیسرے ہفتے میں منظوری کیلئے صدر مملکت کے پاس بھیج دی جائے گی۔

‎الیکشن کمیشن عام انتخابات کی تاریخ کی منظوری صدر مملکت سے لینے کا پابند ہے،صدر مملکت سے سمری کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن الیکشن شیڈول جاری کرے گا۔

سمری کی منظوری کے بعد الیکشن کمیشن مئی کے آخر یا جون کے پہلے ہفتے میں الیکشن شیڈول جاری کرے گا۔

‎الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی سے لے کر حتمی فہرستیں آویزاں کرنے کے لیے 4 ہفتوں کا وقت رکھ دیا ہے جبکہ کاغذات کی جانچ پڑتال کے لیے 8 روز رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ الیکشن 2013 کے لیے پولنگ کا انعقاد 11 مئی کو ہوا تھا جس میں پاکستان مسلم لیگ ن نے اکثریت حاصل کی تھی۔

قومی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والے ارکان نے یکم جون 2013 کو حلف اٹھایا تھا اور اس طرح پاکستان کی 14 ویں قومی اسمبلی تشکیل پائی تھی۔

موجودہ حکومت کی آئینی مدت جون کے مہینے میں ختم ہورہی ہے جس کے بعد اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی اور نگراں حکومت قائم ہوجائے گی جو قانون کے مطابق 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کی پابند ہوتی ہے۔

تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے عام انتخابات وقت پر کرانے پر اتفاق کیا ہے اور  امید یہی کی جارہی ہے کہ انتخابات اپنے وقت پر ہوجائیں گے۔

نواز شریف کے خلاف 4.9 ارب ڈالر بھارت منتقل کرنے پر تحقیقات کا آغاز

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور دیگر کے خلاف مبینہ طور پر 4.9 ارب ڈالر کی رقم بھارت منتقل کرنے سے متعلق میڈیا پر آنے والی رپورٹس کا نوٹس لے لیا۔

نیب کے جاری بیان کے مطابق چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور دیگر کے خلاف مبینہ طور پر 4.9 ارب ڈالر کی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت منتقل کرنے سے متعلق رپورٹس کے حوالے سے تحقیقات کا حکم جاری کردیا۔

نیب کے مطابق چیئرمین نے منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں ڈالر کی بھارت منتقلی کی تحقیقات کا حکم میڈیا میں آنے والی رپورٹس کی روشنی میں لیا۔

نیب کے جاری بیان کے مطابق میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ مذکورہ معاملے کی تفصیلات ورلڈ بینک کی مائیگریشن اینڈ ریمٹنس بک 2016 میں درج ہیں۔

ملک میں انسداد بد عنوانی کے حوالے سے کام کرنے والے ادارے کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے بھارتی حکومت کے سرکاری خزانے میں 4.9 ارب ڈالر کی خطیر رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھجوائی گئی تھی۔

مذکورہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے تھے جبکہ پاکستان کو اس حوالے سے اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

خیال رہے کہ نیب نے اپنے جاری بیان میں مذکورہ خبر نشر کرنے والے میڈیا گروپس کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ ماہ سے نواز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کو پاناما پیپرز لیکس کے باعث نیب کی تحقیقات کا سامنا رہا جبکہ احتساب عدالت میں ان کے خلاف مختلف ریفرنس بھی زیر سماعت ہیں۔

8 ستمبر 2017 کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز، صاحبزادی مریم صفدر، داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر اور سمدھی وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف 4 ریفرنسز دائر کیے گئے تھے۔

پاناما انکشاف

پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب اپریل 2016 میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے ‘آف شور’ مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔

مذکورہ انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد گزشتہ سال 20 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔

جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔

جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے 5 سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل سنے اور 21 جولائی کو پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

بعد ازاں 28 جولائی 2018 کو سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا، جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے دے مستعفی ہوگئے تھے۔

علاوہ ازیں 21 فروری 2018 کو سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کیس 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا تھا۔

بالی ووڈ اداکار کے گھر 14 سال بعد ننھے مہمان کی آمد

ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار شریاس تلپڑے کے گھر 14 سال بعد سروگیسی کے ذریعے ننھے مہمان کی آمد ہوئی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرینڈ مستی، گول مال ، ہاؤس فل، اوم شانتی اوم جیسی مزاحیہ فلموں سے اپنی اداکاری کا لوہا منوانے والے معروف اداکار شریاس تلپڑے 14 سال بعد سروگیسی کے عمل کے ذریعے بچے کے باپ بن گئے ہیں۔

شریاس تلپڑے نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نے ہمیں بچے کی پیدائش کا وقت اس ماہ کی 10 سے 12 کے اوسط کی تاریخ بتائی تھی اور اسی بات کا فائدہ اُٹھانے ہوئے ہم لوگ 2 تاریخ کو ہی ہانگ کانگ چلے گئے تاکہ 7 تاریخ تک واپسی ہو سکے تاہم 7 تاریخ کی شب ہانگ کانگ سے بھارت واپسی پر ہی ہمیں بچے کی پیدائش کی خوشخبری دی گئی۔

شریاس تلپڑے نے مزید کہا کہ میری شادی 14 سال قبل ہوئی تھی اور میں اولاد کی نعمت سے محروم تھا تاہم جب سے یہ بچہ ہماری زندگی میں آیا ہے میں بہت خوش ہوں اور بچے کے حوالے سے پرجوش بھی ہوں جب کہ دوستوں کی متعدد تجاویز کے باوجود میں اور میری اہلیہ نے اب تک بچے کا کوئی نام نہیں سوچا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان ،عامر خان ،اداکارہ سنی لیون، معروف ہدایتکار کرن جوہر سمیت متعد فنکار کے گھر سروگیسی کے عمل کے ذریعے بچوں کی پیدائش ہوچکی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری حکیم سعید گراؤنڈ میں جلسے سے دستبردار

کراچی: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 12 مئی کو حکیم سعید گراؤنڈ میں جلسے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے تحریک انصاف کو جلسے کی دعوت دے دی۔ 

گزشتہ روز کراچی کے حکیم سعید گراؤنڈ میں جلسے کے لئے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی پر بلاول بھٹو زرداری بھی بول اٹھے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹوئٹ میں عمران خان کو حکیم سعید گراؤنڈ میں جلسہ کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی سے کہتا ہوں کہ جلسے کےلئے کوئی دوسری جگہ تلاش کریں اور عمران خان کو پیشکش کرتا ہوں کہ آکر حکیم سعید گراؤنڈ میں جلسہ کریں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تحریک انصاف کا رویہ ہولناک رہا لیکن اس کے باوجود شہر کے امن کے لئے یہ پیشکش کر رہا ہوں کیوں کہ کراچی میں ہم نے بڑی مشکل سے امن قائم کیا ہے جو خراب ہونے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ  12 مئی 2007 کو پیپلز پارٹی کے 14 بے گناہ کارکن عدلیہ کی بحالی کیلئے شہید ہوئے، اپنے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے حکیم سعید گراؤنڈ میں جلسے کا فیصلہ کیا تھا کیوں کہ شہید کارکنوں میں زیادہ تر کا تعلق کراچی کے ضلع شرقی سے تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹوئٹ میں حکم دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی عہدیداروں کو کہتا ہوں کہ جلسے کے لئے کوئی اور مقام تلاش کریں اور عمران خان کی پارٹی کو حکیم سعید گراؤنڈ میں جلسہ کی دعوت بھی دیں کیوں کہ کراچی ہمارا شہر ہے ہم کہیں بھی جلسہ کرسکتے ہیں۔

فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد،بلاجواز تاخیر نقصان دہ ہے

adaria

پیر کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں فاٹااصلاحات پر ایک اہم اجلاس وزیراعظم کے چیمبر میں ہوا جو بے نتیجہ رہا۔اجلاس میں اسپیکر ایاز صادق ، اکرم خان درانی ، طاہر بشیر چیمہ ، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ،شاہ محمود قریشی ،آفتاب شیر پاؤ و دیگر نے شرکت کی۔تمام پارلیمانی جماعتوں نے وزیراعظم کو فاٹا اصلاحات پر اپنے اپنے موقف سے آگاہ کرنا تھا اور اس کے بعد عمل درآمد پر حکمت عملی بنائی جانی تھی لیکن محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کی جماعتیں اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹیں جسکی وجہ سے اجلاس نتیجہ خیز ثابت نہ ہوا۔تاہم جمعرات کو ایک بار پھر اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے اصلاحات پر گزشتہ ڈیڑھ سال سے اجلاس پر اجلاس ہو رہے ہیں ۔کئی اہم امور پر پیشرفت بھی ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود عملدرآمد کی نوبت نہیں آ رہی ہے جبکہ گزشتہ بدھ کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق قومی کمیٹی کے فیصلوں پر مبنی بعض اعلانات بھی کئے تھے۔اس ضمن میں انہوں نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اصلاحات کا کام موجودہ پارلیمانی مدت ہی میں مکمل کر لیا جائے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اپنے اس وعدے کو کیسے پورا کر پائے گی جب پارلیمانی مدت محض تین ہفتے رہ گئی ہے اور حکومت کی دو اتحادی اپنے موقف پر اڑی ہوئی ہیں۔اگر حکومت فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہوتی ہے تو اس کی ساکھ کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔قبائلی علاقے پاکستان کا دفاعی حصار ہیں جنہیں قیام پاکستان سے ہی ایک ان دیکھی اور غیر اعلانیہ جنگ کا سامنا ہے مگر ہر دور میں غیر ملکی دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان پر مسلط کی گئی جنگوں کو جیتنے میں افواج پاکستان کے شانہ بشانہ نظر آئے۔خصوصا حالیہ دہشت گردی کی جنگ کے خلاف ان کی قربانی اور کردار کو کبھی بھی فرمائش نہیں کیا جا سکتا۔حکومت اورقوم پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قیام امن کے بعد اب قبائلی عوام کی بحالی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد کرے۔آئینی اصلاحات کا کیا گیا وعدہ نبھانا وقت کا تقاضا ہے۔گزشتہ ہفتے وزیراعظم نے امید دلائی تھی کہ اصلاحات کا کام موجودہ پارلیمانی مدت میں مکمل کر لیا جائے گا لیکن گزشتہ روز کے اجلاس کے بے نتیجہ رہنے سے خدشہ پیدا ہوا ہے شاید حکومت اپنے دو سیاسی اتحادیوں کے سامنے بے بس ہو کر اس بیل کو منڈیر نہ چڑھا سکے.پاکستان کے یہ قبائلی علاقے باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان پر مشتمل ہیں دہشت گردی کی بے پناہ آزمائشوں اور پاک فوج کی بے مثال قربانیوں کے بعد امن و امان بحال ہوا ہے اگر اس وقت انہیں مکمل سیاسی، اقتصادی، سماجی اور شہری حقوق کے ساتھ قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع نہ دیا گیا تو پھر سب کچھ غارت ہو سکتا ہے اور خطرات کے دوبارہ سر اٹھانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔لہٰذا ضروری ہوگیا ہے کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے منصوبے کو بلاتاخیر عمل میں لایا جائے۔یہ امر لائق تحسین ہے کہ ستر برس سے نظر انداز رہنے والے فاٹا کے عوام کو وہ تمام سیاسی حقوق دینے کا کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے جو پاکستان کے دوسرے علاقوں کو حاصل ہیں۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں مدغم کرنے کے حق میں ہیں تاہم محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کی جماعتیں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔گزشتہ روز اجلاس بھی انہی کی وجہ سے بے نتیجہ رہا جو افسوسناک ہے۔ان دو جماعتوں سے بھی گزارش ہے کہ وسیع تر ملکی مفاد میں حکومت سے تعاون کریں تاکہ علاقے میں خوشحالی کے در وا ہوں اور عوام میں پایا جانے والا احساس محرومی کا خاتمہ ہو۔

کراچی اور بلوچستان میں سکیورٹی اقدامات جاری رکھنے کا عزم
کراچی میں کور ہیڈکوارٹرز کے دورے اور کوئٹہ میں نیشنل سیکورٹی ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کراچی میں امن اور ملکی استحکام کے لئے سیکورٹی اقدام جاری رکھے جائیں، پاکستان کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے جامع قومی ردعمل کی ضرورت ہے جس کیلئے پاک فوج ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیر کو کورہیڈ کوارٹرز کراچی کا دورہ کیا اس موقع پر انہیں صوبے کی سیکورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کراچی میں اقتصادی سرگرمیاں بحال کرنے کوششوں کو سراہا اور کراچی میں امن لانے پر رینجرز،قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کوششوں کی بھی تعریف کی۔اسی روز شام کو کوئٹہ میں سدرن کمانڈ اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے منعقدہ دوسری نیشنل سکیورٹی ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے بھی خطاب کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات سے نمٹنے کیلئے جامع قومی رد عمل کی ضرورت ہے جس کے لئے پا ک فوج ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہے۔بلاشبہ دہشتگردی کا کوئی مذہب ہوتا ہے نہ فرقہ یا نسل ہوتی ہے۔پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف بلا تفریق کارروائی کی ہے تاہم پوری قوم کو متحد ہوکر اس مسئلے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔بلوچستان کا شمار ملک کے پسماندہ ترین صوبے میں ہوتا ہے جہاں تعمیر و ترقی میں بلوچستان کے عوام کا عمل دخل نہ ہونے کے ناطے ان میں محرومی کا احساس زیادہ پایا جاتا ہے۔اس پس منظر میں بلوچستان کے بعض قوم پرست لیڈروں نے بلوچستان کی محرومیوں کو اپنے پاکستان مخالف ایجنڈے کو بروئے کار لانے کیلئے اجاگر کیاجس سے پاکستان دشمن بیرونی قوتوں کو بدامنی پھیلانے کا موقع ملا اور پھر پورا بلوچستان بدامنی کا شکار ہو گیا لیکن صد شکر کہ پاک فوج نے بلوچستان میں ٹارگیٹڈ آپریشن کا آغاز کیا جس کا دائرہ بعدازاں کراچی تک وسیع ہوا۔اس آپریشن کے نتیجے میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتوں میں کافی حد تک قابو پالیا گیا۔سکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے نتیجہ میں ملک کے دوسرے حصوں کی طرح بلوچستان اور کراچی میں بھی امن کی بحالی ممکن ہوئی ہے۔ را نے سی پیک اور بلوچستان میں امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے اپنا نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا لیکن کلبھوشن کی گرفتاری سے یہ نیٹ ورک غیرموثر ہوگیا ہے۔تاہم گزشتہ ایک دو ماہ سے بلوچستان میں فرقہ ورانہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ان کوششوں کو بروقت ناکام بنانے کے لیے آرمی چیف نے سکیورٹی اقدامات کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ہمیں امید ہے کہ شرپسند قوتوں کی یہ کوششیں ناکام ہوں۔

Google Analytics Alternative