Home » 2018 » May » 10

Daily Archives: May 10, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

آپ کو خاصے مشکل حالات سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے اگر آپ نے اپنی روش نہ بدلی تو پھر صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے آپ کسی پر بھی ضرورت سے زیادہ اعتماد ہر گزنہ کریںتو مناسب ہے۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

دماغ پر عجیب و غریب خیالات کا غلبہ رہے گا، کوئی بھی کام یا کسی جھگڑے وغیرہ کا فیصلہ جذباتیت کے بوجھ تلے دب کر نہ کیا کریں ورنہ بہت کچھ کھو سکتے ہیں۔

جوزا:
21مئی تا21جون

آپ کی خداداد صلاحیتوں نے ہمیشہ آپکا ساتھ دیا آپ سے غیر معمولی تعاون کیا گزشتہ بعض معاملات کے سلسلے میں آپ کو مایوسی کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن یہ مایوسی اتنی شدید ہرگز نہیں تھی کہ آپ ہمت ہار جاتے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آپ کے گھریلو حالات بہت زیادہ بہتر رہیں گے، شریک حیات آپ کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے ہمہ وقت مستعد رہیں گے لیکن آپ کے لیے بھی یہ بات لازم ہے کہ آپ بھی بات بات پر الجھنا چھوڑ دیں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

ایسے لوگ جن پر آپ ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرتے رہیں درپردہ آپ کے خلاف سازش کر سکتے ہیں وہ آپ کی راہ میں کانٹے بکھیرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

آپ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو ہمیشہ جگائے رکھیں تاکہ وقت ضرورت فوری طور پر ان سے کام لے سکیں یوں سمجھ لیجئے کہ مایوسی اور ناامیدی کا طویل اور ناقابل فہم دور ختم ہونے والا ہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

والدین سے وابستہ توقعات بھی بہت حد تک پوری ہو سکتی ہیں، آپ قریبی رشتہ داروں پر زیادہ بھروسہ نہ ہی کریں، قریبی رشتہ داروں کی وجہ سے آپ ذہنی طور پر پریشان ہو سکتے ہیں۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

ابھی کاروبار جس سطح پر چل رہا ہے چلنے دیں۔ معمولی سی تبدیلی بھی نقصان کا موجب بن سکتی ہے۔ لہٰذا آپ اپنی تمام فضولیات کو ترک کرکے صرف اپنے کاروبار ہی کو ترقی دینے کی کوشش کریں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

آپ کے پرانے مخالفین کچھ کرنے کرانے پر اکسا رہے ہیں، کاروباری میدان میں آپ کے حریف بھی کوئی نیا کھیل کھیلنے کی تیاریوں میں مصروف رہیں گے وہ آپ کو ناکام کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

یہ بات اپنی جگہ لاکھ درست کہ ہر کام منجانب اللہ ہوتا ہے اس کے باوجود انسانی کوشش کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے لہٰذا آپ کاروبار ہی کو ترقی دینے کی کوشش کیجئے۔

۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

آپ لاحاصل سوچوں کو اپنے دل و دماغ پر مسلط کر لیں گے، کوشش کیجئے کہ ایسا نہ ہو سکے اس طرح کی سوچ بچار آپکو بیمار کر سکتی ہے، اگر جان بوجھ کر بیمار پلنگ نشین ہونا چاہتے ہیں تو یہ کوئی عقلمندی تو نہیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

مقدمہ بازی سے پرہیز کریں کوشش یہی کریں کہ کسی بھی طرح مخالفین سے صلح ہو جائے ۔ کسی سے قرض نہ لیںاور نہ ہی قرض دیں ورنہ لین دین کا یہ چکر آپ کو بری طرح پریشان کر سکتا ہے۔

حکومت عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے

adaria

چیف جسٹس میاں ثاقب نثارانصاف کی فراہمی میں جہاں قابل رشک کردار ادا کررہے ہیں وہاں بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے بھی سرگرداں ہیں ان کا کردار عوام کی امنگوں کا نہ صرف ترجمان قرار پارہا ہے بلکہ وقت کی ضرورت اور تقاضوں کا بھی آئینہ دار ہے۔ گزشتہ روز عدالت عظمیٰ نے اصغر خان کیس میں سیاسی جماعتوں میں رقوم کی تقسیم کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ حکومت کابینہ کا اجلاس بلا کر ایک ہفتہ میں کارروائی کا فیصلہ کرے۔ عدالت عظمیٰ نے پٹرولیم مصنوعات، ہوشربا ٹیکسز کا بھی ازخود نوٹس لیا ہے، موبائل فون کارڈ پر دوہرا ٹیکس غیر قانونی قرار دیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اصغرخان کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سماعت کی، اس موقع پر اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اصغر خان کیس میں فیصلہ دے چکی ہے، نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جا چکی ہیں اور اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہونا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ ایف آئی اے میں جانا ہے یا نیب میں، وفاقی حکومت نے آج تک فیصلے کے بعد کوئی ایکشن نہیں لیا، صرف ایف آئی اے نے تحقیقات کی لیکن ایک جگہ پر یہ تحقیقات رک گئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل ہونا چاہیے، یہ نہیں معلوم آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجداری ٹرائل ایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد ہوگا جب کہ اصغر خان مرحوم کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اسد درانی اور اسلم بیگ کے خلاف ایکشن اور دیگر کے خلاف تحقیقات ہوں گی۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں سابق فوجی کے خلاف کارروائی کی شق نہ ہو تو اقدامات کے تحت کارروائی ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کا فیصلہ حکومت نے کیا، ہم اصغر خان کیس عملدرآمد کا معاملہ حکومت پر چھوڑتے ہیں، وفاقی حکومت اور ایف آئی اے اصغر خان فیصلے کی روشنی میں ایکشن لے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وفاقی حکومت اصغر خان کیس پر عملدرآمد کرے اور اس کے لیے کابینہ کا اجلاس طلب کر کے اصغر خان کیس پیش کیا جائے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت فیصلہ کرے کہ ان کے خلاف کیا کارروائی کرنی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ 2 ہفتے کا وقت دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت ملے گا، کابینہ کا خصوصی اجلاس بلالیں۔دوسری طرف چیف جسٹس نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے جا عائد کئے گئے ٹیکسز کا نوٹس لے لیا، وزارت خزانہ پٹرولیم ، ایف بی آراور اٹارنی جنرل کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے معاملے کی سماعت کیلئے اپنی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیدیا۔ سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈز پر دہرا ٹیکس لگانے کو غیر قانونی قرار دیدیا جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگا رہے ہیں، کیا ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں؟‘جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ودہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا۔اصغر خان کیس حقیقت میں1990ء کے دورانیے کے سیاسی سسٹم میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ، پیسوں کے لین دین اور آئی جی کی تشکیل اور پیپلزپارٹی کو نقصان پہنچانے کیلئے ایک کثیرالجہتی سیاسی منصوبے سے متعلق چارج شیٹ ہے جس میں اصغر خان نے سیاسی نظام میں نقب زنی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا اور استدعا کی کہ جن سیاستدانوں میں پیسے بانٹے گئے ان کیخلاف کارروائی کی جائے،2012ء میں سپریم کورٹ اپنا فیصلہ دے چکی ہے اب عدالت عظمیٰ نے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔عدالتی فیصلہ دوررس نتائج کا حامل قرارپائے گا اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔

ایس کے نیازی کی پروگرام سچی بات میں گفتگو
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت میں بتایا گیا117چینلز میں سے صرف روز نیوز اذان نشر کرتا ہے،ڈی جی آپریشنز نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کرائی، روز نیوز جب سے آن ایئر ہوا ہے اذان باقاعدگی سے نشر کررہا ہے،کتنی بھی بڑی خبر ہو یا اشتہار مگر اذان وقت پر نشر کی جاتی ہے،روز نیوز اذان کے وقت پر اشتہار اور ہر بڑی خبر روک دیتا ہے،پاکستان ٹیلی ویڑن نے بھی اذان نشر کرنا بند کردی تھی،کام ایسا کرنا چاہیے کہ لوگ آپ کی تقلید کریں، ایس کے نیازی نے کہاکہ جسٹس شوکت صدیقی کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اذان پر بات کی،پانچ وقت اذان نشرکرنے پر امام کعبہ نے روز نیوز کو ایوارڈ دیا،روز نیوز فحاشی کے خلاف جہاد کررہا ہے،ہم ایسا کام نہیں کرینگے جو مذہب کی تعلیمات کے منافی ہوں،ہم ایسا اشتہار نہیں لیتے جس میں فحاشی کا کوئی عنصر شامل ہو،یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے کہ امام کعبہ دفتر آکر ایوارڈ دیں،بیرون ممالک میں سب سے زیادہ روز نیوز چینل دیکھا جاتا ہے،ہمارا طرہ امتیاز ہے کہ ہم عدلیہ کی آزادی پر فوکس کرتے ہیں،اگر ملک میں عدلیہ آزاد نہ ہوتی تو انہیں بڑے فیصلے نہ ہوتے،اللہ تمام چینلز کو توفیق دے کہ وہ بھی پانچ وقت اذان نشر کریں،ایس کے نیازی نے کہاجسٹس شوکت صدیقی کو سیلوٹ کرتے ہیں انہوں نے ایکشن لیا،ڈی ٹی ایچ کے حوالے سپریم کورٹ کا بہت بڑا فیصلہ ہے،ڈی ٹی ایچ کے حوالے سے ہمیں بہت بلیک میل کیا گیا،روز نیوز کو زبردستی بند کرایا جارہا ہے،لوگوں کے احتجاج پر روز نیوز دوبارہ بحال کیا جاتا ہے،یہاں پر الٹی گنگا بہتی ہے،ہم بہت دکھی ہیں،پیمرا حکام اور کیبل آپریٹرز ہمارے ساتھ بہت زیادتی کرتے ہیں،ریٹنگ کے حوالے سے سب فراڈ چل رہا ہے،روز نیوز کو ریٹنگ سے کوسوں دوررکھا جاتا ہے،جو ایک کمپنی کی ریٹنگ دیکھ کر اشتہار دیتے ہیں ان کا اللہ ہی حافظ ہے،روز نیوز سب سے پرانا لائسنس ہے اور60فیصد نیوز ہے،ٹیسٹ ٹرانسمیشن کے وقت روز نیوز کا لائسنس کینسل ہوگیا تھا،پیپلز پارٹی کے د ور میں روز نیوز کا لائسنس کینسل کیا گیا تھا،سپریم کورٹ نے روز نیوز کا بعد میں لائسنس بحال کیا تھا۔ایس کے نیازی کی گفتگو دوررس نتائج کی حامل ہے، روز ٹی وی اعلیٰ صحافتی اقدار کا حامل ہے۔
آرمی چیف کا پنج پائی کے مقام پر آہنی باڑ کا افتتاح
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک افغان سرحد پر بلوچستان کے علاقے پنج پائی کے مقام پر آہنی باڑ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی پاسداری یقینی بنانا ہر کسی کیلئے ضروری ہے، پاک فوج اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ملک کا دفاع کرے گی، چند عناصر نوجوان نسل کے ذہنوں پر اثر انداز ہوکر انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، انتہا پسندی کو اجتماعی طورپر مستردکیا جائے، سیف سٹی پراجیکٹ سے کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔باڑ لگنے سے سرحد پر دہشت گردوں کی نقل وحمل روکنے میں مدد ملے گی ،سرحد پر قانونی نقل وحرکت مخصوص کراسنگ پوائنٹ سے ہوگی ۔

بھارت کشمیریوں سے آزادی کا پیدائشی حق نہیں چھین سکتا

قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں ظلم و بربریت کی انتہا کردی۔ بھارتی فوج نے آپریشن کے نام پر کشمیر یونی ورسٹی کے پروفیسر سمیت 10 کشمیریوں کو گولیاں مارکر شہید کر دیا جس کے بعد گزشتہ چوبیس گھنٹے میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیریوں کی تعداد 14 ہو گئی ہے۔شہدا کی شناخت پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق بٹ، صدام احمد، بلال احمد، عادل ملک، توصیف احمد، آصف احمد میر، عادل احمد شیخ، سجاد احمد راٹھور، ناصر احمد اور زبیر احمد کے نام سے ہوئی۔بھارتی فوج نے شوپیاں میں کریک ڈاؤن کرتے ہوئے پہلے 5 نوجوانوں پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق بٹ، صدام احمد، بلال احمد، عادل ملک اور توصیف احمد کو شہید کیا۔ قابض فوج نے دعویٰ کیا کہ ان نوجوانوں کا تعلق حزب المجاہدین سے تھا۔ ان نوجوانوں کی شہادت پر پوری وادی میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ کشمیریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور شدید احتجاج کیا۔بھارتی فوج نے نہتے مظاہرین پر گولی چلادی جس کے نتیجے میں مزید 5 نوجوان شہید ہوگئے جن میں آصف احمد میر، عادل احمد شیخ، سجاد احمد راٹھور، ناصر احمد اور زبیر احمد شامل ہیں۔ قابض انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے درجنوں مظاہرین کو بھی حراست میں لے لیا۔ بھارتی فوج نے ضلع چٹہ بل میں ریاستی دہشتگردی کے مظاہرے میں 4 طلبا کو شہید کیا تھا۔ اس طرح 24 گھنٹے کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم میں 14 نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا ۔بھارتی فورسزکے مظالم اور بے گناہ نوجوانوں کی شہادت پر حریت رہنماؤں کی اپیل پر وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ حریت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز سرچ آپریشن کے نام پر چادر اور چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے معصوم بچوں اور خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنارہی ہے جب کہ ظلم کیخلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو براہ راست گولیاں ماری جا رہی ہیں۔ دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جد و جہد اور دہشتگردی میں فرق ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں پر وحشیانہ تشدد دہشتگردی ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادو ں کے مطابق کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے نہ کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر انکی جدوجہد آزادی کو دبایا جائے۔ ہندوستان نہتے کشمیریوں پر جتنا چاہے ظلم کر لے لیکن وہ ان سے آزادی کا پیدائشی حق کبھی نہیں چھین سکتا ۔ اقوام عالم کے منہ کو آج تالے لگے ہوئے ہیں۔ انہیں توفیق نہیں ہوئی کہ کشمیری عوام کے حق کیلئے بات کرتے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے خاموشی بدترین زیادتی اور سراسر نا انصافی ہے۔ ایل او سی پر ہندوستان کی بربریت مودی کی فرسٹریشن ہے۔ ہندوستان جانتا اورمودی کو سرسے پاؤں تک احساس ہے کہ اگر پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو پاکستان کی بہادر افواج اور قوم وہ آنکھ نکال کر پاؤں تلے روند دیں گی۔ کشمیر کے حوالے سے اگر پاکستان اور بھارت کے تاریخی تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو قیام پاکستان سے لے کر آج تک بھارت سے باہمی تعلقات کبھی پْرامن اور نارمل نہیں رہے۔ 14اگست 1947ء کو برصغیر ہند کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تو پہلی پاکستان آزاد مسلم ریاست وجود میں آئی۔ آزادی کو ایک برس بھی نہیں ہوا تھا کہ بھارت نے کشمیر کے حوالے سے پاکستان پر جنگ مسلط کر دی۔اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے جنگ بندی اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دو قرار دادیں پیش کیں، جو متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔کشمیروہ واحد عالمی تنازع ہے، جس کیلئے 1948ء سے لیکر 1957ء تک یکے بعد دیگر 5قرار دادیں منظور کی گئیں،جن پر بھارتی قائدین کے دستخط بھی ثبت ہیں۔ پاکستان نے تو ان قراردادوں کو من و عن تسلیم کیا، لیکن بھارت نے قراردادوں کی پاسداری کے بجائے کشمیری عوام پرظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے اور کشمیر کو اٹوٹ انگ کہہ کر عالمی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی پر تْلا ہوا ہے۔ کشمیریوں کے پیدائشی اور بنیادی انسانی حق خود ارادیت کیلئے پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کی۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ انسانی حقوق کے نام نہاد چمپئن اقوام متحدہ اور مغرب نے کشمیر میں بھارتی نسل کشی ، ظلم و ستم پر آنکھیں موند رکھی ہیں۔ اگر عالمی بیٹھک میں ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر واویلا ہو سکتا ہے، تو کشمیر میں ظلم و جبر کی انمٹ داستانیں نظر کیوں نہیں آتیں؟مسئلہ کشمیر پر اقوام عالم کی پراسرار اور متعصبانہ خاموشی سوالیہ نشان ہے۔مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال میں طلب کردہ او آئی سی اجلاس میں کہا گیا کہ کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشت گردی سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے جنوبی ایشیاء میں امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔ عالمی برادری کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کیلئے کردار ادا کرے۔ کشمیریوں سے 69 سال پہلے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں۔ او آئی سی کشمیر رابطہ گروپ کی سفارشات کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کو واضح کیا گیا ۔مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی نے کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے اپنا خصوصی نمائندہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ او آئی سی کی سربراہی کانفرنس میں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں جموں و کشمیر کا خصوصی طور پر تذکرہ کیا جس میں باور کرایا گیا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ تاحال حل نہیں ہو سکا۔ سیکرٹری جنرل او آئی سی نے کانفرنس کے شرکاء کو بتایا کہ اگست 2014ء میں انہوں نے خود پاکستان اور آزاد کشمیر کا دورہ کیا تھا جس کے بعد جموں و کشمیر کیلئے انکے خصوصی نمائندے عبداللہ نے بھی ایک وفد کے ہمراہ آزاد کشمیر کا دورہ کیا جبکہ اب جموں و کشمیر کیلئے او آئی سی کے خصوصی نمائندہ کو مقبوضہ کشمیر بھجوانے کی تیاری کی جارہی ہے اور او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کی جانب سے بھی کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں او آئی سی کا آزاد اور مستقل انسانی حقوق کمیشن مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مانیٹر کررہا ہے۔

جنوبی پنجاب صوبہ محاذ معاہدے کے تحت تحریک انصاف میں ضم

اسلام آباد: جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا تحریک انصاف کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا جس کے بعد صوبہ تحریک پی ٹی آئی میں ضم ہوگئی۔

اسلام آباد میں عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماؤں نے تحریک انصاف کے ساتھ انضمام کا اعلان کیا۔

پریس کانفرنس سے قبل جنوبی پنجاب محاذ کی قیادت نے بنی گالہ میں تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان سے ملاقات کی، ملاقات میں بلخ شیر مزاری، خسرو بختیار، نصراللہ دریشک اور طاہر بشیر چیمہ کے علاوہ جہانگیر ترین اور فواد چوہدری بھی موجود تھے، اس موقع پر عمران خان نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ ملاقات کے دوران تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے رہنماؤں کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پایا جس میں  عمران خان، میر بلخ شیر مزاری، خسرو بختیار اور طاہر بشیر چیمہ کے دستخط ہیں۔

سیاسی رہنماؤں کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کو یادداشت کا نام دیا گیا ہے اور معاہدے میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے محاذ کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ یادداشت کے تحت دونوں جماعتوں میں بہتر گورننس اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لئے انتظامی بنیادوں پر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب محاذ کے اراکین پی ٹی آئی کے پرچم تلے نئے صوبے کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں گے، انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے کی صورت میں تحریک انصاف پہلے سو دن کے اندر صوبے کے قیام کے لئے عملی اقدامات کرے گی۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرے گا جب کہ پی ٹی آئی کی طرف سے جنوبی پنجاب اتحاد کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

معاہدے کے نکات کے مطابق جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے میں رکاوٹیں دور کرنے کے لئے کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے  جب کہ کمیٹی کاچیئرمین اورسکریٹری بھی بنایاجائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) سے الگ ہوکر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی جدوجہد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

نوازشریف کیخلاف منی لانڈرنگ تحقیقات سے متعلق نیب نے وضاحت جاری کردی

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک اور وزیراعظم کی پارلیمانی تفتیش کی تجویز کے بعد نیب نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف اربوں ڈالر کی منی لانڈرنگ  سے متعلق تحقیقات پراپنی وضاحت پیش کردی۔

قومی احتساب بیویورو نے  وضاحتی بیان میں کہا کہ نیب نے میڈیارپورٹ پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات کافیصلہ کیا،نیب کی جاری کردہ پریس ریلیز ایک میڈیارپورٹ کہ منی لانڈرنگ کی رقم کب واپس لائی جائے گی کے عنوان سے نجی اخبار میں یکم فروری 2018ء کوشائع کالم کے تناظر میں جاری کی گئی۔

نیب کا کہنا تھا کہ میڈیارپورٹ میں ورلڈ بینک کی مائیگریشن اینڈریمیٹینس فیکٹ بک 2016سے متعلق واضح طور پر 4.9ارب ڈالر کاخطیر زرمبادلہ بھارت منتقل کئے جانے کاتذکرہ ہے،میڈیارپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف ،سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار اورسابق گورنراسٹیٹ بینک اشرف وتھرا،سابق ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک سعید احمدکے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی 16-2015میں حکومت پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ سے چار ارب 90کروڑ ڈالرکی منی لانڈرنگ کی گئی۔

نیب نے میڈیارپورٹ پر منی لانڈرنگ کی تحقیقات کافیصلہ کیا اور نیب کے مروجہ قانون کے مطابق جانچ پڑتال کررہاہے اس لیے یہ تاثرغلط ہے کہ نیب کامقصد کسی کی دل آزاری یاانتقامی کارروائی کرنا مقصود تھا،نیب کسی انتقامی کارروائی پریقین نہیں رکھتا بلکہ صرف اور صرف قانون کے مطابق ملک سے بلاامتیاز بدعنوانی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسٹیٹ بینک نے پاکستان سے بھارت رقم بھجوانے کی خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاملے کی 2016ء میں وضاحت کردی تھی، یہ الزام بے بنیاد ہے جب کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آج قومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے منی لانڈرنگ سے متعلق پارلیمانی تفتیش کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف پر دشمن ملک پر پیسہ بھیجنے کا الزام سنجیدہ معاملہ ہے اس لئے ایوان چیئرمین نیب کو طلب کرے اور ان سے پوچھ گچھ کرے۔

منی لانڈرنگ نوٹس؛ چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ طلب کرکے تفتیش کی جائے، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نواز شریف پر دشمن ملک پر پیسہ بھیجنے کا الزام سنجیدہ معاملہ ہے اس لئے ایوان چیئرمین نیب کو طلب کرے اور ان سے پوچھ گچھ کرے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نیب کرپشن کے خلاف اپنا کردار ادا کرے اور انصاف کے تقاضے پورے کرے، نوازشریف پربھی نیب کی عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں، ان کی ہفتے میں چھ پیشیاں ہورہی ہیں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ نیب کی عدالتوں سے ہمیں انصاف ملتا نظر نہیں آرہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ چیئرمین نیب کا نام انہوں نے اور قائد حزب اختلاف نے باہمی مشاورت سے تجویز کیا تھا، ملک کا بجٹ 35 ارب ڈالر ہے، جب کوئی ادارہ یا اس کا سربراہ ایسی بات کرے کہ نیب سربراہ کہتے ہیں نوازشریف نے 4 اعشاریہ 9 ارب ڈالرز بھارت بھیجے، نیب نے ملک کے سابق وزیراعظم پرسنگین الزام لگایا، اگر ادارے یا اس کے سربراہ اس قسم کے کام کریں تو ملک نہیں چل سکے گا، اس قسم کی سوچ رکھنے والے ادارے اور چیئرمین ہوں گے تو نیب کیسے چلے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سابق وزیراعظم پر دشمن ملک پر پیسہ بھیجنے کا الزام سنجیدہ معاملہ ہے، موجودہ حالات میں اس طرح کے الزامات قبل از انتخابات دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے، ایوان چیئرمین نیب کو طلب کرے اور ان سے پوچھ گچھ کرے، نیب ایوان کوبتائے اس کے پاس اس حوالے سے کیا ثبوت ہیں، خصوصی کمیٹی بنا کر چیئرمین نیب کو طلب کیا جائےاور حقائق عوام کےسامنےلائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہونے میں ابھی 3 ہفتے باقی ہیں، ہم احتساب قانون میں ترمیم کرنے کو تیار ہیں، احتساب قانون میں ترمیم پر اپوزیشن چاہے تو بحث کرلے ہم تیار ہیں۔

2019 ورلڈ کپ ون ڈے کیرئیر کا آخری ایونٹ ہوگا، شعیب ملک

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شعیب ملک کا کہنا ہے کہ 2019 کا ورلڈ کپ ون ڈے کیرئیر کا آخری ایونٹ ہوگا۔

ویڈیو پیغام میں شعیب ملک نے کہا کہ 2019 ورلڈ کپ ان کے کیرئیر کا آخری ورلڈ کپ ہوگا لیکن وہ ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلتے رہیں گے اور خواہش ہے کہ وہ 2020 میں ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ بھی کھیلیں۔

شعیب ملک نے کہا کہ ان کا مقصد یہ دونوں ایونٹ کھیلنا ہیں اور دیکھنا ہے کہ یہ کیسے ہوگا۔

آل راؤنڈر شعیب ملک نے ویسٹ انڈیز میں کھیلی جانے والی کیربیئن پریمیئر لیگ کی ٹیم گیانا ایمازون وارئیرز سے معاہدہ کرلیا۔

شعیب ملک کیربیئن پریمیئر لیگ میں 5 برس بارباڈوس کی نمائندگی کرتے رہے ہیں تاہم اس بار وہ گیانا ایمازون وارئیرز کی نمائندگی کرتے دکھائی دیں گے۔

آل راؤنڈر نے کہا کہ اپنی نئی ٹیم گیانا ایمازون وارئیرز کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کروں گا۔

شعیب ملک کا کہنا تھا کہ سی پی ایل میں کھیلنا بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس لیگ میں کھیل کر ہمیشہ لطف اندوز ہوا ہوں۔

کابل میں پولیس اسٹیشنوں پر خودکش حملے، 5 اہلکار ہلاک

کابل: افغانستان کے دارالحکومت  میں دو پولیس اسٹیشنوں پر خودکش حملوں اور فائرنگ کے تبادلے میں 5 سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

افغان میڈیا کے مطابق کابل میں خودکش حملہ آوروں نے پولیس اسٹیشنوں کو نشانہ بنایا،منظم منصوبہ بندی کے تحت دو مختلف پولیس اسٹیشنز پر پہلے خودکش حملہ آور وں نے خود کو اڑایا جس کے بعد ان کے ساتھیوں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 5 سیکیورٹی اہلکارہلاک اور 6 افراد زخمی ہوگئے۔

ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی  میں فائرنگ کرنے والے حملہ آور بھی مارے گئے۔

حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی  گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی تاہم جیسے جیسے پارلیمانی انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے افغانستان میں حملوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

Google Analytics Alternative