Home » 2018 » May » 11

Daily Archives: May 11, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:

21مارچ تا21اپریلقریبی عزیزوں کی سازشوں کے سبب گھریلو ماحول قدرے خراب ہو سکتا ہے آپ اپنے منصوبے کو عملی شکل دیکر بہت کچھ حاصل کرسکیں گے دیرینہ آرزو پوری ہونے کے امکان روشن ہیں۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

ایسے چانسز ضرور مل سکتے ہیں جو آپ کو کاروباری طور پر ابھار سکتے ہیں اگر آپ اپنے طریقہ کار میں تھوڑی تبدیلی کرکے چانسز سے استفادہ کرنے کی کوشش کریں تو ناکامی نہیں ہوگی۔

جوزا:
21مئی تا21جون

شادی بیاہ پر جانے کا پروگرام بن سکتا ہے آج کا دن آپ کے لیے خوشیاں لائے گا گرم جوشی سے خوشیوں کو استقبال کریں۔اطمینان رکھیں آج آپ خاصے مقموم دکھائی دیں گے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آپ اپنے مزاج کو ہمہ وقت ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کیجئے صحت جسمانی خراب ہو سکتی ہے دماغ کو ٹھنڈا رکھتے ہوئے فیصلہ کریں لہٰذا احتیاط برتنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

صدقہ و خیرات کرتے رہنا آپ کے لیے کافی بہتر ہے آج کل حالات بالکل بھی آپ کے لیے سازگار نہ ہے اچھے بھلے دوست بھی مخالفت پر آمادہ ہو سکتے ہیں ۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ااپ کے جذبات قابل قدر ہیں لہٰذااپنے دماغ کو بھی قابو میں رکھیں اور ہر کام سوچ سمجھ کر کریں تاکہ فائدہ ہو سکے۔احتیاط بھی برتنا پڑے گی۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

قریبی عزیزوں کے اشتراک کی بدولت آپ کی دیرینہ محبت کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے آپ کا آنگن خوشیوں سے بھرا رہے گا اپنی صحت کی طرف سے محتاط رہیں۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

آج آپ تنہائی پسند کریں گے مگر ایسا کرنا کسی لحاظ سے بھی آپ کے لیے فائدہ مند نہ ہوگا لہٰذا بہتر ہے دوسروں سے ملیں جلیں تاکہ آپ کے تعلقات دوسروں سے بہتر ہو سکیں۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

جن راستوں پر چل کر آپ غیر متوقع مایوسی سے دوچار ہوگئے تھے اسی راستے کو اپنا لیجئے اس بار کامیابی خودبخود آپ کے گلے کا ہار بن سکتی ہے۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

ہمت و استقلال کی بنیادوں پر کاروبار کو ابھارنے کی کوشش کیجئے بفضل خدا وقت آپ کا ساتھ دے سکے گا کسی نئے رشتہ داروں سے رشتہ داری ہو سکتی ہے۔

۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

آج آپ کے نئے دوست بنے گے اور آپ کافی مسرور دکھائی دینگے گرتی ہوئی ساکھ کو بھی کسی حد تک سہارا مل جائے گا۔ اللہ پاک کی ذات پر بھروسہ رکھیں۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

کوئی انعام وغیرہ نکل سکتا ہے کوئی انعامی بانڈز بھی لگ سکتا ہے آج کے دن کاروباری سلسلے میں کیا جانے والا سفر ضرور فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے،صدقہ و خیرات بھی نکالنے کی ضرورت ہے۔

بلاامتیاز احتساب وقت کی ضرورت

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کے نیب نوٹس پر چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ میں طلب کرکے ان سے تفتیش کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ دوسری طرف سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب نوٹس کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے پر اپوزیشن اختلاف کاشکار ہوگئی۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ نواز شریف پر دشمن ملک پیسہ بھیجنے کا الزام سنگین ہے ۔ نیب قانون بدلا جائے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان میں خاقان عباسی نے مزید کہاکہ اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جو حالات نیب کی وجہ سے پیدا ہورہے ہیں اس کی کوئی مثال تاریخ میں نیں ملتی ۔ نیب کو سیاسی جماعتیں توڑنے کیلئے بنایا گیا ہے۔جسٹس(ر) جاوید اقبال کے بیان سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی یہ سنجیدہ معاملہ ہے ایوان کو بتایا جائے اس حوالے سے کیا ثبوت ہیں۔ نیب قوانین میں ترمیم کے بارے میں تمام جماعتوں نے کمٹمنٹ کررکھی ہے جبکہ نیب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کی تحقیقات قانون کے تحت نیب کے دائرہ اختیار میں ہے۔ میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر نواز شریف کیخلاف جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ۔ حکومت اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیب کی کارروائی پر شدیدردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز دی تھی جس کے بعد نیب نے ایک جوابی اعلامیہ جاری کیا اور نواز شریف کے خلاف کارروائی کا جواز پیش کیا ہے۔ نیب نے وضاحت کی کہ 8مئی 2018ء کو بیورو کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز ایک میڈیا رپورٹ منی لانڈرنگ کی رقم کب واپس لائی جائے گی کے عنوان سے روزنامہ اوصاف میں یکم فروری 2018 کو شائع ہوئی۔ محمد توصیف الحق صدیقی کے کالم زاویہ نگاہ کے تناظر میں جاری کی گئی۔ میڈیا رپورٹ میں ورلڈ بینک کی مائیکریشن اینڈ ریمنٹس فیکٹ بک2016 کے حوالے سے واضح طورپر چار اعشاریہ نو ارب ڈالر کا خطیر زرمبادلہ بھارت منتقل کیے جانے کا تذکرہ ہے۔نیب کی وضاحت کے بعد حکومتی سطح پر شورشرابا اور نیب کو حرف تنقید بے معنی ہے، نیب کو آزادانہ تحقیقات کرنے دی جائے جہاں تک احتساب کا تعلق ہے وہ شفاف ہونا چاہیے اور بلا تفریق اور بلاامتیاز احتساب کی اس وقت ضرورت ہے کیونکہ جب تک کڑا احتساب نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک سے کرپشن کا ناسور ختم نہیں ہوسکتا ۔ بدعنوانی کا ہر سو ہر طرف چرچا ہے اور کوئی ادارہ ایسا نہیں جو کرپشن سے پاک ہو جب کرپشن کی جڑیں اس طرح پھیل جائیں تو ترقی اور خوشحالی کی راہیں مفلوج ہوجایا کرتی ہیں نیب کو آزادانہ تحقیقات کرنی چاہئیں اور کرپٹ عناصر کیخلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے ورنہ احتساب نہ ہوپائے گا۔ مختلف ادوار میں حکومتیں احتسابی نعرے لگاتی رہیں اور عملی طورپر احتساب نہ ہوپایا جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہیں اب وقت کا یہ تقاضا ہے کہ قومی دولت کو لوٹنے والوں کا احتساب ہو اور لوٹی ہوئی رقم واپس لائی جائے زمام اقتدار پر براجماں اشرافیہ نے قیام پاکستان کے بعد جس طرح اس ملک کو دیوالیہ کیا اس کی مثال نہیں ملتی، ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دینے والوں نے قومی دولت کو لوٹا اور ملک دیوالیہ ہو تاچلا گیا جس کی وجہ سے بیرونی قرضوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے ۔ نیب کو چاہیے کہ وہ بلاامتیاز و بلا تفریق احتساب کے عمل کو اپنے منطقی انجام تک پہنچائے کرپشن نے ملک کے اداروں کو مفلوج کررکھا ہے نیب کی وضاحت کے بعد حکومتی ردعمل کو اب ٹھنڈا ہوجانا چاہیے یہی وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے یہ ملک بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا اس سے کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنا وقت کی ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی اور جنوبی پنجاب محاذ کے درمیان معاہدہ
پاکستان تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب محاذ کے درمیان انضمام کا معاہدہ طے پا گیا ہے معاہدے کے تحت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمر ان خان ٗ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی جانب سے میر بلخ شیر مزاری، خسرو بختیار اور طاہر بشیر چیمہ نے دستخط کئے۔سیاسی رہنماؤں کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کو یادداشت کا نام دیا گیا ہے ۔تحریک انصاف کی جانب سے جاری کردہ یادداشت کے تحت دونوں جماعتوں میں بہتر گورننس اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے انتظامی بنیادوں پر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔ تحریک انصاف اور جنوبی پنجاب محاذ کے اراکین پی ٹی آئی کے پرچم تلے نئے صوبے کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں گے، انتخابات کے بعد اقتدار میں آنے کی صورت میں تحریک انصاف پہلے سو دن کے اندر صوبے کے قیام کیلئے عملی اقدامات کرے گی۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر جنوبی پنجاب کی محرومیاں دور کرے گا جبکہ پی ٹی آئی کی طرف سے جنوبی پنجاب اتحاد کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔پی ٹی آئی میں جنوبی پنجاب محاذ کے شامل ہونے والے ارکان پارلیمنٹ میں 5 ایم این اے اور 15پنجاب اسمبلی کے ارکان شامل ہیں، تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں میں مخدوم خسرو بختیار،طاہر بشیر چیمہ، طاہر اقبال چوہدری، رانا محمد قاسم نون، مخدوم زادہ باسط بخاری شامل ہیں جبکہ تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں میں سردار نصراللہ خان دریشک، سمیع اللہ چوہدری ،اصغر علی شاہ، مخدوم سید افتخار حسن گیلانی، میاں علمدار عباس قریشی، محمد ذیشان گورمانی ،غلام مرتضیٰ رحیم کھر، سردار خان محمد جتوئی، محمد جمیل شاہ، کرم داد واہلہ،سردار قیصر عباس خان مگسی، سردار محمد خان لغاری، مقصود احمد خان لغاری، سردار فتح محمد خان بزدار چوہدری محمد عالم گجر شامل ہیں۔پی ٹی آئی اور جنوبی پنجاب محاذ میں طے پانے والا معاہدہ ن لیگ کیلئے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے،اس معاہدے کے ثمرات انتخابی نتائج میں برآمد ہونگے اور پی ٹی آئی کو تقویت ملے گی۔
روز نیوز کا پانچ وقت اذان نشر کرنے کاقابل تقلیداقدام
روز نیوز کا پانچ وقت اذان نشر کرنے کا اقدام نہ صرف لائق ستائش ہے بلکہ قابل تقلید بھی ہے اس اقدام پر وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں روز نیوز کے اس اقدام کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کافیصلہ ایس کے نیازی کی کاوشوں مرہون منت ہے،روز نیوز پر روزانہ اذان نشر کرنا جہاں مذہبی رجحان کا آئینہ دار ہے وہاں اس امر کا بھی عکاس ہے کہ روز نیوز انتہائی ذمہ دارانہ صحافتی امور سرانجام دے رہا ہے۔گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے رمضان المبارک کے دوران ٹی وی چینلز پر ہر قسم کے نیلام گھر پر پابندی عائد کرتے ہوئے 5 وقت اذان نشر کرنے کا حکم دیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے رمضان ٹرانسمیشن اور مارننگ شوز کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت الیکٹرانک میڈیا کے نگراں ادارے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے رمضان ٹرانسمیشن کے حوا لے سے رہنما اصول پیش کیے گئے۔ڈی جی پیمرا نے بتایا کہ تمام چینلز کو گائیڈ لائن جاری کر رہے ہیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ حال یہ ہے پی ٹی وی نے بھی اذان نشر کرنا بند کر دی ہے، جو کچھ ہو رہا ہے وہی کرنا ہے تو پاکستان کے نام سے اسلامی جمہوریہ ہٹا دیں۔ اس رمضان المبارک کے دوران کسی ٹی وی چینل پر نیلام گھر اور سرکس شو نہیں ہوں گے اور ہر چینل کیلئے پانچ وقت کی اذان نشر کرنا لازم ہو گا۔ٹی وی چینلز پر اسلام کا تمسخر اڑانے کی اجازت نہ دینا ایک مستحسن اقدام ہے ،ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ لائق تحسین ہے ۔

زلزلہ متاثرین کیلئے امدادی کام (حصہ دوئم)

ڈاکٹر آصف جاہ نے راقم الحروف کو زلزلہ کے علاوہ دیگر قدرتی آفات میں اپنے ہم وطنوں کی خدمت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیمیں 2011ء کے آخر میں سندھ میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے بعدبدین جا کر ریلیف گڈز تقسیم کرنے اور متاثرین کی خدمت کرنے میں مصروف رہیں۔ ہمارے کیمپوں میں ہزاروں مریضوں کا علاج کیا گیا اور لاکھوں روپے کی اشیاء تقسیم کی گئیں۔ اس کے علاوہ سندھ میں اپنا گھر ہاؤسنگ پراجیکٹ شروع کیا گیا جس میں بے گھر افراد کے لیے بدین میں 100گھر بنائے گئے۔ 2012-13ء میں بلوچستان اور پنجاب میں آنے والے سیلاب کے دوران خدمات سرانجام دی گئیں۔ سال 2013ء میں ماشکیل اور آواران میں آنے والے زلزلہ کے دوران متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کی خدمت کی اور آواران میں برباد شدہ بستیاں آباد کیں۔ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیمیں مارچ 2014ء سے اب تک تھر میں مصروف عمل ہیں۔ تھر میں کنوؤں کی تعمیر جاری ہے۔ 450 کنوئیں بن چکے ہیں جن کا میٹھا اور فرحت بخش پانی روزانہ ہزاروں انسانوں اور جانوروں کو سیراب کر رہا ہے۔ 15 جون 2014ء سے شمالی وزیرستان میں آرمی آپریشن کا آغاز ہوا۔ لاکھوں IDPs بنوں اور اس کے ملحقہ علاقوں میں آن بسے۔ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیمیں فوراً بنوں پہنچیں اور ہنوز بنوں اور اس کے مضافات میں ہر طرح سے IDPs کی خدمت کر رہی ہیں۔ نومبر 2014ء میں خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع ہوا۔ فوری طور پر خیبر ایجنسی سے پشاور آنے والے IDPs کیلئے ریلیف اشیاء بھجوائی گئیں۔ بنوں میں علاج اور خدمت کا سفر جاری تھا کہ 4 ستمبر 2014ء کو طوفانی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے پنجاب کے کئی شہر ڈوب گئے ۔ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیموں نے فوراً سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ کر ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں حصہ لیا۔ بعد ازاں بحالی کا عمل بھی شروع کر دیا۔ 16 دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک سکول میں قیامت ٹوٹ پڑی۔ دہشت گردی میں 132 نوخیز پھولوں کو مسل دیا گیا۔ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی خیبرپختوانخواہ کی ٹیم فوراً پشاور پہنچی اور ریلیف کارروائیوں میں حصہ لیا۔ شہدا کے جنازوں میں شامل ہوئی، زخمی بچوں کی عیادت کی، انہیں تحائف پہنچائے اور اِس کے ساتھ ساتھ شہید بچوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تھر کے صحراؤں میں ایک کنواں کھدوایا گیا جس سے میٹھا پانی نکلا جس سے روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں انسان اور جانور سیراب ہو رہے ہیں۔ جولائی 2015ء میں چترال میں قیامت خیز سیلاب اور 26 اکتوبر 2015ء کو مالاکنڈ ڈویژن میں آنے والے زلزلے کے فوراً بعد کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی ٹیمیں آفت زدہ علاقوں میں پہنچیں اور وہاں پہنچ کر آفت زدگان کی فوری خدمت کی۔ چترال میں سیلاب اور زلزلہ زدگان کیلئے گھر بھی بنوائے اور کروڑوں روپے کی امدادی اشیاء تقسیم کیں۔ اِس کے علاوہ وادئ کیلاش میں خوبصورت جامع مسجد حضرت مصعب بن عمیر کی تعمیر کی۔ چترال اور شانگلہ کے زلزلہ زدہ علاقوں میں بحالی کا عمل تاحال جاری ہے۔ ہمیشہ کی طرح امسال بھی رمضان المبارک کے آغاز میں ملک کے دُور دراز آفت زدہ علاقوں، تھرپارکر، عمر کوٹ، بدین ، مردان، نوشہرہ، پشاور، سوات، لوئر دیر اور چترال، جعفر آباد،اٹھارہ ہزاری، مظفر گڑھ، لاہور کے غریب مسلمانوں میں رمضان راشن پیکیج تقسیم کیا جائے گا۔ اس میں مخیر حضرات محترم اعجاز سکا، سیّد محبوب علی، شارجہ سے فضل الرحمن، سعودی عرب سے ڈاکٹر جنید اصغر، انگلینڈ سے ڈاکٹر شبانہ اقبال، ڈاکٹر تنویر بٹ اور کئی دوسرے حضرات نے تعاون کیا۔ عیدالاضحی کے موقع پر ملک بھر میں کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے سنٹرز پر غریب اور نادار افراد میں قربانی کا گوشت تقسیم کیا جائے گا۔الحمدللہ! ملک کے ساتھ اب کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی بیرون ملک بھی مصروف عمل ہے۔ گزشتہ 7 سے 8 ماہ سے ترکی میں شام کے مسلمانوں کی خدمت اور نصرت جاری ہے۔ لاکھوں روپے کی اشیاء ضرورت اور راشن پیکیج بھجوائے جا چکے ہیں اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا۔ شام کے مسلمانوں کیلئے خوراک اور دوسری اشیاء کے کنٹینرز ترکی سے شام بھجوائے گئے۔ ترکی میں شام کے 50 لاکھ سے زیادہ مہاجرین موجود ہیں۔ ترکی کے مسلمانوں نے اخوت اور اسلامی بھائی چارے کا فقیدالمثال مظاہرہ کر کے انصار مدینہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ترکی کے سفر کے دوران جب بھی شامی مہاجرین کے بارے میں علی کرت، عرفہ کے گورنر اور حیرۃ کے بڑے بڑے رہنماؤں اور عام ترک مسلمانوں سے جب بھی بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم شام کے مسلمانوں کو مہاجرین نہیں کہتے بلکہ وہ تو ہمارے مہمان ہیں، مسافر ہیں اور ان کی خبر گیری کرنا۔ ان کا خیال رکھنا، انہیں زندگی کی سہولتیں پہنچانا ہمارا فرض ہے۔ 25 اگست 2017ء کو میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہزاروں مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کر دیا گیا اور لاکھوں کو بے گھر ہونا پڑا۔ کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی نے فوراً بنگلہ دیش رابطہ کیا۔ ترکی کی NGOs اور بنگلہ دیش میں جاننے والوں کے تعاون سے اب تک 2 کروڑ روپے سے زیادہ کی اشیاء روہنگیا مسلمانوں کیلئے بھجوائی جا چکی ہیں اور مزید اشیاء اور رقم کی ترسیل جاری ہے۔روہنگیا مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ ان کے گھر جلا دیئے گئے۔ خواتین کی عزتیں پامال کی گئیں۔ عورتوں کی گود سے بچے لے کر ان کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ نوجوانوں کو زندہ جلایا گیا۔ بدھ مت کے پیروکاروں نے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ پانچ لاکھ سے زائد مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے۔اقوام متحدہ انہیں ابھی تک ریفیوجی کا درجہ دینے اور سہولتیں مہیا کرنے کیلئے تیار نہیں۔ گزشتہ 2 ماہ سے کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی نے بھی ترکی کی این جی او Hayrat Yardim اور بنگلہ دیش کی مقامی NGOs کے ساتھ مل کر روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیلئے کام شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک تقریباً 2 کروڑ روپے کی رقم بنگلہ دیش بھجوائی جا چکی ہے جس سے ضروری اشیائے خوراک، ادویات اور خیمے خرید کر تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مہاجرین کے کیمپوں میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے ٹیوب ویل اور رفع حاجت کیلئے لیٹرینیں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ مہاجرین کیلئے خیمہ بستیاں بھی بنائی جا رہی ہیں۔ ان جذبوں کو پھر سے زندہ کرنے کی ضرورت ہے جو قوم میں 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ اُس وقت پوری قوم یکجا تھی۔ سب نے متحد اور یکجا ہو کر غم زدہ بھائی بہنوں کے دُکھ شیئر کیے تھے۔ آئیے ہم عہد کریں کہ ہم اپنے اہل وطن، شام اور برما کے مظلوم مسلمانوں، متاثرین تھر اور دوسرے آفت زدگان کی بحالی کیلئے جو بھی بن پڑا، کریں گے۔ ایثار اور قربانی کے جو دیے 8 اکتوبر 2005ء کے بعد جلے تھے وہ جلتے رہنے چاہئیں۔ یہ دیے جلیں گے تو روشنی ہوگی۔

گڈگورننس،غریب ملازمین اور خزانہ

بات سیاست کی ،طریق حکمرانی کی ہو یا مختلف اداروں کی ،گڈ گورننس کا ذکر خیر ضرور ہوتا ہے ۔بیرونی دنیا میں تو گڈ گورننس کو بطور سبجیکٹ پڑھایا جاتا ہے ،یورپ کی یونیورسٹیوں میں باقاعدہ اس کے ڈیپارٹمنٹ قائم ہیں اور اس مضمون میں ایم اے،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری ہوتی ہیں ۔ہمارے ہاں بھی گڈگورننس کی اصطلاح خاصی مقبول ہے اور ہمارے صاحبان اقتدار بھی اپنے اپنے صوبوں میں گڈ گورننس کیلئے کوشاں رہے ہیں اور یہ مختلف اداروں میں مثالی طرز حکومت کے خواہش مند بھی ہیں ۔انرجی ،پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ،مہنگائی کا بے قابو جن،غربت میں روز افزوں اضافے کے ساتھ ساتھ گھریلو اخراجات میں بے پناہ اضافہ،روزگار کے ناپید مواقع،عوام خود کشی نہ کریں تو کدھر جائیں ؟ اپنے بچے فروخت کرنے کیلئے اشتہارات اپنی گردنوں میں آویزاں نہ کریں تو کیا کریں؟ مہنگائی کا طوفان دن بدن طغیانی پر ہے اور غریب اور متوسط طبقے کا خاتمہ کرنے پر کمر بستہ، اس سے بڑھ کر غربت کا خاتمہ کیا ہو گا کہ غریب ہی نہ رہے ، ہر طرف امیر ہی نظر آئیں، خوشحالی کا دور دورہ ہو جائے اور مہنگائی کے زخموں سے تڑپتے کراہتے ملازمین کی زندگی کٹھن بنا دی جائے۔ اس کی تازہ ترین مثال واسا کے 600 ملازمین ہیں جنہیں پانچ چھ مہینوں سے اپنی تنخواہیں نہیں مل سکیں ۔شائد ان کی تنخواہوں کیلئے مخصوص بجٹ کسی ترقیاتی منصوبے کی نذر کر دیا گیا ہے یا کسی دوسری غریب پال سکیم پر خرچ کیا جا چکا ہے ۔پانچ چھ ماہ سے سسکتے یہ ملازمین خاموشی سے زہر ہلاہل پینے پر مجبور ہیں ،کوئی احتجاج نہیں کر سکتے ،یہ تو احتجاجی مزاہمت کے قابل بھی نہیں رہے ان کی رگوں میں لہو کے سوتے خشک ہو چکے ہیں ۔ یہ صرف آہیں بھرتے ہوئے اسے برداشت کر رہے ہیں ،اس ناتواں بے بسوں کے ریوڑ کو ایک طرف مہنگائی اپنی پوری شدت سے ضربات لگا کر بے بس کر رہی ہے اس پر متزاد ان کو آدھے سال سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی۔شائد ان کے بچے کھانے کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں ،یہ ہر قسم کی بیماری سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں ور یہ دوسری تمام ضروریات زندگی کے بنا جی سکتے ہیں کیونکہ یہ ماورائی مخلوق ہیں۔ان کی حالت زار تو کچھ ایسی بنا دی گئی ہے
سہمے ہوئے دن بھی سیاہ رات کی طرح
آنکھیں کھلی ہوئی ہیں سوالات کی طرح
یہ خستہ حال لوگ تو اب شکنجہ قرض میں اس بری طرح جکڑے جا چکے ہیں کہ اب ان کو کوئی قرض دینے کیلئے بھی تیار نہیں ۔شائد ان کی حالت کو ہی مد نظر رکھ کر شاعر نے کہا ہو گا
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
حکومتیں جمہوری ہوں یا سیاسی آتی بہت دھوم دھڑکے کے ساتھ لیکن تین چار سال بعد ہی ان کا حال کرائے پر چلنے والی بائیسائیکل جیسا ہو جاتا ہے اگر اس کے رم ٹیڑھے ہیں تو باڈی بھی کھڑکھڑا رہی ہے کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد اس کے تکے فیل ہو جاتے ہیں اور پھر یہ چلنے سے بھی معذور ہو جاتی ہے ۔ہماری موجودہ حکومتیں بھی وہی کچھ کر رہی ہیں جو ماضی کی حکومتیں کرتی رہیں لیکن پھر بھی ماضی حال سے قدرے بہتر ہی نظر آتا ہے ۔اس وقت صورت حال اتنی پیچیدہ اور عوام کی بے یقینی اتنی گہری ہے کہ اعتبار قائم ہی نہیں رہا ۔ تیزی سے بگڑتی ہوئی حالت پر قابو کیسے پایا جائے مداوے کی صورت ہی نظر نہیں آرہی ناامیدی کا یہ عالم کہ امید کا دامن بھی چھوٹ جائے شائد سرکار کے اپنے اخراجات کا پھیلاؤ اس قدر زیادہ ہو چکا ہے کہ اس کے اپنے تن و توش کو سنبھالا دینا مشکل ہو چلا ہے بیرونی ادارے بھی ہمیں قرض دینے میں کسی بخل سے کام نہیں لے رہے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ہر طرح کے قرضوں کے حصول کو ہر شرط پر ممکن بنانے کے سامان کئے جا رہے ہیں لیکن حالات ہیں کہ کنٹرول میں نہیں آرہے۔قومی خزانہ کی بڑھوتری کی تازہ ترین صورت حال بقول غالب کچھ ایسی نظر آتی ہے
درم و دام اپنے پاس کہاں
چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
پرانے زمانے کی کہانیوں میں ایک حسینہ نے اپنی شادی کی شرط کے طور پر اپنے عاشق کو مصروف رکھنے کیلئے اسے چھلنی میں پانی لانے کو کہا وہ اس مشقت میں نڈھال ہوکر بلآخر شادی کرنے سے ہی دست بردار ہو گیا کچھ ایسی ہی کیفیت و صورتحال کا سامنا پنجاب کو بھی ہے ۔خزانہ بھرنے کا کام بھی زور و شور سے جاری ہے لیکن اسے خالی کرنے اور بھرنے کے دونوں کام شائد ایک ساتھ انجام دیے جا رہے ہیں بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے ،تعلیم کی بہتری کے اقدامات اور صحت کی سہولیات بہم پہنچانے کے انتظامات اسی سلسلہ کی کڑی ہیں
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
اسی شہر میں پنجاب بھر سے آنے والی لیڈی ہیلتھ ورکرز نے کئی دن دھرنا دیے رکھا کہ انہیں مسلسل پانچ سالوں سے ان کے واجب الادا واجبات سے محروم رکھا جا رہا ہے ۔ہر بجٹ پر انہیں ٹرخا دیا جاتا ہے ان ملازمین کی آہ و زاری الفاظ کی آندھیوں کی شکل میں تواتر سے خبروں کی صورت میں ارباب اختیار اور گڈ گورننس کے عالی مرتبت دعوے داروں تک پہنچ رہی ہیں لیکن محسوس یوں ہوتا ہے کہ یہ کسی صورت عذر کرنے پر تیار نہیں اورصرف تسلی دلاسہ دینے سے ہی کام لیا جاتا ہے
یہ پر شور جھوٹے ترانوں کی دنیا
یہ نعروں، بیانوں ،فسانوں کی دنیا
اب تو ملازمین شکائت کرنے اور اپنے مطالبے کیلئے آواز اٹھانے سے بھی دست بردار ہو چکے ہیں مجھے تو وہ کہانی یاد آ رہی ہے جب بادشاہ وقت کو نجومیوں نے بتایا کہ تم فلاں شکل و صورت کے لڑکے کا خون پیو گے تو تندرست و صحت یاب ہو جاؤ گے ۔مطلوبہ شکل و صورت کا لڑکا تلاش کیا گیا والدین نے بھی منہ مانگی قیمت پر اسے فروخت کر دیا ۔جب لڑکے کو ذبح کیا جانے لگا تو بادشاہ حیرت میں ڈوب گیا کہ لڑکا نہ رو رہا ہے نہ زندگی بچانے کیلئے منت سماجت کر رہا ہے ۔بادشاہ نے لڑکے سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ انسان سب سے پہلے اپنا ہمدرد والدین کو سمجھتا ہے اور ان کے سامنے رو کر اپنی مشکل کا حل تلاش کرتا ہے میرے والدین تو مجھے فروخت کر چکے ہیں اس کے بعد حاکم یعنی بادشاہ وقت سے فریاد کی جاتی ہے لیکن یہاں بادشاہ وقت خود مجھے ذبح کرنے پر تلا بیٹھا ہے اب فریاد کیلئے ایک ہی ذات رہ جاتی ہے اور وہ ذات مجھے دیکھ رہی ہے تو چیخنے چلانے سے کیا فائدہ۔ایسی صورت حال میں وطن عزیز کیلئے خونی انقلاب کی خواہش تو ہمارے دل میں بھی انگڑائیاں لے رہی ہے لیکن کون لائے گا یہ خونی انقلاب اس خونی انقلاب کو لانے کیلئے ان سیاسی جماعتوں کے پاس تو فرصت ہی نہیں۔
نہ تم بدلے نہ دل بدلا نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیسے اعتبار انقلاب آسماں کر لوں
آج مقام اور مرتبے والے تو موج میں ہیں کیونکہ ان کے پاس تو دولت کے انبار ہیں لیکن ملازمین کو ان کی اپنی تنخواہوں سے بھی چھ چھ ماہ محروم رکھا جا رہا ہے دوسری طرف سرکاری محکموں کے متوازی پرائیویٹ کمپنیوں کے ناتجربہ کاروں کو لاکھوں روپیہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں ۔خادم اعلیٰ کے مانیٹرنگ یونٹ میں لاکھوں روپے بانٹنے کی خبربھی ناظرین نے سنی ہوگی یہ وہ لاڈلے ہیں جو کچھ نہ کرنے کی تنخواہ لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔دو طاقتوں کے پاٹوں میں تو صرف غریب ملازمین کو ہی پیسا جا رہا ہے ۔غریب ملازمین تو اب بھگت کبیر کے اس شعر کا ورد کر رہے ہیں
چلتی چکی دیکھ کر دیا کبیرا رو
دو پاٹن کے بیچ ثابت رہا نہ کو
*****

نیشنل ایکشن پلان: وقت کی اہم ضرورت !

قوموں کی زندگی میں بسا اوقات ایسے مراحل درپیش آتے ہیں، جو ظاہری طور پر بہت مشکل اور صبر آزما ہوتے ہیں باہمت اقوام کا یہ وصف ہوتا ہے کہ ان وہ چیلنجوں کو ’’مواقع‘‘ میں تبدیل کر لیتی ہیں۔ ساڑے تین سال قبل 16 دسمبر 2014 کو پشاور اے پی ایس میں جو انتہا افسوس ناک المیہ پیش آیا ‘اس کو تاحال قومی سطح پر پوری طرح سے ایک ’’موقع ‘‘میں نہیں ڈھالا جا سکا۔ اگرچہ اس سمت میں پیش رفت جاری ہے مگر تاحال شاید اس بابت اطمینان بخش نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ پشاور آرمی پبلک سکول میں جو سانحہ ہوا، اس نے یکدم پوری ملک کی سیاسی و عسکری قیادت اور تمام طبقات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اسی تناظر میں حکومت پاکستان نے سبھی متعلقہ فریقین کی باہمی مشاورت سے ایک بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا جس کے ذریعے یہ طے کیا گیا کہ وطن عزیز کو درپیش دہشتگردی اور انتہا پسندی کے سنگین خطرات کا تمام حکومتی و ریاستی ادارے کس طور تدارک کریں گے اور کس ڈھنگ سے اس مخدوش صورتحال کا موثر اور مربوط طریقے سے سامنا کیا جائے گا۔اسی حوالے سے پارلیمنٹ کا خصوصی ہنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں سبھی سیاسی جماعتوں نے بھرپور ڈھنگ سے شرکت کی۔ خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں اور مجرموں کو عبرت ناک سزائیں دینے کا اعلان کیاگیا۔اس حوالے سے ابتدائی ہفتوں میں کافی اقدامات بھی اٹھائے گئے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بوجوہ یہ امر اس حد تک نتیجہ خیز اور باآور ثابت نہ ہو پایا جس کی توقع کی گئی تھی۔ اس ضمن میں اگرچہ کافی پیش رفت بھی ہوئی اور ضرب عضب اور رد الفساد کے تحت دہشت گردی کے ڈھانچے کو کافی حد تک کمزور بھی کیا جا چکا ہے مگر اس کے باوجود اکا دکا واقعات نہ صرف جاری ہیں بلکہ گذشتہ چند مہینوں میں دہشتگردی کی یہ عفریت یوں لگتا ہے جیسے نئی نئی شکلیں بدل کر پھن پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس میں اب کئی چھوٹے اور بڑے گروہ مختلف ناموں سے پھر سر اٹھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے نئی منصوبہ بندی کی ضرورت بجا طور پر محسوس کی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے کا جائزہ لیتے ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ ایک جانب تو موثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ٹی ڈی پیز اور آئی ڈی پیز کی آبادکاری اور فاٹا اصلاحات کو قانونی اور آئینی شکل دے کر اس مسئلے کا مستقل بنیادوں پر حل نکالا جا سکتا ہے۔ یہ امر کسی حد تک خوش آئند ہے کہ گذشتہ کچھ دنوں میں اس ضمن میں خاصی سنجیدگی دکھائی جا رہی ہے۔ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان ملکی سلامتی کی اہم ترین دستاویز ہے۔ اس پر اگر پوری طرح عمل کیا جاتا تو دہشتگردی و انتہا پسندی کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکتا تھا۔ اسی ضمن میں اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام ’’نیشنل ایکشن پلان : ضروریات اور رکاوٹیں ‘‘ کے عنوان سے ایک مباحثے کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ماہرین نے اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے رائے ظاہر کی کہ چونکہ فرقہ واریت اور دہشتگردی پاکستان کیلئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں لہذا وزیر اعظم کو ’’نیکٹا‘‘ سے متعلقہ تمام معاملات کو زیادہ موثر ڈھنگ سے خود دیکھنا چاہیے ۔ اپری کے سربراہ امبیسڈر (ر) عبدالباسط نے کہا کہ ان رکاوٹوں کا جائزہ لینا بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جن کی وجہ سے نیشنل ایکشن پلان پر اس طرح عمل نہ پایا جس کا حالات تقاضا کرتے ہیں کیونکہ نیشنل ایکشن پلان ملکی سلامتی میں ایک بلیو پرنٹ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک قومی سلامتی کے تحفظ اور دہشتگردوں کے خلاف، ایک مربوط پالیسی کا نہ ہونا ہے۔ اس پینل ڈسکشن میں شامل ماہرین نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو اسکی صحیح رُو کے مطابق نافذ کرنے کے لئے سویلین لیڈر شپ کی کمٹمنٹ بھی انتہائی ضروری ہے۔ علاوہ ازیں جب تک قبائلی علاقہ جات کو ’’علاقہ غیر‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا رہے گا تو حقیقی ترقی و فلاح کیسے ممکن ہو پائے گی؟ گڈ گورننس کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوئے خلا سے ملک دشمن قوتوں کو پاؤں پھیلانے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ سالہاسال بعد ایسی دستاویز میسر آئی جس پر تمام قیادت کا اتفاق تھا مگر بوجوہ تاحال منطقی نتائج حاصل نہیں ہو سکے ۔ اس کی رکاوٹوں میں سے ایک خاطر خواہ فنڈز کی کمی بھی ہے لہٰذا صوبوں میں قائم اینٹی ٹیرارسٹ ڈیپارٹمنٹس کو مضبوط کیا جائے۔اسی کے ساتھ قبائلی علاقہ جات اور افغان مہاجرین کا مسئلہ فوری حل کا متقاضی ہے۔ اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے غیر جانبدار حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ زمینی حقائق اس ا مر کے متقاضی ہیں کہ قوم کے سبھی حلقے تدبر ،معاملہ فہمی اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیشنل ایکشن پلان کو اس کی صحیح رُو اور سپرٹ کے مطابق نافذ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
*****

پی ٹی آئی میں جنوبی پنجاب کی محرومی ختم کرنے کی صلاحیت نہیں، بلاول

لیہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں صلاحیت ہی نہیں کہ وہ جنوبی پنجاب کی محرومی کو ختم کرسکے جنوبی پنجاب کا نام لے کرسیاست چمکانے والوں کو یہاں سے کچھ نہیں ملے گا۔

لیہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے 4 کروڑ عوام کے لیے سب سے پہلے ہم نے آواز اٹھائی، اپنے صوبے کی بات کرنے والے دوست آج پی ٹی آئی سے مل گئے ہیں انہوں نے کبھی بھی الگ صوبے کی بات نہیں کی پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور انہیں اب جنوبی پنجاب یاد آرہا ہے۔

بلاول نے کہا کہ خان صاحب جگہ دیکھ کر اپنا موقف بدلتے ہیں، خان صاحب لاہور میں انتظامی یونٹ کی بات کرتے ہیں اور جنوبی پنجاب والوں کے ساتھ بیٹھ کر کہتے ہیں کہ 100 دن میں صوبہ بناؤں گا، عمران خان نے پہلے بھی نوے دن کا وعدہ کیا تھا، کون سے 90 دن میں عمران خان نے کے پی میں کرپشن ختم کردی؟ پی ٹی آئی میں صلاحیت ہی نہیں کہ وہ جنوبی پنجاب کی محرومی کو ختم کرسکے پانچ سال انہوں نے کچھ کہا تک نہیں اب الگ صوبے کا رونا رو رہے ہیں

چیئرمین پی پی نے کہا کہ کیا عوام اتنے بے وقوف ہیں آپ انہیں جو بھی بتادو وہ مان جائیں گے؟ عوام باشعور ہیں یہ ان کے دھوکے میں نہیں آئیں گے، کیوں انہیں الیکشن سے صرف ایک ماہ قبل جنوبی پنجاب کی یاد آئی یہ صرف الیکشن کے لیے آئے ہیں صرف آپ کو دھوکا دینے کے لیے جنوبی پنجاب کا نام لے کرسیاست چمکانے والوں کو یہاں سے کچھ نہیں ملے گا۔

ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ناکام لیگ کا وزیر اعلیٰ گندم کی فصل تباہ کررہا ہے، جب تک جاتی امراء اینڈ کمپنی کاراج رہے گا کسان کا خون چوسا جاتا رہے گا جب تک شریف شاہی قائم رہے گی کاشتکار کا استحصال جاری رہے گا۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ کبھی شوباز شریف سے پوچھا انہوں نے مرکز سے کھربوں روپے لیے وہ کہاں لگائے؟ان سارے پیسوں میں سے جنوبی پنجاب اور لیہ پر کتنا خرچ ہوا؟ دراصل شوباز شریف نے جنوبی پنجاب کو ہمیشہ اپنی کالونی سمجھا ہم جنوبی پنجاب صوبہ چھین کرلیں گے۔

نوازشریف کا چیئرمین نیب سے استعفیٰ اور معافی مانگنے کا مطالبہ

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف نے چیئرمین نیب سے استعفیٰ اور معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین نیب اگلے چوبیس گھنٹوں میں جواب دیں یا فوری استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی طرف سے جاری پریس ریلیز پر حقائق قوم کے سامنے رکھوں گا، کئی بار نیب کی جانبداری اور معتصب رویہ کی طرف اشارہ کرتا رہا ہوں، نیب نے میری کردار کشی اور میڈیا ٹرائل کو اپنا مشن بنالیا ہے اور 8 مئی کو جاری پریس ریلیز میں الزام کی نوعیت بہت سنگین ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ الزام کی نوعیت شرمناک ہے اس کو نظرانداز کرکے پاکستان کی جمہوری نظام کو خطرے میں ڈالنا ہے، چیئرمین نیب کے الزامات گھٹیا اور ناقابل برداشت ہیں، کسی تفتیش کے بغیر ایک اخباری کالم کی خبر پر تحقیقات شروع ہونا شرمناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیا نیب کونہیں معلوم کہ ورلڈ بینک نے دو ٹوک وضاحت کر دی تھی، نیب کا متعصب چہرہ بے نقاب ہوچکاہے، نیب کے چیئرمین اپنی ساکھ کھوچکے ہیں، کیا چیئرمین نیب نے کالم نگار کو بلاکر پوچھا، چیئرمین نیب اگلے 24 گھنٹوں میں جواب دیں یا فوری استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں۔

نواز شریف نے کہا کہ جے آئی ٹی سے ریفرنس تک پھیلی سیاہ کہانی عوام کے سامنے ہے،مجھے وزارت عظمی سے علیحدہ کرنا طے پاچکا تھا، کوئی بہانہ نہ ملا تو بیٹے سے تنخواہ کو جواز بنا ڈالا، بوگس مقدمات میں اب تک 70 پیشیاں بھگت چکا ہوں، طوطے مینا کی کہانی سے کچھ برآمد نہیں ہوا۔

نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر سے نہ صرف متفق ہوں بلکہ پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھانے پر ممنون بھی ہوں، جو کچھ ہورہا ہے وہ احتساب نہیں میری پارٹی کے خلاف انتقام کا سلسلہ ہے، ہمارے ممبرز کو کہا جارہا کے فوری (ن) لیگ کو چھوڑو اور تحریک انصاف جوائن کرو، ہمارے ایم پی ایز اگر پی ٹی آئی جوائن نہیں کرتے تو مقدمے تیار ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ کل جو پی ٹی آئی میں شامل ہوئے انہیں بھی زبردستی شامل کرایا گیا،پاکستان دنیا کے اندر تماشا بنتا جارہا ہے، مجھے اگر سزا دی گئی تو  کسی سے معافی یا رحم کی اپیل نہیں کروں گا، سازشی سوچ پر بھی غداری کی سزا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اصل خلائی مخلوق نظر نہیں آتی اب ان کا مقابلہ زمین کی مخلوق سے ہونے والا ہے تاہم اب زمینی مخلوق خلائی مخلوق کو شکست دے گی جب کہ دھرنے کے پیچھے بھی کچھ خلائی مخلوق کار فرما تھیں۔

سندھ حکومت کا 11 کھرب 44 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے بجٹ تجاویز کی کابینہ سے منظوری کے بعد آئندہ مالی سال 19-2018 کے لیے صوبے کا 11 کھرب 44 ارب 44 کروڑ روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش کردیا۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کابینہ سے منظوری بجٹ تجاویز صوبائی اسمبلی میں پیش کیں۔

بجٹ پیش کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ رواں سال صوبائی حکومت نے پورے مالی سال کے لیے بجٹ تجاویز تیار کی ہیں، لیکن ایوان سے درخواست ہے کہ وہ یکم جولائی سے 30 ستمبر 2018 تک صرف تین ماہ کے اخراجات کی اجازت دے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ہمیں پورے مالی سال کا بجٹ منظور کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم پارٹی کے اصولوں کے پیش نظر وہ سمجھتے ہیں کہ یہ آنے والی حکومت کا حق ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے باقی نو ماہ کے اخراجات پیشک رے۔

سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آمدنی کا ہدف 11 کھرب 20 ارب روپے مقرر کیا ہے، جبکہ بجٹ خسارے کا ہدف 22 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ وفاقی، صوبائی اور غیرملکی فنڈنگ پر مشتمل مجموعی ترقیاتی بجٹ کے لیے 3 کھرب 44 ارب روپے جبکہ صوبے کی غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 7 کھرب 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سندھ کو وفاقی محاصل سے 6 کھرب 65 ارب روپے ملیں گے، اس کے علاوہ بجٹ میں صوبائی وصولیوں کا ہدف ایک کھرب 20 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو ٹیکس فری قرار دیتے ہوئے اس میں کسی بھی طرح کے نئے ٹیکس لگانے کی تجویز نہیں دی۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 2 کھرب 44 ارب روپے سے 2 کھرب 82 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ ضلعی ترقیاتی پروگرام کے لیے 30 ارب روپے جبکہ 50 ارب روپے اگلی حکومت کی نئی اسکیموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال میں 105 ارب روپے سیکیورٹی پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ بلدیاتی حکومتوں کو 72 ارب روپے ملیں گے۔

اس کے علاوہ کراچی شہر میں شاہراہوں، پلوں، فلائی اوورز اور انڈرپاسز کی تعمیر کے لیے 15 ارب روپے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

Google Analytics Alternative