Home » 2018 » June » 01

Daily Archives: June 1, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

گزشتہ احتیاطوں کو بالائے طاق رکھ کر ایسے کام بھی کیے جو کہ درست نہ تھے آپ جانتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ درست نہیں اس کے باوجود اپنی فطری جلد بازی کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت کچھ کرررہے ہیں۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

آپ کا مزاج بھی قدرے گرم رہے گا ممکن ہے کہ مزاج کی یہ گرمی آپ کے قریبی دوستوں کو آپ سے بدظن کر دے آپ کے مخالف بھی آپ کے خلاف سازش کر سکتے ہیں۔

جوزا:
21مئی تا21جون

یقینا آپ کو گزشتہ پیش آنے والے واقعات نے ایک اچھا سبق دے دیا ہو گا اسے سامنے رکھ کر ہمیشہ زندگی گزاریں تاکہ کبھی سابقہ غلطیوں کا اعادہ نہ ہو سکے۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

آپ کے گھریلو حالات بہتر رہیں گے شریک حیات کی وفاداری اور خلوص پر شک نہ کیا کریں، اس طرح آپ اپنی وقعت کم کر بیٹھیں گے، اپنے قریبی عزیزوں سے بھی دور رہنے کی کوشش کیجیے۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

عجیب و غریب تبدیلیاں آ سکتی ہیں ایسی تبدیلیاں جن سے یقینا آپ پہلے آشنا نہیں تھے پہلے بھی ہم نے آپ کو مختلف امور کے سلسلے میں بہتر مشورے دیئے تھے یقینا آپ کو ان کی درستگی کا یقین آ چکا ہو گا۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

ہم آپ کو یہ نصیحت کریں گے کہ خود کو اس قدر رنگین مزاج نہ بنایئے کہ آخر کار آپ قطعی طور پر بے رنگ ہو جائیں یا پھر کسی بھی رنگ کی تمیز کرنے کا ہوش ہی باقی نہ رہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

گزشتہ آپ کا کاروبار ترقی کر سکتا تھا لیکن آپ جلد بازی کے تحت ایسے اقدامات کر گئے جنہوں نے بہتر نتائج پیدا نہیں کیے، یہ عرصہ کافی حد تک آپ کی موافقت کر سکتا ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

اپنے پرانے دوستوں سے استفادہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے لیکن ذرا نئے دوستوں سے ہوشیار رہیں نئے دوستوں ہی میں کوئی شخص آپ کے گھر کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

اپنے قریبی رشتہ داروں کو اپنے گھر میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے دیں ورنہ پھر وہ کچھ ہو سکتا ہے جس کی توقع کبھی بھی آپ نے نہیں رکھی تھی بہت زیادہ جدوجہد ہی آپ کو مالی طور پر مطمئن کر سکے گی۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

تعلیمی مسائل بخوبی حل ہو سکتے ہیں، محبوب سے تعلقات استوار ہونے کی توقع بھی زیادہ ہے، مقدمہ بازی سے قطعی اجتناب برتیں لہٰذا اپنے مخالفین سے صلح ہی کر لیں۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

موجودہ کاروباری مقام ہرگز نہ بدلیں، آپ کی الجھنوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے، اگر آپ پوری محنت اور توجہ کے ساتھ کاروبار کو وسعت دینے کی کوشش کریں تو بفضل خدا کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

ملازمت سے تعلق رکھنے والے حضرات ترقی کر سکیں گے، منگنی یا شادی کی توقع بھی رکھی جا سکتی ہے، آپ اپنے اخراجات کم کر دیں تاکہ بہتر موقع پر کام آ سکے۔

وفاقی حکومت، قومی اسمبلی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد ختم

اسلام آباد: وفاقی حکومت اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد رات 12 بجے ختم ہوگئی جس کے بعد قومی اسمبلی تحلیل ہوگئی اور شاہد خاقان عباسی بطور اٹھارویں منتخب وزیر اعظم 10 ماہ خدمات انجام دینے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب وفاقی حکومت نے اپنی آئینی مدت مکمل کی ہے، اس سے قبل 2013 میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت نے اپنی مدت پوری کی تھی۔

نگراں سیٹ اپ آج سے ملکی معاملات سنبھالے گا، نگراں وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک ایوان صدر میں ہونے والی پروقار تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، جبکہ رخصت ہونے والے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو گارڈ آف آنر پیش کیا جائے گا۔

حکومت کی آئینی مدت کی تکمیل اور نگراں حکومت کے قیام سے 25 جولائی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔

قبل ازیں وزارت پارلیمانی امور نے 31 مئی 2018 کی رات بارہ بجے 14ویں قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔

قومی اسمبلی کے تحلیل ہونے سے متعلق وزارت پارلیمانی امور نے نوٹی فکیشن آئین کے آرٹیکل 52 کے تحت جاری کیا۔

نوٹی فکیشن کی کاپیاں وزیر اعظم آفس، ایوان صدر، چاروں صوبوں، الیکشن کمیشن آف پاکستان، قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بھیج دی گئی ہے۔

انتخابات کے شیڈول کا اعلان

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے عام انتخابات کے حتمی شیڈول کا اعلان کردیا۔

انتخابی شیڈول کے مطابق یکم جون کو پبلک نوٹس جاری کیا جائے گا جس میں عوام کو انتخابی شیڈول کے باضابطہ آغاز سے متعلق بتایا جائے گا۔

نوٹس کے جاری ہونے کے بعد تمام امیدوار کاغذات نامزدگی حاصل کر سکیں گے۔

کاغذات نامزدگی 2 سے 6 جون تک جمع کرائے جا سکیں گے، 7 سے 14 جون تک کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

شیڈول کے مطابق 19 جون تک کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں دائر کی جا سکیں گی،26 جون تک اپیلوں پر فیصلے کیے جائیں گے،27 جون تک امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست آویزاں کی جائے گی،28 جون تک کاغذات نامزدگی واپس لیے جا سکیں گے جبکہ29 جون کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے جس کے بعد امیدوار اپنی انتخابی مہم چلا سکیں گے۔

نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کیلئے فضل الرحمٰن کے نام پر اتفاق

نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کے لیے صوبائی وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے سابق چیف سیکریٹری فضل الرحمٰن کے نام پر اتفاق کرلیا۔

کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کے نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے فضل الرحمٰن کے نام پر اتفاق ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نامزد نگراں وزیر اعلیٰ فضل الرحمٰن منجھے ہوئے بیوروکریٹ ہیں اور سابق چیف سیکریٹری سندھ بھی رہ چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے ایسا نام لانا چاہتے تھے جس پر تمام پارٹیوں کا اتفاق ہو۔‘

اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے فضل الرحمٰن کا نام حکومت اور اپوزیشن کا مشترکہ نام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آئندہ انتخابات کے لیے بہترین نگراں وزیر اعلیٰ چُنا ہے اور فضل الرحمٰن حکومتی امور بہتر چلائیں گے۔

واضح رہے کہ 31 مئی کو رات 12 بجتے ہی وفاقی حکومت کی طرح صوبائی حکومتیں بھی ختم ہوگئی ہیں، تاہم دیگر تین صوبوں میں نگراں وزرائے اعلیٰ کے ناموں کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔

تحریک انصاف نے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے ڈاکٹر حسن عسکری اور ناصر درانی کے نام دیئے، تاہم ناصر درانی نے ذمہ داری سنبھالنے سے انکار کردیا۔

خیبر پختونخوا میں بھی نگراں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کا فیصلہ نہ ہو سکا اور معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا، جو تین دن میں نگراں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کا فیصلہ کرے گی۔

بلوچستان میں نگراں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کے لیے ڈیڈ لاک برقرار ہے اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تین ملاقاتیں بے نتیجہ رہیں۔

ملک کا نگراں وزیر اعظم سابق چیف جسٹس ناصر الملک کو نامزد کیا گیا ہے جو جمعہ کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

فاروق بندیال کو ’پی ٹی آئی‘ میں شمولیت کے چند گھنٹے بعد ہی نکال دیا گیا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنائے جانے پر پارٹی میں شامل ہونے والے فاروق بندیال کو چند گھنٹے بعد ہی پارٹی سے نکال دیا۔

سوشل میڈیا پر فاروق بندیال کے مجرمانہ ریکارڈ کے باعث تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔

پنجاب کے ضلع خوشاب سے تعلق رکھنے والے فاروق بندیال کو 1979 میں خصوصی فوجی عدالت نے، لاہور کے علاقے گلبرگ میں فلمی اداکارہ شبنم کے گھر ’مسلح ڈکیتی‘ کرنے پر سزائے موت سنائی تھی۔فاروق بندیال نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے بعد پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

اس موقع پر کھینچی جانے والی تصویر بھی سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی جس میں فاروق بندیال کو عمران خان سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

فاروق بندیال کے پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کو ’مجرم ثابت ہونے والے شخص‘ کو پارٹی میں شامل کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

چند رپورٹس کے مطابق فاروق بندیال اور ان کے ساتھیوں کو سنائی گئی سزائے موت بعد ازاں جنرل ضیاالحق نے، مجرم کی جانب سے شبنم اور ان کے خاندان پر معافی کے لیے دباؤ ڈالنے کے بعد تبدیل کردی تھی، تاہم ان رپورٹس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

1970 کی دہائی میں لولی وڈ کی پوسٹر گرل شبنم 1990 کے آخر میں اپنے آبائی ملک بنگلہ دیش چلی گئی تھیں۔

دوسری جانب چند سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ فاروق بندیال ان 5 ملزمان میں شامل تھا جنہوں نے مبینہ طور پر اداکارہ کو 1978 میں ان کے گھر میں زیادتی کا نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے ٹویٹر پر اعلان کیا کہ عمران خان نے فاروق بندیال سے متعلق رپورٹس کا نوٹس لے لیا ہے، نعیم الحق پر مبنی ایک رکنی کمیٹی تین دنوں میں حقائق چئرمین کے سامنے رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کسی صورت اخلاقی معیارات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔‘

کچھ دیر بعد ہی نعیم الحق نے ٹویٹر پر اعلان کیا کہ فاروق بندیال کو فوری طور پر پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔

انہوں نے فاروق بندیال کی پارٹی میں شمولیت کو ’بدقسمتی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’تحریک انصاف میں بُرے ریکارڈ کے حامل لوگوں کی کوئی جگہ نہیں ہے، جبکہ فاروق بندیال کو کسی اور سیاسی جماعت میں بھی نہیں ہونا چاہیے۔‘

عدلیہ اور نیب کے اقدامات کے باعث سرکاری افسر کوئی کام نہیں کرسکتا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ عدلیہ اور نیب کے اقدامات کے باعث آج سرکاری افسر کوئی کام نہیں کرسکتا اور ان کے لئے یہی راستہ بچا ہے کہ کوئی کام اور فیصلہ نہ کیا جائے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جوحکومت مدت پوری کرتی ہے اس کی کارکردگی عوام کے سامنے ہوتی ہے، آج موجودہ اسمبلی اپنی مدت پوری کررہی ہے تو اس میں اپوزیشن لیڈر کا کردار بھی قابل ستائش ہے، اپوزیشن کا مقصد حکومتی کام پر تنقید اور رائے کااظہار کرناہے، خورشیدشاہ نے بطور قائد حزب اختلاف مثالی خدمات انجام دی ہیں، انہوں نے ہمیشہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کو اگے بڑھانے کی بات کی۔ ایوان میں جب ضرورت پڑی تواتفاق رائے نظرآیا، اسی  کی وجہ سے جمہوریت اورپارلیمنٹ مضبوط ہے۔

امن و امان

وزیر اعظم نے کہا کہ آج کے حالات 5 سال پہلے کے حالات سے بہت بہتر ہیں، ملک میں آج سیکیورٹی اورامن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے, کراچی کے حالات آج ویسے ہی ہیں جیسے کسی بڑے شہر کے ہونے چاہیے، آج کراچی میں صرف اسٹریٹ کرائم باقی ہیں، سول عسکری قیادت نے مل کرملک میں امن قائم کیا ۔

معیشت

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جو معیشت ہم اگلی حکومت کو دے کر جائیں گے وہ اس سے بہت بہتر ہوگی جو ہمیں ملی تھی، آج پاکستان میں لوگ سرمایہ کاری کررہےہیں، جب ہم آئےتو ملک میں بجلی کابحران تھا لیکن آج ہم نے اس پر قابو پالیا ہے۔ امیدکرتے ہیں کہ اگلی حکومت پانی کے بحران کوبہترانداز میں حل کرے گی۔

خارجہ پالیسی

خارجہ پالیسی سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی حرف نہیں آنے دیا، ہم نے کشمیر کامسئلہ ہر  فورم پر اٹھایا، آج دنیا افغانستان کےمسئلے پر ہمارے موقف کی تائید کرتی ہے۔

انتخابات کی اہمیت

وزیر اعظم نے کہا کہ صاف و شفاف انتخابات ملک کی اہم ضرورت ہے، 25 جولائی کو عوام انتخابات کے ذریعے آئندہ حکومت کا فیصلہ کریں گے۔ انتخابات میں ایک دن کی بھی تاخیربرداشت نہیں ہوگی۔

قومی مکالمہ

قومی مکالمے کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کے حل کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتیں شرکت کریں۔ اس مکالمے میں سول فوجی تعلقات، پارلیمنٹ و عدلیہ اور پارلیمنٹ و حکومت کے باہمی تعلقات اور حدود کی وضاحت کیا جائے۔

احتساب

وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں احتساب کے مسائل پیدا ہوچکے ہیں، عدلیہ اور نیب کے اقدامات کے باعث سرکاری مشینری مفلوج ہوگئی، آج عدلیہ اور نیب کی طرف سے جو کچھ ہورہا ہے، اس کے نتیجے میں سرکاری اہلکار کے پاس یہی راستہ بچا ہے کہ کوئی کام اور فیصلہ نہ کرے، جس ملک میں فیصلے نہیں ہوں گے وہ ترقی نہیں کرے گا۔

الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018 کا شیڈول جاری کردیا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2018 کے شیڈول کا  اعلان کردیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے الیکشن شیڈول جاری کرتے ہوئے بتایا کہ عام انتخابات 25 جولائی 2018 کو ہوں گے اور تمام صوبائی و قومی اسمبلی کے حلقوں میں پولنگ 25 جولائی کو ہوگی۔

شیڈول کے مطابق 2 سے 6 جون تک کاغذات نامزدگی جمع کرائے جاسکیں گے، امیدواروں کی عبوری فہرست 7 جون کو جاری ہوگی اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 14 جون تک کی جائِے گی جب کہ امیدوار ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف 19 جون تک اپیلیں دائر کرسکیں گے جس کے بعد امیدواروں کی حتمی فہرست 27 جون کو شائع کی جائے گی۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ امیدوار 28 جون تک کاغذات واپس لے سکیں گے جس کے بعد امیدوارں کو 29 جون کو انتخابی نشان الاٹ کئے جائیں گے۔

بعدازاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ انتخابی شیڈول جاری کرنا آئینی تقاضہ ہے اور ہمیں کسی بھی ادارے نے انتخابی شیڈول جاری کرنے سے نہیں روکا، بیلٹ پیپر کا کاغذ فرانس اور برطانیہ سے منگوایا ہے، آدھا کاغذ کراچی اور آدھا اسلام آباد میں آئے گا جب کہ فوج کی تعیناتی سے متعلق حتمی فیصلہ نہیں ہوا، نگراں حکومتیں آنے کے بعد ان سے مشاورت کی جائے گی البتہ بیلیٹ پیپر فوج کی نگرانی میں چھاپے جائیں گے۔

واضح رہے کہ صدر مملکت ممنون حسین نے 25 جولائی کو ملک بھر میں عام انتخابات کرانے کی منظور دی تھی۔

(ن) لیگ نے ٹکٹوں کی تقسیم کیلیے پارلیمانی بورڈ تشکیل دیدیا

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آئندہ انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کیلیے پارلیمانی بورڈ تشکیل دے دیا۔

مسلم لیگ (ن ) نے 37 ارکان پر مشتمل پارلیمانی بورڈ تشکیل دیا ہے جو 2018 کے عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم اور پارٹی امور پر فیصلے کرے گا، پارٹی صدرشہباز شریف مرکزی پارلیمانی بورڈ کے سربراہ ہوں گے جب کہ چوہدری نثار کو ایک بار پھر نظرانداز کردیا گیا ہے۔

(ن) لیگ کے پارلیمانی بورڈ میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق، سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف ، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ، وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیردفاع غلام دستگیر، چودھری شیر علی ،حمزہ شہبازشریف، مریم نواز، پرویز ملک، پرویز رشید ،رانا تنویر حسین، چودھری محمد برجیس طاہر، سردار مہتاب احمد خان،امیر مقام  شامل ہیں۔

نااہل اور کرپٹ حکومت سے نجات پر عوام شکرانے کے نوافل ادا کریں، عمران خان

راولپنڈی: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی تاریخ کی نااہل اور کرپٹ حکومت سے نجات پر قوم کو شکرانے کے نوافل ادا کرنے چاہیے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے ویڈیو پیغام میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ آج اس حکومت کے 5 سال پورے ہوجائیں گے اور پاکستان کی تاریخ میں اتنی نااہل اور کرپٹ حکومت نہیں آئی لہذا قوم اس حکومت سے نجات پر شکرانے کے نوافل ادا کریں۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جو پاکستان کے ساتھ کیا ہے وہ کوئی دشمن بھی نہیں کرسکتا، اس حکومت نے 5 سال میں پاکستان کا قرضہ 13 ہزار ارب سے 27 ہزار ارب تک پہنچا دیا جب کہ 2008 تک پاکستان پر قرضہ صرف 6 ہزار ارب تھا جس میں تربیلا اورمنگلا ڈیم سمیت بڑے بڑے منصوبے بنے لیکن سوچنے کی بات ہے کہ اس حکومت میں ایسا کوئی بڑا پروجیکٹ بھی نہیں بنا تو پھر یہ پیسہ کہاں گیا اور کس پر خرچ ہوا۔

Google Analytics Alternative