Home » 2018 » June » 01 (page 5)

Daily Archives: June 1, 2018

غیر ملکی آلہ کار

ابتلا وآزمائش کا کیسا پرفتن دور ہم پرسایہ فگن ہو گیا۔ ہمارے کان جو سن رہے ہیں ہماری آنکھیں جو دیکھ رہی ہیں کیا یہ سب واقعی ایسا ہی ہے؟ یا کسی نے کوئی خطرناک شرارت کی ہے۔ آج سے 10 برس پیشتر پڑوسی ملک بھارت کے شہر ممبئی میں ہوئے ‘مشکوک دھماکوں’ نے قوم کو اتنا گنگ و چوکنا نہیں کیا تھا جتنا آج کل میاں نواز شریف نے ایک متنازعہ بیان دے کر ملک کے سیاسی سسٹم کو غیر یقینی حالت کی نہج پر پہنچا دیا ہے ‘ممبئی دھماکوں’ میں ملوث ہاتھوں کو ملکی اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل تھی؟ اب ان کے کہے گئے متنازعہ بیان کی کتنی ہی توضیحات وتشریحات کی جاتی رہیں بات توان کے منہ سے نکل ہی گئی ہے’ لاکھ لکیریں پٹتے رہیں جوداغ لگنا تھا سو لگ گیا ہے ‘بھارت اورامریکا جیسے ملک دشمنوں نے یہ متنازعہ بات تواچک لی’عالمی میڈیا پرڈگڈگیاں بج رہی ہیں صفائیاں اورتردیدیں ان کی نظروں میں کوئی وقعت نہیں رکھتیں عالمی سطح پرپاکستان کے خلاف پاکستانی سیکورٹی اداروں کے خلاف جوطوفانِ بدتمیزی اٹھنا تھا وہ اٹھ چکا۔ سابق وزیراعظم نوازشریف سے اِیسے متنازعہ بیان کی توقع کسی کو نہیں تھی’آج نوازشریف وہ ہی کچھ کہہ رہے ہیں جو اچکزئی کا نکتہِ نظر ہمیشہ رہا’اچکزئی کا مطمعِ نظر مولانا فضل الرحمان کا بھی ہے وہ دل سے فاٹا کو پاکستان کا حصہ نہیں سمجھتے فاٹا صدیوں کی تاریخ سے خیبر پختونخواہ کا حصہ کہلایا جاتا رہا اِسے علیحدہ صوبہ بنایا گیا تو یہ پاکستان کی پیٹھ میں چھرا گونپنے جیسا ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا مسٹر شریف’ اچکزئی اورمولانا ایف رحمان اور مسٹر زرداری ایک ہی پچ پرہیں جبکہ فاٹا کے علاقوں میں راتوں رات مشروم کی مانند ابھرنے والی نئی لسانی تنظیم’پشتون تحفظ تحریک’ کے جنونی مقررین قبائلی پختونوں کا لہوگرمانے کے لئے اپنے جس نئے ‘بیانیہ’ میں پاکستانی فوج پر بلاوجہ لعن وطعن اور تیزوتند تنقید وتنقیض کا ملک دشمن رویہ اپنایا ہوا ہے۔ نواز شریف کا تند وتیز جنونی لب ولہجہ بھی ان سے ملتا جلتا ہے’فوج سدھر جائے؟’بھئی کیا مطلب؟ یہ راتوں رات یکایک کیسے اور کیوں کرممکن ہوگیا کل تک جن قبائلی علاقوں میں دنیا کی بدترین دہشت گردی کا بازار گرم تھاپاکستانی فوج جن سفاک دہشت گردوں کے مختلف اقسام کے مسلح گروہوں سے نبردآزما تھی’جہاں آئے دن معصوم اور بے گناہ پختونوں کے خون کی ہولیاں کھیلی جاتی تھیں جہاں امن وامان کا دور دور تک شائبہ دکھائی نہیں دیتا تھا دن دہاڑے غیرت مند اور باوفا پختونوں کی بہن بیٹیوں کی عزت و ناموس کا کوئی پاسدار نہ تھا پرسانِ حال نہ تھا شیطانی صفت ہیبت اِن علاقوں پر منحوس سائے کی طرح چھائی ہوئی تھی وہاں کئی فوجی آپریشنز ہوئے یہی علاقے تھے ،جنہیں ناقابلِ تسخیر علاقوں سے تشبیہہ دی جاتی تھی ،جب ملکی فوج نے اندرونی امن وامان قائم کرنے کا اپنا آئینی حق استعمال کیا، تو دنیا دم بخود ہوگئی’ دہشت گردی کے آکٹوپس کے پنجے ملک کے ‘سیٹلڈ’ علاقوں تک پھیل گئے، لگاتار کہیں رکے بغیر پاکستانی فوج اور دیگر سویلین سیکورٹی اداروں نے بیش بہا قیمتی جانوں کی قربانیاں دینے کے بعد دہشت گردی کے عفریت کو جب آئین کی مضبوط گرفت میں کسا انہیں نشانِ عبرت بنایا تو وہ سرحد پارافغانی علاقوں میں قائم بھارتی قونصل خانوں میں جاکر پناہ گزیں ہو گئے۔ یہ دہشت گرد کیسے حیلہ سازاورکس درجہ کے دھوکہ بازنکلے’ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ اپنی وحشیانہ دہشت گردی کی انسانیت کش کارروائیوں کی بدولت اپنے مذموم اور ناپاک ارادوں اورمقاصد میں اب کامیاب نہیں ہوسکتے تو انہوں نے اپنی ثقافتی وضع قطع تبدیل کرلی’لباس بدل گئے’چہروں کے حلیے بدل گئے’مکالمے بدل گئے’مطالبات میں اب سیاسی محرومیوں کا رونا پیٹنا شروع کردیا گیا ان کے نعرے تبدیل ہوگئے اور اس لسانی تنظیم کی ریلیوں میں جب یہ نعرہ زیادہ لگایا جانے لگا کہ ‘دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے’ تو سمجھنے والوں کی آنکھیں کھل گئیں یہ محروم طبقات نہیں بلکہ آئین شکن وہ ہی دہشت گرد اور ان کے سہولت کار ہیں جنہوں نے اپنی توپوں کا رخ ملکی افواج کی جانب اب لفظوں کی زہریلی نفرتوں کی شکل میں موڑدیا ہے قوم کی سمجھ میں آگیا ہے کہ ان کی صورت میں عالمی و علاقائی عناصر جو قبائلی علاقوں کو پاکستان سے جدا کرنے کی جیسی احمقانہ سازشوں کوبروئےِ کارلانے میں اب اپنی حدوں کو پھلانگ چکے ہیں ‘ افغانستان میں بھارتی سفارتی بیوروکریٹس کی سازشیں کافی زوروں پر ہیں لاہور میں متذکرہ بالا لسانی تنظیم’پشتون تحفظ تحریک’ میں ایک مقرر’لالہ فضل ایڈووکیٹ’ نے ‘دہشت گردی کے پیچھے وردی’ کے جنونی احمقانہ نعرے لگواکرتاریخ کا نہایت ہی بھونڈا جھوٹ گھڑا ،پرلے درجے کے بیہودہ جھوٹ اورمن گھڑت کہانیوں کو سن کر ہمیں یقین ہے کہ’حقیقی غیرت مند پختہ ارادوں سے لیس وفادار’اپنی عزتِ نفس اوراپنے دین پرمرمٹنے والے پشتونوں’کا یقیناًخون کھول اٹھا ہوگا، اصل اورحقیقی پشتونوں اور’افغانی پشتونوں’ میں تاریخ نے بڑاواضح فرق اور امتیازبتایا ہے، پاکستانی علاقوں میں رہنے والے پشتونوں کی الگ تعریف ہے، سوات کے علاقوں میں بسنے والوں کی تعریف الگ ہے۔ اصل و اعلی پاکستان سے والہانہ عشق کرنے والے پختونوں کی نسلی کڑیاں پشاور سے اوپر کے بالائی علاقوں تک پھیلی ہوئی ہیں، پاکستان کی سرزمین ایسے ہی عظیم اورباقار پختونوں کی کل بھی احسان مند تھی آج بھی ہے ہمیشہ احسان مند رہے گی وہ قدم بہ قدم پاکستانی افواج کے پرخلوص سپاہی ہیں، جنوبی وزیرستان کے پختون ہوں یا شمالی وزیرستان سمیت پختون ایجنسیوں کے باسی دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی سفاکانہ غنڈہ گردی سے سبھی تنگ تھے، ایک سوال اِس نام نہاد پختون لسانی تنظیم کے چلانے والوں سے کوئی ذرایہ تو پوچھے جنہوں نے احمقانہ طرزِعمل اپنایا ہوا ہے کہ اے پی ایس پشاور پر دہشت گردی کا حملہ کس نے کرایا تھا؟ اگر ملکی افواج پر دشنام طرازی کی جارہی ہے یہ سوچے سمجھے بغیر اے پی ایس پشاور میں ڈیڑھ سو سے زائد وحشیانہ دہشت گردی کا شکار بننے والوں میں کیاسبھی بچے پاکستانی فوجیوں کے بچے نہیں تھے؟ کیا اے پی ایس کا اسٹاف پاکستانی فوج کا اسٹاف نہیں تھا؟وائے تعجب! سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اس عہد کے تاریخ ساز کردار کو پاکستانی کیسے فراموش کردیں؟ ہاں! پاکستانی فوج دنیا میں کسی کی آنکھ میں کھٹکتی ہے تو وہ آرایس ایس بھارتی ہندوتوا کی تنظیموں کی آنکھوں میں کانٹوں کی طرح سے کل بھی کھٹکتی تھی ،آج بھی کھٹکتی ہے ہمیشہ کھٹکتی رہے گی پاکستان جنوبی ایشیا میں بھوٹان یا نیپال جیسا بھارت کا زیر دست ملک بن کر نہیں ر ہے گا پاکستان خود مختار آزاد اور دنیا کا تسلیم شدہ ایٹمی ڈیٹرنس کا حامل مسلم ملک ہے جو بیس کروڑ پاکستانیوں کی امنگوں کا ترجمان ہے ملک کی آئینی حدود میں عوامی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کا عزم سیاسی وجمہوری حکومتیں ہی پایہِ تکمیل کو پہنچاتی ہیں جہاں تک پاگل پن کی جنونیت کی حیلہ سازیاں کرنے کی جونئی ریت چل پڑی ہے ٹرمپ اور مودی ٹائپ کے ایسے مزید لیڈر اگر یونہی برسراقتدار رہے تو جنوبی ایشیا میں غیر ملکی آلہ کار لسانی تحریکیں مزید اٹھتی رہیں گی۔

نااہلی کی تکلیف

Naghma habib

ممبئی حملوں کو دس سال ہونے کو ہیں اس دوران حملوں کی ذمہ داری اور ذمہ داران کے متعلق کئی ایک نظریے پیش کیے گئے بھارت نے سارا زور پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے پر صرف کیا لیکن اُس کی بد قسمتی کہ بہت سارے شواہد اس کے خلاف جاتے رہے اور خود بھارت کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اٹھیں جس نے بھارت کو اس کا ذمہ دار بتایا لیکن ایسے میں دس سال بعد ایک انوکھا انکشاف پاکستان کے سابق وزیراعظم نے کیا جنہیں عدالتوں نے نااہل قرار دیا اور اُس کے بعد اُنہوں نے ملکی اور قومی وقار کی دھجیاں بکھیرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا اور اسی جوش و جذبے میں ان محترم نے ممبئی حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی اور ارشاد فرمایا کہ یہ حملہ آور پاکستان نے بھیجے تھے۔ بات یہ ہے کہ یہ محترم نہ صرف بھارت کے عشق میں مبتلاء ہیں بلکہ پاک فوج سے ان کی نفرت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور پاک فوج سے ان کی نفرت اس سے کہیں بڑھ کر ہے جتنی ایک پاکستانی بھارتی فوج سے کرتا ہے ۔ وہی بھارت جس کی ہر پالیسی کا مرکزی نکتہ ایک ہی ہوتا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچاؤ اس سے نفرت کرو وہی بھارت ہمارے سابق وزیر اعظم کا محبوب بنا ہوا ہے ۔ میاں صاحب جنہیں فوج کا انتہائی ممنون احسان ہونا چاہیے جس نے اُن کی پر داخت کی انہیں پروان چڑھایا اُنہیں لاہور کے ایک کاروباری سے پنجاب کا وزیرخزانہ بنایا یعنی پیسوں کی مشین پر بٹھایا اور یہ محترم مشہور ہوئے، اِن کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ تک پہنچایا یوں فوج کی انگلی پکڑ کر چلتے چلتے یہ وزارت عظمیٰ تک پہنچے ،مجھے فوج سے بھی گلہ ہے کہ اُس نے اس شخص کی پہچان کیوں نہ کی جو اپنی ذات کے لیے ملک کی عزت کا سودا کر سکتا ہے ۔ اِن محترم کا قومی سلامتی کے اداروں پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے وہ تو مشرقی پاکستان میں بھی اپنی ہی فوج کو قصوروار اور قوم کے غدار مجیب الرّحمن کو بے قصور قرار دے چکے ہیں۔ یہ اپنے جلسوں میں جب تک فوج کے خلاف ہر زہ سرائی نہ کرلیں انہیں چین نہیں آتا یہی حال ان کی صاحبزادی مریم نواز کا ہے جو چند رٹے رٹائے جملوں کے ردو بدل سے ایک ہی بات دہراتی ہیں انہیں پر چی کی عزت اس لیے پیاری ہے کہ اسی کے ذریعے وہ پاکستان کی شہزادی بن جاتی ہیں ورنہ ان کی قابلیت سے تو وہ اس قابل بن نہیں سکتی، آج کل بھی یہ دونوں ’’عظیم‘‘ باپ بیٹی خود کو عوام کی قوت کا مظہر سمجھتے ہوئے ہر جائز و ناجائز منہ سے نکال رہے ہیں۔ پہلے خوب عدلیہ مخالف تحریک چلائی گئی جس نے انہیں ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ناہل قرار دیا خیر یہ تحریک چلاتے چلاتے وہ پھر پلٹ کر فوج کے اوپر گرجے اور ساری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنے۔ اِن صاحب کی بھارت نوازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اپنے کاروباری مفادات کی خاطر یہ اکثر بھارت کی مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں لیکن اس بار تو انہوں نے حد کر دی کہ وہ الزام جس کا دفاع کرتے کرتے پاکستان نے دس سال گزار دیے، خود کو عوام کا انتخاب کہنے والے ملک کے ایک سابق وزیراعظم نے اپنی نا اہلیت کا بدلہ لینے کیلئے ملک کی عزت کا سودا کیا۔ یہ یاد رہے کہ اس حادثے میں ایک سوچھیاسٹھ افراد مارے گئے تھے اور ان میں دس افراد نے حصہ لیا نو مارے گئے اور صرف ایک زندہ بچا۔ زندہ بچ جانے والے اجمل قصاب کو بھارت نے پھانسی کی سزا دی اور ایک نکتہ نظر کے مطابق جلد بازی میں دی تاکہ ثبوتوں کو ختم کیا جائے۔ بھارت کے اندر سے بھی کئی لوگوں نے اس واقعے کو بھارت کی اندرونی سازش کہا تھا لیکن ہمارے نا اہل وزیراعظم اس بات کا الزام پاکستان کو دے رہے ہیں جبکہ انہی نواز شریف نے بھارت کے جاسوس کلبھو شن کے خلاف کبھی ایک لفظ نہیں بولا اپنی رائے تک نہیں دی۔ سمجھوتہ ٹرین میں زندہ پاکستانی جلائے گئے اور اس کا ماسٹر مائنڈ ایک بھارتی کرنل پروہت تھا لیکن اُس کا دکھ نواز شریف کو نہیں ستایا۔ وہ بڑی دردمندی سے پاک بھارت مسائل کو حل کرنے کی بات کرتے ہیں کہ جنگ نہ ہو اور مسائل حل ہوں لیکن اپنے ہی ملک پر الزام تراشی کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں یا شاید اس خواہش کے ساتھ کرتے ہیں کہ بھارت پاکستان پر حملہ آور ہو ۔ بھارت جو اپنے ہاں ہونے والی ہر دہشت گردی یہاں تک کہ بقول بعضے اپنے ہاں سڑک پر ہونے والے حادثے کا ذمہ دار بھی پاکستان کوقرار دیتا ہے اس کے منہ میں ہم ایک اور بات رکھ دیتے ہیں ایک اور الزام اسے خود پکڑا دیتے ہیں کہ یہ بھی ہم پر لگاؤ ۔بھارت سے محبت کا یہ عالم ہے کہ مسلمانوں کے قاتل بھارتی وزیراعظم مودی سے ذاتی دوستی قائم کی گئی۔ اپنے لیے تجارتی شریک بھارت میں ڈھونڈے، تجارتی شریک پر اعتراض نہیں قومی مفادات کے سودے پر ہے ۔ کارگل پر متنازعہ بیانات بھی نواز شریف کا ہی کریڈٹ ہے ۔یہی نوازشریف جب لندن جاتے ہیں تو بھارتی سفارت خانے کی زیارت پر ضرور جاتے ہیں اسرائیلی سفارت خانہ بھی اِن کی پسندیدہ اور رازونیاز کی جگہ ہوتی ہے اور وہ وہاں کے سینئیر ترین افسران سے ملاقات فرماتے ہیں اور انہیں اُس وقت اُس ووٹ کی اہمیت اور حرمت کا کوئی خیال نہیں ہوتا ،اُسی عوام کے ووٹ کا جن کے لیے بھارت نے پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک مسائل ہی پیدا کیے ہیں ان کے ملک کو دولخت کیا سالہا سال سے ان کیلئے دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل کھڑے کیے رکھے ہیں۔ نواز شریف صاحب کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عزت انہیں اسی پاکستان نے دی ہے وہ اگر بھارت میں رہ جاتے تو شاید اُسی آبائی کار و بار سے آگے نہ بڑھ پاتے انہیں تو ہر ہرقدم پراس ملک اور اِس کے عوام کا ممنون احسان ہونا چاہیے نہ کہ یوں اس کی سبکی کریں۔کسی فوجی جنر ل سے اُن کا ذاتی اختلاف یا دشمنی بھی قبول ہے لیکن اس ادارے کو یوں نشانہ بنانا ہر گز جائز نہیں۔وہ جس امن کو قائم کرنے کے دعوے کرتے پھرتے ہیں اس کے قیام کے لیے ان فوجیوں کی قربانیوں سے تو دشمن کو بھی انکار نہیں لیکن اپنے ہی ملک میں مختلف ناموں سے ان کا مذاق اُڑایا جا تا ہے شرپسندوں کے آگے کھڑے قوم کے قابلِ فخر جوانوں کو خلائی مخلوق اور معلوم نہیں کیا کیا کہہ کر بلایا جاتا ہے۔ سیاستدان اپنے پھیلائے ہوئے گند کو جب سمیٹ نہیں پاتے تو فوج کو حکم دیا جاتا ہے اور فوج اُسے صاف کرنے کیلئے اپنا طریقہ کار اختیار کرتی ہے تو اُس پر ہزاروں الزامات لگا دیے جاتے ہیں۔ پھر ایک اجلاس بُلایا جاتا ہے اور پوری مشینری اپنے قائد کے بیانات کیلئے مختلف توجیہات اور معانی تلاش کرتی ہے۔ جمہوریت کے گُن گانے والے یہ رہنما جمہوریت سے یہی مراد لیتے ہیں کہ جو چاہو کہہ لو یہ نہیں کہ یہ عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی نظام حکومت ہے لیکن یوں قومی اور قومی سلامتی کے اداروں اور ملکی وقار پر حملوں کا روا ج بند ہو جانا چاہیے اور اس کی اجازت کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہنے والے توکہہ جاتے ہیں لیکن ملک کونئی مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔ نواز شریف نے تو جو فرمانا تھا فرما لیا لیکن پوری دنیا سے پاکستان پر انگلیاں اُٹھ گئیں اور بھارت کی حکومت اور میڈیا نے تو جشن منایا انہیں تو ان ایک سوچھیاسٹھ افراد کا خون بھی بھول گیا بلکہ اس کی قیمت ادا ہو گئی۔ میاں صاحب! نااہلی اتنی بڑی بات نہیں تھی لیکن جب تاریخ آپ کے بارے میں اپنے الفاظ کا چناؤ کرے گی تو وہ تکلیف نااہلی کی تکلیف سے بہت زیادہ ہوگی ورنہ تو آزمائش شرط ہے۔

*****یے گئے بھارت نے سارا زور پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے پر صرف کیا لیکن اُس کی بد قسمتی کہ بہت سارے شواہد اس کے خلاف جاتے رہے اور خود بھارت کے اندر سے بھی ایسی آوازیں اٹھیں جس نے بھارت کو اس کا ذمہ دار بتایا لیکن ایسے میں دس سال بعد ایک انوکھا انکشاف پاکستان کے سابق وزیراعظم نے کیا جنہیں عدالتوں نے نااہل قرار دیا اور اُس کے بعد اُنہوں نے ملکی اور قومی وقار کی دھجیاں بکھیرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا اور اسی جوش و جذبے میں ان محترم نے ممبئی حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی اور ارشاد فرمایا کہ یہ حملہ آور پاکستان نے بھیجے تھے۔ بات یہ ہے کہ یہ محترم نہ صرف بھارت کے عشق میں مبتلاء ہیں بلکہ پاک فوج سے ان کی نفرت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور پاک فوج سے ان کی نفرت اس سے کہیں بڑھ کر ہے جتنی ایک پاکستانی بھارتی فوج سے کرتا ہے ۔ وہی بھارت جس کی ہر پالیسی کا مرکزی نکتہ ایک ہی ہوتا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچاؤ اس سے نفرت کرو وہی بھارت ہمارے سابق وزیر اعظم کا محبوب بنا ہوا ہے ۔ میاں صاحب جنہیں فوج کا انتہائی ممنون احسان ہونا چاہیے جس نے اُن کی پر داخت کی انہیں پروان چڑھایا اُنہیں لاہور کے ایک کاروباری سے پنجاب کا وزیرخزانہ بنایا یعنی پیسوں کی مشین پر بٹھایا اور یہ محترم مشہور ہوئے، اِن کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ تک پہنچایا یوں فوج کی انگلی پکڑ کر چلتے چلتے یہ وزارت عظمیٰ تک پہنچے ،مجھے فوج سے بھی گلہ ہے کہ اُس نے اس شخص کی پہچان کیوں نہ کی جو اپنی ذات کے لیے ملک کی عزت کا سودا کر سکتا ہے ۔ اِن محترم کا قومی سلامتی کے اداروں پر یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے وہ تو مشرقی پاکستان میں بھی اپنی ہی فوج کو قصوروار اور قوم کے غدار مجیب الرّحمن کو بے قصور قرار دے چکے ہیں۔ یہ اپنے جلسوں میں جب تک فوج کے خلاف ہر زہ سرائی نہ کرلیں انہیں چین نہیں آتا یہی حال ان کی صاحبزادی مریم نواز کا ہے جو چند رٹے رٹائے جملوں کے ردو بدل سے ایک ہی بات دہراتی ہیں انہیں پر چی کی عزت اس لیے پیاری ہے کہ اسی کے ذریعے وہ پاکستان کی شہزادی بن جاتی ہیں ورنہ ان کی قابلیت سے تو وہ اس قابل بن نہیں سکتی، آج کل بھی یہ دونوں ’’عظیم‘‘ باپ بیٹی خود کو عوام کی قوت کا مظہر سمجھتے ہوئے ہر جائز و ناجائز منہ سے نکال رہے ہیں۔ پہلے خوب عدلیہ مخالف تحریک چلائی گئی جس نے انہیں ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ناہل قرار دیا خیر یہ تحریک چلاتے چلاتے وہ پھر پلٹ کر فوج کے اوپر گرجے اور ساری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنے۔ اِن صاحب کی بھارت نوازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اپنے کاروباری مفادات کی خاطر یہ اکثر بھارت کی مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں لیکن اس بار تو انہوں نے حد کر دی کہ وہ الزام جس کا دفاع کرتے کرتے پاکستان نے دس سال گزار دیے، خود کو عوام کا انتخاب کہنے والے ملک کے ایک سابق وزیراعظم نے اپنی نا اہلیت کا بدلہ لینے کیلئے ملک کی عزت کا سودا کیا۔ یہ یاد رہے کہ اس حادثے میں ایک سوچھیاسٹھ افراد مارے گئے تھے اور ان میں دس افراد نے حصہ لیا نو مارے گئے اور صرف ایک زندہ بچا۔ زندہ بچ جانے والے اجمل قصاب کو بھارت نے پھانسی کی سزا دی اور ایک نکتہ نظر کے مطابق جلد بازی میں دی تاکہ ثبوتوں کو ختم کیا جائے۔ بھارت کے اندر سے بھی کئی لوگوں نے اس واقعے کو بھارت کی اندرونی سازش کہا تھا لیکن ہمارے نا اہل وزیراعظم اس بات کا الزام پاکستان کو دے رہے ہیں جبکہ انہی نواز شریف نے بھارت کے جاسوس کلبھو شن کے خلاف کبھی ایک لفظ نہیں بولا اپنی رائے تک نہیں دی۔ سمجھوتہ ٹرین میں زندہ پاکستانی جلائے گئے اور اس کا ماسٹر مائنڈ ایک بھارتی کرنل پروہت تھا لیکن اُس کا دکھ نواز شریف کو نہیں ستایا۔ وہ بڑی دردمندی سے پاک بھارت مسائل کو حل کرنے کی بات کرتے ہیں کہ جنگ نہ ہو اور مسائل حل ہوں لیکن اپنے ہی ملک پر الزام تراشی کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں یا شاید اس خواہش کے ساتھ کرتے ہیں کہ بھارت پاکستان پر حملہ آور ہو ۔ بھارت جو اپنے ہاں ہونے والی ہر دہشت گردی یہاں تک کہ بقول بعضے اپنے ہاں سڑک پر ہونے والے حادثے کا ذمہ دار بھی پاکستان کوقرار دیتا ہے اس کے منہ میں ہم ایک اور بات رکھ دیتے ہیں ایک اور الزام اسے خود پکڑا دیتے ہیں کہ یہ بھی ہم پر لگاؤ ۔بھارت سے محبت کا یہ عالم ہے کہ مسلمانوں کے قاتل بھارتی وزیراعظم مودی سے ذاتی دوستی قائم کی گئی۔ اپنے لیے تجارتی شریک بھارت میں ڈھونڈے، تجارتی شریک پر اعتراض نہیں قومی مفادات کے سودے پر ہے ۔ کارگل پر متنازعہ بیانات بھی نواز شریف کا ہی کریڈٹ ہے ۔یہی نوازشریف جب لندن جاتے ہیں تو بھارتی سفارت خانے کی زیارت پر ضرور جاتے ہیں اسرائیلی سفارت خانہ بھی اِن کی پسندیدہ اور رازونیاز کی جگہ ہوتی ہے اور وہ وہاں کے سینئیر ترین افسران سے ملاقات فرماتے ہیں اور انہیں اُس وقت اُس ووٹ کی اہمیت اور حرمت کا کوئی خیال نہیں ہوتا ،اُسی عوام کے ووٹ کا جن کے لیے بھارت نے پاکستان کے قیام سے لے کر اب تک مسائل ہی پیدا کیے ہیں ان کے ملک کو دولخت کیا سالہا سال سے ان کیلئے دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل کھڑے کیے رکھے ہیں۔ نواز شریف صاحب کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عزت انہیں اسی پاکستان نے دی ہے وہ اگر بھارت میں رہ جاتے تو شاید اُسی آبائی کار و بار سے آگے نہ بڑھ پاتے انہیں تو ہر ہرقدم پراس ملک اور اِس کے عوام کا ممنون احسان ہونا چاہیے نہ کہ یوں اس کی سبکی کریں۔کسی فوجی جنر ل سے اُن کا ذاتی اختلاف یا دشمنی بھی قبول ہے لیکن اس ادارے کو یوں نشانہ بنانا ہر گز جائز نہیں۔وہ جس امن کو قائم کرنے کے دعوے کرتے پھرتے ہیں اس کے قیام کے لیے ان فوجیوں کی قربانیوں سے تو دشمن کو بھی انکار نہیں لیکن اپنے ہی ملک میں مختلف ناموں سے ان کا مذاق اُڑایا جا تا ہے شرپسندوں کے آگے کھڑے قوم کے قابلِ فخر جوانوں کو خلائی مخلوق اور معلوم نہیں کیا کیا کہہ کر بلایا جاتا ہے۔ سیاستدان اپنے پھیلائے ہوئے گند کو جب سمیٹ نہیں پاتے تو فوج کو حکم دیا جاتا ہے اور فوج اُسے صاف کرنے کیلئے اپنا طریقہ کار اختیار کرتی ہے تو اُس پر ہزاروں الزامات لگا دیے جاتے ہیں۔ پھر ایک اجلاس بُلایا جاتا ہے اور پوری مشینری اپنے قائد کے بیانات کیلئے مختلف توجیہات اور معانی تلاش کرتی ہے۔ جمہوریت کے گُن گانے والے یہ رہنما جمہوریت سے یہی مراد لیتے ہیں کہ جو چاہو کہہ لو یہ نہیں کہ یہ عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی نظام حکومت ہے لیکن یوں قومی اور قومی سلامتی کے اداروں اور ملکی وقار پر حملوں کا روا ج بند ہو جانا چاہیے اور اس کی اجازت کسی کو نہیں ہونی چاہیے کہنے والے توکہہ جاتے ہیں لیکن ملک کونئی مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔ نواز شریف نے تو جو فرمانا تھا فرما لیا لیکن پوری دنیا سے پاکستان پر انگلیاں اُٹھ گئیں اور بھارت کی حکومت اور میڈیا نے تو جشن منایا انہیں تو ان ایک سوچھیاسٹھ افراد کا خون بھی بھول گیا بلکہ اس کی قیمت ادا ہو گئی۔ میاں صاحب! نااہلی اتنی بڑی بات نہیں تھی لیکن جب تاریخ آپ کے بارے میں اپنے الفاظ کا چناؤ کرے گی تو وہ تکلیف نااہلی کی تکلیف سے بہت زیادہ ہوگی ورنہ تو آزمائش شرط ہے۔

*****

ہاروی وائنسٹن پر جنسی جرائم اور ’ریپ‘ کے تحت فرد جرم عائد

ہولی وڈ کے بدنام زمانہ پروڈیوسر 66 سالہ ہاروی وائسنٹن پر امریکی شہر نیویارک کی گرینڈ جیوری نے جنسی جرائم اور ’ریپ‘ کے تحت فرد جرم عائد کردی۔

خیال رہے کہ رواں ماہ 25 کو نیویارک پولیس نے ہاروی وائنسٹن پر سب سے پہلے ’ریپ‘ اور ’جنسی جرائم‘ کے تحت فرد جرم عائد کی تھی۔

پولیس کی جانب سے فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ہاروی وائنسٹن نے خود کو پولیس کے حوالے کیا تھا۔

66 سالہ پروڈیوسر پر 2 خواتین کے ساتھ 2004 اور 2013 میں ’ریپ‘ کرنے اور ’جنسی جرائم‘ کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اب نیویارک کی گرینڈ جیوری نے بھی ان پر فرد جرم عائد کردی، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے خلاف کن خواتین کو ’ریپ‘ کرنے کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق نیویارک کے معروف علاقے منہٹن کے ڈسٹرکٹ اٹارنی سائرس آر وینسی جونیئر نے ہاروی وائنسٹن پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد کہا کہ اس فیصلے سے پروڈیوسر کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہوگا۔

پروڈیوسر کو 10 لاکھ ڈالر کے عوض رہا کردیا گیا—فوٹو: اے پی
پروڈیوسر کو 10 لاکھ ڈالر کے عوض رہا کردیا گیا—فوٹو: اے پی

دوسری جانب ہاروی وائنسٹن کے وکیل نے گرینڈ جیوری کے فیصلے کو سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پر ’می ٹو‘ اور ’ٹائمز اپ‘ جیسی مہم چلنے کے دباؤ کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔

انہوں نے اپنے مؤکل پر لگائے گئے تمام الزامات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہاروی وائنسٹن نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔

گرینڈ جیوری نے ہاروی وائنسٹن کے خلاف فیصلہ سنانے سے قبل کئی ہفتوں تک ان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کی۔

ہاروی وائنسٹن کے خلاف نہ صرف گرینڈ جیوری بلکہ لاس اینجلس اور لندن کی میٹروپولیٹن پولیس بھی الگ الگ تحقیقات کر رہی تھیں۔

پہلی بار ہاروی وائنسٹن پر 25 مئی کو نیویارک حکام اور اب گرینڈ جیوری نے ان پر فرد جرم عائد کردی۔

گرینڈ جیوری نے ہاروی وائنسٹن پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ امریکی ڈالر کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم بھی دیا۔

گرینڈ جیوری نے ہاروی وائنسٹن کے خلاف مقدمے کی اگلی سماعت 30 جولائی کو مقرر کی ہے، جس میں پروڈیوسر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونا پڑے گا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اگر ان پر ’ریپ‘ اور ’جنسی جرائم‘ کے الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو انہیں 25 سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

ہاروی وائنسٹن پر سب سے پہلے گزشتہ برس اکتوبر میں ایک ساتھ متعدد خواتین و اداکاراؤں نے جنسی طور پر ہراساں اور ریپ کرنے کے الزامات لگائے تھے۔

ان پر کم سے کم 100 سے زائد خواتین و اداکاراؤں نے الزامات لگائے ہیں، جن میں نامور اداکارائیں بھی شامل ہیں۔

ہاروی وائنسٹن نے جنسی طور پر ہراساں اور ریپ کے الزامات کو ہمیشہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تمام معاملات رضامندی سے ہوئے۔

بڑھاپا سے بچنے کا طریقہ دریافت؟

بیشتر افراد بڑھاپے کے ساتھ آنے والی جسمانی کمزوریوں اور بیماریوں سے بچنے کی خواہش رکھتے ہیں اور لگتا ہے کہ بہت جلد ایسا ممکن ہوسکے گا۔

سائنسدانوں نے بڑھاپے کے جسمانی اثرات پر قابو پانے کا طریقہ کار ڈھونڈنے کا دعویٰ کیا ہے جن کی مدد سے جھریوں کی روک تھام خلیات کے ممکن سے ہوسکے گی۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ورجینیا یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران جگر پر چربی چڑھنے کے مرض کے حوالے سے تفتیش کے دوران خلیات کی بدولت جھریاں بدلنے کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق ایک پروٹین کی کمی کے نتیجے میں عمر بڑھنے سے جھریوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے ، جبکہ جگر پر چربی چڑھنے سے اس پروٹین کی مناسب سطح برقرار رکھنے کی جسمانی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

تاہم سائنسدانوں کے خیال میں اس پروٹین کا اضافہ کرکے جھریوں سے نجات پانا ممکن ہے اور اس سے جسم پر عمر بڑھنے کے اثرات کو روکنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

محققین نے دریافت کیا کہ جگر پر چربی چڑھنے اور جھریوں کے نمودار ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے جو کہ خلیات کی وجہ سے ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر خلیے میں ایک جیسا ڈی این اے ہوتا ہے مگر ہر خلیہ مختلف ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کی امید ہے کہ اس عمل کو ریورس کیا جاسکتا ہے اور اس سے جگر کو زیادہ صحت مند رکھنے میں مدد مل سکے گی۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایجنگ سیل میں شائع ہوئے۔

’کچھ تو خوف کھاؤ اللہ کا، رمضان کا خیال کرو‘

بولی وڈ مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان ہمیشہ اپنے منفرد کام کی وجہ سے اپنے مداحوں کا دلدادہ رہتے ہیں، لیکن اس بار انہیں منفرد کام کرنا مہنگا پڑ گیا۔

ہوا کچھ یوں کہ عامر خان نے اپنے فیس بک پیج پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ گزارے گئے اچھے وقت کی تصاویر شیئر کیں، جن پر ان کے مداح بھڑک اٹھے اور انہیں اللہ کا خوف کھانے اور رمضان کا احترام کرنے کے طعنے دینے لگے۔

دراصل مسٹر پرفیکشنسٹ نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ کھانے پینے اور اپنی جوان بیٹی کے ساتھ موج مستی کی ایک تصویر شیئر کی، جسے دیکھ کر کئی مداحوں کو غصہ آگیا اور انہوں نے عامر خان کی تصاویر پر سخت کمنٹس کیے۔

مداحوں نے سب سے زیادہ اعتراض عامر خان اور اس کی نوجوان بیٹی کی تصویرپر اٹھایا، جس میں دونوں والد اور بیٹی موج مستی کرتے نظر آتے ہیں۔

تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عامر خان کی نوجوان بیٹی ایرا خان کو مختصر لباس پہنا ہوا اور وہ اپنے والد کے اوپر بیٹھ کر مسکرا رہی ہیں۔

اسی تصویر پر سیکڑوں مداحوں نے کمنٹ کیے، جب کہ اسے 425 سے زائد بار شیئر کیا گیا اور اسے ہزاروں افراد نے لائیک کیا۔

—فوٹو: عامر خان فیس بک
—فوٹو: عامر خان فیس بک

عاشق بھٹ نامی صارف نے عامر خان اور اس کی نوجوان بیٹی کی تصویر کو قابل اعتراض قرار دے کر کمنٹ کیا کہ ’کچھ تو خوف کھاؤ اللہ کا سر‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ وہ عامر خان کی بہت عزت کرتے ہیں، تاہم ان کا یہ عمل قابل قبول نہیں۔

آصف شیخ نامی صارف نے بھی ان کی تصویر پر کمنٹ کیا اور عامر خان کو کہا کہ ’وہ رمضان کا خیال اور احترام کریں‘۔

عامر خان اور ان کی بیٹی پر جہاں لوگوں نے خراب کمنٹ کیے، وہیں متعدد افراد نے اچھے کمنٹ کرکے مسٹر پرفیکشنسٹ کی حمایت بھی اور کہا کہ تصویر والد اور بیٹی کی محبت اور پیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

—فوٹو: عامر خان فیس بک
—فوٹو: عامر خان فیس بک

اسی طرح عامر خان کی جانب سے شیئر کی گئی دیگر تصاویر پر بھی مداحوں نے کمنٹ کیے کہ مسٹر پرفیکشنسٹ کو رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے کھانے پینے والی تصاویر شیئر نہیں کرنی چاہئیے تھیں۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

بعض مداحوں نے کمنٹ کیے کہ اگر عامر خان نے روزہ نہیں رکھا تو کم سے کم انہیں رمضان کا احترام کرتے ہوئے کھانے پینے اور بیٹے کے ساتھ موج مستی کی ایسی تصاویر شیئر نہیں کرنی چاہئیے تھیں۔

—اسکرین شاٹ
—اسکرین شاٹ

لوگوں کے برے کمنٹس کے باوجود عامر خان نے مداحوں کو کوئی جواب نہیں دیا۔

—فوٹو: عامر خان فیس بک
—فوٹو: عامر خان فیس بک

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کا کریک ڈاؤن

دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر کہا ہے کہ معصوم کشمیریوں کی آنکھوں میں چھرے مارے جا رہے ہیں۔ چھرے لگنے سے مظلوم کشمیری نوجوانوں‘ بچوں اور خواتین کی بینائی ضائع ہو گئی۔ آنکھوں میں چھرے مارنے والوں کے دل انسانیت کے درد سے خالی ہیں۔ یہ صریحاً ظلم اور ظلم کا آخری درجہ ہے۔ بین الاقوامی برادری کشمیر میں مظالم کا سختی سے نوٹس لے۔ اس ظلم پر خاموش رہنا بھی ایک ظلم ہے۔ پاکستان نے دوٹوک طور پر کہا کشمیر کے حوالہ سے ہمارا مؤقف واضح ہے۔ اس مسئلہ کا حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہو گا۔ جبرو استبداد سے کشمیری عوام کی آواز کو دبایا جا سکتاہے نہ ہی انہیں حق خودارادیت سے محروم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ دفتر خارجہ نے شہداء وطن اور غازیوں کو ان کی لازوال قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا پاکستان کی سالمیت، وقار اور بقاء کی خاطر ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ کشمیر پر بھی ہمارا موقف واضح ہے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ ہم کشمیری بھائیوں کے حق خود ارادیت کی تائید و حمایت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک اس مسئلہ کے فوری حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں ورنہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے خواب کی تعبیر ناممکن ہے۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، محاصروں کریک ڈاؤن کے دوران بھارتی فوج کے تشدد سے مزید 200 کشمیری زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی۔ اکثر کی حالت نازک ہے۔ کولگام، سوپور، سرینگر، پلوامہ اور اننت ناگ سمیت بڈگام میں بھارتی وفد کے خلاف بڑی بڑی مزاحمتی ریلیاں نکالی گئیں جبکہ سرینگر کے دانہ مزار نور کالونی میں احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی۔ اس ریلی سے حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے بھی ٹیلی فونک خطاب کیا۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کو کچلنے اور قابو میں رکھنے کیلئے پیلٹ گنوں کی جگہ مرچوں والے پاوا گن شیل استعمال کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ پیلٹ گن کے چھروں سے ہلاکتوں اور 600 سے زائد کشمیریوں کی بصارت کو نقصان پہنچنے پر کڑی عوامی تنقید کے بعد کیا۔ اس حوالے سے سری نگر میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ پاوا شیل مرچوں والے اور کم نقصان دہ ہیں ان سے انسانی جان کو سنگنی خطرہ نہیں ہوتا ہم نے ایک ہزار پاوا شیل منگوا لئے ہیں جو کشمیر پہنچ چکے ہیں۔ راجناتھ سنگھ جو حریت رہنماؤں کے بھارتی پارلیمانی وفد سے ملاقات سے انکار پر بھڑکے ہوئے تھے، نے جل کر پرانی گردان کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بھارتی وفد کے ارکان جب عام کشمیریوں سے بات چیت کیلئے مختلف جگہوں پر سخت سکیورٹی میں گئے تو انہیں زبردست عوامی حقارت کا سامنا کرنا پڑا۔ کشمیریوں نے کہا بھارتی سیاستدانو دفعہ ہو جاؤ ہمیں صرف آزادی چاہئے۔ برہان وانی کی شہادت نے مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی میں نئی روح پھونک دی پوری کشمیری قوم اور قیادت کو یکجا کردیا ہے۔اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے اگر مجرمانہ خاموشی ترک نہ کی اور کشمیریوں کو جائز اور قانونی حق نہ دلایا تو کشمیری عوام خونی لکیر عبور کرلیں گے اور سیز فائر لائن کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی اور اس کی تمام تر ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ دیں کیونکہ خطے میں اس وجہ سے بڑے انسانی المیے کا خدشہ ہے۔کشمیر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آج عوام بھارت کی مودی سرکار کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔یہ بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں کشمیری عوام کا ریفرنڈم اور رائے شماری ہے اسے عالمی سطح پر تسلیم اور قبول کیا جائے اور بھارت کو انسانی حقوق کی پامالی سے روکا جائے۔ حق خود ارادیت کشمیری عوام کا قانونی اور جائز حق ہے اور خود اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیرمیں استصواب رائے کرایا جا نا ہے لیکن افسوس کہ ان قراردادوں پر عمل نہیں ہوا۔اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کی طرح کشمیر میں بھی اپنا کردار ادا کرے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلوائے۔ کرفیو میں محصور زخمیوں اور بھوک اور پیاس میں مبتلا شہریوں تک عالمی اداروں کی رسائی ممکن بناتے ہوئے زخمیوں کے علاج کا بندوبست کیاجائے اور اشیائے ضرورت فوری طور پر فراہم کی جائیں۔ حکومت پاکستان اس سلسلے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور غفلت سے بیدار ہوکر کشمیری مسلمانوں کی ٹھو س ،سیاسی، سفارتی اور اخلاقی و مادی مدد کرے۔پاکستان کے تمام سفارت خانے اس سلسلے میں اپنا فعال کردار ادا کریں اور دنیا کے سامنے بھارت کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب کریں۔پاکستانی حکومت کشمیری عوام کی اس تاریخی بیداری سے فیصلہ کن فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی اختیار کرے اور کشمیری عوام کو اس نازک موقع پر اعتماد فراہم کرے اور امید اور حوصلہ دے۔حالیہ دنوں میں بھارتی افواج نے اسرائیل کے بنے ہو ئے ہتھیاربھی استعمال کیے ہیں۔جن میں پیلٹ گن بھی شامل ہیں۔ ان ہتھیاروں کے باعث 125افراد بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔ربڑ کوٹیڈ گولیوں کے استعمال سے لوگ زندگی بھر کے لیے معذور ہورہے ہیں۔لیکن کشمیری عوام بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر تیار نہیں ہیں۔ کشمیریو ں نے بھارت کی غلامی ایک دن کے لیے بھی قبول نہیں کی ہے۔ہر کشمیری بھارت سے آزادی چاہتا ہے۔ پوری وادی میں آزادی کے ترانے اور پاکستان زندہ آباد کے نعرے گونج رہے ہیں اور پاکستان کے قومی پرچم لہرائے جارہے ہیں۔

****

زیادہ چکن کھانے کا یہ نقصان جانتے ہیں؟

اگر تو آپ کو جسمانی فٹنس برقرار رکھنے کا شوق ہے تو غذا میں پروٹین کی موجودگی کی اہمیت سے ضرور واقف ہوں گے، یہ غذائی جز پورے جسم بشمول بالوں، جلد، ناخنوں، ہڈیوں، خون اور دیگر کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے، گریاں اور بیج وغیرہ روزمرہ کی غذائی عادات کے لیے بہترین ہے مگر اب ایک طبی تحقیق میں یہ انتباہ سامنے آیا ہے بہت زیادہ پروٹین کا استعمال درمیانی عمر کے افراد میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 33 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ درمیانی عمر میں غذائی پروٹین جیسے دودھ، مرغی، مکھن اور پنیر وغیرہ سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 49 فیصد بڑھا دیتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ مچھلی اور انڈوں میں موجود پروٹین سے یہ خطرہ نہیں بڑھتا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ حیوانی پروٹین کے زیادہ استعمال یہ خطرہ 43 فیصد جبکہ نباتاتی پروٹین کے استعمال سے 17 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

فن لینڈ کی ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشتر غذائی ذرائع سے حاصل ہونے والی پروٹین کا زیادہ استعمال ہارٹ فیلیئر کا خطرہ کسی حد تک بڑھا سکتا ہے، صرف مچھلی اور انڈے اس خطرے کا باعث نہیں بنتے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ پروٹین سے بھرپور غذائیں خصوصاً حیوانی ذرائع سے ملنے والی پروٹین سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران ڈھائی ہزار کے قریب درمیانی عمر کے افراد کی غذائی عادات کا جائزہ 22 سال تک لیا گیا۔

ان افراد کو روزانہ پروٹین کی مقدار کے حوالے سے 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا اور پھر زیادہ پروٹین اور کم پروٹین والے گروپس کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ پروٹین کھانے والے افراد میں ہارٹ فیلیئر کے 334 کیسز دیکھنے میں آئے اور ان میں یہ خطرہ حیوانی پروٹین کے استعمال سے 70 فیصد جبکہ نباتاتی پروٹین سے 27.7 فیصد تک بڑھا۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سرکولیشن میں شائع ہوئے۔

جمہوریت کے نا م پر انگریزوں کے غلاموں کے چناؤ سے قبل!

قوی اُمید وں کے ساتھ25جولائی 2018 کو ارضِ مقدس پاکستان کی تاریخ کے مہنگے ترین متوقع عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پارٹیوں کو انتخابی نشانات الاٹ کردیئے ہیں تاریخ کے اعلان اور انتخابی نشانات جماعتوں کو الاٹ کئے جانے کے باوجود ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ انتخابات اِس دن ہوبھی پا ئیں گے کہ نہیں؟جس کا چرچاکیاجارہاہے ۔ یا دو چار ماہ آگے چلے جا ئیں گے؟ آنے والے دِنوں اور ہفتوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال، اِس کا قوی امکان ہے کہ جس تاریخ اور دن کا اعلان ہوچکاہے عام متوقع انتخابات اپنے وقتِ مقررہ پر ہی ہوں گے۔ تاہم اِس حوالے سے بھی قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ کچھ حلقوں جیسے چار اضلاع کی حلقہ بندیاں کالعدم ہونے اوردیگر قانونی پیچیدگیوں کے باعث اعلان کردہ تاریخ میں انتخابات کا انعقاد کچھ مشکل لگتاہے ۔ کچھ بھی ہے مگر قوم خاطر جمع رکھے انتخابات جب بھی ہوئے ؛ کم ازکم اِ س مرتبہ پاکستا نی قوم کوباری لگا کر اور پلٹ پلٹ کر اقتدار میںآنے کے لئے ’’ روٹی ، کپڑا، مکان ‘‘ اور ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کی گھٹی پلا کراپنا اُلو سیدھا کرنے والے پرا نے چہروں والے سیاسی بازی گروں کو حکمرانی کی کرُسی کے نیچے اور سیاست کے وسیع و عریض میدان میں کسی جگہہ ضرور دفن کرنا ہوگا ۔ تب تو پاکستانی قوم اپنا کل اور اپنی آنے والی نسل کا مستقبل بہتر بنا سکتی ہے ورنہ نہیں۔بہر کیف، حکمرانوں کے چناؤ کے لئے قوم جمہوریت کے نام پر انگریزوں کے غلاموں کے انتخاب سے قبل ایک بار اپنا جا ئزہ ضرور لے کہ اگلے عام متوقع انتخابات میں اِس کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ستر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی قوم قبر کی بجُو کی طرح اپنا خون چوسنے والے مُلکی لیٹروں کا انتخاب کرلے، پھر اگلے پانچ سال تک سر پر ہا تھ رکھ کر روتی پھرے ، مسائل اور بحران اِس کا مقدر رہیں اور اِس کے دامن میں سِوا ئے آنسووں اور افسوس کے کچھ نہ آئے۔آج اگر اللہ نے توانائی سمیت دیگر مسائل اور بحرانوں میں دھنسی مظلوم پاکستا نی قوم کو قومی دولت لوٹ کھا نے اورقومی وسائل کا بیڑاغرق کرنے والوں، آف شور کمپنیوں اور اقامے رکھنے والوں، پاکستان کھپے اور روٹی ، کپڑا ، مکان کا نعرہ لگا کر سوئس بینکوں میں اربوں کھربوں قومی دولت رکھنے والوں سے نجات کا موقعہ دے ہی دیاہے۔ تو پھرپاکستانی قوم حوصلہ پکڑے اوراِس مرتبہ اِن قومی لیٹروں سے اپنی جان چھڑالے ، اِسی میں ہی اِس کی عافیت ہے ۔ تاکہ اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل تباناک بنا لے ۔چلیں ، اللہ اللہ کرکے ایک طویل مذاکراتی عمل سے حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضا مندی سے اچھی شہرت کے حامل اور ایک غیر متنازع سُپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نا صر الملک کو نگران وزیراعظم بنائے جا نے کا اعلان ہوگیا؛ ور نہ یہ مسئلہ طول پکڑتا توایسی ہی کسی شخصیت کو نگران وزیراعظم کے چناؤ میں دوچار دن مزید ضائع ہوجاتے ۔ دیرآیددرست آید، اچھی بات ہے کہ اغیار کی جانب دیکھنے اور بات بات پر دوسروں سے ڈکٹیشن لینے والی حکومت اور اپوزیشن نے وقت نزع ہی سہی مگر جاتے ہوئے اپنے اِس ایک عمل سے کچھ لوگوں کو یہ ضرور باور کرادیاہے کہ ’’سِول حکمرانوں کو فری ہینڈ مل جائے تو یہ مُلک اور قوم کیلئے بہت کچھ ایسا ہی اچھا اور بہتر فیصلہ اور فیصلے کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اِس کیلئے مگریہ لازمی شرط ہے کہ اِنہیں بغیر کسی بیرونی دباؤاور (بقول نوازشریف خفیہ/ نادیدہ طاقتوں اور خلائی مخلوق)کے آزادی سے کام کرنے دیاجائے، تو ہمارے یہی سِول حکمران مُلک و قوم اور معیشت کی بہتری کیلئے آسمان سے تارے بھی توڑ کرلا سکتے ہیں ۔ آج یقینی طور پر نگران وزیراعظم کے مشترکہ چناؤ کے عمل سے نادیدہ قوتوں او ر خلائی مخلوق کے عزائم دم توڑ گئے ہوں گے مگر ابھی سِول حکمرانوں اور سیاستدانوں کا امتحان ختم نہیں ہوا ہے ۔ اِنہیں چا ہئے کہ یہ اِسی طرح اپنے اندر اتحاد و اتفاق برقرار رکھیں تاوقتیکہ مُلک میں صاف و شفاف منصفانہ اور غیر جانبدارانہ متوقع انتخابات نہ ہوجا ئیں اِس طرح نادیدہ طاقتیں اور خلائی مخلوق اپنے عزائم میں نا کام ہو کر اپنے منہ کی کھا کر رہ جا ئیں گیں۔تاہم اِدھر ایک طرف جیسے سورج سوا نیزے پر آن کر مُلک بھر میں آگ کے شعلے برسارہے تو وہیں سر پر آئی الیکشن کی تیاریوں اور کے (کُتا) الیکٹرک سمیت بجلی سپلائی کرنے والے اداروں کی طویل اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے بھی سرزمینِ پاکستان میں پہلے سے گرما گرم سیاسی بازار اور ماحول کو مزید گرما کر رکھ دیاہے نہ صرف یہ بلکہ دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں جس حسا ب سے خام تیل کی قیمتوں میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے یہ بھی اپنی جگہہ حیران کُن ہے تو وہیں اِس کے برعکس حکومتی چہتی لونڈی اوگرا کی جانب سے یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7روپے 86پیسے فی لیٹر تک اضافہ کی سفارش کے آنے والے عندیئے نے بھی پاکستا نی عوام اور ووٹرز کے دماغ کوکئی درجہ فارن ہائیٹ تک گرما کررکھ دیاہے اِس سے بھی دہلیز پر آئے انتخا بی عمل میں دہلچل پیداہو گئی ہے۔ جبکہ اَب آکسیجن پر چلنے والی حکومت پر وقتِ نزع طاری ہے ، اِ س سے چند گھنٹوں میں یہ آکسیجن بھی ہٹادی جائے گی پھراِس کی حیثیت تاریخ کے اوراق تک محدود ہوکررہ جائے گی اِس حال میں بھی حکومت نے اپنی لونڈی اوگرا کی بے لگامی کو کنٹرول نہ کیااِسے عوام پر ظلم ڈھانے کے لئے کھلا چھوڑے رکھا یہی وجہ ہے جس کا فائدہ اُٹھا تے ہوئے اوگرا نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے برخلاف یکم جون سے مُلک میں پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرکے پاکستانی عوام کو مہنگا ئی کے بوجھ تلے دبا ئے جانے کا منصوبے کو حتمی شکل دے کر رواں حکومت سے رہی سہی عوامی ہمدردی بھی ختم کرنے جارہی ہے۔ اگرچہ، آج پورے مُلک میں انتخا بی گہما گہمی عروج کو پہنچ رہی ہے، تمام سرکاری مشینری بروقت الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنا نے کے دن رات متحرک ہے ، مگر انتخابات کو بروقت انعقاد کرانے والوں نے خود اِس پر تحفظات کا اظہار کرکے ایک سوالیہ نشان بھی لگا دیاہے ۔ ایسے میں پھر بھی بحرانوں اور مسائل میں گھری پاکستانی قوم کی ایک یہی دُعا ہے کہ ا للہ کرے کہ سب کی کوششیں رنگ لے آئیں اور ہر قسم کے تنازعات اور ہ ھاندلیوں سے پاک صاف و شفاف انتخابات ہو جا ئیں تاکہ آئندہ پانچ سال کے لئے کرپشن سے پاک، محب وطن، آئین و قا نون کے پاسدار، افواج پاک اور عدلیہ کا احترام کرنے والے، دیانتدار، نڈر و بے باک، با کردار اور اعلیٰ ظرف کے حامل افراد پر مشتمل قومی حکومت تشکیل پا ئے تو مُلک صحیح معنوں میں ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو۔
****
Google Analytics Alternative