Home » 2018 » June » 03

Daily Archives: June 3, 2018

انتخابات بروقت اورشفاف کرانے کاعزم

adaria

سابق چیف جسٹس ناصرالملک نے نگران وزیراعظم کے عہدے کاحلف اٹھالیا ، حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی ،صدرممنون حسین نے ناصرالملک سے ان کے عہدے کاحلف لیا، ناصرالملک 17 اگست 1950کوسوات میں پیدا ہوئے اور22ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکے ہیں 6جولائی 2014ء سے 16اگست2015ء تک اس منصب پرفائز رہے۔ ایبٹ آباد پبلک سکول سے میٹرک اور ایڈورڈز کالج پشاور سے گریجویشن کیا 1977ء میں لندن میں بار ایٹ لاء کرنے کے بعد پشاور میں وکالت شروع کی 1981 ء میں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری اور1991 اور1993ء میں صدر منتخب ہوئے ناصرالملک 4جون1994 کو پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے اور31مئی 2004ء کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے پر فائز ہوئے اورپھر5اپریل 2005ء کو انہیں سپریم کورٹ کاجج مقرر کیا گیا ناصرالملک نے نہ صرف 3نومبر2007ء کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع کرنے والے سات رکنی بنچ میں شامل تھے ۔پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھا کر وہ معزول قرار پائے اور ستمبر 2008ء میں پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں دوبارہ حلف اٹھاکرجج کے منصب پربحال ہوئے۔ جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک کا یہ بھی طرہ امتیاز ہے کہ وہ پی سی او ،این آر او اوراٹھارہویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بنچوں کاحصہ رہے ۔سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے والے بنچ کے سربراہ بھی رہے۔ نگران وزیراعظم کے عہدے کی حلف برداری کے بعد میڈیا نمائندوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جو ذمہ داری سونپی گئی ہے احسن طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔یاد رکھیں انتخابات وقت پر ہوں گے شفاف انتخابات کاانعقاد میری اولین ترجیح ہے میں نے کام شروع کردیا ہے جبکہ دوسری طرف چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے انتخابی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے دائردرخواست پرفریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے انتخابات 25جولائی کو ہی ہونگے تاخیر نہیں ہونے دیں گے۔ نگران وزیراعظم ناصرالملک کا عزم اس امر کاعکاس ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو انتہائی احسن طریقے سے پوراکریں گے اور انتخابی عمل کو صاف وشفاف بنائیں گے اس وقت سیاسی افق پر انتخابی ماحول بنا ہوا ہے اور سیاسی جماعتیں الیکشن کیلئے تیار ہیں اور الیکشن کمیشن بھی اپنی تیاریاں مکمل کرچکا ہے اور سپریم کورٹ کے ریمارکس بھی اس بات کے آئینہ دارہیں کہ انتخابات ہرصورت مقررہ تاریخ پر ہونگے نگران حکومت اور الیکشن کمیشن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابات کے بروقت انعقاد کے ساتھ ساتھ ان کو صاف وشفاف بنائیں تاکہ نتائج پر کوئی سیاسی جماعت انگلی نہ اٹھاسکے اور ماضی کالگادھبہ صاف ہو ۔اس وقت نگران وزیراعظم کی اولین ترجیح بروقت اورشفاف الیکشن ہیں ۔سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ الیکشن کے ضابطہ اخلاق کی پاسداری کو یقینی بنائیں اور اپنا اپنا منشور عوام کے سامنے رکھیں گالم گلوچ اورالزام تراشی کاسلسلہ اب ختم ہوجاناچاہیے۔عوام ووٹ کاصحیح استعمال کرکے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں اہل افراد آگے آئیں گے تو ملک چیلنجز سے نکلے گا اورترقی وخوشحالی اس کامقدر قرارپائے گا۔بہرحال جس عزم کااظہار نگران وزیراعظم نے کیاہے وہ وقت کی ضرورت اورتقاضا ہے انتخابات کابروقت انعقاد ہی نیک شگون قرارپائے گا شفافیت کیلئے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنایاجائے تاکہ دھاندلی کی گردان کااعادہ نہ ہو۔

روزنیوزکی مختلف شہروں میں بندش کانوٹس
روزنیوزکی ملک کے مختلف شہروں میں کیبل پربندش پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے نوٹس لیتے ہوئے پیمرا سے رپورٹ طلب کر لی۔ روز نیوز کا اپنے بنائے ضابطہ اخلاق پرسختی سے عمل کرنا اور حقیقت پر مبنی خبریں نشر کرنا جرم بن گیا جس کے باعث روز نیوز کو کیبل پر مختلف شہروں میں مسلسل بند کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں ناظرین کی جانب سے روز نیوز کی متعدد شکایات موصول ہوئیں جس کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے،روز نیوز نے چیف جسٹس سے روز نیوز چینل کی بندش بارے نوٹس لینے کی استدعا کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کیبل آپریٹر کی جانب سے تاحال آرٹیکل19کی خلاف ورزی جاری ہے ،روز نیوز کی نشریات بند کر کے معاشی قتل کیا جا رہا ہے، جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے روز نیوز کی مختلف شہروں میں کیبل پر بندش کا نوٹس لے لیا اور اس ضمن میں چیف جسٹس نے پیمرا سے رپورٹ طلب کر لی،اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ روز نیوز ایس کے نیازی صاحب کا چینل ہے؟جس پر روز نیوز کے ڈپٹی بیوروچیف نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو جواب دیا کہ جی ہاں یہ روز نیوز ایس کے نیازی صاحب کا چینل ہے۔واضح رہے کہ روزنیوزپاکستان کا واحد چینل جوپانچ وقت کی اذان نشرکرتاہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی ایک کیس کے دوران روز نیوز بارے کہا تھا کہ روز نیوز 5وقت آزان نشر کرتا ہے،پانچ وقت آزان نشر کرنے پر سابق وزیرمذہبی امور سردار یوسف متعدد بار روز نیوز کو خراج تحسین پیش کر چکے ہیں۔دوسری جانب عوام سے ایوان تک روزنیوزکے ضابطہ اخلاق کی گونج ہے،اسلام آبادہائی کورٹ نے روزنیوزکے ضابطہ اخلاق کی تائیدکی تھی۔چیف جسٹس کانوٹس انصاف ودادرسی کاباعث قرارپایا اب روزنیوز کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوپائے گا۔
پارلیمنٹ کے تیارکردہ کاغذات نامزدگی کالعدم قرار
عام انتخابات 25جولائی 2018کو ہونے بارے شیڈول جاری ہو چکا ہے ایسی صورتحال میں لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذاتِ نامزدگی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے آئینی ماہر سعد رسول کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ سعد رسول نے الیکشن ایکٹ کی دفعہ 60، 110 اور 137 کو چیلنج کیا تھا۔کاغذات نامزدگی میں غیر ملکی آمدن، زیرِ کفالت افراد کی تفصیلات چھپانے کا اقدام، مقدمات کا ریکارڈ، ٹیکس ڈیفالٹ چھپانے کا اقدام، قرضہ نادہندگی، دہری شہریت، یوٹیلٹی ڈیفالٹ، پاسپورٹس چھپانے کا اقدام اور کاغذات نامزدگی میں مجرمانہ سرگرمیاں چھپانے کا اقدام بھی کالعدم کردیا گیا ہے۔عدالت نے پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذات نامزدگی آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں۔ادھر عدالتی فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات کے شیڈول پر عارضی طور پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تمام ریٹرننگ افسران کو نامزدگی فارم جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ انتخابی عمل تاخیر کاشکارنہیں ہوناچاہیے۔

یوم تکبیر : ڈاکٹر خان ، مجید نظامی اور چوہدری شجاعت حسین

rana-biqi

28 اور 30 مئی 1998 کے دن پاکستان کی تاریخ میں اَمر ہوگئے جب 11 اور 13 مئی کو بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین اور ایک قومی اخبار کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی کے قلندرانہ نعرے “جناب وزیراعظم دھماکہ کریں ، اِس سے پہلے کہ میں آپ کا دھماکہ کر دوں اور قوم آپ کا دھماکہ کر دیگی ” کے جواب میں عوامی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف ایٹمی دھماکے کرنے کے احکامات دینے پر مجبور ہوگئے۔ چنانچہ امریکی دباؤ کے باوجود ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ٹیم کی ایٹمی صلاحیت کے سبب پاکستان سات ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا ۔ یوم تکبیر دراصل علامت ہے اِس اَمر کی کہ جنوبی ایشیا میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی آزادی ، خودمختاری اور اقتداراعلیٰ کو ازلی دشمن بھارت اور اغیار کی سازشوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں بلاشبہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ مجید نظامی خود اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ چاغی ایٹمی دھماکوں سے قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان میرے دفتر تشریف لائے تھے اور اُس وقت ویراعظم کے والد جناب میاں محمد شریف سے ملاقات کیلئے میرے ہمراہ رائے ونڈ تشریف لے گئے تھے جہاں مرحوم میاں محمد شریف فیملی کے تمام افراد اور حاضرین نے اُن کا پُرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اُنہیں پھولوں سے لاد دیا تھا ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان چاغی کے دھماکوں کے ذریعے اپنی ٹیم کے ہمراہ اپنی ایٹمی تخلیق کے عملی مظاہرہ کو دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن وزیراعظم نواز شریف پر ایٹمی دھماکے نہ کرنے کا زبردست بیرونی دباؤ تھا ۔ چنانچہ میاں نواز شریف نے ڈاکٹر خان کی اپنے والد سے ملاقات کے بعد سینئر صحافیوں، ایڈیٹروں ، قومی دانشوروں اور بیوروکریٹس سے مشاورت کا فیصلہ کیا ۔ وزیراعظم کی اِس مشاورتی میٹنگ میں بھی میاں نواز شریف نے ایٹمی دھماکہ نہ کرنے سے متعلق بیرونی دباؤ کا تذکرہ کیا اور مبینہ طور پر بیشتر صحافیوں، دانشوروں اور بیوروکریٹس نے امریکی دباؤ کے پیش نظر ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کی رائے دی لہذا مجید نظامی مرحوم نے مشاورتی اجلاس میں دباؤ کی صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز میں کہا کہ جناب وزیراعظم آپ قوم اور ملک کے مفاد میں ایٹمی دھماکہ کریں ورنہ میں آپ کا دھماکہ کردوں گا اور قوم آپ کا دھماکہ کر دیگی ۔ اندریں حالات چاغی کا ایٹمی دھماکہ ہوا اور وقت نے ثابت کیا کہ اِس دھماکے نے پاکستان کی سلامتی کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

28 مئی 1998 کے ایٹمی دھماکے جنوبی ایشیا کی سرزمین پر مسلم ریاست کی تجدید عہد کا دن ہے جس خواب کی آبیاری حصول پاکستان کی شکل میں علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے خون جگر سے کی تھی، لیکن اپنوں کی عاقبت نااندیشانہ طالع آزمائی نے 1971 میں اکھنڈ بھارت کی قربان گاہ کے سامنے دھکیل دیا تھا ۔اکھنڈ بھارت کے اِنہی ناپاک عزائم کو آگے بڑھانے کیلئے بھارت نے 18 مئی 1974 میں راجستھان میں دھماکہ کیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے خطے میں بھارت کی ایٹمی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور 31 جولائی 1976 میں ایک خودمختار ادارے کے طور پر کہوٹہ پروجیکٹ کی منظوری دی جس کا سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بنایا گیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد بھی مغربی ملکوں کی مخالفت کے سبب پیدا ہونے والی ملکی سیاسی اُلجھنوں کے باوجود یورینیم افروزگی کیلئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سفر جاری رہا ۔ یہ درست ہے کہ پاکستان نے بھی ایٹمی صلاحیت کے حصول کیلئے بھارت کی طرح یورپی ممالک کے انڈر گراؤنڈ سپلائر کے ذریعے ہی بیشتر پارٹس حاصل کئے۔ البتہ بھارت نے کینیڈا کے ایٹمی ری ایکٹر اور امریکہ کے فراہم کئے ہوئے ہیوی واٹر کو چناکیہ عیاری سے چوری کرکے یورینیم افروزگی کیلئے استعمال کرکے دھماکہ کیا لیکن بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر مغرب کی جانب سے وہ ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا جیسا کہ شور و غوغا 28 اور 30 مئی 1998 کے پاکستانی ایٹمی دھماکوں پر کیا گیا ۔ بلاشبہ ڈاکٹر خان نے ضروری سپیئر پارٹس تو یورپ کی اُنہی کمپنیوں سے حاصل کئے جن سے بھارت نے استفادہ کیا تھا لیکن یورینیم کی افروزگی کیلئے اُنہوں نے سینٹری فیوج کے مشکل طریقہ کار کے ذریعے دنیا بھر میں سب سے بہتر نتائج حاصل کئے البتہ دھماکے سے قبل ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف دنیا بھر میں بدترین پروپیگنڈا کیا گیا ۔ تہذیبوں کے تصادم کے حوالے سے ، دی اسلامک بم ،نامی فلم بنائی گئی اور ڈاکٹر خان کے خلاف کتابیں شائع کی گئی ۔
حیرت ہے کہ ستمبر 2003 میں جبکہ ڈاکٹر خان کو کہوٹہ پروجیکٹ سے ریٹائر ہوئے تین برس کا عرصہ گزر چکا تھا صدر جارج بش کی ہدایت پر امریکی سی آئی اے چیف جارج ٹینٹ نے امریکہ کے ایک ہوٹل میں صدر جنرل پرویز مشرف پر دباؤ کا حربہ استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ناپاک مہم دوبارہ شروع کی ۔ یاد رہے کہ مارچ 2001 میں کہوٹہ پروجیکٹ سے ریٹائرمنٹ کے موقع پر سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدلقدیر خان کی الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وضاحت سے کہا تھا : ” جب بھارت نے اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تو جنوبی ایشیا کی سلامتی کے بدلتے ہوئے منظر نے پاکستان کیلئے انتہائی نامساعد صورتحال پیدا کر دی تھی… آخر کار اللہ تعالیٰ نے قوم کی دعائیں سن لیں اور ایک معجزہ رونما ہوا ، اور پردہ غیب سے ایک بلند قامت اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل نابغہ کا ظہور ہوا۔ یہ نابغہ روزگار ڈاکٹر عبدالقدیر خان تھے ، ایسا نابغہ جس نے تن تنہا قوم کو ایٹمی صلاحیت سے مالا مال کر دیا… جناب ڈاکٹر صاحب ، مجھے یہ بات ریکارڈ پر لانے کی اجازت دیجئے کہ آپ نے قوم کو جو کچھ دیا ہے ، اُس کیلئے یہ قوم نہ صرف آج بلکہ ہمیشہ آپ کی ممنون احسان رہے گی ۔ آپ ہمارے قومی ہیرو ہیں اور ہماری آئندہ نسلوں کیلئے مبداء فیضان ہیں۔ کوئی شخص بھی آپ سے یہ اعزاز نہیں چھین سکتا ، تاریخ میں آپ کے مقام کا تعین ہو چکا ہے ، آپ ہمیشہ کیلئے اَمر ہو گئے ہیں ، ہم آپ کو سلام کرتے ہیں اور اپنے دلوں کی گہرائی سے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں” لیکن اِس تقریر کے تین برس کے بعد جارج بش کے ایٹمی دباؤ کے حربے سے متاثر ہوکر صدر مشرف نے ڈاکٹر خان کی نظر بندی کے احکامات جاری کر دئیے۔

بہرحال حقیقت کی نہ کسی دن کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے 2018 میں شائع ہونے والی اپنی حالیہ کتاب ” سچ تو یہ ہے” میں اِس اَمر کی تائید کی ہے کہ امریکی دباؤ کے سبب صدر پرویز مشرف نے پاکستان کے مفاد میں ناکرہ گناہ کی ذمہ داری اپنے سر لینے کیلئے اُنہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گھر بھیجا تھا۔ ڈاکٹر خان نے اُس وقت بھی کہا تھا کہ اُن پر یہ الزام سراسر جھوٹ ہے ، اُنہوں نے کوئی رقم نہیں لی اور نہ کوئی چیز فروخت کی ہے ۔ یہ فرنیچر جو آپ میرے گھر میں دیکھ رہے ہیں ، میری بیوی کے جہیز کا فرنیچر ہے ، یہ لوگ مجھ پر اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں۔ بہرحال ڈاکٹر خان نے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے ملک و قوم کے مفاد میں سارا الزام اپنے سر لے لیا تھا۔ چوہدری شجاعت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خان نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی اور نہ ہی تفتیش کاروں کو کوئی بیان دیا تھااور چوہدری شجاعت آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر خان نے یہ ذمہ داری اپنے سر لیکر پاکستان کو ایک انتہائی مشکل صورتحال سے نکالا تھا اور یہ کوئی معمولی قربانی نہیں تھی چنانچہ ڈاکٹر خان کے اِس ایثار و قربانی سے چوہردی شجاعت کے دل میں ڈاکٹر خان کی عزت مزید بڑھ گئی ہے۔ حقیقت سے پردہ اُٹھانے پر چوہدری شجاعت حسین کو سلام ۔ آج پھر یوم تکبیر ہے ، پاکستانی قوم زندہ ہے پائندہ ہے اور قیادت کے بحرن کے باوجود انتہائی نا مسائد حالات میں بھی ہر خطرے کا قومی یکجہتی کیساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ مغربی پروپیگنڈے کے باوجود، ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج بھی محسن پاکستان ہیں اور ہماری آئندہ نسلوں کیلئے بھی قومی ہیرو ہی رہیں گے ۔ ختم شد ۔
*****

اِن کاقلع قمع ہوئے بغیرالیکشن بیکار ہے. . . !

مُلک میں اگلے متوقع عام انتخابات 2018 ء کی تاریخ کا اعلان ہوگیاہے۔ سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ہے ۔اَب ایسے میں دوقسم کی باتیں سا منے آرہی ہیں اول یہ کہ انتخابات مقررہ تاریخ کو ہی ہو ں گے اور دوسری بات یہ ہے کہ 25جولائی سے الیکشن ایک دوماہ آگے بڑھا ئے جائیں ۔ کوئی کہہ رہاہے کہ اِس تاریخ کو لاکھوں پاکستا نی شہری فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب گئے ہوئے ہوں گے تو وہیں ایک نقطہ یہ بھی سا منے آیاہے کہ اِن دِنوں میں بلوچستان سمیت پورے مُلک میں مون سون کی بارشیں شروع ہوچکی ہوں گیں،یہاں اچھی بات یہ ہے کہ اِن تمام نکات کے باوجود الیکشن کمیشن نے اپنا حتمی اعلان کردیاہے کہ وقت مقررہ سے الیکشن آگے بڑھانے کے لئے یہ عذر ناقابلِ قبول ہیں۔ انتخابات اپنے اعلان کردہ تاریخ پر ہی ہوں گے۔ چلیں، اچھا ہی ہوا کہ الیکشن آگے بڑھا نے کی کوشش کرنے والوں کی ایک نہ چلی اور الیکشن کمیشن نے اپنے ایک اعلان سے سب پر پا نی پھیر دیاہے۔جبکہ ، اصل بات یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ آج جب نیب سمیت اعلیٰ عدالتوں میں قومی لیٹروں کا احتسا بی عمل جاری ہے ۔اگرچہ، یہ ٹھیک ہے کہ ابھی تک اِس عمل سے مُلک اور قوم کے بہتر مفاد میں سِوا ئے سابق وزیراعظم نوازشریف ،جہانگیر ترین اور خواجہ آصف کی نااہلی کے کو ئی ایسا خاطر خوااورقابلِ تعریف نتیجہ نہیں نکل سکاہے مگر پھر بھی بڑی اُمیدوں اور دعووں کے ساتھ مُلک میں احتسا بی عمل زورو شور سے جاری ہے۔کہنے والوں کا خیال یہ بھی ہے کہ اَب اِس احتسا بی عمل پربہت انگلیاں اُٹھنی شروع ہوگئی ہیں۔اور اِس پر بھی سوا لیہ نشان لگ رہے ہیں؟ مگرچلنے دیں۔!تاہم ایسے میں اِن قومی لیٹروں اور مُلک کی سلامتی اور استحکام کو خطرے سے دوچار کرنے اور مُلک دُشمن بیان دینے والوں ، قومی دولت لوٹ کر سوئس بینک میں اربوں او ر کھربوں رکھنے والوں اور قومی دہشت گردوں ، لیاری اور کراچی کو نوگوز ایرایاز بنانے والوں کی موجودگی میں غیرمتنازع ،غیرجانبدارانہ اور صاف وشفاف الیکشن کا دعویٰ بے مقصداور محض سیرا ب ثابت ہوگا یعنی کہ جب تک مُلک سے کرپٹ سیاستدانوں اور خواجہ آصف جیسے سالانہ صرف 6ہزار روپے ٹیکس دینے والے قومی ٹیکس چوروں اور دیگر حوالوں سے کرپٹ عناصر کا کڑا احتساب اوراِن کاقلع قمع ہوئے بغیرالیکشن سمیت سب کچھ ہی بیکار ہے۔بہر کیف ، آج کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ گزشتہ دِنوں31مئی 2018ء (جمعرات اور جمعہ) کی درمیانی شب کو وطنِ عزیز پاکستان میں دس سالہ لولا لنگڑا جمہوری دور کا تسلسل بخیروعافیت اپنی مدت پوری کرکے تکمیل کو پہنچ گیاہے ،یعنی کہ یہ مُلکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک جمہوری حکومت نے دوسری جمہوریت کو اقتدار سونپااوردوسری جمہوری حکومت بھی اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ختم ہوگئی ہے۔ اِس پس منظر میں اَب اگلے پانچ سالہ جمہوری دور میں داخلے کے لئے نگران وزیراعظم جسٹس(ر) نا صر الملک کی سربراہی میں عبوری حکومت تشکیل کے مراحل سے گزررہی ہے یکم جون کو جسٹس (ر) ناصر الملک نے بطور نگران وزیراعظم اپنے عہدے کا حلف بھی اُٹھا لیا ہے ایسے میں ایک بڑامسئلہ یہ بھی درپیش ہے کہ ابھی تک چاروں صوبوں میں نگراں وزرائے اعلیٰ کے چناؤ کا مسئلہ گھٹا ئی میں ہی پڑاہواہے جو موجودہ صورتِ حال میں بروقت الیکشن کے انعقا د کے حوالے سے ایک بڑاسوالیہ نشان ہے؟ خیر اُمید ہے کہ آئندہ چند دِنوں میں وفاق سمیت صوبوں میں بھی عبوری حکومتیں تشکیل پا جا ئیں گیں اور اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ متحرک ہو جا ئے گی اور مُلک میں اپنے حصے کا کام صاف و شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کا بخیرو خوبی انعقاد کرنے کے بعد اقتدار اگلی نو منتخب جمہوری حکومت کو سو نپ کرسبکدوش ہوجائے گی۔غرضیکہ، آج جو لوگ 2008 تا 2013 ء پانچ سالہ پی پی پی اور 2013 تا2018 ء پانچ سالہ پی ایم ایل (ن) کے جمہوری مجموعی طورپر دس سالہ ا دوار کو لولا لنگڑاکہہ رہے ہیں اِنہیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے کیو ں کہ کہیں بھی اور کوئی بھی جمہوراور جمہوریت ادوار کبھی بھی لولالنگڑانہیں ہوتا ہے یہ تو بس ہماری ہی بدقسمتی ہے کہ جمہور اور جمہوریت کے نام پر جو لوگ اقتدار کی مسندِ عالی پر قا بض ہوتے ہیں دراصل یہی جمہوریت کے لئے اہل نہیں ہوتے ہیں ، یہی لولے لنگڑے اور اخلاقی اور سیاسی آنکھ سے کانے ہو تے ہیں، اِن کی ہی ذات کرپشن جیسے عیبوں سے بھری ہوتی ہے جن میں مذہبی اور اخلاقی اعتبار سے سو چھید ہوتے ہیں، درحقیقت یہ اِس قابل ہی نہیں ہوتے ہیں کہ یہ جمہور اور جمہوریت کے فلسفے کو سمجھیں،اور جمہوریت کے حقیقی ثمرات عوام النا س تک پہنچا ئیں۔ اِن کا کام تو انتخابات میں کروڑوں اور اربوں کی انویسٹمنٹ/ سرمایہ کاری کرکے بس اقتدار میں آناہوتا ہے جس میں یہ اپنے کالے دھن کی بدولت کامیاب ہوجا تے ہیں۔ اِس میں ارضِ پاک میں بسنے والے میرے معصوم ہم وطنوں کا صرف اتنا سا قصور ہے کہ اِنہیں ہر الیکشن میں یہی جمہور سے عاری اور جمہوری ثمرات سے خالی سیاسی لنگڑے اور کا نے جمہوریت کے نام پر ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے ہانکتے ہیں جس کے بعدادارے ووٹر ز کے سر وں کی گنتی کرکے اخلاق اور سماجی خدمات کے جذبوں سے عاری اپنی ذات میں سوسو چھید رکھنے والوں لولے لنگڑوں اور کانوں کو اقتدار کی کنجی پانچ سال کے لئے سونپ دیتے ہیں۔ سوچیں، اَب جن لنگڑوں اور عقل کے اندھوں کو جمہوریت کی سمجھ ہی نہ ہو بھلا وہ عوام الناس تک جمہور یا جمہوری ثمرات کیا پہنچا ئیں گے؟جن کا کام اقتدار میں آنے کے بعد یہ ہوتا ہے کہ الیکشن میں جن سروں کو گن کر حکمرا نی ملی ہے سب سے پہلے اِن ہیں سروں کا مہنگا ئی ، بھوک و افلاس ، بے جا ٹیکسوں ، توانا ئی بحرانوں سے حقہ پانی بند کیا جا ئے اور مسائل کی بھٹی کا منہ کھول کر اِن ہی سروں کو تن سے جدا کیا جائے اور بچ جا ئیں اِن کے بنیا دی حقوق پر اپنا قبضہ قا ئم رکھا جا ئے تاکہ کو ئی سر اُٹھا کر اور سینہ چوڑا کرکے سا منے نہ کھڑا ہوسکے۔ اَب ایسے میں جب اِن کے سُدھار کے لئے طالع آزما/اِبن الوقت/قابوچی مدِمقابل آتے ہیں تو یہ جمہوریت کے درس اور فلسفے سے عاری سارے بیکار لولے لنگڑے اور کانے اپنی مظلومیت کا رونا روتے پیٹتے آہو بکاکرتے سڑکوں پر نکل کراور دردرجا کر چیختے پھر تے ہیں کہ اِن کے اچھے بھلے جمہوری نظام کی نایدہ قوتوں اور خلائی مخلوق نے ٹانگیں توڑ کر اِسے لولا لنگڑابنا کر بے کارکر دیاہے۔بیشک، ارضِ مقدس کی سترسالہ اِس حقیقت سے بھی اِنکارنہیں ہے کہ سرزمینِ پاکستان میں ایسا تب ہی ہوا ہے جب اِن ہی جمہور اورجمہوریت کے پنڈتوں اور جمہوری پچاریوں نے قومی خزا نے کواپنے آباواجداد کی جاگیر سمجھ کراِسے اپنے اللے تللے کے لئے بیدریغ استعمال کیاہے اور میگاپروجیکٹس کی آڑ میں اپنے کمیشن اور پرسنٹیج سے قومی خزا نے کا ستیاناس کیا ہے توپھراِن نااہل اور آف شور کمپنیوں اور اقامے اور اربوں اور کھربوں قومی دولت لوٹ کھا نے والوں اور قومی دولت کو سوئس بینکوں میں اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کے ناموں سے کھاتے کھلوا کر منتقل کروانے والوں کو نکیل دینے کے خاطرہی تونادیدہ قوتوں اور خلائی مخلوق کو سا منے آنا پڑاہے۔ پھر اِس پر اِن جمہوری پنڈتوں کو اپنے گریبانوں میں پہلے جھانکناچاہئے کہ اِن کے کرتوت ایسے تھے کہ اِنہیں خلائی مخلوق نے آن جکڑا۔ !!توپھر یہ کسی سے متعلق کچھ بولیں۔!

فکر اقبالؒ کا فروغ‘ وقت کا لازمی تقاضا!

اگر سوچ یہ بنے کہ قیام پاکستان کے سلسلے میں علامہ اقبال کا کردار قائداعظم سے بڑھ کر ہے تو شاید زیادہ خلاف حقیقت نہ ہو کیونکہ یہ علامہ اقبال ہی تھے جنھوں نے سب سے پہلے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا اس عظیم تصور کی تجسیم پاکستان کی صورت ہوئی یہ علامہ اقبال ہی تھے جنھوں نے اصرار کرکے قائداعظم کو واپس بلایا اگر یہ سب نہ ہوتا تو شاید پاکستان دنیا کے نقشہ پر نمودار نہ ہوتا تاہم واضح رہے یہ شخصی تقابل ہے نہ قائد اعظم کی خدمات اور مرتبہ و مقام کو کم کرنے کی جسارت۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لیے محض جغرافیائی خدوخال رکھنے والے ملک کا تصور ہی پیش نہیں کیا بلکہ ایک ایسی مملکت کا نقشہ پیش کیا جو حقیقی معنوں میں ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست جہاں ہر شخص کے ناانفرادی‘ بطور قوم اجتماعی اور بحیثیت ملک انتظامی امور قرآن و سنت کے احکامات اور ہدایات کے تابع اور ریاست فرد کی کفیل ہوگی اسی کا نام فکر اقبال ہے اسی فکر اقبال کو فروغ دینے کے لیے حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات کے تحت ادارہ بزمِ اقبال کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس نے اپنے قیام کے روز اول سے تادم تحریر علامہ اقبال کے حوالے سے خاصا کام کیا ہے ۔
علامہ کی زندگی‘ شاعری اور فلسفیانہ سوچ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے والی کتابیں شائع کیں ایک ماہنامہ میگزین شائع کیا جاتا ہے جس میں علامہ اقبال پر تحقیقی مضامین شائع ہوتے ہیں تاہم فکر اقبال کے فروغ کے لیے ادارہ بزم اقبال کو جتنا فعال ہونا چاہئے تھا شاید حکومتی توجہ کم کم ہونے کے باعث ایسا نہ ہوسکا البتہ کچھ عرصہ قبل ادارہ بزم اقبال کی خوش قسمتی کا چراغ روشن ہوا صوبائی محکمہ اطلاعات کے سیکرٹری راجہ جہانگیر انور ادبی ذوق اور وسعتِ مطالعہ کے باعث ان گنے چُنے بیوروکریٹس میں شامل ہیں جن سے بیورو کریسی کے ماتھے پر توقیر کی کلغی سجی ہے۔ انھوں نے بزم اقبال پر خصوصی توجہ دی‘ گرانٹ کے سلسلے میں طریق کار کے حوالے سے درپیش اڑ چنوں کو دور کیا۔
کیا بہتر ہو ریاض چودھری کے فکر اقبال کے جذبہ کو سرد نہ ہونے دیا جائے جو سینئر صحافی اور اقبال شناس ہونے کے ساتھ ساتھ گرم دم جستجو کی زندہ تصویر ہیں۔ ریاض چودھری پاکستان ٹائمز سمیت انگریزی صحافت میں اپنے جوہر دکھاتے رہے جن کی وسعتیں پانچ دہائیوں کو چُھورہی ہیں۔ ریاض چودھری سے بہت قریبی تعلق کی بنا پر فکرِ اقبال اور ادارہ بزم اقبال کے حوالے سے ان کے عزائم اور لگن کا شناور ہونے کے باعث میں یقین رکھتا ہوں اگر حکومتی سطح پر ان سے دستِ تعاون دراز رہا۔
بورڈ آف ڈائریکٹرز میں جناب مجیب الرحمن شامی جیسے نابغہ صحافی کی موجودگی سے اس کی انتظامی قدر قامت اور ممکنہ بلکہ یقینی فعالیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے میں سمجھتا ہوں ریاض چودھری کو حکومتی تعاون کے حوالے سے کبھی کسی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑتا اگر راجہ جہانگیر انور بدستور سیکرٹری اطلاعات حکومت پنجاب اپنے منصب پر فائز رہتے لیکن ان کی خدمات فنانس ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کردی گئیں۔
تاہم یہ خوش آئند ہے ان کی جگہ جس شخصیت کو سکرٹری اطلاعات کا عارضی چارج دیا گیا ہے جناب عبداﷲسنبل کمشنر لاہور ڈویژن بھی علم دوست لوگوں میں شامل ہونے کی شہرت رکھتے ہیں اور ایک سچے پاکستانی ہونے کے ناطے وہ فکرِ اقبال کو مملکت خدا داد کی مضبوط اساس سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض چودھری کے ذریعہ جب فکر اقبال کے فروغ کیلئے ادارہ بزم اقبال کے آئندہ پروگراموں سے آگاہی ہوتی تو وہ فوری طور پر سر پرستانہ تعاون کے لیے تیار ہوگئے۔
بزمِ اقبال کی گرانٹ میں حائل پروسیجرل طریقہ کار کی رکاوٹوں کو دور کیا بزم اقبال کے بورڈ آف گورنر کی از سر نو تشکیل میں خصوصی دلچسپی لی اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ہے۔
جناب عبداﷲ سنبل کے بھرپور سرپرستانہ تعاون سے یقین کیا جاسکتا ہے کہ ریاض چودھری بزم اقبال اور فکر اقبال کے فروغ کے حوالے سے اپنے ارادے کی تکمیل میں سرخروئی حاصل کرسکیں گے۔ فکرِ اقبال کا فروغ اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج مغربی تہذیب کے منفی اثرات ہماری نئی نسل کو اپنے اقدار و روایات سے غیر محسوس انداز سے دور کررہے ہیں اس سے محفوظ رکھنے کا یہی ایک موثر طریقہ ہے۔
*****

قومی کمیشن اورپیل ڈیٹ

yasir-khan

25جولائی کی تاریخ کے اعلان ہوتے ہی ملک میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور ہر آئے دن کے ساتھ آئندہ الیکشنز کے منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انعقاد سے متعلق خدشات اور تحفظات ،اور لفظی گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔اگرچہ ظاہری صورت میں ان خدشات اور تحفظات اور انتخابات کے غیر منصفانہ اور اس پر اثر انداز ہو نے والے عوامل کو محض کم علمی حقائق سے بر عکس ہوا دینے کی کوشش کی جاری ہے۔گذشتہ دنوں ایک غیر سرکاری این جی او جو کہ پیل ڈاٹ کے نام سے کام کررہی ہے۔اپنے حالیہ ایک سروے کے مطابق اعداد و شمار میں قرار دیا ہے کہ قومی انتخابات سے قبل چند ادارے اپنی حیثیت کو غیر جانبدارانہ اور منصفانہ رکھنے میں نا کام رہے ہیں ،جن میں سب سے پہلے افواج پاکستان کا نام لیا جارہا ہے کہ بطورادارہ فوج ان انتخابات اور سیاسی جماعتوں سے متعلق اپنی غیر جانبداری بر قرار رکھنے میں نا کام رہی اور ان انتخابات پر بالواسطہ طریقے سے اثر انداز ہو نے کی کوشش کی جارہی ہے،اس کے بعد عدلیہ کے کردار سے متعلق بھی ابہام کا اظہار کرے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کہ گزشتہ ایک سال کے فیصلوں کی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ جھکاؤ ایک خاص سمت میں زیادہ نظر آرہا ہے اور حکمران جماعت کی جانب سے عدلیہ کے حالیہ فیصولوں کو جس طرح سے تنقید کا نشا نہ بنا یا جاتا رہا ہے وہ اس تاثر کو مزید تقویت دے رہے ہیں اس لئے عدلیہ کے کردا کو بھی جانبدارانہ قرار دے دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی ایسے عوامل جنکو زیر بحث لاکر پہلے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ گویا ان انتخابات کے انعقاد اور انکی شفافیت ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں ۔اب یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پیل ڈیٹ نامی این جی او نے یہ سروے کہاں پر کیا ،کس طرح کیا ،اور کن سے کیا گیا ،کیونکہ بظاہر بلکہ یقیناًان کی طرف سے شائع کردہ اعداد و شمار کا اگر زمینی جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سب جھوٹ کا پلندہ ہیں اور جان بوجھ کر ایک خاص طبقہ کی ترجمانی اور نمک خوری کا حق ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پاکستان میں چونکہ اکثر آپریشنل این جی اوز شتر بے مہار کی طرح قومی امور جیسے نازک اور حساس معاملات سے متعلق بھی خود ساختہ اور فرضی اعداو شمار کے جال بننے سے بھی گریز نہیں کرتیں ،ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ دس سالوں سے جسطرح افواج پاکستان نے خود کو سویلین اور حکومتی معاملات سے علیحدہ رکھا ہے اسکی ماضی میں مثال نہیں ملتی،ورنہ کئی مواقعوں پر حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ خود انہی اداروں نے اس وقت کہنا شروع کر دیا تھا کہ اخدانخواستہ ملک میں مارشل لاء کے کس قدر امکا نات ہیں ،مگر افواج پاکستان نے نہ صرف ملکی سرحدوں بلکہ اندرون ملک میں ضرب عضب جیسے آپریشنز کر کے ملکی عوام کی ناقابل بیان خدمت کی ،اور خود کو ان حالات میں مکمل طور پر غیر جانبدار رکھا،اب مفروضوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی روپورٹس کے ذریعے یہ جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حکمران جماعت کی قومی انتخابات سے قبل آئے روز بد تر ہوتی صورتحال کے پیچھے فوج،عدلیہ یا میڈیا کا کردار ہے کہ تو یہ قطعا غلط اور بے بنیاد ہوگا۔اس سروے میں عدلیہ کو اس کے حالیہ فیصلوں کی وجہ سے اس کا کسی جمات کی طرف جھکاؤ یا اسے ون وے ٹریفک قرار دینا بھی ٹھیک نہیں ،کیونکہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ یہاں کوئی بھی ہو چاہے وہ کوئی سیاسی جماعت ہو یا ان جماعتوں کے قائدین اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو نہیں مانتے،نواز شریف صاحب کی ناہلی اور پانامہ کیس میں سب کچھ حقائق کی روشنی میں اور آزادانہ و منصفانہ جے آئی ٹی کی تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے پیش کردہ شواہد کی روشنی میں انھیں نا اہل کیا گیا ،حکمران جماعت کے اپنے منہ زبانی دئے گئے بیا نات ایکدوسرے سے نہیں ملتے،کبھی ایک بات کو تسلیم کر کے دوسرے دن اسکی تردید کر دی جاتی جو ان کے گلٹی ہو نے پر خود بہت بڑی دلیل ہیں۔اس رپورٹ میں پرائیویٹ میڈیا گروپس سے متعلق بھی یہ کہا گیا کہ وہ بھی جانبداری سے کام لیتے ہوئے ایک مخصوص سیاسی جماعت کو سپورٹ اور تشہیر کر نے میں لگے ہیں ،اس رپورٹ میں جو سب سے مضحکہ خیز بات جسے کسی نہ کسی طریقے سے انتخابات کی شفافیت پر اثر انداز ہونا قرار دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ؛نیب کا کردار بھی بڑا مبہم ہے؛اور نیب بھی ایک مخصوص سیاسی جماعت اور اس کے اراکین کو نشانہ بنا رہی ہے۔پہلے تو یہ دیکھنا چاہئے کہ نیب کا اصل کردار ہے کیا ،یہ ادارہ بنا کیوں ہے اور اس کے اغراض و مقاصد میں کیا کیا شامل ہے،اگر نیب کا کام احتساب کرنا اور ملکی دولت کو لوٹنے والوں سے تحقیقات کر کے ان سے لوٹی ہوئی دولت واپس کرنا نہیں تو پھر کیا یہ ادارہ ان معنوں میں لیا جائے جس کی تعریف و توجیح ماضی میں بیان کی جاتی رہی ہے کہ آنکھوں کے سامنے لٹتا چمن دیکھ کر بھی بلی کی طرح آنکھیں بند کر لی جائیں ۔اب اگر نیب اپنے حاصل آئینی اختیارات کی حدود میں کسی لٹیرے یا کرپشن کہانی کے کرداروں کے بے نقاب کرتا ہے تو کیا اسے ہی مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا جائے۔چوروں ،لٹیروں اور کرپشن مافیاز پر اگر گرفت کی جائے گی تو وہ تو لازمی طور پر چیخیں گے۔البتہ وہ لوگ جو خود کو ماورائے قانون سمجھتے ہیں ،اور اپنی ذات کیلئے استثناء کی درخواست ان گھٹی میں شامل ہے ،وہ تو اسے ظالمانہ قانون کہیں گے ،کیونکہ جن لوگوں کو کبھی اس بات کا کھٹکا نہ رہا ہو کہ چاہے وہ کتنے ہی با اثر کیوں نہ ہوں قانون سب کیلئے برابر ہے۔میاں نواز شریف صاحب نے تو خود ملکی اداروں کو تیر بحدف بنایا ہوا ہے،ان کے اور انکی جماعت کے اکثر اراکین نے جس طرح سے عدلیہ کے فیصلوں ،نیب کے موثر اقدامات اور حتیٰ کہ افواج پاکستان جیسے اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا یا ہے ،وہ بذات خود ملکی اداروں کی ساکھ خراب کر نے کے مترادف ہے،میاں صاحب ان اداروں پر قدغن اور نئے سرے سے ان کی حدود قید کے تعین کیلئے قومی کمیشن بلا نا چاہتے ہیں ، تو بلا لیں ۔سب کچھ واضح ہو جائے گا ،مگر ان تمام اداروں کے اپنے حاصل آئینی و قانونی اختیارات کے غیر جا نبدارانہ استعمال کو اگر پیل ڈیٹ والے سمجھتے ہیں کہ یہ پری پول رگنگ ہے تو اس کا حقیقت سے دور پار کا تعلق نہیں ۔اس دفعہ ماضی کے مقابلے میں الزامات اور انتخابات کی غیر منصفانہ ہو نے کا الزام اپوزیشن کی بجائے خود حکومت اپنے اوپر لگا رہی ہے ۔اسے ہم غیر منصفانہ کیونکر کہیں گے کہیں گے، البتہ حالات کی نبض اور عوامی تیور دیکھ کر بھی بہت سوں کو دیوار پر لکھا واضح نظر آنے لگتا ہے ،اب اس سچائی کو ماننے کی بجائے اسے دھاندلی کہنا بے انصافی نہیں تو اور کیا ہے۔

****

نگراں وزیراعظم کی کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیل کی ہدایت

اسلام آباد: نگراں وزیراعظم ناصر الملک نے کاغذات نامزدگی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حکم دے دیا۔

نگراں وزیراعظم ناصر الملک نے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حکم دے دیا، وزیراعظم نے وزارت قانون کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی ہدایت کردی ہے،فیصلے کے خلاف اپیل کا مقصد آئندہ انتخابات کا مقررہ مدت میں انعقاد یقینی بنانا ہے۔

گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے عام انتخابات کے لئے ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے تیار کردہ کاغذات نامزدگی کو کالعدم قراردے دیا تھا۔ عدالت نے پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذات نامزدگی کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے دوبارہ شامل کرنے کا حکم دیا۔

ادھر الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کاغذات نامزدگی اور نئی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دینے سے متعلق لاہور اور بلوچستان ہائی کورٹس کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ پہلی مرتبہ نامزدگی فارمز الیکشن کمیشن کی بجائے ارکان پارلیمنٹ نے خود تیار کرائے ہیں اور گزشتہ ماہ نئے کاغذات نامزدگی سے دہری شہریت اور ٹیکس معلومات سمیت اہم کالمز حذف ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

اصغرخان عملدرآمد کیس میں نواز شریف کو نوٹس جاری

لاہور: سپریم کورٹ نے اصغر خان عملدرآمد کیس میں نواز شریف اورجاوید ہاشمی سمیت پیسے وصول کرنے والے 21 سیاستدانوں کو نوٹس جاری دیئے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں اصغر خان کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کابینہ کے فیصلے سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیارکیا کہ کابینہ نے عدالتی فیصلے پرعملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے اورایف آئی اے کو تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ پیسے وصول کرنے والوں سے رقم کی واپسی کا کیا طریقہ کاربنایا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل کی درخواست پرکابینہ کے اجلاس کی رپورٹ عدالتی عملے کو دوبارہ سیل کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ چیف جسٹس نے پیسے وصول کرنے والے نوازشریف اورجاوید ہاشمی سمیت 21 سویلین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 6 جون تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے کیس سے متعلقہ آرمی افسران سمیت ڈی جی نیب اورایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کئے ہیں۔

ملک میں حاکمیت صرف اللہ اور قانون کی ہوگی، چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ملک میں حاکمیت صرف اللہ اور قانون کی ہوگی جب کہ قوم کا پیسہ سیاست دانوں کی سیکورٹی پر لٹانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

سپریم کورٹ رجسٹری لاہور میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سیاستدانوں، وزرا و دیگر شخصیات کو غیر ضروری سکیورٹی دینے کے کیس کی سماعت کی۔ پنجاب پولیس نے سیاست دانوں کو دی گئی سکیورٹی سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرادی جو چیف جسٹس نے مسترد کر دی۔

ڈی آئی جی عبدالرب نے بتایا کہ31  سیاست دانوں کو سکیورٹی فراہم کی گئی ہے. درخواست گزار اظہر صدیق نے کہا کہ پنجاب پولیس نے ساری سکیورٹی مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور ان کے اہل و عیال کو دی ہے.

چیف جسٹس نے کہا کہ نواز شریف، شہباز شریف، احسن اقبال، ایاز صادق، زاہد حامد اور احسن اقبال کی سکیورٹی تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن رانا ثنااللہ، مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان،عابد شیر علی، احسن اقبال کے بیٹے کو سکیورٹی کس لیے دی جارہی ہے، یہ لوگ ایک طرف تو عدلیہ کو گالیاں دیتے ہیں اور دوسری طرف سکیورٹی مانگتے ہیں، آئی جی صاحب آپ نے عدلیہ مخالف بیانات دینے والوں کو سکیورٹی فراہم کر رکھی ہے.

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک سکیورٹی اہلکار 25 ہزار میں پڑتا ہے اور ایک سیاست دان کی صرف سیکورٹی پر کم از کم 60 ہزار روپے اخراجات ہوتے ہیں، یہ قوم کا پیسہ ہے، اس طرح لٹانے کی اجازت نہیں دیں گے، یہ لوگ خود، سکیورٹی کا بندوبست نہیں کرسکتے تو بیت المال سے 60 ہزار روپے دے دیں۔

چیف جسٹس نے پنجاب پولیس کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے کہا کہ اس ملک میں حاکمیت صرف اللہ کی اور قانون کی ہوگی، آپ نے مجھے حمزہ شہباز کے برابر کی سکیورٹی دی ہے، آپ نے تو ججز اور سپریم کورٹ کے ججز کی سکیورٹی سے انکار کردیا تھا۔

عدالت نے سیاست دانوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی سفارشات دینے والی کمیٹی کو ذاتی حثیت میں رات 8 بجے طلب کرلیا۔

Google Analytics Alternative