Home » 2018 » June » 04

Daily Archives: June 4, 2018

جانئے آج آپ کا دن کیسا رہے گا

حمل:
21مارچ تا21اپریل

ہر کام جلدی جلدی کرتے رہئے تاکہ آپ توقع کے مطابق استفادہ کرتے رہیں، اگر آپ نے یہ بہتر وقت یوں ہی گزار دیا تو پھر بڑی جدوجہد اور بھاگ دوڑ کے بعد ہی کچھ حاصل ہو سکے گا۔

ثور:
22اپریل تا20مئی

ملازمت میں ترقی ہو سکتی ہے بلکہ آمدنی میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہر کام کے سلسلے میں مکمل احتیاط رکھتے ہوئے قدم آگے بڑھایا جائے شریک زندگی وہی فریق بن سکتا ہے۔

جوزا:
21مئی تا21جون

جو کچھ بھی ہو چکا ہے اسے بھول جایئے لاحاصل سوچوں سے نکل کر کوئی بہتر و قابل عمل سکیمیں مرتب کر سکیں، آپ کی سوئی ہوئی صلاحیتیں پورے طور پر بیدار ہو کر آپ کو دوبارہ وہ مقام حاصل ہو سکے گا۔

سرطان:
22جون تا23جولائی

کوئی نیا کام ہرگز نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ جو کام آپ کے ہاتھوں میں موجود ہے یہی تکمیل تک پہنچ جائے کیونکہ آپ کے پرانے مخالف آپ کے خلاف سازشوں کا نیا جال بچھا سکتے ہیں۔

اسد:
24جولائی تا23اگست

ایک وقت میں صرف ایک ہی کام کو تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں، ایسا کرنا مشکل ہے تو کوئی پرخلوص دوست تلاش کریں جو ادھورے کام پورے کرنے میں آپ کا ساتھ دے ۔

سنبلہ:
24اگست تا23ستمبر

مان لیں کہ بعض اوقات آپ ہمارے مشوروں پر عمل پیرا نہیں ہو پاتے جس کے نتیجے میں جو خرابیاں پیدا ہوئیں اور جس طرح ناکامیاں راستے کا پتھر بنتی رہی ہیں اسے دہرانا لاحاصل ثابت ہو سکتا ہے۔

میزان:
24ستمبر تا23اکتوبر

بعض اہم ترین الجھے ہوئے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ پرانی سکیموں کو عملی شکل دینے کی کوشش کریں جذباتیت کا مظاہرہ گھریلو ماحول خراب کر سکتا ہے۔ دماغ پر فضول خیالات کا غلبہ ہو سکتا ہے۔

عقرب:
24اکتوبر تا22نومبر

بسلسلہ کاروبار ناقابل فہم انقلاب آ سکتا ہے۔ بہت زیادہ محتاط رہ کر ہی سودے بازی کریں تاکہ نقصان کا خطرہ ٹل جائے۔ سفر بلا اہم ضرورت کے نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔

قوس:
23نومبر تا22دسمبر

آپ کا اصول ہے کہ جس طرح بھی وقت گزرے گزارتے رہو ہم اس اصول کی تائید کریں گے کیونکہ پریشانی انہی افراد کا مقدر بنا کرتی ہے جو نت نئی خواہشوں کو اپنے ذہن میں بسائے رکھتے ہیں۔

جدی:
23دسمبر تا20جنوری

کاروباری سلسلے میں انتہائی جدوجہد اور مستقل مزاجی کی ضرورت جتنی اب ہے پہلے کبھی نہ تھی اگر آپ اچھے وقت کا لحاظ رکھتے ہوئے کچھ کر لیں تو پھر چند خصوصی امور بآسانی طے پا سکیں گے۔

دلو:
21جنوری تا19فروری

سودے بازی کے دوران کسی قسم کی سستی یا کاہلی کا مظاہرہ نہ ہو بلکہ ملنے والے ہر چانس سے فوری طور پر استفادہ کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے، معمولی سی غفلت کاروبار کی پوزیشن کمزور کر سکتی ہے۔

حوت:
20 فروری تا 20 مارچ

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس کے باوجود آپ اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیابی حاصل کر سکیں گے، اس سلسلے میں آپ اپنے دوستوں پر بھروسہ ہرگز نہ کریں۔

سپریم کورٹ نے کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل کردیا

لاہور: سپریم کورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کردیا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کاغذات نامزدگی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سردار ایاز صادق اور الیکشن کمیشن کی اپیلوں کی سماعت کی۔

ایاز صادق کے وکلا نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ منسوخ کیا جائے، یہ انتخابات کے بروقت انعقاد کا معاملہ ہے، ہائی کورٹ کے فیصلے سے انتخابات میں تاخیر ہوگی۔ الیکشن کمیشن نے اپیل میں موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے میں تضاد پایا جاتا ہے اور فیصلے سے انتخابات کا شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اگر نامزدگی فارم کا اجرا جلد شروع نہ کیا گیا تو انتخابات تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور ایاز صادق کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے، اگر الیکشن میں تاخیر ہوئی تو الیکشن کمیشن آف پاکستان ذاتی طور پر اس کا ذمہ دار ہوگا۔

واضح رہے کہ یکم جون کو لاہور ہائی کورٹ نے آئینی ماہر سعد رسول کی درخواست پر پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذاتِ نامزدگی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ  نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں۔

الیکشن کمیشن اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں رجوع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایازصادق کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدام سے انتخابات کے بروقت انعقاد میں تاخیر کا اندیشہ ہے۔

الیکشن کمیشن کاسپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ

adaria

انتخابات بروقت کرانے کیلئے حکومت، الیکشن کمیشن اور اسپیکر نے حلقہ بندیوں اور کاغذات نامزدگی کے متعلق لاہور اور بلوچستان ہائیکورٹس کے فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، اب حلقہ بندیوں اور کاغذات نامزدگی سے متعلق عدالتی فیصلوں پرسپریم کورٹ کی رہنمائی کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جاسکے گا، اس ضمن میں نگران وزیراعظم جسٹس(ر) ناصر الملک نے وزارت قانون کو فوری طورپر کاغذات نامزدگی کالعدم قرار دینے کے فیصلے کیخلاف اپیل سپریم کورٹ میں دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔ نگران وزیراعظم نے کہا ہے کہ اپیل دائر کرنے کا مقصد انتخابات کا مقررہ وقت پر انعقاد یقینی بنانا ہے ،نگران وزیراعظم کا یہ پہلا حکم ہے جس پر الیکشن کمیشن نے فوری عدالت عظمیٰ جانے کا اعلان کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی زیر صدارت گزشتہ روز الیکشن کمیشن کا ہنگامی اجلاس اسی کی کڑی تھا ۔اجلاس میں الیکشن کمیشن کے چاروں ممبران ، سیکرٹری، الیکشن کمیشن اور ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمن نے شرکت کی۔ اجلاس میں حال ہی میں نامزدگی فارم اور حلقہ بندیوں کے حوالے سے عدالتی احکامات کے نتیجے میں ان کے الیکشن پر ہونے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ لاہور کے نامزدگی کے فارم کے حوالے سے فیصلہ کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ کی 8صوبائی اسمبلی کی حلقہ بندیوں کو کالعدم کر دیا تھا، الیکشن کمیشن نے اس فیصلے کے خلاف بھی فوری طور پر سپریم کورٹ میں رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ملک بھر سے تمام ریٹرننگ آفیسرز مورخہ4جون 2018بروز پیر تک نامزدگی فارمز وصول نہیں کریں گے، تاہم عام انتخابات کا انعقاد 25جولائی کو ہی ہو گا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ یا حکم کے بعد ریٹرننگ آفیسرز کو تازہ ہدایات جاری کی جائیں گی۔ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں ہونے والی تعیناتیوں پر سختی سے نوٹس لیا ہے، الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں متعلقہ حکومتوں سے وضاحت طلب کی ہے، کمیشن ایسی تمام تقرریوں اور تعیناتیوں کا جائزہ لے کر حتمی احکامات جاری کرے گا، کوئی بھی نگران حکومت یا اتھارٹی الیکشنز ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی بھی سرکاری ملازم کی تعیناتی یا تبادلہ نہیں کر سکتی۔ الیکشن کمیشن الیکشن 2018کے حوالے سے سول اور پولیس افسران کے مرکز اور صوبوں یا بین الصوبائی تبادلوں اور تعیناتیوں کے حوالے سے اگلے دو تین روز میں احکامات جاری کرے گا۔اب عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد ہی کمیشن کوئی حتمی فیصلہ کرے گا۔ایڈیشنل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ الیکشن شیڈول میں دو سے تین دن کی گنجائش موجود ہے۔ الیکشن کمیشن نے حالیہ ٹرانسفر اور پوسٹنگز کا نوٹس لیا ہے، سندھ میں الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر سینئر افسر کی تعیناتی کی گئی، اس حوالے سے متعلقہ حکومتوں سے وضاحت طلب کی ہے اور کمیشن ایسی تمام تقرریوں اور تبادلوں کا جائزہ لے کر حتمی احکامات جاری کریگا۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نگران حکومت یا اتھارٹی الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر کوئی ٹرانسفر پوسٹنگ نہیں کرسکتی۔2013ء کی اسمبلیوں کی آئینی میعاد پوری ہونے سے پہلے 2018 کے انتخابات کے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے ایک باقاعدہ مہم چلا کر غیر یقینی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ، پہلے احتساب پھر انتخاب کا جرنیلی آمریت والا فلسفہ لاگو کرنے کے تقاضے کیے گئے اور انتخابات کے بارے میں قیاس آرائیوں کو اتنی ہوا دی گئی کہ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اس پارٹی کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف بھی بروقت انتخاب کے مطالبہ میں شک و شبہ کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے یہ عندیہ دینا شروع کردیا کہ انتخابات مقررہ میعاد سے پانچ چھ ماہ آگے جاسکتے ہیں ، غیر یقینی کی اس فضا کے باوجود صدر مملکت نے انتخابات کیلئے 25 جولائی کی تاریخ کا اعلان کردیا ، اسمبلیوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کی اور اسی تناظر میں وزیراعظم ، چیف جسٹس سپریم کورٹ، اور الیکشن کمیشن نے دوٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ انتخابات شیڈول کے مطابق 25 جولائی کو ہی منعقد ہونگے۔ الیکشن کمیشن کے جاری شیڈول کے مطابق امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی وصولی 2 جون سے شروع ہو نا تھی جو ہائیکورٹ کے متذکرہ فیصلہ کے باعث ممکن نہیں رہی اور الیکشن کو 4 جون تک کاغذات نامزدگی کی وصولی روکنا پڑی ، اب سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا ، اگر داد رسی کے اس پراسیس میں کچھ دن لگ گئے تو مقررہ تایخ تک کاغذات نامزدگی وصول ہی نہیں ہو پائیں گے اس طرح انتخابی شیڈول میں ردوبدل کرنا الیکشن کمیشن کی مجبوری بن جائے گی، یہ صورتحال تشویشناک ہے ، وزیراعظم ، چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن تو مقررہ میعاد میں انتخابات کرانے کیلئے پرعزم ہیں مگر زمینی حقائق کسی اور ہی معاملے کی عکاسی کررہے ہیں اس صورتحال میں بہتر یہی ہے کہ الیکشن کمیشن ہائیکورٹ کے احکام کی روشنی میں نئے کاغذات تیار کرانے کے بجائے 2013ء کے انتخابات میں استعمال کیے گئے کاغذات نامزدگی جاری کردے جو آئین کی دفعات 62,63 کے تناظر میں تیار کیے گئے تھے ان کاغذات کو شائع کرانے میں وقت بھی کم لگے گا اور انتخابی شیڈول بھی متاثر نہ ہوگا، الیکشن کا بروقت انعقاد وقت کی ضرورت اور تقاضا ہے۔

اصغر خان کیس، عملدرآمد یقینی بنایا جائے
سپریم کورٹ لاہورر جسٹری میں اصغر خان کیس کی سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے کابینہ کے فیصلے سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ عدالت نے نواز شریف اور جاوید ہاشمی سمیت 21 سویلین کو نوٹس جاری کر دئیے۔ اسد درانی ‘ عابدہ پروین سمیت دیگر کو بھی نوٹس جاری کر دئیے۔ عدالت نے ڈی جی نیب اور ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کر دئیے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ نے ایف آئی اے کو تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا پیسے وصول کرنے والوں سے رقم کی واپسی کے طریقہ کار بنایا گیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کی درخواست پر کابینہ اجلاس کی رپورٹ عدالتی عملے کو دوبارہ سیل کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے سماعت 6 جون تک ملتوی کر دی۔ 1990 کے انتخابات کو چرانے اور عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے جمہوریت کیخلاف ایک سازش کی گئی تھی جس کو بے نقاب کرتے ہوئے اصغر خان نے مقدمہ دائر کیا اور سالہا سال تک اس کی سماعت ہوتی ر ہی ، حکومت کو فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کا حکم دیا گیا لیکن اس نے چشم پوشی اور روگردانی کا مظاہرہ کیا، کیونکہ برسر اقتدار جماعت کے سربراہ کا بھی اس میں نام آتا تھا ، عدالتی حکم کے باوجود کابینہ کے آخری اجلاس میں بھی اس کو زیر غور نہیں لایا گیا اور توجہ طلب امر یہ ہے کہ فیصلہ آنے والی حکومت پر چھوڑ دیا گیا، اصغر خان کیس کے زندہ کرداروں سے رقم وصولی کو یقینی بنایا جائے اور دنیا سے کوچ کرجانے والوں کو علامتی سزا دینے کی ضرورت ہے ، اس کیس کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد ہی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا باعث قرارپائے گا۔

ذوالفقارمرزا اور فہمیدا مرزا گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس میں شامل

کراچی: پیپلزپارٹی کے ناراض رہنما ذوالفقار مرزا اور ان اہلیہ فہمیدا مرزا گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس کا حصہ بن گئے۔

کراچی میں ذوالفقار مرزا اور فہمیدا مرزا نے پیر پگارا سے  ملاقات کرکے  گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیراپگارا نے کہا کہ ذوالفقار مرزا اور ان کی اہلیہ نے گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں رہنما جی ڈے اے کے شانہ بشانہ سیاسی جدوجہد کریں گے۔

اس موقع پر فہمیدا مرزا کا کہنا تھا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی نام کی کوئی چیز نہیں ہمیں ایک مافیا سے صوبے کو آزاد کرانا ہے اور مقصد کے لیے سب سیاسی جماعتوں  اور آزاد حیثیت میں جدوجہد کے خواہشمندوں  کو جی ڈے اے کے ہاتھ مضبوط کرنے کی دعوت دیتی ہوں، سندھ کی عوام شخصیات کے پیچھے نہ جائیں بلکہ ایشوز اور عوام کے لیے کام کرنے والوں کو ووٹ دیں۔

فہمیدا مرزا نے کہا کہ سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے، مردم شماری سے پتا چلا بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے اگر نوجوانوں کو تعلیم نہیں دی تو وہ نشے اور دیگر برائیوں کی طرف جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ  زیریں سندھ  کو صوبے کے دیگر حصوں کے برابر پانی فراہم کیا جائے، سندھ کی اجازت کے بغیرکسی کو ڈیم بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یقین دلاتا ہوں انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے، نگراں وزیراعظم

سوات: نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک کا کہنا ہے کہ میں صرف 2 ماہ کے لیے آیا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔

نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اپنے آبائی علاقے سوات پہنچے جہاں لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، ناصر الملک  نے اپنے والد کی قبر پرفاتحہ  پڑھی اور گلکدہ میں اپنی رہائشگاہ  چلے گئے۔ نگراں وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصرالملک سے مقامی عمائدین نے ملاقات کی اور اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے نگراں وزیراعظم ناصرالملک کا کہنا تھا کہ یقین دلاتا ہوں کہ انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے، میں صرف 2 ماہ کے لیے آیا ہوں، ملک میں تمام کام صرف آئین کے مطابق ہوں گے اور اپنے اختیارات کے مطابق لوگوں کی خدمت کروں گا۔

متحدہ مجلس عمل امید کی کرن

دینی سیاسی جماعتوں کا اتحاد ،متحدہ مجلس عمل پاکستانی عوام کیلئے امید کی کرن ہے۔ پاکستان70 سال سے مسائل کا شکار ہے۔اس عرصہ کے دوران پاکستان سے بعد میں آزادی حاصل کرنے والے ملکوں نے ترقی کی منازل طے کرلی ہیں۔ مگر پاکستان ابھی تک اپنی منزل حاصل نہیں کر سکا بلکہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟لیاقت علی خان صاحب کے بعد ملک کی ترقی کے بجائے حکمران مسلم لیگ وزارتوں کے پیچھے لگی رہی۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے وزیر اعظم نہرو صاحب نے کہا تھا کہ میں اتنی شیروانیاں نہیں بدلتا،پاکستان جتنے وزیر اعظم بدلتا ہے۔ پاکستان کی سرزمین زرخیز ہے اس کے عوام جفا کش اور توانا ہیں۔ اس کا نہری نظام دنیا کا بہترین نظام ہے۔اس کے سارے موسم ترقی کے لیے بہترین ہیں۔ اس کے ایک طرف سمندرہے جس سے دنیا سے روابط قائم ہیں۔ اس کی گیری سمندری بند رگائیں ہیں جو ہر موسم میں آپریٹیو رہتی ہیں۔ اب تو بلوچستان کی گوادر بندر گاہ بھی آپریٹیو ہو گئی ہے۔اس پر دنیا کی نظر ہے۔اس کے دوسری طرف بلند بالاچوٹیوں والے پہاڑ ہیں ۔جن پر سال بھر برف جمی رہتی ہے۔جو آہستہ آہستہ پگھل کر اس کے دریاؤں میں پانی کی سپلائی کو یقینی بناتی ہیں۔جس سے دنیا کا بہترین زری نظام چلتا رہتا ہے۔اس میں بیک وقت چار موسم رہتے ہیں۔ ایک طرف سخت گرمی ہوتی ہے تو دوسری طرف پہاڑوں میں موسم ٹھنڈا رہتا ہے۔ سمندری علاقوں میں موسم معتدل رہتا ہے۔اس کے صحراؤں گرمی رہتی ہے۔ پاکستان میں بے انتہاقدرتی معدنیات موجود ہیں۔ بلوچستان میں ریکوڈک، تین سو میل لمبی پٹی پر سونے کے دخائر موجود ہیں۔ ملک میں تیل کے ذخائر ہیں۔ سوئی کے مقام سے قدرتی گیس پورے پاکستان میں سپلائی کی جارہی ہے۔ ایٹم بم کے لیے یونیوریم اس کے پہاڑوں سے نکل رہا ہے۔ پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے کہ جس پر دنیا کی نظریں لگی رہتی ہیں۔ یہ دنیا کی ایک ارب پچھتر کروڑ مسلمان آبادی والے ملکوں کے ساتھ جوڑا ہوا ملک ہے۔ مسلمانوں نے دنیا پر ایک ہزار سال شاندار حکمرانی کی ہے۔ یورپ ، سپین، برصغیر، میڈل ایسٹ، فار ایسٹ جہاں بھی دیکھیں مسلمان مملکتوں کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ پاکستان کا نقشہ شاعر اسلام علامہ شیخ محمد اقبالؒ نے اپنی نظموں میں کھینچا ہے۔ جسے پاکستان کے مسلمان پڑھ کر اپنے شاندار ماضی کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اسی اقبالؒ نے برصغیر میں اسلامی مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔ جس کو حقیقت بنانے میں وقت کے عظیم قانون دان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے جمہوری جد وجہد کے ذریعے، اُس وقت کے رائج کیمونسٹ نظام اور سرمایادارانہ نظام کے حامیوں کے مقابلے میں چودہ سو سال پہلے قائم کی گئی ، مدینہ کی اسلامی ریاست کونمونہ طور پرپیش کر کے اسلامی نظام طرز زندگی کو دوبارہ سے بحال کرنے کے کا منصوبے کو پیش کر کے حاصل کیا تھا۔مگر پاکستان کی لیڈر شپ اس میں حقیقی رنگ نہ بھر سکی۔ یہ صرف لیڈر شپ کا قصور ہے۔ اب ایم ایم اے اس کو انشاء اللہ پورا کرنے کے عزم کے ساتھ میدان عمل میں اتری ہے۔قاعد اعظم ؒ کے وژن کو اگر تازہ کیا جائے تو کچھ اس طرح ہے کہ ۲۶؍ مارچ ۱۹۴۸ ؁ء چٹاگانگ میں قائد ؒ نے فرمایا تھا’’ اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا (مقصدحیات) اسلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل جمہوری نوعیت کا ہو گا ان اصولوں کا اطلاق ہماری زندگی پر اسی طرح ہو گا جس طرح تیرہ سو سال قبل ہوا تھا‘‘ ۔ پھر۱۴؍ فروری ۱۹۴۸ ؁ء کو قائد اعظم ؒ نے سبی میں دربار سے خطاب میں فرمایا تھا ’’ ہماری نجات کا واحد ذریعہ ان زرین اصولوں پر مشتمل ضابطہ حیات پر عمل کرنا ہے جو قوانین ہمارے پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ؐ نے قائم کر دیے ہیں‘‘۔قائد ؒ کی اتنی صاف اسلام کے راستے کی طرف رہنمائی کے باوجود ہم نے اپنی ترجیحات کا تعین کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب پاکستان کے حکمرانوں اورقوم نے اللہ کو دینا ہے جس نے مثل مدینہ اسلامی ریاست عطا کی تھی جو ہم نے اسلام کے نام پر حاصل کی تھی اور قائد ؒ کی روح کو بھی پاکستانی قوم نے جواب دینا ہے کہ جس نے پاکستان کا اسلامی راستہ اپنے عمل اور بیانات میں متعین کر دیاتھا قائد اعظم ؒ تو یقیناً اللہ سے اَجر پا لیں گے کہ انہوں نے سچ کر دکھایا، کیا ہم اللہ کے سامنے اس جواب دہی کیلئے تیار ہیں….؟یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم اللہ سے عہد کریں کہ آج سے ہر پاکستانی اس ملک میں مثل مدینہ اسلامی مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مدینہ کہ فلاحی ریاست کے طرز پرنظام حکومت قائم کر نے کی کوشش کریں گے۔ ملک میں چند ماہ بعد عام الیکشن منعقد ہونے والے ہیں۔ نون مسلم لیگ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی الیکشن میں متوقع طور پر اپنے امیدوار کھڑے کریں گی۔ کیا ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ جیتنے کی شکل میں قائد اعظم ؒ کے وژن اور علامہ اقبالؒ کے خواب کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مدینہ کی فلاحی ریاست کے طرز کا نظام حکومت قائم کریں گے؟ جواب ہے کہ نہیں قطعی نہیں! وہ اس لیے کہ تجربہ بتاتا ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی اس سے قبل تین تین بار ملک میں حکومتیں قائم کر چکیں ہیں۔ اس دوران ملک کو قائد اعظم ؒ کے وژن کے مطابق اسلامی نظام زندگی کیادیتیں ۔ الٹا مغرب کو خوش کرنے کیلئے اسلامی کو نقصان پہنچایا اور پاکستان کو روشن خیال، سیکولر ، بھارتی اور مغربی طرز پر ہی چلاتی رہیں۔ساری خرابی ان دونوں پارٹیوں کی وجہ سے ہوئی۔پیپلز پارٹی کے دورمیں فوج کو بدنام کرنے کے لیے اس کے وزیر خارجہ حسین حقانی نے میمو گیٹ کی سازش کی۔ پیپلز پارٹی کے آصف علی زرد ری صاحب نے اسے اپنے صدراتی دفتر میں پناہ دی۔پھر ملک سے فرار کروایا ۔پاکستان کی عدالت عالیہ میں اس پر مقدمہ قائم ہے۔ عدات سے اب بگوڑا بنا ہوا ہے۔ایبٹ آباد میں امریکا نے پاکستان کے اندر اس کی آزادی کو روندتے ہوئے بغیر اطلاع کے کاروائی کی۔پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم نے اس کارروائی کی تائید کی تھی۔نو ن لیگ کے نا اہل وزیر اعظم نواز شریف صاحب نے اپنے ۲۸؍ سال دور اقتدار میں اسلامی نظام حکومت اور قائد اعظم ؒ کے دو قومی نظریہ کی مخالفت کی۔ کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی تہذیب، تمدن اور ثقافت ایک جیسی ہے۔ بس ایک سرحد کی لکیر نے ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کیا ہوا ہے۔ بجائے اسلامی نظام حکومت قائم کرنے کے بھارتی ثقافت تمدن اور تہذیب کو پروان چڑھایا۔ ازلی دشمن بھارت سے کشمیر کو ایک طرف رکھ کر آلو پیاز کی تجارت کی بات کی۔فوج کے خلاف اعلانیہ کام کیا۔ جب سے نا اہل قرار دیا گیا اور آمدنی سے زیادہ وسائل اور ممکنہ کرپشن کے مقدمے قائم ہونے پر عدلیہ اور فوج کو نشانہ بنایا ہوا ہے۔ اب اپنی کرپشن سے عوام کی نظریں ہٹانے کیلئے، پاکستان کی سا لمیت کے خلاف بیان بازی پر اُتر آیا ہے۔ تحریک انصاف کا لیڈر خود تو پاکستان میں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کے نظام کو قائم کرنے کی باتیں تو کرتا ہے۔ دلوں کے حال تو اللہ ہی جنتا ہے۔ گو کہ عمران خان صاحب کرپشن سے بھی پاک ہیں۔ خیبر پختون خواہ میں ان کی اور جماعت اسلامی کی متحدہ حکومت نے کچھ اچھے کام بھی کیے ہیں۔ مگر اس کے ارد گرد لوگ نون لیگ اور پیپلز پارٹی سے بھاگے ہوئے لوگ جمع ہو گئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ کیا جس پارٹی کے پاس ایسے بھگوڑے جمع ہو گئے ہوں۔ وہاں ایک اکیلے عمران خان صاحب کی سوچ کو پروان چھڑنے دیں گے؟۔ویسے بھی عمران خان پر الزام ہے کہ اس نے اپنے جلسوں میں قوم کی بچیوں کو ناچ گھانے پر لگا دیا ہے۔ اُس کے لیے پاکستان کو قائد اعظم ؒ کے وژن ، مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست پر چلانے کیلئے سرے سے ٹیم ہی موجود نہیں۔ پاکستان میں قائد اعظمؒ کے وژن کے مطابق مدینہ کی اصلاحی ریاست طرز کے نظام حکومت قائم کرنے کیلئے متحدہ مجلس عمل قائم ہو چکی ہے۔ ان کے ہی اسلاف نے ملک میں دستوری مہم شروع کی تھی۔اسلامی آئین بنانے کی کوششیں کی تھیں۔ جس کی وجہ سے قرار داد پاکستان کو آئین پاکستان میں داخل کیا گیا۔ان پر کوئی بھی کرپشن کا لزام نہیں لگا۔ نہ یہی اس کے کسی لیڈر کا نام آف شور کمپنیوں میں آیا ہے۔ اس سے قبل خیبر پختونخواہ میں ۲۰۱۲ء میں کامیابی سے ۵؍ سال حکومت بھی کر چکے ہیں۔ بین القوامی مالیاتی ادارے ایم ایم اے کی ۵؍ سالہ حکومت کی شفایت کی تعریف بھی کی تھی۔ ان ہی کے بڑوں ، مفتی محمود احمد، پروفیسر غفور احمد اور علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی صاحبان کی کوششوں اور محنت سے ملک ۱۹۷۴ء کا اسلامی آئین محروم ذوالفقارعلی بھٹو کی وزیر اعظم شپ کے دورمیں بنا تھا۔ اسی آئین کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم بھی قرار دیا گیا تھا۔ صاحبو!ایم ایم اے کے بزرگوں کا سابقہ ریکارڈ اور ۲۱۰۲ء کی خیبر پختون خواہ کی کرپشن سے پاک اور کامیاب حکومت طرز حکومت کو سامنے رکھتے ہوئے ،بجا طور پرتوقع کی جا سکتی ہے کہ اگر پاکستان کے عوام نے آنے والے الیکشن میں ان کو ووٹ دے کر کامیاب کیا تو یہ پاکستان کو قاعد اعظم ؒ کے وژن کے مطابق مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست کے طرز کا نظام حکومت دیں گے۔اللہ پاکستان کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کے طرز کا نظامِ حکومت عطا فر مائے۔ اس کام کیلئے پاکستان کے عوام کو متحدہ مجلس عمل میں امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔

کمپنیز کرپشن کیس؛ چیف جسٹس کا شہباز شریف پر شدید برہمی کا اظہار

 لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے 56 کمپنیز کیس میں سابق وزیراعلی پنجاب پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیسوں کی واپسی کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پنجاب کی 56 سرکاری کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس پاکستان کے طلب کرنے پر شہباز شریف عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے شہباز شریف سے کہا یہ بتائیں کہ کمپنیز میں خلافِ قانون لاکھوں روپے کی بھرتیاں کیوں کیں، کس بنیاد پر سرکاری افسران کو 25 25 لاکھ کی تنخواہیں دی گئیں، آپ کم ٹیکس گزار ہیں زیادہ ٹیکس تو عوام دیتے ہیں۔ سابق وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ کمپنیوں میں ملک کو اربوں کی کرپشن سے بچایا اور تعیناتیاں میرٹ پر کیں۔

چیف جسٹس نے شہباز شریف کا جواب مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے جواب سے مطمئن نہیں، جن افسران کو لاکھوں کی مراعات دی گئیں، ان سے ایک ایک پائی واپس ہوگی، پیسوں کی واپسی کے آپ ذمہ دار ہیں، اگر پیسے واپس نہیں کیے گئے تو آپ کو نوٹس جاری کریں گے، خزانہ آپ کے ہاتھ میں تھا آپ اس کے امین تھے، یہ پیسہ واپس آنا چاہیے، آپ کریں یا جن لوگوں نے یہ پیسہ لیا ہے وہ واپس کریں۔

شہباز شریف نے کہا کہ آپ مجھے کل بلا لیں میں تفصیل لے کر آؤں گا۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ میں آپ کے احتساب کے لیے نہیں بیٹھا، احتساب کے لیے کوئی اور ادارہ ہے وہ اپنا کام کرے گا۔  شہباز شریف نے کہا کہ میرے خلاف کرپشن کا ایک دھیلہ بھی نکل آئے تو سزا کے لیے تیار ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان نے شہباز شریف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی ذات کو کیوں بار بار لے آتے ہیں، میں نے آپ کو ایک مخصوص سوال کے جواب کے لیے بلایا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ آپ میرے جواب سے مطمئن نہیں تو پھر آپ فیصلہ کردیں، میں نے ملک کی خدمت کی ہے، مجھے کسی کتے نے کاٹا ہے جو میں نے ملک کے اربوں روپے بچائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ آپ کو کس نے کاٹا ہے، آپ کو ایسے الفاظ زیب نہیں دیتے۔ شہباز شریف نے کہا کہ میں اپنے الفاظ پر معذرت کرتے ہوں، میں عدالت کا فیصلہ قبول کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ فیصلہ قبول نہ کرنا چاہیں تو بھی آپ کو فیصلہ قبول کرنا پڑے گا، کروڑوں روپے صاف پانی کمپنی میں لگے اور ایک بوند پانی نہیں ملا۔

قبل ازیں چیف جسٹس نے شہباز شریف کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کردار کے بغیر تو یہاں مکھی بھی نہیں اڑتی۔ چیف جسٹس نے نیب کو 6 کمپنیوں کے سی ای اوز کی جائیداد کا تخمینہ لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پتا کریں کہ یہ افسران کتنی پراپرٹی کے مالک ہیں تاکہ قوم کا پیسہ واپس لوٹایا جاسکے۔ اس پر اربن پلاننگ اینڈ منیجنگ کمپنی کے سربراہ نے عدالت میں کہا کہ میں خود کشی کر لوں گا تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی اس دھمکی سے عدالت اپنا فیصلہ نہیں بدلے گی، جس کمپنی کا سربراہ قوم کا پیسہ نہ لوٹا سکا اس کو جیل ہو گی۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے پنجاب حکومت کی 56 پبلک لمیٹڈ کمپنیوں میں بدعنوانی اور بھاری تنخواہوں من پسند بھرتیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔

عالمی امن اور پاک آرمی۔۔۔!

پاک افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان امن سے محبت کرنیوالا ملک ہے اور عالمی امن کی کوششوں میں اپنا اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ واضح رہے کہ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی پیس کیپرز ڈے کے موقع پر امن مشن میں جاں بحق ہونیوالے 7پاکستانی فوجیوں کو ایوارڈز دیئے جانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ قیام امن کے تناظر میں پاک افواج کی قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہونی چاہیے ۔ آپریشن ردالفساد اور ضربِ عضب کے تحت دہشتگردوں کی کمر کافی حد تک توڑ دی گئی ہے اور پاک فوج کا یہ مثبت کردار محض حالیہ دنوں کی بات نہیں بلکہ گذشتہ برسوں کی پاکستانی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ فوج نے ہر مشکل گھڑی میں وطنِ عزیز کو درپیش ہر چیلنج سے موثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے ۔
ماہرین کی رائے ہے کہ پاک فوج اس امر کی اہل ہے کہ دہشتگردوں سے بخوبی نمٹ سکے کیونکہ پاک فوج نے گزشتہ سالوں میں ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں جا کر امن و امان بحال کر سکتی ہے اور شر پسندوں کو کنٹرول کر سکتی ہے جس کا ثبوت اقوامِ متحدہ کی امن فوج میں شامل پاکستانی دستوں کی شاندار کارگردگی ہے اور جو فوج دوسرے ملکوں میں جا کر حالات ٹھیک کر سکتی ہے ، وہ اپنے یہاں کے شدت پسندوں کو کیوں قابونہیں کرسکتی ۔ غیر جانبدار حلقوں نے مبصرین کے موقف کو حق گوئی پر مبنی قرار دیتے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی فوج میں دنیا کے مختلف حصوں میں امن قائم کے حوالے سے پاکستان کا شمار پہلے نمبر پر کیا جاتا ہے جس کا اعتراف 13 اگست 2013 کو اقوامِ متحدہ کے سابقہ سیکرٹری جنرل ’’بانکی مون ‘‘نے کیا جب وہ اسلام آباد اپنے دو روزہ دورے پر آئے اور ’’ Center For International Peace And Stability(CIPS) کا افتتاح کیا ۔واضح رہے کہ یہ تحقیقی مرکز NUST سے ملحقہ ہے اور اس کا اجراء اقوامِ متحدہ نے عالمی امن کے قیام میں پاک فوج کے کردار کے اعتراف کے طور پر کیا تھا۔تفصیلات کے مطابق 1960 سے اب تلک افواجِ پاکستان کے 151505 افسروں اور اہلکاروں نے مختلف ممالک میں 44 امن مشن انجام دیئے ہیں اور اس وقت بھی تقریباً 6 ہزار پاک افواج کے افسر اور جوان 7 یو این Missions میں3 مختلف براعظموں میں عالمی امن کے قیام کیلئے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
پاک آرمی نے اس ضمن میں پہلا مشن 1960 میں کانگو میں انجام دیا تھا (اگست 1960 تا مئی 1964 )۔ کمبوڈیا (مارچ 1992 تانومبر1993 )،ایسٹ تیمور، انگولا (فروری1995 تا جون 1997 )، ہیٹی(1993 تا1996 )، لائیبیریا(2003 تا تاحال)،ایسٹرن سلووینیا (مئی 1996 تا اگست 1997 )،آئیوری کوسٹ،روانڈا(اکتوبر1993 تا مارچ 1996 )، صومالیہ(مارچ1992 تا فروری1996 )، سوڈان(2005 تا تاحال)،سیرا لیون (اکتوبر 1999 تا دسمبر 2005 ) ،کویت(دسمبر1991 تا اکتوبر1993 )،بوسنیا(مارچ 1992 تا فروری1996 )،برونڈی (2004 تا تاحال)،کوٹے ڈی لورے(2004 تا تاحال)، نانمبیا(اپریل1989 تا مارچ 1990)،ویسٹ نیو گیانا (اکتوبر 1962 تا اپریل 1963 )اور دیگر کئی ملکوں اور مختلف براعظموں میں پاک فوج عالمی امن کی بحالی کیلئے خدمات انجام دیتی رہی ہے،ان خدمات کے دوران136 اہلکار اور 22 افسر شہید بھی ہوئے۔یو این پیس کیپنگ مشنز میں سب سے زیادہ تعداد پاکستان آرمی کی ہے۔
بہرکیف ایسے میں بجا طور پر توقع کی جا سکتی ہے کہ وطنِ عزیز کے اندر بھی گمراہ عناصر راہِ راست پر آ جائیں گے۔یہ بھی امید کی جانی چاہیے کہ یہ طبقات عقلِ سلیم کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے مخالف بیرونی اور اندرونی عناصر کی سازشوں میں دانستہ یا نادانستہ طور پر معاونت کا سبب نہیں بنیں گے بلکہ ملک و قوم کی بھلائی کیلئے اپنی صلاحیتیں صرف کریں گے ۔علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری عالمی امن کے قیام کیلئے پاکستان کے نمایاں کردار کے پیشِ نظر کشمیر سمیت سبھی حل طلب مسائل کی جانب خود بھی منصفانہ طرزِ عمل اپنائے گی۔
*****

Google Analytics Alternative